Dr Syed Javed Sabzwari

Dr Syed Javed Sabzwari It's All About Your Hearts Health Prevention and treatment of angina,heart attack,heart failure,rheumatic heart disease,heart rhythms.

Control of high blood pressure,high serum cholesterol,high uric acid. Advisory and follow up services for Angioplasty,Open Heart Surgery and Pacemaker ICD / CRT implantation. Special interest in the non invasive management of Heart Failure,Angina and heart attack. Special work on the prevention of Rheumatic Fever and Rheumatic Heart Diseases in Pakistan. Special interest is to educate both Doctors and General Public about the cardiology. Research on Stem Cell Therapy and other measures in the management of Cardiomyopathies.

شادی سے پہلے ، لڑکا اور لڑکی ، دونوں کا کلینکل معائنہ کیوں لازمی ہے ۔دل کے بعض امراض پیدائشی طور پر موجود ہوتے ہیں جن می...
12/01/2026

شادی سے پہلے ، لڑکا اور لڑکی ، دونوں کا کلینکل معائنہ کیوں لازمی ہے ۔
دل کے بعض امراض پیدائشی طور پر موجود ہوتے ہیں جن میں دل کے سوراخ کا بند نہ ھونا ، دل کے والوز کی بیماریاں اور دل کے پٹھوں کے کچھ امراض قابل ذکر ہیں ۔ شادی کے بعد ان امراض کی موجودگی میں حمل کا ٹھہرنا نہ صرف ماں کے لئے بلکہ آنے والے بچے کے لئے بھی خطرناک ہوسکتا ہے ۔
ہمارے ملک میں بچوں کے والوز خراب کرنے والا جوڑوں کا بخار جسے رہیومیٹک فیور کہتے ہیں ، بہت عام ہے ۔ پانچ سال کی عمر یا اس سے زیادہ کے بچے اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ۔
ماں باپ بچے کے گلے میں پیدا ہونے والی سوزش ، بخار ، جسم اور جوڑوں میں درد ، دھڑکن کی تیزی ، جلد پر سرخ نشان اور مرگی کی طرح کے دورے کو شروع کے دنوں میں نظرانداز کر دیتے ہیں ۔ یہی وہ بہت بڑی غلطی ہے جو بعد میں بچوں کے دل کے والوز خراب اور ناکارہ کرنے کا سبب بنتی ہے ۔
اس بیماری میں دل کے والو / والوز یا تو پھیل جاتے ہیں یا بہت تنگ ہوجاتے ہیں ۔
شادی کے بعد حمل کے دوران زچہ کے جسم میں تقریبآ 12سے 14 لٹرز پانی اکٹھا ہوجاتا ہے جس سے خون کا حجم زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اگر خدانخواستہ دل کا والو پیدائشی یا رہیومیٹک فیور کی وجہ سے تنگ ہو ، تو خون کے حجم کی زیادتی کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی کے جمع ہونے کا امکان بہت زیادہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حاملہ خاتون کا سانس بہت خراب ہو جاتا ہے ۔ دھڑکن تیز ہوجاتی ہے ۔ چونکہ نارمل حمل میں بھی ایسی علامات بعض اوقات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اسی لئے خواتین ان علامات کو نظرانداز کردیتی ہیں ۔
اسی طرح کچھ خواتین میں شادی سے پہلے ہائی بلڈ پریشر ، شوگر کی بیماری ( ذیابیطس ) ، تھائی رائیڈ کی ببیماری ، خون میں یورک ایسڈ اور کولیسٹرول یا ٹرائی گلیسرائیڈز کی شدید زیادتی یا خون کی شدید کمی موجود ہوتی ہیں لیکن انہیں پتہ ہی نہیں چلتا ۔
دوران حمل پائی بلڈپریشر یا شوگر کی بیماری کا ہونا زچہ اور بچہ دونوں کے لئے باعث تکلیف اور مشکلات ہو سکتا ہے ۔
ان امراض کے علاوہ خون کے نہ جمنے کی بیماری ، جسمانی پٹھوں کی بیماریاں جو وراثت کے ذریعے اگلی نسل میں منتقل ہو سکتی ہیں ، اگر ان امراض کا شادی سے پہلے پتہ چل جائے تو احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
شادی سے پہلے مکمل معائنہ نہ صرف خواتین کو مختلف پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ آنے والے بچوں کو بھی مختلف بیماریوں سے بچا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

