12/01/2026
شادی سے پہلے ، لڑکا اور لڑکی ، دونوں کا کلینکل معائنہ کیوں لازمی ہے ۔
دل کے بعض امراض پیدائشی طور پر موجود ہوتے ہیں جن میں دل کے سوراخ کا بند نہ ھونا ، دل کے والوز کی بیماریاں اور دل کے پٹھوں کے کچھ امراض قابل ذکر ہیں ۔ شادی کے بعد ان امراض کی موجودگی میں حمل کا ٹھہرنا نہ صرف ماں کے لئے بلکہ آنے والے بچے کے لئے بھی خطرناک ہوسکتا ہے ۔
ہمارے ملک میں بچوں کے والوز خراب کرنے والا جوڑوں کا بخار جسے رہیومیٹک فیور کہتے ہیں ، بہت عام ہے ۔ پانچ سال کی عمر یا اس سے زیادہ کے بچے اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ۔
ماں باپ بچے کے گلے میں پیدا ہونے والی سوزش ، بخار ، جسم اور جوڑوں میں درد ، دھڑکن کی تیزی ، جلد پر سرخ نشان اور مرگی کی طرح کے دورے کو شروع کے دنوں میں نظرانداز کر دیتے ہیں ۔ یہی وہ بہت بڑی غلطی ہے جو بعد میں بچوں کے دل کے والوز خراب اور ناکارہ کرنے کا سبب بنتی ہے ۔
اس بیماری میں دل کے والو / والوز یا تو پھیل جاتے ہیں یا بہت تنگ ہوجاتے ہیں ۔
شادی کے بعد حمل کے دوران زچہ کے جسم میں تقریبآ 12سے 14 لٹرز پانی اکٹھا ہوجاتا ہے جس سے خون کا حجم زیادہ ہوجاتا ہے ۔ اگر خدانخواستہ دل کا والو پیدائشی یا رہیومیٹک فیور کی وجہ سے تنگ ہو ، تو خون کے حجم کی زیادتی کی وجہ سے پھیپھڑوں میں پانی کے جمع ہونے کا امکان بہت زیادہ ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے حاملہ خاتون کا سانس بہت خراب ہو جاتا ہے ۔ دھڑکن تیز ہوجاتی ہے ۔ چونکہ نارمل حمل میں بھی ایسی علامات بعض اوقات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ اسی لئے خواتین ان علامات کو نظرانداز کردیتی ہیں ۔
اسی طرح کچھ خواتین میں شادی سے پہلے ہائی بلڈ پریشر ، شوگر کی بیماری ( ذیابیطس ) ، تھائی رائیڈ کی ببیماری ، خون میں یورک ایسڈ اور کولیسٹرول یا ٹرائی گلیسرائیڈز کی شدید زیادتی یا خون کی شدید کمی موجود ہوتی ہیں لیکن انہیں پتہ ہی نہیں چلتا ۔
دوران حمل پائی بلڈپریشر یا شوگر کی بیماری کا ہونا زچہ اور بچہ دونوں کے لئے باعث تکلیف اور مشکلات ہو سکتا ہے ۔
ان امراض کے علاوہ خون کے نہ جمنے کی بیماری ، جسمانی پٹھوں کی بیماریاں جو وراثت کے ذریعے اگلی نسل میں منتقل ہو سکتی ہیں ، اگر ان امراض کا شادی سے پہلے پتہ چل جائے تو احتیاطی تدابیر اختیار کرکے ان امراض پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔
شادی سے پہلے مکمل معائنہ نہ صرف خواتین کو مختلف پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ آنے والے بچوں کو بھی مختلف بیماریوں سے بچا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر سید جاوید سبزواری ۔
کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ۔
لاہور ۔ پاکستان ۔