Dr Tahir Nazir Herbalist & Homeopathic Physician

Dr Tahir Nazir Herbalist & Homeopathic Physician Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Dr Tahir Nazir Herbalist & Homeopathic Physician, Medical and health, al rehman clinic, Lahore.

🌿🏥️ "Dr. Nazir 🙏
Herbalist & Homeopathic Doctor 🌸💊
Welcome to Al Rehman Clinic 🏥️
Dr. Nazir is a respected 🙏
Herbalist and Homeopathic Doctor 🌿💊
known for his holistic care ❤️
and expertise in natural remedies 🌸🌻"

آئس لینڈ کے خوبصورت نظاروں کے پیچھے چھپا ایک "گندا جینیاتی راز"! 🇮🇸💔کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے پرامن ترین اور خوبصورت م...
15/01/2026

آئس لینڈ کے خوبصورت نظاروں کے پیچھے چھپا ایک "گندا جینیاتی راز"! 🇮🇸💔
کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے پرامن ترین اور خوبصورت ملک "آئس لینڈ" کی بنیادوں میں آئرش اور سکاٹش عورتوں کے آنسو اور زنجیریں چھپی ہوئی ہیں؟ 🌊⛓️
سائنس دانوں نے جب جدید آئس لینڈی باشندوں کے ڈی این اے (DNA) کا تجزیہ کیا تو ایک ہولناک انکشاف ہوا:
🧬 80% مرد تو وائکنگ (ناروے/سویڈن) تھے، لیکن...
🧬 60% سے زائد عورتیں سیلٹک (آئرلینڈ اور برطانیہ) سے تھیں۔
یہ خواتین وہاں کیسے پہنچیں؟
یہ کوئی رضاکارانہ ہجرت نہیں تھی۔ تاریخ کے تاریک صفحات بتاتے ہیں کہ وائکنگ جنگجو برطانیہ اور آئرلینڈ کے ساحلوں پر چھاپے مارتے، مردوں کو قتل کرتے اور نوجوان عورتوں کو "جنسی غلام" بنا کر اپنے بحری جہازوں میں ڈال لیتے۔ آئس لینڈ کی آبادکاری دراصل ان اغوا شدہ عورتوں کے دم سے ہوئی۔
خاموش مائیں اور مٹتی زبان 🤫
سوچیں! ان ماؤں نے اپنے بچوں کو لوریاں تو اپنی مادری زبان (Gaelic) میں سنائیں، مگر وائکنگ مردوں کے جبر نے ان کی زبان چھین لی۔ آج آئس لینڈ کی زبان تو وائکنگ ہے، مگر وہاں کی لوک داستانیں، پریوں کے قصے اور جادوئی کہانیاں آج بھی آئرلینڈ کے سبزہ زاروں کی خوشبو دیتی ہیں۔
خون کی قربانی اور ہولناک حقائق 💀
آئس لینڈ کی قدیم قبروں سے ایسے ڈھانچے ملے ہیں جہاں مالک کے ساتھ ایک عورت کو قتل کر کے دفنایا گیا تھا—تاکہ وہ مرنے کے بعد بھی "خدمت" کر سکے۔ ان عورتوں کو انسان نہیں بلکہ "اثاثہ" سمجھا جاتا تھا۔
نتیجہ:
آج کا جدید اور ترقی یافتہ آئس لینڈ دراصل ان ہزاروں گمنام اور مظلوم عورتوں کی ہمت پر کھڑا ہے جن کا نام تاریخ نے مٹا دیا، لیکن ان کا خون آج بھی ہر آئس لینڈی کی رگوں میں دوڑ رہا ہے۔
آئس لینڈ صرف برف اور لاوے کا ملک نہیں، یہ ان "خاموش ماؤں" کی داستانِ الم بھی ہے۔ 🏔️ پکار