11/01/2026

دل کی تین نالیوں کی تنگی کے باوجود بغیر بائی پاس آپریشن یا انجیوپلاسٹی روزانہ 9 کلومیٹرز کی سیر ۔
ان صاحب نے بائی پاس آپریشن اور سٹینٹس کے ڈلوانے سے کیوں انکار کیا ۔
آپ بھی ان کی طرح صحت مند زندگی گزار سکتے ہیں لیکن اس کے لئے آپ کو بھی ان تمام عوامل کو کنٹرول یا ختم کرنا ہوگا جو دل کی نالیوں کی تنگی کے ذمہ دار ہوتے ہیں ۔ اس کے ساتھ خوراک میں تبدیلی لانی ہوگی ۔ روزمرہ کے معمولات اور معاملات کو بھی بہتر کرنا ہوگا اور سب سے اہم کارڈیالوجسٹ کی تجویز کردہ دواؤں کی پابندی کرنا ہوگی ۔ خود سے نسخے میں ردوبدل نہیں کرنا ہوگا ۔
اگر ان سب کے باوجود بھی مریض کی طبیعت ٹھیک نہیں ہوتی تو پھر سٹینٹس بھی ڈالنے چاہئیں یا بائی پاس آپریشن بھی کرنا چاہئے لیکن انجائنا یا ہارٹ اٹیک کے ہوتے ہی سٹینٹس ڈال دینا یا بائی پاس آپریشن کردینا یہ ہرگز مناسب نہیں ہے ماسوائے چند مریضوں کے جنہیں ان پروسیجرز کی واقعی ضرورت ہوتی ہے ۔
اگر ہم یہ خیال نہیں رکھیں گے تو پھر بار بار کے سٹینٹس ڈالنے پھر بائی پاس آپریشن پھر سٹینٹس اور پھر بائی پاس آپریشن کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جو کسی طور بھی مریض کے لئے مناسب نہیں ہے ۔
ہمیں ہر حال میں دل کے مریض اور ان کے تیمارداروں کے ذہن سے دل کی بیماری اور خدانخواستہ اس کے نتیجے میں ہونے والی موت کا خوف نکالنا ہوگا ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

10/01/2026

دل کے پٹھوں کی بیماری کا علاج بہت آسان ہے اگر بیماری کی وقت پر تشخیص ہوجائے ۔
دل کے پٹھوں کی کون کون سی بیماریاں ہوتی ہیں ۔
دل کے پٹھوں کی بیماری کی علامات کیا ہوتی ہیں ۔
دل کے پٹھوں کی بیماری کی تشخیص کیسے کی جاتی ہے ۔
جانئے ۔ آج کے پروگرام میں ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

کسی بھی مریض کو جن کے دل کی نالیوں میں ہم نے سٹینٹس ڈالنے ہیں یا بائی پاس آپریشن تجویز کرنا یے ہمیں ان باتوں پر ایماندار...
10/01/2026

