Psychology & Personal Growth Center

Psychology & Personal Growth Center Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Psychology & Personal Growth Center, Psychologist, KKS, Lahore.

Muqaddas Tariq | Psychologist | Life Coach | Writer | Trainer | NLP Master | Hypnotherapist | Youtuber | CEO & Founder

"Prioritize Mental Health: Unlock a Happier
Life."🌼

https://whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

27/05/2026

پنجابی کہاوت ہے
کوئی ماڑی کرجائے تے مر نہیں جائی دا
پہلے نالوں زیادہ نکھر کے وکھائی دا

27/05/2026

تمام اہل اسلام کو عید الضحٰی کی ڈھیروں خوشیاں مبارک ہوں 🐐
ہمیشہ خوش رہیں سلامت رہیں

22/05/2026

" ماؤں کی تربیت اہم ہے"
ایک خاتون آفس میں بیٹھی کہہ رہی تھی
" بھائی! میرا فلاں کزن ، میرے فلاں کزن کا بیٹا ماہانہ ڈھائی لاکھ روپے کماتے ہیں۔ فلاں کے پاس اتنی بڑی کوٹھی ہے فلاں والی گاڑی ہے وغیرہ وغیرہ "۔
کچھ دن پہلے ان کے بیٹے سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔ اس لڑکے کا مائنڈ سیٹ یہ تھا کہ میرے والد نے اپنی زندگی ضائع کی ہے۔ وہ محنت کرتے تو ہمارے دوسرے رشتے داروں کی طرح وہ بھی بڑے گھر گاڑیاں بنا سکتے تھے ہمیں اچھی زندگی اور سہولیات دے سکتے تھے۔ میں اپنے والد کی طرح اپنی زندگی ضائع نہیں کروں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ اس ملاقات کے بعد ہی میں نے اس لڑکے کے والدین کو اپنے پاس بلایا تھا میں جاننا چاہتا تھا کہ بچے میں یہ سوچ ماں سے پروان چڑھی ہے یا پھر اس میں باپ کا کردار اہم ہے ؟

خاتون کی باتیں سننے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس سب میں سارا کردار ماں کا تھا۔ وہ صوفے پر اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی ہوئی کہہ رہی تھیں
" انہوں نے محنت نہیں کی ، میرے بچوں کی زندگی باقی رشتے داروں سے مختلف ہے۔ میرے بچے غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ میرا بیٹا زندگی میں کچھ بڑا کر کے اپنے رشتے داروں کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے"۔ یہ سب سنتے ہوئے ایک شوہر اور ایک باپ نظریں جھکائے خاموش بیٹھا تھا۔ وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا جیسے کوئی مجرم ہے۔ در اصل اسے مجرم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔۔

اب اس باپ کی روداد سنیے۔۔۔۔
ایک گریجویٹ شخص ہے لیکن کسی سرکاری محکمے میں سیکیورٹی گارڈ کی نوکری کرتا ہے۔ اپنے گھر سے تین سو کلومیٹر دور اس کی جاب ہے۔ وہ پورا مہینہ اپنے بیوی بچوں سے دور رہتا ہے اس کے مطابق اٹھائیس ہزار روپے تنخواہ ہے لیکن وہ پورے بائیس ہزار روپے اپنی بیوی کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ چھ ہزار روپے میں آنا جانا اور کھانا پینا یہ تمام اخراجات وہ کیسے کرتا ہے۔ کیا کھاتا ہے کتنی قربانیاں دیتا ہے کتنے لوگوں اور افسران کی گالیاں اور جھڑکیں سنتا ہے یہ بس وہی جانتا ہے۔ گریجویٹ ہوتے ہوئے چوکیدار کی نوکری کرنے کی وجہ بیوی بچوں کی ذمہ داری ہے ورنہ اکیلے شخص کی حیثیت سے میں یہ نوکری کبھی نہ کرتا۔ تین عیدیں گزر گئی ہیں میں نے اپنے کپڑے نہیں خریدے لیکن بیوی بچوں کو ہر عید پر کپڑے جوتے لے کر دیے۔۔ بارہ بارہ گھنٹے سردی گرمی میں کھڑے رہ کر ڈیوٹی کرنا آنے جانے والوں کے لیے دروازہ کھولنا آفیسرز کو سلیوٹ کرنا ۔۔ پھر بھی یہ اور بچے ٹھیک کہتے ہیں میں نے زندگی میں محنت نہیں کی۔۔