15/01/2026

صرف وہ لوگ اپنی رپورٹس واٹس ایپ کریں جو پس سیلز، سپرم کی کمی یا بے اولادی کے چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے حل کی امید رکھتے ہیں 032044986624 📱💬👍

یہ ھے محبت قرآن و دین اسلام اے بہکے ھوئے مسلماندیکھ کچھ  سیکھ  لے اب  بھی  ھے  وقت اے مسلمانافغانستان کی کامیابی کا راز
08/12/2024

یہ ھے محبت قرآن و دین اسلام
اے بہکے ھوئے مسلمان
دیکھ کچھ سیکھ لے
اب بھی ھے وقت اے مسلمان
افغانستان کی کامیابی کا راز

ماچس کی تیلی کا ایک سر ہوتا ہے لیکن دماغ نہیں ہوتا، اس لیے جب جلتی ہے تو خود کو ہی جلا لیتی ہے۔حاسد کی مثال بھی بالکل ای...
02/12/2024

ماچس کی تیلی کا ایک سر ہوتا ہے لیکن دماغ نہیں ہوتا، اس لیے جب جلتی ہے تو خود کو ہی جلا لیتی ہے۔
حاسد کی مثال بھی بالکل ایسی ہی ہے۔ حسد کی آگ میں وہ دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن درحقیقت وہ اپنی ہی خوشیوں کو خاکستر کر رہا ہوتا ہے۔

اپنے دل کو حسد سے پاک کریں اور دوسروں کی خوشیوں میں خوش رہنا سیکھیں، کیونکہ دوسروں کے لیے بھلائی چاہنے سے آپ کی اپنی زندگی میں بھی سکون اور برکت آتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر طاہر نذیر

خیال کی جنگوہ ایک جسم فروش عورت تھی، جس کی زندگی عزت اور وقار کے الفاظ سے محروم تھی۔ اس کے شب و روز گناہ کی غلاظت میں لپ...
02/12/2024

خیال کی جنگ

وہ ایک جسم فروش عورت تھی، جس کی زندگی عزت اور وقار کے الفاظ سے محروم تھی۔ اس کے شب و روز گناہ کی غلاظت میں لپٹے ہوئے تھے، جہاں کسی روشنی کی کوئی امید نہ تھی۔ پھر ایک دن، ایک مالدار اور بااثر شخص اس کی زندگی میں آیا، جو نیکی کے جذبے سے سرشار تھا۔

اس شخص نے اس کا ہاتھ تھاما، اسے گناہ کے گڑھے سے نکالا، اور اپنی شریکِ حیات بنا لیا۔ اس نے اسے عزت دی، ایک پرسکون گھر فراہم کیا، اور ہر وہ خوشی دی جس کی کوئی بھی عورت خواہش کرتی ہے۔ وہ شخص خود کو اس نیکی پر مطمئن سمجھ رہا تھا، لیکن قسمت کے کھیل نے جلد ہی ایک تلخ حقیقت آشکار کر دی۔

چند سال بعد، وہ مرد کرپشن کے الزام میں گرفتار ہوا۔ جب وہ عورت حوالات میں اس سے ملنے آئی، تو اس کے دل میں ایک کربناک سوال اٹھا۔ وہ دھیمے لہجے میں بولی:
"اگر حرام ہی کھلانا تھا تو میری کمائی میں کیا برائی تھی؟"

یہ الفاظ کسی الزام سے زیادہ، سوچنے پر مجبور کرنے والا سوال تھے۔ ہم معاشرے میں کئی طرح کی حرام کمائی کو معمول سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں: رشوت، سود، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ، اور ناجائز قبضے۔ لیکن صرف طوائف کی کمائی کو ہم سب سے زیادہ حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں؟