کسی بھی مریض کو جن کے دل کی نالیوں میں ہم نے سٹینٹس ڈالنے ہیں یا بائی پاس آپریشن تجویز کرنا یے ہمیں ان باتوں پر ایمانداری کے ساتھ ضرور غور کرنا چاہیے ۔
سب سے پہلے دل کے مریض کی مکمل ہسٹری اور تفصیلی کلینکل معائنہ کرنے کے بعد ہمیں اس بات کا لازمی تعین کرنا چاہئے کہ کیا ان کو انجیو پلاسٹی یا بائی پاس آپریشن کی واقعی ضرورت ہے ماسوائے ان ایمرجینسی کیسز کے جن میں انجیوپلاسٹی یا بائی پاس آپریشن بہت ناگزیر ہوتے ہیں ۔
ہمیں دیکھنا چاہئیے کہ کیا مریض نے دی گئی ان تمام ہدایات پر سختی سے عمل کیا ہے جو انہیں بتائی گئی تھیں اور ان تمام عوامل کو کنٹرول یا ختم کردیا ہے جن کی وجہ سے ان کے دل کی نالیاں سخت اور تنگ ہوئی تھیں کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ مریض نہ سگریٹ پینا چھوڑتے ہیں اور نہ نسوار رکھنا بند کرتے ہیں ۔ نہ پان اور نہ گٹکا ختم کرتے ہیں اور نہ ہی شراب ۔ نہ کھانے پینے میں احتیاط کرتے ہیں اور نہ ہی وزن کم کرتے ہیں ۔ نہ ان کا غصہ کم ہوتا ہے اور نہ ان کے بیٹھے رہنے کی عادت ۔ نہ سیر کرتے ہیں اور نہ ورزش ۔ ایسے مریضوں میں انجیوپلاسٹی کرنے یا بائی پاس آپریشن کرنے کا فائدہ ہی نہیں ہوتا ۔ اگر ان کو سٹینٹس ڈال بھی دئیے جائیں یا بائی پاس آپریشن کروا دیا جائے یہ کچھ عرصے بعد پھر انہی علامات کے ساتھ واپس آجاتے ہیں ۔
پھر ہمیں اس پر بھی غور کرنا ہوگا کہ
کیا مریض تجویز کردہ نسخے کے مطابق دوائیں پابندی سے لے رہے ہیں کیونکہ بعض مریض اپنی مرضی کے مطابق دوائیں لیتے ہیں ۔ خود سے ہی نسخے میں ردوبدل کر دیتے ہیں ۔
کیا دل کی دوائیں اور ان کی خوراک مریض کے مطابق آؤٹ ڈور کی بنیاد پر تجویز کی گئی تھیں یا ہسپتال میں داخل کرنے کے بعد مانیٹرنگ کے عمل سے گزارنے کے بعد انہیں تجویز کیا گیا تھا ۔ ہم نے یہ دیکھا ہے کہ وہ مریض جن کو دل کے ہسپتال میں مانیٹرنگ کے بعد دوائیں تجویز کی گئیں ان کے نتائج بہتر تھے ان مریضوں کے مقابلے میں جنہیں آؤٹ ڈور میں نسخہ تجویز کیا گیا تھا ۔
ہم نے یہ دیکھا ہے کہ اگر ہر مریض پر انفرادی توجہ دے کر علاج کیا جائے اور مریض بھی ان ہدایات پر سختی سے عمل کریں تو چھ ماہ کے بعد 97 فیصد مریض بالکل ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ صرف 3 فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جن کو انجیو پلاسٹی یا بائی پاس آپریشن کی واقعی ضرورت ہوتی ہے ۔
یاد رکھئے ۔ دل کا بائی پاس آپریشن یا انجیوپلاسٹی دل کی بیماری کی علامات کنٹرول کرنے کے لئے کئے جاتے ہیں ۔ زندگی کی مدت بڑھانے کے لئے نہیں ۔
ہم انسانوں نے اس دنیا میں کتنی دیر رہنا ہے یہ صرف اللہ تعالی کو معلوم ہے ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

09/01/2026

انجیوگرافی اور انجیوپلاسٹی میں کیا فرق ہے ۔
سٹینٹس کے ڈلوانے کے بعد یا بائی پاس آپریشن کے بعد کیا احتیاط کرنی چاہئیے ۔
دل کی بیماریوں میں اضافہ کیوں ہو رہا ہے ۔
یہ پروگرام مئی 2014 میں ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر ٹیلی کاسٹ ہونے والے پروگراموں میں سے ایک پروگرام تھا جو باقاعدگی سے 2013 سے 2016 تک ٹیلی کاسٹ کئے گئے ۔
آج بھی دل کے بیماریوں کے وہی حالات ہیں بلکہ اور زیادہ بڑھتی جا رہی ہیں ۔
اس پروگرام کے میزبان پاکستان کے ایک نامور شاعر اور ادیب ، ریڈیو پاکستان اور ٹیلی ویژن کے مشہور اینکربپرسن اور پاکستان نیشنل سینٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل محترم جناب اعزاز احمد آذر صاحب تھے ۔
آزر صاحب اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کا ادبی ورثہ ہمیشہ ان کی یاد دلاتا ریے گا ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