اس کے بعد میں نے خاتون سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا
" یہی وجہ ہے کہ آپ کا بیٹا اپنی زندگی سے خوش اور مطمئن نہیں ہے۔ وہ اپنے باپ کی محنت پر سوال اٹھاتا ہے حتیٰ کہ آپ کی اس لالچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کا بیٹا اب شارٹ کٹ کے چکر میں ہے وہ راتوں رات امیر ہونا چاہتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا پر گولڈ مائن انٹرنیشنل جیسے فراڈ پر مشتمل ویبسائٹ اور ارننگ کو توجہ کا مرکز بنائے ہوئے ہے۔ آپ کے بیٹے کو کتنی بار سمجھایا کہ یہ کوئی آن لائن یا ڈیجیٹل سکلز نہیں صرف اور صرف فراڈ ہے۔ لیکن وہ کوئی بھی سکل سیکھ کر کمانا نہیں چاہتا وہ صرف کمانا چاہتا ہے اور بہت سارا کمانا چاہتا ہے ۔۔۔۔ یہ سوچ صرف اور صرف آپ سے لی گئی ہے فلاں کزن کی گاڑی فلاں کی کوٹھی وغیرہ وغیرہ۔۔۔

اس سے بڑا ظلم آپ نے یہ کیا کہ بیٹے کو باپ کی قربانیاں بتا کر باپ کی عزت کرنے کی تربیت دینے کی بجائے آپ نے بیٹے کو باپ سے باغی اور غیر مطمئن کر دیا اسے تربیت دی کہ اس کے باپ نے ان کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ آپ نے بیٹے کو باپ کی حق حلال اور محنت کی کمائی سے محبت کرنے کی بجائے نفرت کرنا سکھا دیا۔ بیٹے کو اچھا کمانے اور اچھا لائف سٹائل بنانے پر موٹیوٹ ضرور کریں لیکن اس کے لیے اسے غلط تربیت اور مثالیں مت دیں۔ ۔۔اب بھی وقت ہے آپ اپنی سوچ تبدیل کر لیں اور اپنے بیٹے کی نئے سرے سے تربیت کریں۔
۔ ہماری والدہ نے ہمیشہ ہمیں والد صاحب کی قربانیوں سے آگاہ کیا مشکل وقت میں اپنی خواہشات کو پس پشت ڈال کر ہماری خواہشات پوری کرنے کی ہزاروں مثالیں دی مگر کبھی ایسا ایک جملہ نہیں کہا جس سے یہ سوچ یا تربیت ملی ہو کہ ہمارے والد نے ہمارے لیے فلاں کام نہیں کیا ۔۔۔
محبتیں سلامت رہیں 🌹

20/05/2026

"غیرت کا قحط "

نسلی گھوڑا بھوکا مر جائے گا مگر اس ہاتھ سے چارہ نہیں کھائے گا جس نے اس کی توہین کی ہو۔

بد قسمتی یہ ہے کہ آج کے انسان نے 'انا' کے لبادے میں 'مفاد' کو چھپا لیا ہے، اب نوالے کی خاطر لوگ 'زخم' دینے والے کے قدم چومنا بھی اعزاز سمجھتے ہیں۔