یہ بات واضح ہے کہ حرام، حرام ہی ہے۔ نہ طوائف کی کمائی جائز ہے، نہ رشوت، نہ سود، اور نہ ہی کسی دوسرے ناجائز طریقے سے کمائی گئی دولت۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب کسی کو گناہ کے راستے سے ہٹایا جاتا ہے تو کیا ہم اسے حلال اور پاکیزہ روزی فراہم کر رہے ہیں؟ یا ہم اسے ایک اور طرح کے حرام میں دھکیل رہے ہیں؟

معاشرے کو سدھارنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویے پر غور کریں۔ کسی کو گناہ سے ہٹانا کافی نہیں، بلکہ اسے حلال کی طرف لانا بھی ہمارا فرض ہے۔ یہی راستہ نہ صرف اس فرد کے لیے، بلکہ معاشرے کے لیے بھی بہتر مستقبل کی بنیاد رکھے گا۔

---

تحریر: ڈاکٹر طاہر نذیر

یہ کہانی میں، ڈاکٹر طاہر نذیر، آپ سب کے لیے لکھ رہا ہوں تاکہ ہم معاشرتی برائیوں پر غور کریں اور انہیں بہتر انداز میں سمجھ سکیں۔ اگر میری کہانیاں اور تحریریں آپ کو پسند آتی ہیں تو میری حوصلہ افزائی کے لیے میرے پیج کو لائک، فالو اور شیئر کریں۔ آپ کی محبت اور تعاون میری طاقت ہے اور مجھے مزید ایسی اصلاحی کہانیاں لکھنے کی تحریک دیتی ہے۔

عنوان: مالک، نوکر اور دودھ کی کہانییہ کہانی ایک ایسے مالک کی ہے جو دیانتداری اور بھروسے کا پیکر تھا۔ ایک دن اس نے اپنے ن...
01/12/2024

عنوان: مالک، نوکر اور دودھ کی کہانی

یہ کہانی ایک ایسے مالک کی ہے جو دیانتداری اور بھروسے کا پیکر تھا۔ ایک دن اس نے اپنے نوکر کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ روزانہ ایک لیٹر دودھ گرم کرکے اسے پلائے۔ مالک نے اس بات پر مکمل اعتماد کیا کہ نوکر ایمانداری سے اپنی ڈیوٹی انجام دے گا۔

پہلے کچھ دن سب ٹھیک چلا۔ نوکر ہر روز ایک ہی وقت پر مالک کو دودھ پیش کرتا رہا۔ لیکن پھر نوکر کے دل میں لالچ پیدا ہوا۔ اس نے روزانہ ایک پاؤ دودھ خود پینا شروع کر دیا اور باقی دودھ میں پانی ملا کر مالک کو پیش کرنے لگا۔ مالک کو اس کا پتہ نہیں چلا، لیکن نوکر کا یہ عمل بڑھتا گیا۔

چند دن بعد ایک شخص نے مالک کو یہ اطلاع دی کہ اس کا نوکر دودھ میں ملاوٹ کر رہا ہے۔ مالک کو یقین نہ آیا لیکن اس نے شک کی بنیاد پر ایک اور نوکر رکھا تاکہ پہلے نوکر کی نگرانی کی جا سکے۔ اب نئے نوکر نے پرانے نوکر کے ساتھ مل کر سازش کی اور دونوں نے روزانہ دودھ میں سے پاؤ پاؤ نکال کر خود پینا شروع کر دیا۔ باقی دودھ میں پانی ملا کر مالک کو دیتے رہے۔

کچھ عرصے بعد مالک کو پھر شکایت ملی کہ دونوں نوکر ملاوٹ کر رہے ہیں۔ مالک نے ایک تیسرے نوکر کو رکھا تاکہ وہ ان دونوں پر نظر رکھے۔ لیکن اب تینوں نوکر آپس میں مل گئے اور سازش مزید بڑھ گئی۔ وہ دودھ کا بڑا حصہ خود پی لیتے اور مالک کو صرف پانی ملا دودھ دیتے۔