09/01/2026

السلام علیکم !
آج کی خوبصورت صبح ، آپ کی منتظر ہے ۔
آئیں ! اللہ تعالی کا شکر ادا کریں کہ اس نے ایک نیا دن صحت و تندرستی کے ساتھ ہمیں عطا کیا ۔
اللہ تعالی کا تخلیق کردہ انسانی دل جس کا سائز عام طور پر انسان کی بند مٹھی کے برابر ہوتا ہے ، اتنا طاقتور ہے کہ چوبیس گھنٹے میں ، تقریبآ ایک لاکھ مرتبہ دھڑکنے کے ساتھ ، ساٹھ ھزار میل لمبی خون کی نالیوں میں ، روزانہ سات سے آٹھ ھزار لٹرز خون انسانی جسم کو مہیا کرتا ہے ۔
ہم اللہ تعالی کی نعمتوں کو نہ شمار کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان نعمتوں کا حق ادا کرسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

بیرون ممالک اور اندورن ملک پاکستانیوں کے لئے دل کی صحت کے حوالے سے آن لائن کنسلٹیشن ۔ آپ ابھی 03334495563 یا 04235210650...
08/01/2026

بیرون ممالک اور اندورن ملک پاکستانیوں کے لئے دل کی صحت کے حوالے سے آن لائن کنسلٹیشن ۔
آپ ابھی 03334495563 یا 04235210650 پر ہمارے سٹاف ممبر سے رابطہ کرکے آن لائن کنسلٹیشن کے لئے وقت مقرر کر سکتے ہیں ۔
آپ آن لائن کنسلٹیشن کرکے اپنے دل کی صحت کو بہتر کرنے کے لئے مشورہ کر سکتے ہیں ۔
آپ آن لائن کنسلٹیشن کرکے اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کے افراد کو دل کے امراض سے بچانے کے لئے مشورہ کر سکتے ہیں ۔
اگر خدانخواستہ دل کی بیماری ہوگئی ہے تو آپ آن لائن کنسلٹیشن کرکے اس کے علاج کے پلان کے حوالے سے مشورہ کر سکتے ہیں ۔
اگر آپ کے دل کی نالیوں میں سٹینٹس ڈل گئے ہیں یا آپ کا بائی پاس آپریشن ہوگیا ہے یا والو تبدیل ہوگئے ہیں تو آپ آن لائن ہم سے مشورہ کر سکتے ہیں تاکہ آپ کے سٹینٹس یا بائی پاس کے گرافٹس یا والوز جلد بند نہ ہوں ۔
اگر آپ کو انجائنا یا ہارٹ اٹیک کے بعد بسٹینٹس کے ڈالنے یا بائی پاس آپریشن کروانے کا مشورہ دیا گیا ہے تو آپ ہم سے آن لائن مشورہ کر سکتے ہیں کہ کیا واقعی آپ کو سٹینٹس یا بائی پاس آپریشن کی ضرورت ہے یا سٹینٹس اور بائی پاس آپریشن کے بغیر بھی دواؤں کے ذریعے اور ان تمام عوامل کو کنٹرول یا ختم کرکے جو دل کی بیماری کے ذمہ دار تھے ، ایک صحت مند زندگی گزاری جاسکتی ہے اور اگر واقعی ضرورت ہے تو پھر کب اور کہاں سے یہ پروسیجرز کروانے چاہئیں ۔
باہر کے ممالک میں رہنے والے اکثر پاکستانیوں کو وہاں کی زبان بولنے کی حد تک تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر دل کے مرض کے علاج کی صورت میں انہیں وہاں کے کسی ہسپتال میں جانا پڑجائے تو علاج کے حوالے سے جو تکنیکی معاملات ہوتے ہیں وہ انہیں سمجھ میں نہیں آتے ۔ ہسپتال انتظامیہ کی طرف سے علاج کے حوالے سے ان سے اکثر کچھ کاغذات خاص طور پر انشورنس کمپنیوں کے فارمز پر دستخط کروا لئے جاتے ہیں جن کا انہیں پتہ ہی نہیں چلتا ۔ اس لئے باہر کے ممالک میں ہسپتالوں اور انشورنس کمپنیوں کی طرف سے دیئے گئے کاغذات پر کوئی بھی اجازت دینے کے دستخط کرنے سے پہلے اچھی طرح اطمینان کرلیں تاکہ بعد میں آپ کو پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔
آج کل ذرا سی تکلیف کی صورت میں ایسے ایسے ٹیسٹس کروا لئے جاتے ہیں ۔ غیر ضروری طور پر سٹینٹس ڈال دئیے جاتے ہیں یا بائی پاس آپریشن کر دیا جاتا ہے یا دل کی دھڑکن کو کنٹرول کرنے کے لئے پیس میکر یا آئی سی ڈی لگا دئیے جاتے ہیں جن کی ضرورت ہی نہ تھی ۔ دبئی کے ایک ہسپتال میں ایک پاکستانی نوجوان کو آئی سی ڈی لگا دیا گیا جس کی قطعآ ضرورت نہ تھی ۔ آپ اس حوالے سے بھی ہم سے آن لائن کنسلٹیشن کرسکتے ہیں ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

08/01/2026

خواتین میں ہارٹ اٹیک کی علامات مردوں سے مختلف ہو سکتی ہیں ۔
پاکستان میں خواتین میں ہارٹ اٹیک کی زیادتی کی وجہ ۔
ہم ہارٹ اٹیک کی شرح میں نمایاں کمی کر سکتے ہیں ۔

ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔

کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

08/01/2026

دل کی باتیں !
دل کی اہمیت جس طرح ہمارے جسم میں ہے ۔ اسی طرح ادب میں بھی اسے اعلی مقام حاصل ہے ۔ ایک طرف ادیبوں نے جہاں دل کے حوالے سے بہت شاہکار ادب تخلیق کیا تو وہیں دوسری طرف شعراء نے بھی اپنی شاعری کو دل کے بغیر نامکمل جانا ۔
قتیل شفائی کا یہ شعر کس طرح دل کے مرض اور اس کے معالج کے حوالے سے ایک خاص کیفیت کی عکاسی کرتا ہے ۔
یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاھور ۔ پاکستان ۔

07/01/2026

دل کی باتیں !
سورہ النحل کی آیت نمبر 66 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے
" اور تمھارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے ، ان کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں یعنی خالص دودھ ، جو پینے والوں کے لئے نہایت خوشگوار ہے"
اب آئیں آج کے زمانے میں ، چارہ جو بھینس کو کھلایا جاتاہے ، اسکی کاشت اور اگانے کے دوران کتنی مقدار میں مصنوعی کھاد استعمال کی جاتی ہے اور فصل کو کیڑوں سے بچانے کے لئے مختلف زہریلی دواؤں کا کتنا اندھادھند سپرے کیا جاتا ہے ۔
بھینس کو آکسیٹوسن کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے تاکہ اس کے دودھ دینے کی مقدار میں اضافہ ہو ۔ اس کےبعد دودھ کی مقدار زیادہ کرنے کے لئے اور زیادہ پیسہ کمانے کے لالچ میں اللہ تعالی کی اس نعمت میں پانی ملایا جاتا ہے ۔
کیا یہ دودھ جسے اللہ تعالی نے انسانوں کے لئے خوشگوار مشروب قرار دیا ہے ، انسانوں کے ہاتھوں ہی انسانوں کے پینے کے قابل رہ گیا ہے ۔
نعمت خداوندی کی اس خیانت کے بعد ، کیا پھر ہم ہارٹ اٹیک ، ہارٹ فیلئیر ، فالج اور دوسری بیماریوں کا شکار نہیں ہونگے ۔
سوچنے والوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

06/01/2026

السلام علیکم !
نیا دن ، نئی سوچ ، نئی زندگی ، سوتے میں روح کا قبض ہوجانا اور جاگنے پر دوبارہ بھیج دینا ایک وقت مقرر تک ، اتنا پیچیدہ باریک نظام ، ہم انسان نہیں سمجھ سکتے ۔ ہماری سوچ بہت محدود ۔ ہمارے جسم میں ہمارے علم میں آئے بغیر ان گنت مشینریاں ، فیکٹریاں 24 گھنٹے ساری زندگی کام کر تی ہیں ۔ ہم تو سجدوں سے سر نہیں اٹھا سکتے ۔
آپ کو معلوم ہے کہ اگر ہم پھیپھڑوں کو پھیلا کر زمین پر بچھا دیں تو ان کا سائز ایک ٹینس کورٹ کے برابر ہوتا ہے ، سبحان اللہ ۔
آئیں شکر ادا کریں اللہ کے حضور ان نعمتوں کا ۔
خوب صورت دن آپ کا منتظر ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاھور ۔ پاکستان ۔

ہارٹ اٹیک کی شروع کی علامات اور ان سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر ۔ بھاری کام کر نے سے یا کھانے کے بعد تیز چلنے سے یا غصے کی ...
05/01/2026

ہارٹ اٹیک کی شروع کی علامات اور ان سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر ۔
بھاری کام کر نے سے یا کھانے کے بعد تیز چلنے سے یا غصے کی حالت میں یا جذباتی کیفیت میں اگر آپکو سینے میں بوجھ ، گھٹن ، دباؤ یا درد ہوتا ہے جو بائیں بازو یا دونوں بازؤں یا گردن یا نچلا جبڑہ یا کمر میں جاتا محسوس ہوتا ہے ۔ سانس خراب ہوتا ہے ۔ دھڑکن تیز ہوجا تی ہے ۔ متلی ہوتی ہے۔ پسینے آتے ہیں ۔ آرام کرنے سے اور ڈکار یا ہوا خارج ہونے سے یہ کیفیت ٹھیک ہوجاتی ہے ۔ ان علامات کو گھر پر مختلف دیسی نسخوں یا سوشل میڈیا پر دستیاب ٹوٹکوں سے ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کریں بلکہ فورآ نزدیکی ہسپتال میں جائیں اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب سے ڈسکس کریں ۔
یہاں ہم فیملی فزیشنز سے بھی کہیں گے کہ اگر ان علامات کے ساتھ مریض آپ کے پاس آتے ہیں اور ان کی ای سی جی اور ایکو بھی نارمل ہیں تو بھی ان علامات کو گیس کی تکلیف یا معدے کی تیزابیت یا پٹھے کا درد سمجھ کر نظر انداز نہ کریں بلکہ ان کا مکمل معائنہ کروائیں ۔
تمباکونوش افراد میں تو قدرت بہت عرصہ پہلے ہارٹ اٹیک سے بچنے کی علامات پیدا کرنا شروع کر دیتی ہے لیکن بہت کم لوگ ان علامات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں ۔
آپ نے احتیاطی تدابیر کیا اختیار کرنی ہیں ؟
تمباکو نوشی مکمل طور پر بند کردیں ۔ سگریٹ ، سگار ، پائپ ، تمباکو والا پان ، شیشہ اور نسوار کو ابھی اور آج ہی سے ہمیشہ کے لئے خیرباد کہہ دیں ۔ نسوار ( نہ جلنے والا تمباکو )انسانی صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہے ۔
روزانہ باغ یا کھلے پارک میں سیر کی عادت ڈالیں ، گہرے گہرے سانس لیں ، کوشش کریں سانس کو اندر لیکرکافی دیر تک روکے رکھیں اور پھر جھٹکے سے باھر نکالیں ۔
ہلکی ورزش کریں لیکن آرام سے ، جہاں تھکاوٹ کا احساس ہو ، ورزش روک دیں ، آرام کریں ۔ اس کے بعد گھر چلے جائیں ۔ وہ لوگ جنہیں مندرجہ بالا علامات شروع ہوگئی ہیں اپنے دل کا مکمل معائنہ کروانے کے بعد ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق سیر و ورزش شروع کریں ۔
خوراک میں تبدیلی لے آئیں ، موسم کی تازہ ہرے پتے والی سبزیاں اور پھلوں کا زیادہ استعمال کریں ۔
دالیں ، اجناس ، تازہ دریائی اور سمندری مچھلی کا اعتدال کے ساتھ استعمال دل کی صحت کے لئے بہت مفید ہے ۔
اپنی سوچ اور عادات میں مثبت تبدیلی لائیں ۔
سب سے اہم بات ، اللہ تعالی کا ذکر کریں اور اللہ تعالی سے صحت اور ثابت قدمی کی دعا کریں ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔

Address

Lahore
54000

Telephone

+923334227772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Syed Javed Sabzwari posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category