20/05/2026

عقل مند کی خاموشی — سادہ نظر آنے کی سائنس
ڈاکٹر طارق حسین سومرو لاڑکانہ ـ
سماج کا سب سے ہوشیار انسان وہ ہوتا ہے، جو جان بوجھ کر خود کو سادہ اور نادان ظاہر کرتا ہے
عام زبان میں
شیر کی کھال میں بھیڑیا، بھیڑیے کی کھال میں شیر"۔
طبی زبان میں: Social Camouflage + Hyper-Observation Syndrome
ریسرچ: ہارورڈ بزنس ریویو — دنیا کے 80% کامیاب CEO میٹنگ میں سب سے کم بولتے ہیں، سب سے زیادہ سنتے ہیں۔ وہ "نادان" بن کر دوسروں کا ڈیٹا چوری کر لیتے ہیں۔
"بظاہر کمزور، اندر سے طاقتور" —
دل کا دورہ 70% کم: یونیورسٹی آف کیلیفورنیا — جو لوگ ہر بات کا جواب دیتے ہیں، ان کی Coronary Arteries 3 گنا جلدی بند ہوتی ہیں۔ خاموش رہنے والا دل محفوظ۔
ڈپریشن زیرو: جب آپ نادان بن جاتے ہو، تو لوگوں کی باتیں، طعنے، دھوکے آپ کو "ہٹ" نہیں کرتے۔ کیونکہ آپ نے پہلے ہی مان لیا "میں نادان ہوں"۔ انا مر گئی = ڈپریشن مر گیا۔
سائیکالوجی کا اصول: لوگ طاقتور کے سامنے ماسک پہنتے ہیں، کمزور کے سامنے اصل چہرہ دکھاتے ہیں۔
مثال:
آپ دفتر میں "سیانے" بن کر بیٹھو — سب آپ سے ڈریں گے، جھوٹی تعریف کریں گے۔ آپ کو سچ کبھی نہیں ملے گا۔
آپ "نادان" بن جاؤ — کلرک بھی آپ کے سامنے صاحب کی برائی کرے گا، آپ کو 6 مہینے میں پورے دفتر کا کچا چٹھا مل جائے گا۔
طبی نقصان دشمن کا: جو آپ کو نادان سمجھ کر اپنا راز بتاتا ہے، وہ خود BP کا مریض بن جاتا ہے۔ کیونکہ منافق کا دماغ 24 گھنٹے "پکڑے جانے کے ڈر" میں ہوتا ہے۔ Cortisol ہائی = شوگر، دل، گردے تباہ۔
"زیادہ نادان بننا" — سائیڈ ایفیکٹ
ہر دوا کی ڈوز ہوتی ہے۔ اگر ہر وقت نادان بنو گے تو:
Learned Helplessness: دماغ سمجھ لے گا "میں واقعی کمزور ہوں"۔ خود اعتمادی زیرو، ڈپریشن شروع۔
لوگ فائدہ اٹھائیں گے: ہر کوئی کام آپ پر ڈال دے گا۔ Stress بڑھے گا، برن آؤٽ۔
"وقت پر فیصلہ" نہ کیا: تو ساری معلومات ردی۔ موقع ہاتھ سے نکل گیا۔
_90% وقت سنو، مشاہدہ کرو = نادان بنو۔
10% وقت بولو، فیصلہ کرو = شیر بن جاؤ۔__
یہ 10% ہی آپ کو "ہوشیار" ثابت کرے گا۔
لاڑکانہ کا عملی کیس — میرے ہسپتال سے
ایک وارڈ بوائے، 8 جماعت پاس، سب اسے "بھولا" کہتے تھے۔ ڈاکٹر، نرس، مریض — سب اس کے سامنے گپیں لڑاتے۔
6 مہینے بعد: MS صاحب نے اسے "انکوائری افسر" بنا دیا۔ کیوں؟
اس "بھولے" کے پاس پورے ہسپتال کی کرپشن کا ڈیٹا تھا — کون کتنی کمیشن لیتا ہے، کون ڈیوٹی پر سوتا ہے۔
اس نے 6 مہینے "نادان" بن کر سب کا MRI کر لیا، ایک دن رپورٹ دے دی۔
نتیجہ: 3 ڈاکٹر معطل، 2 نرس برطرف، اور وہ "بھولا" آج ایڈمن آفیسر ہے۔
سبق: وہ کمزور نہیں تھا، "ڈیٹا کلیکشن موڈ" میں تھا۔
پرہیز: ہر وقت چالاک بننا، ہر بات کا جواب دینا، اپنی ذہانت دکھانا — یہ "انا کا کینسر" ہے۔
بے وقوف وہ نہیں جو کم بولتا ہے، بے وقوف وہ ہے جو "سمجھدار" نظر آنے کے لیے ہر راز اگل دیتا ہے۔
شیر دھاڑتا کم ہے، شکار زیادہ کرتا ہے۔
_اللہ ہمیں حکمت والی خاموشی، وقت پر بولنے کی طاقت، اور لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین_
ڊاکڻر طارق حسین سومرو لاڑکانہ