اس سب کے دوران مالک کی صحت گرنے لگی۔ وہ کمزور ہوتا گیا، لیکن اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ ایک دن ایک مہمان نے مالک کو بتایا کہ نوکر دودھ کے اوپر جمی ہوئی ملائی تک چرا لیتے ہیں۔ مالک کو شدید غصہ آیا لیکن وہ اپنے نوکروں کی حقیقت دیکھنے کے لیے خاموش رہا۔

ایک دن مالک نے صبح اپنے چہرے پر جمی ہوئی ملائی دیکھی تو اس نے حقیقت کو سمجھا۔ اسے معلوم ہوا کہ اس کے نوکر مسلسل بددیانتی کر رہے ہیں۔ مالک کو اپنی غفلت کا احساس ہوا اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اب خود اپنے معاملات کی نگرانی کرے گا۔

حقیقت اور سبق:

دوستو، یہ کہانی ایک علامت ہے جو ہماری روزمرہ کی زندگی میں بدعنوانی کی عکاسی کرتی ہے۔ اس کہانی میں مالک عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور نوکر حکومت، ادارے یا وہ لوگ ہیں جنہیں ہم اپنے معاملات سونپتے ہیں۔ عوام کی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ انہی اداروں کو دیا جاتا ہے تاکہ وہ خدمات فراہم کریں۔ لیکن جب یہ ادارے بددیانتی اور لالچ کا شکار ہو جاتے ہیں، تو عوام کو ان کا اصل حق نہیں ملتا۔

یہ کہانی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ہمیں اپنے معاملات میں باخبر رہنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو دوسروں پر مکمل طور پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ اگر ہم غفلت برتیں گے تو ہمارا نقصان ہوگا۔

لہٰذا، اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں اور ان لوگوں پر نظر رکھیں جنہیں آپ نے اپنے معاملات سونپے ہیں۔

تحریر:
ڈاکٹر طاہر نذیر
جس کو سمجھ ائے وہ لائک اور فالو مجھے لازمی کرے اس کہانی کی۔ اگر معاشرے کو بدلنا ہے تو خود کو بدلنا پڑے گا اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنا پڑے گی پھر جا کر ملک میں تبدیلی ائے گی حالات بدلیں گے پاکستان کے پاکستان انشاءاللہ قیامت تک ختم نہیں ہوتا پچھلے 75 سال سے پتہ نہیں کتنے لوگ اس کو کھا رہے ہیں لیکن اللہ کا فضل ہے یہ ختم نہیں ہوگا اور نہ ہی کبھی اس پر انچ ائے گی لیکن ہر انسان کو اپنی سوچ اپنا کردار اپنی ایمانداری دکھانی پڑے گی

Arinac Forte Tablet– نزلہ، زکام اور بخار کے لیے بہترین دواایری نیک فورٹ گولی سردی کے موسم میں نزلہ، زکام، اور بخار جیسے ...
28/11/2024

Arinac Forte Tablet
– نزلہ، زکام اور بخار کے لیے بہترین دوا

ایری نیک فورٹ گولی سردی کے موسم میں نزلہ، زکام، اور بخار جیسے مسائل کے لیے ایک مؤثر علاج ہے۔ یہ دوا خاص طور پر ان لوگوں کے لیے فائدہ مند ہے جو موسمی تبدیلیوں کے دوران عام بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ایری نیک فورٹ کے اہم فوائد:

1. نزلہ اور زکام کا علاج:

ایری نیک فورٹ سردی کے باعث ہونے والے نزلہ اور زکام کی شدت کو کم کرتی ہے اور بند ناک کھولنے میں مدد دیتی ہے۔

2. بخار کا مؤثر علاج:

یہ دوا بخار کو فوری طور پر کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، خاص طور پر وائرل انفیکشنز کی صورت میں۔

3. گلے کی خراش اور جسمانی درد میں آرام:

سردی کے باعث گلے کی خراش اور جسمانی تھکن یا درد کو ختم کرتی ہے، تاکہ آپ جلدی بہتر محسوس کریں۔

4. مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا:

ایری نیک فورٹ جسم کی قوت مدافعت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے تاکہ بیماریوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

5. سردی کے اثرات سے نجات:

سردی کے موسم میں ہونے والے عام مسائل جیسے چھینکیں، کھانسی، اور ناک بہنے کو کنٹرول کرتی ہے۔

استعمال کا طریقہ:

دن میں 1-2 گولیاں (ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق) پانی کے ساتھ استعمال کریں۔
اگر زیادہ بہتر اس کا فائدہ چاہتے ہیں تو ایک کپ گرم دودھ کے اندر ایک چمچ شہد ملا کر ساتھ میں یہ گولی استعمال کریں کھانا کھانے کے بعد انشاءاللہ بہت اچھا رزلٹ ملے گا
۔

احتیاط:

حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی مائیں، یا مستقل بیماریوں کے شکار افراد ڈاکٹر کے مشورے سے استعمال کریں۔

دوا کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔

سردی کے موسم میں صحت مند رہیں اور نزلہ زکام کو ایری نیک فورٹ کے ذریعے شکست دیں۔


ڈاکٹر طاہر نذیر

ایسا ڈاکٹر جو ایک  دن بھی سکول نہیں گیاکہانی: محنت، عزم، اور لگن کا سفرویل ہیزلٹن ایک غریب، انپڑھ نوجوان تھا جس کا بچپن ...
27/11/2024

ایسا ڈاکٹر جو ایک دن بھی سکول نہیں گیا

کہانی: محنت، عزم، اور لگن کا سفر

ویل ہیزلٹن ایک غریب، انپڑھ نوجوان تھا جس کا بچپن مزدوری میں گزرا۔ وہ ایک معمولی مزدور کے طور پر ایک میڈیکل کالج میں کام کرتا تھا، جہاں اُس کا تعارف ڈاکٹر بینکلی سے ہوا۔ ڈاکٹر بینکلی دماغی سرجری کے ماہر تھے اور ایک دن زرافے پر تجربہ کرتے وقت وہ اس کے دماغ کو قابو کرنے میں ناکام ہو گئے تھے۔ اُس وقت ویل ہیزلٹن جو کہ ایک مضبوط اور صحت مند آدمی تھا، نے ڈاکٹر کا ساتھ دینے کی پیشکش کی۔ ڈاکٹر بینکلی نے اس کی مدد قبول کی اور اس کے ساتھ مل کر زرافے کو قابو کیا۔

اس کے بعد ڈاکٹر بینکلی کو یہ احساس ہوا کہ ویل میں صرف جسمانی طاقت نہیں، بلکہ ایک خاص قسم کی ذہانت اور سمجھ بوجھ بھی ہے۔ اس نے ویل کو اپنے ساتھ رکھنا شروع کر دیا اور جب بھی وہ کسی پیچیدہ سرجری یا تجربے کے لیے کسی مددگار کی ضرورت محسوس کرتا، ویل کو بلاتا۔ یہ تعلق اور تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا گیا۔ ڈاکٹر بینکلی نے ویل کو نہ صرف سرجری کے مختلف طریقے سکھائے بلکہ اُس کے ساتھ تجربات میں بھی شامل کیا، چاہے وہ جانوروں پر تجربات ہوں یا انسانوں کی پیچیدہ سرجریاں۔

ویل کی محنت، لگن، اور ڈاکٹر کے ساتھ اس کا گہرا تعلق اس بات کا باعث بنے کہ ڈاکٹر بینکلی اسے اپنا ساتھی اور معاون سمجھنے لگے۔ ڈاکٹر جہاں بھی جاتا، اپنی سرجری کرنے، یا نئے تجربات کرنے کے لیے، ویل کو اپنے ساتھ رکھتا۔ ویل نے ہمیشہ اپنے کام میں بہترین کارکردگی دکھائی اور اس دوران اس نے سرجری کی باریکیاں سیکھیں، انسانی دماغ کی ساخت کو سمجھا، اور اس میدان میں تجربہ حاصل کیا۔ اس طرح، 20 سال گزرتے گئے، اور ویل ہیزلٹن نہ صرف ڈاکٹر کا قابلِ اعتماد ساتھی بن گیا، بلکہ ایک ماہر سرجن بھی بن چکا تھا۔

