Careplusecureblog

Careplusecureblog It's all about specific points on the surface of the human body that we will enable with Electronic

07/05/2022

اگر خون میں شوگر کی سطح نارمل سے زیادہ ہو تو آپ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہو سکتے ہیں اس کے ساتھ ہی آپکے سامنےذیابیطس کی علامات آناشروع ہوجاتی ہیں جو آپ کو آگاہ کرتی ہیں کہ اگر احتیاط سے کام نہیں لیا تو یہ بیماری جلد ہی آپ کو ہوجائی گی۔ ایسی صورت میں چند باتوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا تاکہ آپ اس موذی مرض سےبچ سکیں۔
وزن میں کمی لائیں
وزن کم کرنے کےلیے ضرور ی ہے کہ آپ کھانے میں کیلوریز کم استعمال کریں ،کھانے کی عادات بدلیں اور ورزش کو اپنا معمول بنالیں۔
صحت بخش کھانے کھائیں
اپنی کھانے کی پلیٹ کو آدھی ایسی سبزیوں سے بھریں جن میں نشاستہ نہ ہو جبکہ ایک چوتھائی کو نشاستہ دار سبزیوں سے جبکہ بقیہ میں پروٹین سے بھر پور غذا شامل کریں۔ کاربوہائیڈریٹ سے بھر پور کھانے جیسے پاستہ اور کیک کے استعمال میں محتاط رہیں جو خون میں شوگر کی سطح کو بلند کرسکتے ہیں۔
ورزش کریں
دن میں بیس سے پچس منٹ کی واک ضرور کریں۔
وقت پر سونا
مکمل یعنی 8 گھنٹے کی نیند لینا خون میں شوگر کی سطح کو توازن میں رکھتا ہے۔ اگر آپ پہلے اٹھنے کے باوجود رات میں سو نہیں پارہیں اور5 گھنٹے سے کم نیند لے رہیں ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہیں کہ آپ کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
سگریٹ نوشی سے دور رہیں
اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں اور پھر بھی سگریٹ کے عادی ہیں تو آپ کواس کی بد ترین علامات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خون میں شوگر کے لیول کو کنٹرول کرنا مشکل ہوجائے۔
ادویات کا استعمال
کچھ ادویات کولیسٹرول اور بلڈ پریشر کی طرح خون میں شوگراور موٹاپے کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ اگر آپ اس فہرست میں شامل ہیں جن میں ذیابیطس کا خطرہ موجود ہے، تو ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا اور اس کی مقدار کو پابندی سے لیں تاکہ آپ اپنی صحت کو بہتر رکھ سکیں۔
ذیابیطس سے تحفظ ، محفوظ مستقبل

06/05/2022

اگر آپ کے جسم میں ذیابیطس کی تشخیص ہوتی ہے تو یقیناً آپ کو بہت افسوس ہوگا کیونکہ ذیابیطس ایسی بیماری ہے جو سنگین پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے مگر گھبرائیں نہیں آپ اس کے ساتھ بھی ایک صحت مندانہ زندگی گزار سکتے ہیں۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ اس کے لئے آپ کوا پنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانی ہوں گی ، کچھ عادات اور روٹین اپنانی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ آپ اس کے پہلے سے عادی نہ ہوں۔ یہ تبدیلیاں ہرگزایسی نہیں ہیں کہ آپ کی زندگی کو پلٹ کر رکھ دیں بلکے صرف اتنا ہے کہ آپ کو اپنا پہلے سے ذرا زیادہ خیال رکھنا ہوگااور صحت پر زیادہ توجہ دینی ہوگی۔
سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ مختلف اوقات میں بلڈ شوگر چیک کریں جیساکہ کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد۔عام طور پر لوگ خود گھر میں ہی شوگر چیک کرنے والا گلوکو میٹر لے آتےہیں اور خود چیک کرنا سیکھ لیتے ہیں جوکہ زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔
دوسری بات جو آپ کی عادت کا حصہ بن جاتی ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنی غذا میں کتنے کاربوہائیڈریٹس کھارہے ہیں۔ اب آپ کو چینی، میٹھی اشیاء اور چکنائی والی اشیاء سے ہاتھ کھینچنا ہوگا اور کھانے پینے کے حوالے سے نئی عادات اپنانا ہوں گی ۔
تیسری بات یہ ہے کہ آپ کو اپنی جسمانی حرکات میں اضافہ کرنا ہوگا۔ آج کل عام طور پر ہمارے طرزِ زندگی سے مشقت کا عنصر غائب ہوچکا ہے۔ ہم گھنٹوں ٹی وی کی سکرین کے سامنے گزار دیتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں وقت نکال کر دن کا کچھ حصہ ورزش کے لئے صَرف کرنا نہایت ضروری ہے۔ آپ کو شروع میں ورزش ایک باقاعدہ کام سمجھ کر کرنی پڑے گی مگر کچھ ہفتوں کے اندر ہی یہ ایک خوشگوار روٹین میں تبدیل ہوجائے گی۔ اور جو مفید عادات شوگر نے آپ کو ڈالی اُس کے آپ کو اور بھی بہت سارے صحت کے فوائد ملنا شروع ہوجائیں گےاور آپ کئی دوسری بیماریوں سے بھی محفوظ ہوجائیں گے۔
صحت اپنائیں، شوگر بھگائیں۔

06/05/2022

ذیابیطس ایک خاموش قاتل مرض ہے جودیمک کی طرح خاموشی سے انسانی جسم کے اندرونی اعضا کو چاٹ رہی ہوتی ہے ۔ شوگرکے مریض جلد ہی دل، گردوں اور آنکھوں کے امرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سلسلے میں سادہ طرز زندگی ذیابیطس سے بچاوُ اور تحفظ میں کافی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ اس کےلیے ضروری ہے کہ
آپ ایک متوازن جسمانی وزن قائم رکھنے کی کوشش کریں ۔
روزانہ کم از کم ایک گھنٹہ پیدل چلنے اور ورزش کرنے کیلےُ وقف کردیں اس کو اپنے معمول کا حصہ بنائیں۔
اپنے کھانے پینے کی اشیاُ پر کنٹرول رکھیں۔
میٹھی چیزیں کھانے سے پرہیز کریں۔
مرغن غذائیں بھی کم کردیں۔
صحت مند کھانوں پر مشتمل ایک چارٹ بنائیں اور اس پہ عمل کریں۔
سگریٹ نوشی کو مکمل ترک کردیں کیونکہ اس سے شوگر اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتاہے۔
اپنی ادویہ مقررہ وقت پر لیں اور طے کردہ اوقات یا دنوں میں اپنا شوگر لیول چیک کروالیں۔
اپنی شوگر کو کنٹرول میں رکھیں اور جسم کو چوٹ سے بچائیں خصوصاً اپنے پاؤں کا خاص خیال رکھیں۔
اگر آپ کو ذیابیطس کی علامات ظاہر ہوں تو اپنے قریبی ہسپتال یا فزیشن کلینک پہ جا کہ اپنا معائنہ کروائیں اور مرض کی تشخیص ہونے پہ گھبرائیں نہیں۔ بروقت علاج شروع کریں اور زندگی کی نعمتوں سے لطف اندوز ہوں۔
شوگر کو بیماری سمجھیں نہ کہ زندگی کا ساتھی بنائیں۔

06/05/2022

شوگر کو مصیبت نہ سمجھیں‘ چیلنج سمجھ کر مقابلہ کیجئے صحت مند غذا‘ دوا ، طرززندگی میں تبدیلی اور جسمانی سرگرمیاں یہی اس کا بہترین حل ہے۔ اس کے علاوہ خوراک کے اوقات اور مقدار میں تبدیلی انتہائی ضروری ہے۔ اپنے تین وقت کے کھانوں کو پانچ کھانوں میں تقسیم کیجئے،ریشہ دار اجناس کا انتخاب کیجئے۔ اپنی خوراک میں تیل سے بنی ہو ئی اشیا کی مقدار کم کر دیں۔مکھن کھانا چھوڑ دیں ، میکرونی‘ نوڈلز‘ پپیتا‘ سموسے اور نمکو سے اجتناب کریں ،جوسز سے پرہیز کریں ۔ دودھ اور پھل کا استعمال کریں ۔کھانوں کے ساتھ سلاد کا استعمال انتہائی مفید ہے
اچھی طرح یاد رکھیں کہ آپ کے لئے صحت ذائقہ سے زیادہ ضروری ہے تو پھر آپ کو کسی دوسرے کھانے کی ضرورت نہیں رہے گی اورآپ تھوڑے ہی دنوں میں عادی ہو جائیں گے۔ روزانہ بیس سے پچس منٹ کی واک ضرور کریں اور وقفے وقفے سے بلڈ شوگر لیول چیک کرتے رہیں۔
یاد رکھئے مٹھاس ذائقوں میں نہیں زندگی میں لایئے۔ اپنے لئے اور اپنے پیاروں کے لئے صحت کا خیال رکھئے۔ صرف زبان کی تسکین کے لئے پورے جسم کو اذیت دینا زیادتی ہے۔ اداسی ‘ پریشانی آپ کے مرض کی شدت میں اضافہ کر سکتی ہے اور روزانہ چہل قدمی ضرور کیجئے۔ اپنی بیماری کو تسلیم کریں کیونکہ نہ ماننے سے مرض ختم نہیں ہوتا بلکہ بیماری کو تسلیم کر لینا اور اس سے نبردآزما ہونا ہی صحت کے لئے بہتر ہے۔
اپنا خیال رکھیں ، صحت مندر ہیں۔

06/05/2022

ہم سب جانتے ہیں کہ ذیابیطس تیزی سے بڑھتا ہوا ایک دائمی مرض ہے جو کہ بہت سے صحت کے مسائل اور پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے۔آج کل ایسانہیں ہے کہ یہ مرض بہت عمر بڑھنے پر ہو بلکے چھوٹی عمر میں بھی آپ کو اس بیماری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہےاور اگر ایک بار ذیابیطس ہوگی تو پھر یہ Slow Poisonousکی طرح کام کرتی ہے ۔ پورے دنیا میں ایک اندازے کے مطابق قریباً 5 کروڑ افراد اس بیماری کا شکار ہیں اور آنے والے وقت میں اس تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اسکی وجہ کیا ہے؟
ذیابیطس ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہمارا غلط طرز زندگی ہے پارٹی کے نام پر ہم سب فاسٹ فورڈ کھانا پسند کرتے ہیں کولڈ ڈرنگ پینا پسند کرتے ہیں جو وزن بڑھنے کا باعث بنتا ہے اور اگر ہم بات کریں ورزش کی تو لائف اتنی مصروف ہے کہ اس کے لیے وقت ہی نہیں نکال پاتے، آفس میں سارا دن ہم بیٹھے رہتے ہیں یا تھوڑا بہت مشکل سے گھوم پھر لیتے ہیں جس میں چائے یا کافی سونے پہ سہاگے کا کا م کرتی ہے، اور پھر سگریٹ نوشی کا استعمال بلڈ شوگر بڑھا سکتا ہے مطلب یہ کہ ہم اس بیماری کو خود بلاتے ہیں ۔
مختصر یہ کہ ذیابیطس کا مکمل علاج ابھی تک دریافت نہیں ہوا تاہم موزوں طریقہ علاج اور خوراک کی مناسب مقدار ‘ اوقات میں تبدیلی اور طرزِزندگی میں تبدیلی سے کسی حد تک اس بیماری پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
احتیاط برتنے کا مقصد یہ ہے کہ ذیابیطس کے مریض کی صحت کو برقرار رکھا جا سکے اور اس کے وزن کو مقررہ حد میں رکھا جا ئے تاکہ آپ بھی ذیابیطس کے ساتھ چاق و چوبند اور صحت و توانا زندگی گزار سکے۔
بیماری کو مستقل مہمان نہ بنائیں
Stay Active with Diabetes

06/05/2022

ذیابیطس کو لاعلاج مرض سمجھا جاتا ہے لیکن اگراس کا سامنا مثبت سوچ‘حوصلے اور تدبرسے کیا جا ئے تو اکثر صورتوں میں اس سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔اس کی ایک زندہ مثال مشہور کرکٹر اور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم ہیں جو ذیابیطس کے ساتھ بھرپور اور فٹنس کے تناظرمیں مثالی زندگی گزار رہے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ ’’ذیابیطس نے مجھے صحت مند طرززندگی دیا ہے۔
ذیابیطس کے مریض کو کم از کم ہفتے میں پانچ دن تقریباً آدھا گھنٹہ روزانہ تیز قدموں سے پیدل چلنا چاہیے ۔ اگر مریض کے لیے مشکل ہو تو اسے دو یا تین حصوں میں تقسیم بھی کر سکتے ہیں۔
ورزش کرنے سے چونکہ خون میں شوگر کم ہوتی ہے اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کو خالی پیٹ ورزش کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔کیوں کہ اس سے خون میں شوگر خطرناک حد تک کم ہو سکتی ہے اگر ورزش شروع کرتے وقت آپ کو کھانا کھائے ہوئے ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزر چکا ہے تو بہتر ہے کہ پہلے آپ کچھ کھا لیں ۔ درمیانے درجے کی ورزش کے لئے دو نمکین بسکٹس یا آدھا کپ دودھ کافی ہوگا ۔ لیکن اگر آپ زیادہ ورزش کرنا چاہتے ہیں تو اسی حساب سے زیادہ خوراک لیں اور 20 سے 30 منٹ انتظار کر لیں تاکہ خوراک آپ کے خون میں شامل ہوجائے لہذا اپنے روز مرہ کے معاملات میں ورزش کو ضرور شامل رکھیں ۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اگرڈائٹ پر کنٹرول رکھا جائے ‘ جسمانی سرگرمیوں کو معمول بنایا جائے اور ادویات یا انسولین کے استعمال میں بداحتیاطی نہ کی جائے تو اس مرض کے باوجود نارمل زندگی گزاری جا سکتی ہے۔
صحت اپنائیں، بیماری نہیں

29/04/2022

شوگر کے مریضوں کے لیے ورزش کرنا نہایت اہم عمل ہے ، ورزش کے ذریعے شوگر کے مریض بلڈ پریشر اور وزن متوازن رکھنے کے ساتھ ساتھ ذیابیطس سے بھی چھٹکارا پا سکتے ہیں۔
یوں تو ذیابیطس کے مریض کے لیے ورزش کے بے پناہ فوائد ہیں مگر آپ کو ورزش شروع کرنے سے پہلے ان باتوں کو مدنظر رکھنا چاہئے ۔
آپ اگر پہلے سے ورزش کے عادی نہیں ہیں تو آپ ہلکی پھلکی ورزش سے آغاز کرسکتے ہیں۔
اپنی ورزش کو آہستہ آہستہ بڑھاتے چلے جائیں یہاں تک کہ آپ دن میں کم از کم 20سے 30 منٹ تک باقاعدگی سے ورزش کرنے لگیں۔
ورزش کے دوران اس بات کا دھیان رکھیں کہ آپ کے پاؤں پر کہیں کوئی زخم یا چوٹ وغیرہ نہ لگ گئی ہو۔اپنے پاؤں کو روزانہ چیک کریں اور ایسے جوتے استعمال کریں جو آپ کے پاؤں کے لئے آرام دہ اور فٹ ہوں۔
ایسی ورزش سے گریز کریں جس سے آپ کے پاؤں پر شدید دباؤ پڑتا ہو۔ مثلاً بھاگنے سے بہتر ہے کہ آپ تیز چلیں۔ اس سے آپ کے پاؤں پر کم دباؤ آئے گا۔
ورزش سے پہلے، ورزش کے دوران اور ورزش کے بعد اپنا گلوکوز لیول چیک کرتے رہے تاکہ آپ کو اندازہ ہوسکے کہ ورزش کا آپ کے گلوکوز لیول پر کیا اثر پڑتا ہے۔
خیال رکھیں کہ اپنے ورزش کے شیڈول کو آگے پیچھے کرنے سے(اگر آپ انسولین لے رہے ہیں تو) آپ کی انسولین کی خوراک بھی ایڈجسٹ کی جاسکتی ہے ۔ اس حوالے سے اپنے ڈاکٹر سے رابطے میں رہیں۔
اپنا خیال رکھیں ، بیماری کا نہیں

28/04/2022

ذیابیطس جسم میں موجود گلوکوز کی غیر متوازن مقدار کا نتیجہ ہےجسکا سبب ہارمونز کا عدم توازن ہے ۔ تمام ہارمونز کا تعلق دماغ سے جڑا ہوتا ہے لہذا شوگر کے مریضوں کے لیے ایک صحت مند لائف اسٹائل اور صحت مند دماغ کا ہونا بہت ضروری ہے۔ مناسب ورزش اور چہل قدمی کے ذریعے ذہن اور جسم کو پرسکون کرکے گلوکوز کی مقدار میں توازن لایا جاسکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریضوں کےلیے ورزش کیوں ضروری ہیں؟
ورزش كرنے سے خون میں گلوکوز کی مقدار کو كم كرنے میں مدد ملتی ہے۔
ورزش انسولین کی بے اثری کو کم کرتی ہے جو کہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کی بنیادی وجہ ہے۔
ذیابیطس افراد میں دل کے امراض کا جو اضافی خطرہ ہوتا ہے، اُسے کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

دورانِ خون میں بہتری پیدا ہوتی ہے۔
ذیابیطس کے مریض کی توانائی میں اضافہ ہوتاہے۔
وزن كنٹرول كرنے میں مدد ملتی ہے۔
سانس لینے میں بہتری پیدا ہو تی ہے۔
پٹهوں كا تناؤ كم ہو تا ہے۔
ذہنی تناؤ میں كمی آتی ہے۔
ہڈیاں اور پٹهے مضبوط ہونگے۔
آپ کے مزاج میں خوشگوار تبدیلی آئے گی۔
اس لیے اپنے روزانہ کے معمولات میں بیس سے پچس منٹ کی ورزش شا مل کرنے سے نہ صرف آپ ذہنی اور جسمانی طور پر چاک و چوبند رہے گے بلکہ شوگر سے ہونے والی دیگر بیماریوں سے بچے رہتے ہیں ۔
Stay Active with Diabetes

28/04/2022

ذیابیطس کے شکار بہت سے لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور وہ اس حوالے سے جدوجہد کرتے ہیں کہ آیا وہ اس بیماری سے کیسے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں ؟لہذا شوگر کے مریضوں کے لیے ایک صحت مند صحت مند غذا اور چست طرز زندگی کو اپنانا بہت ضروری ہے ۔ خوراک ، ادویات اور ورزش کے ذریعے اس بیماری کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے . خوراک میں اعتدال اور ادویات کے ساتھ ساتھ ورزش کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔
اپنے روزانہ کے معمولات میں بیس سے پچس منٹ ورزش شا مل کرنے سے نہ صرف آپ خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر چاق و چوبند محسوس کریں گے بلکہ شوگر اور بلڈ پریشر جیسی بیماریوں سے بھی بچے رہیں گے۔ .
ذیابیطس سے تحفظ ، محفوظ مستقبل

25/04/2022

رمضان میں شوگر کے مریضوں کے لیے خون میں گلوکوز کی سطح کم رکھنا اور بلڈ ویسلز کو نقصان رساں دیگر خطرناک عناصر پر کنٹرول رکھنا شامل ہے۔ تمباکو نوشی چھوڑ دینے سےبھی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ٹائپ 2 ذیابیطس کا علاج ادویات سے کیا جاسکتا ہے، مگر ان کو بھی انسولین کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر پر کنٹرول اور پیروں کا خیال رکھنا
ضروری ہوتا ہے۔دیگر سستے علاجوں میں ریٹینو تھیریپی کا معائنہ اورالیکٹرونک پلس تھراپی کا علاج شامل ہے ۔کولیسٹرول کی سطح کو درست رکھنے،بلڈ لپڈ پر کو کنٹرول کرنا اور گردے کی بیماریوں سے جوڑی ذیابیطس کی ابتدائی علامات کی تشخیص شامل ہے۔ان اقدامات کو صحت بخش غذا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، وزن کو نارمل رکھنے اور تمباکو نوشی کے استعمال سے اجتناب کے ساتھ دور کیا جا سکتا ہے۔
صحت مند رہیں، خوش رہیں

25/04/2022

شوگر کے مریضوں کو افطاری میں پانی کے علاوہ ایسے پھلوں کے رس کا بھی استعمال کرنا چاہئے جو شوگر لیول بڑھائے بغیر صحت بخش ثابت ہوں نا کہ نقصان دہ۔
ماہرین غذائیت کے مطابق شوگر کے مریض اپنی غذا کو مناسب اور مثبت رکھ کر ہی اس بیماری سے جان چھڑا سکتے ہیں۔ سادہ پانی، پھلوں، سبزیوں کے جوس اور سوپ ہماری صحت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جن کا استعمال روزانہ کیا جاسکتا ہے ، مگر شوگر کے مریض ہر پھل یا سبزی کا استعمال نہیں کر سکتے۔ذیابیطس میں پانی کے علاوہ جو مشروبات استعمال کیے جا سکتے ہیں ان میں ہرے پتے والی سبزیوں کے جوس، کافی ، بغیر چینی اور بالائیکے دودھ اور سٹرس فروٹ یعنی وٹامن سی رکھنے والے پھل شامل ہیں۔
ذیابیطس کے مریض بھی دودھ کا ستعمال کر سکتے ہیں مگر بالائی کے بغیر ،اگرآپ شوگر کنٹرول کرنے کے خواہشمند ہیں اور پانی کے علاوہ کچھ پینے کی طلب ہو رہی ہو تو پالک، گاجر اور کھیرے کے جوس کا استعمال کر سکتے ہیں، اس سے شوگر لیول متوازن ہونے سمیت مجموعی طور پر صحت پر مثبت اثر پڑتے ہیں ۔
بھر پور صحت ، اب ہمارے سنگ

25/04/2022

ذیابیطس کے شکار افراد رمضان میں اکثر خوراک کا صحیح انتخاب کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں، ایسی غذاؤں کا چناؤ جو خون میں گلوکوز کی سطح کے ساتھ تباہی نہ کر سکیں ، ذیابیطس کے انتظام کے لیے ضروری ہے۔ سبز پتوں والی سبزیاں اور ایسے پھل جس سے مریض کو الرجی نہ ہو بہترین خوراک کی مثالیں ہیں ۔
ذیابیطس کے شکار لوگوں کے لیے کچھ بہترین پھل سیب، ایوکاڈو، بلیک بیری، چیری، گریپ فروٹ، آڑو، ناشپاتی، بیر یا اسٹرابیری ہیں۔پھل فائبر اور وٹامنز سے بھرپور ہوتے ہیں۔ماہرین غذائیت کا کہنا ہے کہ فائبر چینی کے جذب کو کم کرنے اور بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس لیے جوس کی بجائے پورا پھل کھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ورزش سے پہلے یا بعد میں پھل اور سبزی کا کھانا ایک اچھا وقت تصور کی جاتا ہے کیونکہ اس وقت ہمارا جسم اضافی کاربوہائیڈریٹ کو تیزی سے استعمال کر سکتا ہے۔تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر سبزیوں اور پھلوں کی 500 گرام روزانہ مقدار لی جائے تو شوگر کا خطرہ 50 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب اگر آپ مکمل اناج، دلیے، جوکا آٹے وغیرہ کی مقدار اپنی غذا میں بڑھاتے ہیں تو عین اسی تناسب سے شوگر آپ سے دور ہوتی جائے گی۔ اچھی بات یہ ہے مکمل اناج سے موٹاپا سے بھی نجات ملتی ہے ۔ اس طرح شوگر کا شکار ہونے کی شرح 19 سے 21 فیصد تک کم ہوسکتی ہے۔غذائیں شوگر کو روکنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں اور ان کی معمولی مقدار سے بھی صحت پر بڑے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ہمارا مقصد ، آپ کا خیال

Address

Gulshan-e-Ravi
Lahore

Telephone

+923324447558

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Careplusecureblog posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share