15/05/2026

" جس چیز کے بارے میں تم سوچتے رہو گے ، وہی تمہاری زندگی میں آتی رہے گی۔"

اگر تم ہر وقت سوچو کہ زندگی مشکل ہے ، تو دنیا واقعی مشکل بن جاتی ہے۔

لیکن جب تم یقین کر لیتے ہو کہ ہر مسئلے کا حل ہے ، تو کائنات تمہارے لیے نئے راستے کھولنے لگتی ہے۔

سوچ صرف خیال نہیں ہوتی، یہ وہ بیچ ہے جس سے تمہاری حقیقت بنتی ہے۔ اس لیے اپنے ذہن کو شک سے نہیں بلکہ یقین سے بھرو، کیونکہ مثبت سوچ وہ طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن بنادیتی ہے.

15/05/2026

"جتنا ہمارا شعور بلند ہوتا ہے، اتنا ہی ہم خاموشی کی طرف مائل ہو جاتے ہیں،

ہم شکوے چھوڑ دیتے ہیں اور وابستگیوں سے آزاد ہو جاتے ہیں۔

ہم سمجھ جاتے ہیں کہ سکون سادگی میں ہے اور شور، وضاحتوں اور انتظار کی تھکن سے دور رہنے میں ہے۔"

🍁

ڈی بی ٹی (DBT) یعنی **Dialectical Behavior Therapy** جذبات کو سمجھنے اور انہیں سنبھالنے کا ایک بہترین طریقہ پیش کرتی ہے:...
10/05/2026

ڈی بی ٹی (DBT) یعنی **Dialectical Behavior Therapy** جذبات کو سمجھنے اور انہیں سنبھالنے کا ایک بہترین طریقہ پیش کرتی ہے:

# # جذبات کیا ہیں؟
ڈی بی ٹی کے مطابق، جذبات کوئی مستقل چیز نہیں بلکہ ایک **مختصر وقت کے لیے ہونے والا ردِعمل** ہیں۔ یہ خود بخود پیدا ہوتے ہیں اور ہمارے پورے جسمانی نظام (دماغ، اعصاب اور سوچ) پر اثر انداز ہوتے ہیں۔

# # جذبات کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟
جذبات کو ایک ایسے سسٹم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے جس کے 6 اہم حصے ہیں:
1. **جذباتی حساسیت (Vulnerability):** آپ کا وہ اندرونی حال جو آپ کو کسی بھی بات پر ردِعمل دینے کے لیے تیار رکھتا ہے (جیسے تھکن یا پریشانی میں جلدی غصہ آنا)۔
2. **اشارہ یا وجہ (Prompting Events):** کوئی بھی واقعہ، چاہے وہ باہر ہو رہا ہو یا آپ کے ذہن میں، جو جذبے کو ابھارتا ہے۔
3. **سوچ اور تشریح (Appraisal):** آپ اس واقعے کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ آپ کا ذہن اس کا کیا مطلب نکالتا ہے؟
4. **جسمانی تبدیلی اور خواہش (Response Tendencies):** دل کی دھڑکن تیز ہونا، پسینہ آنا، اور کچھ خاص کرنے کی شدید خواہش (جیسے ڈر کے مارے بھاگ جانے کا دل کرنا)۔
5. **اظہار (Expressive Responses):** آپ کے چہرے کے تاثرات، آپ کے الفاظ اور آپ کے اعمال۔
6. **بعد کے اثرات (Aftereffects):** جذبہ گزر جانے کے بعد کی صورتحال، جیسے کہ ایک جذبے کی وجہ سے دوسرے جذبے کا پیدا ہونا (مثلاً غصہ کرنے کے بعد شرمندگی محسوس ہونا)۔
# # سب سے اہم بات: تبدیلی کا راستہ
ڈی بی ٹی کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ یہ تمام حصے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
* **اگر آپ اپنا جذبہ بدلنا چاہتے ہیں، تو آپ کو پورے نظام کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے۔**

* اگر آپ اوپر دیئے گئے **کسی بھی ایک حصے** کو بدل دیں (مثلاً اپنی سوچ بدل لیں، یا اپنے عمل کو تبدیل کر دیں)، تو پورا جذباتی نظام خود بخود بدل جائے گا۔

> **آسان لفظوں میں:** جذبات ایک زنجیر کی طرح ہیں۔ اگر آپ زنجیر کی ایک کڑی بھی توڑ دیں یا بدل دیں، تو پورا اثر بدل جاتا ہے۔ اس طرح ہم اپنے جذبات کے غلام بننے کے بجائے ان پر قابو پانا سیکھ سکتے ہیں۔
>

جیسا کہ ہم نے اوپر سمجھا کہ جذبات ایک مکمل نظام (System) ہیں اور کسی ایک حصے کو بدل کر ہم اپنی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

میری کتاب "DBT" آپ کو انہی تکنیکوں سے لیس کرتی ہے تاکہ آپ اپنے ردِعمل اور جذبات کو بہتر طور پر مینیج کر سکیں۔

اس کتاب کی اصل قیمت 1500 روپے ہے، لیکن آپ کی ذہنی نشوونما کی حوصلہ افزائی کے لیے اگلے ایک ہفتے تک یہ صرف 1000 روپے میں دستیاب ہے۔

ماہر نفسیات مصنفہ
مقدس طارق

Whatsapp at for book order
03436872338

09/05/2026

میرے پاس ہمیشہ اپنے مسائل سے نمٹنے کے لیے دو چیزیں ہوتی ہیں، جو بہت زیادہ مؤثر ہیں۔

ان سے مسائل اگر حل نہ بھی ہوں، لیکن ان سے نمٹنے کا ایک حوصلہ آ جاتا ہے۔

پہلی چیز یہ ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ، پریشانی یا مصیبت آئے تو خود کو مضبوط کر لو۔

خود کو مضبوط کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس تلخ حقیقت کو قبول کر لو۔

اس کے بعد دوسری چیز یہ ہے کہ خود کو مصروف کر لو۔

خود کو مصروف کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے کسی پسندیدہ مشغلے میں انوالو ہو جائیں۔ جو چیز بھی آپ کو اچھی لگتی ہے، اسے کرنا شروع کر دیں، لیکن وہ چیز پروڈکٹیو ہونی چاہیے۔ اپنے آپ کو، اپنی انرجیز کو اچھی جگہ پر لگائیں۔

اس سے کیا ہوگا کہ آپ کا مسئلہ تو حل نہیں ہوگا، لیکن آپ کے مسئلے سے آپ کی توجہ ہٹ جائے گی۔ جب آپ کی توجہ دوسرے کام پر لگ جائے گی تو آپ خود بخود پرسکون ہونے لگیں گے۔

تو یہ دو چیزیں ہیں جو میں خود بھی اپلائی کرتی ہوں، اور یہ ساری ٹیکنیکس سے زیادہ ایفیکٹو ہیں۔

اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ان دو ٹیکنیکس سے حل نہ ہو سکے۔

میرے لیے یہ بہت زیادہ کارآمد ہیں، اس لیے میں نے سوچا کہ میں یہ آپ سب کے ساتھ بھی شیئر کروں تاکہ کسی کو فائدہ ہو۔ یہ صدقۂ جاریہ میں آتا ہے، اس کو آگے بھی فارورڈ کریں۔

شکریہ 🌸

ماہر نفسیات، مصنفہ
مقدس طارق

https://whatsapp.com/channel/0029VaTbIkqKGGGO8bd24J0p

09/05/2026

Damaged people are dangerous because they know they can survive no matter what🌱💯

09/05/2026

جو میرے ضبط کا شیرازہ منتشر کر دے
تیرے ستم کو ابھی وہ ادا نہیں اتی

Address

KKS
Lahore
54900

Website

https://psychologywithmuqaddas.com/

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Psychology & Personal Growth Center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.


Parse error: syntax error, unexpected '}', expecting end of file in /home/multisite/volt/findhealthclinics/%%home%%multisite%%apps%%geosite%%views%%unify01%%partials%%item_sidebar.volt.php on line 287