کئی مرتبہ ڈاکٹر بینکلی کی عمر کی وجہ سے سفر کرنا یا سرجری کرنا مشکل ہو جاتا، تو وہ ویل کو بھیج دیتا۔ ویل نے ڈاکٹر کے ان تمام تجربات کو کامیابی سے مکمل کیا اور ایک دن وہ خود ایک مشہور دماغی سرجن بن گیا۔ اس کی مہارت اور کامیاب آپریشنز نے اُسے شہرت دلائی۔ جب ڈاکٹر بینکلی کا انتقال ہوا، تو اس کی زندگی کے سب سے بڑے شاگرد اور ساتھی کو ڈاکٹر بینکلی کی یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا۔

ویل ہیزلٹن کی زندگی میں یہ ایک نیا باب تھا۔ اب وہ خود اپنے علم و تجربے کا اشتراک کرتا اور ایم بی بی ایس کے طالب علموں کو دماغی سرجری سکھاتا تھا۔ اُس نے اپنی زندگی کے اس تجربے سے یہ سکھایا کہ محنت، لگن، اور درست رہنمائی سے کوئی بھی انسان اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکتا ہے۔

اختتام

ویل ہیزلٹن کی کہانی نہ صرف یہ بتاتی ہے کہ سیاہ فام اور انپڑھ آدمی بھی محنت اور صحیح رہنمائی سے بڑا ڈاکٹر بن سکتا ہے، بلکہ یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہر انسان میں کچھ خاص ہوتا ہے، بس اُسے پہچاننے اور صحیح راستہ دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ویل نے اپنی زندگی کے 20 سال ڈاکٹر بینکلی کے ساتھ گزارے، جہاں اس نے نہ صرف سرجری سیکھا بلکہ ایک استاد اور رہنما بننے کی راہ بھی اختیار کی۔ اُس کی محنت اور عزم نے اُسے پروفیسر کا رتبہ دلایا، اور اس کی کہانی آج بھی لوگوں کے لیے ایک عظیم مثال ہے۔

دنیا کا واحد زہریلا پرندہ: پیٹو ہوئی (Pitohui dichrous)اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ شاہکار پرندہ پاپوا نیو گنی کے جنگلات می...
27/11/2024

دنیا کا واحد زہریلا پرندہ: پیٹو ہوئی (Pitohui dichrous)

اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ شاہکار پرندہ پاپوا نیو گنی کے جنگلات میں پایا جاتا ہے۔ یہ دنیا کا واحد زہریلا پرندہ ہے جس کی جلد اور پنکھ زہریلے ہیں۔

1990 میں دریافت:
پرندوں کے ماہر جیک ڈمبیشر نے تحقیق کے دوران جب اس پرندے کو چھوا تو انہیں جلد پر جلن اور انگلی میں سن ہونے کا احساس ہوا۔ بعد میں تحقیق سے پتا چلا کہ یہ زہر ایک نیوروٹاکسن ہوموباٹراکوٹوکسین ہے، جو اس پرندے کے کھانے میں شامل مخصوص کیڑوں اور بیجوں سے پیدا ہوتا ہے۔

یہی زہر پہلے مغربی کولمبیا کے زہریلے ڈارٹ مینڈکوں میں پایا گیا تھا۔ پیٹو ہوئی کا زہر اس کی حفاظت کے لیے ایک قدرتی ڈھال ہے، جو شکاریوں کو دور رکھتا ہے۔

ڈاکٹر طاہر نذیر
اگر میری پوسٹ اچھی لگتی ہیں تو مجھے لائک اور فالو لازمی کیا کریں اس سے میری حوصلہ افزائی ہوتی ہے

یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو ...
27/11/2024

یہ کہانی ان حضرات کے لیے ہے جو صبح کسی کے ملنے کو نحوست اور پورا دن بیکار ہونا تصور کرتے ہیں، اور جو صبح متھے لگے اس کو سارا دن گالی گلوچ کرتے رہتے ہیں۔

یہ ایک بادشاہ کی کہانی ہے جو شکار کا بہت شوقین تھا۔ وہ جب بھی شکار پر جانے کے لیے محل سے نکلتا تو حکم دیتا کہ میرے راستے میں کوئی بندہ نہ آئے۔ اس کے حکم پر سپاہی سارے راستے صاف کر دیتے اور کوئی انسان بادشاہ کے سامنے نہ آتا۔

ایک دن ایسا ہوا کہ ایک بزرگ لکڑیاں کاٹنے کے لیے جنگل میں گیا ہوا تھا۔ وہ لکڑیاں کاٹ کر واپس جا رہا تھا اور اس کی راہ بادشاہ کے راستے سے ٹکرا گئی۔ بادشاہ نے اسے دیکھ لیا اور سخت غصے میں آ گیا۔ اس نے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اس بزرگ کو درخت کے ساتھ باندھ دو۔ بادشاہ نے کہا: "اگر شکار نہ ملا تو واپس آ کر میں تمہیں پھانسی دے دوں گا، اور اگر شکار مل گیا تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا۔"

بادشاہ شکار پر چلا گیا اور قسمت سے اسے بہت اچھا شکار مل گیا۔ خوش ہو کر وہ واپس آیا اور بزرگ کو درخت سے کھولنے کا حکم دیا۔ بادشاہ نے کہا: "مجھے شکار مل گیا ہے، اس لیے میں تمہیں معاف کرتا ہوں۔"

بزرگ نے کہا: "بادشاہ سلامت، میں آپ سے ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں۔"

بادشاہ نے کہا: "کہو کیا کہنا چاہتے ہو۔"

بزرگ نے کہا: "آپ کے لیے میں منحوس ثابت ہوا کیونکہ آپ کا ماننا تھا کہ میرے سامنے آنے کی وجہ سے آپ کو شکار نہیں ملے گا۔ لیکن آپ بھی میرے لیے منحوس ثابت ہوئے کیونکہ آپ کی وجہ سے میرا پورا دن برباد ہوا اور مجھے اس قدر تکلیف برداشت کرنی پڑی۔" یہ سن کر بادشاہ سوچ میں پڑ گیا اور اسے احساس ہوا کہ بات درست ہے۔ اگر کوئی آپ کے لیے منحوس ہے تو آپ بھی اس کے لیے منحوس ہو سکتے ہیں۔

تو بہنو اور بھائیو، کوئی منحوس نہیں ہوتا، اور وہ بھی صبح کے وقت جب ہر طرف اللہ رسول کی حمد و ثنا ہو رہی ہو۔ خدا کے لیے اس سوچ کو بدلو اور صبح ہر کسی کو خوش بخت سمجھو۔

کوئی کسی کے لیے منحوس نہیں ہوتا، یہ صرف شیطانی سوچ ہے اور کچھ نہیں۔

—ڈاکٹر طاہر نذیر
اگر میری معلومات جو اپ سے شیئر کرتا ہوں اچھی لگتی ہیں تو مجھے فالو اور لائک بھی کر لیا کریں اس سے حوصلہ افزائی ہوتی ہے میری وہ میرے لیے دعا بھی کیا کریں اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو رائے راست پر چلائے

Address

Al Rehman Clinic
Lahore

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Tahir Nazir Herbalist & Homeopathic Physician posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr Tahir Nazir Herbalist & Homeopathic Physician:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram