Sir Muhammad Tahir Idrees

Sir Muhammad Tahir Idrees Like this page to know how our positive thoughts and actions in right direction can lead us to have a prosperous life. So start living...

We are here to live a happy life not a life of dead people. This is Official page of Sir Muhammad Tahir Idrees
Like this page and set following to "see first" to receive a ton of inspiration and insights to rise to your greatest life...

29/12/2025

پاکستان کے بیشتر نجی تعلیمی ادارے آج کارپوریٹ اداروں کی طرح چلتے ہیں۔ یہاں طالب علم علم حاصل کرنے والا فرد نہیں بلکہ ایک فائل، رجسٹریشن نمبر، فیس سلپ اور حاضری شیٹ بن چکا ہے۔ جب طالب علم اس مشین میں ذرا سا بھی فٹ نہ بیٹھے تو اسے ایڈجسٹ کرنے کے بجائے نکال دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ہم اکثر “ڈسپلن” کا لفظ بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں، مگر کم ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ڈسپلن اور بے حسی کے درمیان لکیر کہاں ختم ہوتی ہے۔ کیا کسی طالب علم کو کلاس سے باہر بٹھانا، پوری کلاس کے سامنے اس کی تذلیل کرنا، اس کے مستقبل کو ایک حاضری فیصد (75%) کے ساتھ مشروط کرنا، واقعی تعلیم ہے؟ یا یہ محض طاقت کا مظاہرہ ہے؟

28/12/2025

You can feel the fun only if you know the context... How hilarious it was and will remain for ever ....
Muhammad Tahir Idrees
Saif Ullah Mursi
Maqbool Ahmed

یہ تحریر کسی واقعے کی رپورٹ نہیں، ایک کیفیت کا بیان ہے—ایسی کیفیت جو لفظوں میں پوری طرح سماتی نہیں، مگر دل اصرار کرتا ہے...
25/12/2025

یہ تحریر کسی واقعے کی رپورٹ نہیں، ایک کیفیت کا بیان ہے—ایسی کیفیت جو لفظوں میں پوری طرح سماتی نہیں، مگر دل اصرار کرتا ہے کہ اسے محفوظ کر لیا جائے، کہیں وقت کی گرد میں گم نہ ہو جائے۔
کچھ لمحے ہوتے ہیں جو آنے سے پہلے خبر نہیں دیتے۔ نہ وہ کسی منصوبے کا حصہ ہوتے ہیں، نہ کسی کیلنڈر میں درج۔ مگر جب وہ گزر جاتے ہیں تو انسان کے اندر ایک مستقل روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔ یہ ملاقات بھی ایسی ہی تھی۔ بے ساختہ، بے ساختہ سے بھی آگے—جیسے دلوں نے ایک دوسرے کو خود ہی بلا لیا ہو۔
طالبِ علمی کے دن عجیب ہوتے ہیں۔ انسان اس وقت یہ نہیں جانتا کہ وہ جن لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہے، ہنسا ہے، اختلاف کیا ہے، وہی لوگ آنے والی زندگی میں اس کے مزاج، سوچ اور برداشت کا معیار بن جائیں گے۔ اسلامی جمعیت طلبہ ہمارے لیے محض ایک تنظیم نہیں تھی، وہ ایک تربیت گاہ تھی۔ وہاں ہم نے بولنا نہیں، سننا سیکھا۔ جیتنا نہیں، ساتھ چلنا سیکھا۔ اختلاف کو دشمنی بنانے کے بجائے برداشت میں ڈھالنے کا ہنر وہیں سے ملا۔
وقت گزرتا گیا۔ کوئی روزگار کی دوڑ میں لگ گیا، کوئی گھر اور ذمہ داریوں میں، کوئی دیارِ غیر کی مصروفیات میں۔ مگر کہیں نہ کہیں دل کے کسی کونے میں یہ خواہش زندہ رہی کہ ایک دن سب یونہی اکٹھے بیٹھیں گے—بغیر کسی ایجنڈے، بغیر کسی ضرورت کے۔
اور پھر وہ دن آ گیا۔
22دسمبر کی رات، لاہور سے ساہیوال کا سفر۔ مقبول لودھی ساتھ تھے۔ ان کے ساتھ سفر کا مطلب ہے آزادی رائے اور کھل کر کھلینے کا موقعہ۔ گاڑی چلتی ہے مگر گفتگو وقت کو پیچھے لے جاتی ہے۔ ہنسی، یادیں، چھوٹے چھوٹے جملے—اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم پھر وہی پرانے دنوں میں لوٹ آئے ہوں۔ مقبول کا اور میرا ساتھ تقریبا تیس سالہ پرانا ہے۔ اس میں کچھ ایسا ضرور ہے جو اس سے ملتاہے اس کا گرویدہ ہو جاتاہے۔ اس ملن پارٹی کو حقیقت کا ر نگ دینے میں مقبول کا اچھا خاصا ہے ۔ اور گاڑی بھی مقبول ہی کی جارہی تھی۔ جس کا میں نے اور احسن نے احسن انداز سے فائیدہ اٹھایا۔
ساہیوال پہنچے تو فرحان اشرف نے جس خلوص سے دروازہ کھولا، اس میں رسمی پن کا شائبہ تک نہ تھا۔ دنیا دیکھنے والا، سمندروں اور جہازوں کا آدمی، مگر دل کا اتنا سادہ کہ جیسے برسوں سے یہی گھر ہو۔ گھر کی سادگی، دیواروں پر سمندری علامتیں، ہر چیز اس کے مزاج کی ترجمان تھی۔ اہلِ خانہ کو سسرال بھیج کر پورا گھر ہمارے لیے وقف کر دینا محض مہمان نوازی نہیں تھی، یہ اعتماد تھا—اور شاید محبت بھی۔
چونکہ گھر میں کھانے کا انتظام نہ تھا، اس لیے ساہیوال کے بازاروں کا رخ کیا۔ چوہدری یوسف بھائی کے ساتھ لال قلعہ پہنچے۔ کھانا آیا تو ایک اور منظر بنا۔ آرڈر تین افراد کا تھا، مگر یوسف بھائی نے پورا ساتھ دیا۔ کسی نے ہنستے ہوئے کہا:
“تین بندوں نے ایک بار کھایا ہے، ایک نے دو بار!”
اور یوں قہقہوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا جو رات گئے تک چلتا رہا۔ یوسف بھائی کی خاص بات یہی ہے—سنجیدگی میں بھی مزاح، اور مزاح میں بھی گہری بات۔
کھانے کے بعد سیف اللہ بلوچ کے گھر پہنچے۔ متحرک، منظم اور دل جوڑنے والی شخصیت" بنو قابل" کے لیڈر اور درد دل رکھنے والے انتہائی شفیق اور محبتوں کے سفیر۔ دودھ اور دیسی انڈوں کی سادہ تواضع میں بھی ایک عجیب سی اپنائیت تھی۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے ہاں سادگی بھی وقار بن جاتی ہے۔
رات گئے پھریوسف بھائی کے ہاں جمع ہوئے۔ یہاں اصل محفل جمی۔ یوسف بھائی کے بیٹوں سے ملاقات ہوئی، باتیں ہوئیں، ہنسی چلی۔ اسی دوران احسن بھائی نے اپنی مخصوص سنجیدگی میں لمبا “بھاشن جھاڑنا ” شروع کر دیا۔ بات گہری تھی، مگر طول اتنا کہ فرحان اشرف سے رہا نہ گیا۔ مسکراتے ہوئے بولے:
“بھائی بس کریں، حاشر سمجھ گیا ہے۔ یہ ٹک ٹاک جنریشن ہے، لمبے لیکچر سے گھبرا جاتی ہے!”
یہ جملہ ایسا پڑا کہ محفل لوٹ پوٹ ہو گئی۔ احسن بھائی کا چہرہ دیکھنے والا تھا—اور ہنسی دیر تک رکی نہیں۔
رات گئے جب سونے کا وقت آیا تو مقبول لودھی دن بھر کی ڈرائیونگ کے بعد بستر پر گرتے ہی سو گئے۔ مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا۔ چند ہی لمحوں میں ان کے خراٹوں نے محفل کو پھر زندہ کر دیا۔ ہم تینوں—میں، فرحان اور احسن—ہنسی دباتے ہوئے باہر لان میں آ گئے۔
وہاں سنگترے، سیب اور فرحان اشرف کی گفتگو۔ اور کیا گفتگو! جہاز، بندرگاہیں، دنیا کے مزاج، قوموں کے رویے—ایسا لگا جیسے کوئی چلتی پھرتی یونیورسٹی سامنے بیٹھ گئی ہو۔ اسی دوران برازیل کا قصہ آیا۔ بڑا دلچسپ، مگر ابھی مکمل ہونے نہ پایا کہ احسن بھائی نے اپنا ایک “ماورائی” واقعہ چھیڑ دیا۔ اگر وہ بیچ میں نہ آتے تو شاید برازیل کی کہانی اور بھی رنگ لے آتی—مگر شاید اسی ادھورے پن میں اس کی خوبصورتی تھی۔ اگرچہ واقعہ مکمل ہو چکا تھا ۔ مگر اس واقعہ ابھی رنگ جما نا تھا ۔
صبح یوسف بھائی کے ہاں ناشتہ تھا۔ گرم پانی دستیاب نہ تھا، مگر مقبول لودھی نے ہمت نہ ہاری۔ نہا دھو کر نکلے تو یہ واقعہ دن بھر کی محفل کا مستقل لطیفہ بن گیا۔ اور جب برازیل والا قصہ دوبارہ چھیڑا گیا تو اس میں “ٹھنڈے پانی” کی آمیزش نے ہنسی کے نئے در کھول دیے۔ مقبول بھائی کو ہم نے خو ب تنگ کیا کہ اپ نے واقعہ نہ سن کر زندگی کا ایک حسین لمحہ ٖٖضائع کر دیا ۔ ان کا یہ جملہ یار ہے گا۔ میں سو رہا تھا۔ مرا تو نہیں تھا کہ اس واقعہ کو سننے کے لے اٹھ نہ پا تا ۔
پھر ملک سیف اللہ خالد کے ہاں حاضری ہوئی۔ دیہی سادگی، کھلی فضا، خلوص سے بھرا استقبال۔ خدمت ان کے لیے شعار ہے، دکھاوا نہیں۔ ملک سیف اللہ خالد کے ہاں پہنچے تو ایک مختلف ما حول تھا ۔ گاون کی بیٹھک میں سجا ہو دستر خوان اور پر تکلف چائے ۔ خدمتِ خلق سیف اللہ کے لیے محص ایک نعرہ نہیں، طرزِ زندگی ہے۔ ان کی گفتگو میں عملی تجربے کی پختگی صاف جھلکتی تھی۔ سیف بھائی سے قلبی تعلق پہلے دن بنا تھا وو آج کے دن بھی موجود تھا ۔ چھوٹے سے دل میں گہرےنیلے آسماں سی وسعت ، پہاڑوں جیسا عظیم حوصلہ اور صبر۔
وہاں عمران گل بھی موجود تھے—کم گو، مگر گہری نظر رکھنے والے دل موہ لینے والے ہیڈ ماسڑ صاحب حسین مسکراہٹ کے مالک ہیں۔
نزیر طاہر کی آمد نے محفل کو ایک اور رنگ دیا۔ بائیس برس بعد ملاقات، مگر وقت جیسے درمیان سے ہٹ گیا ہو۔ کینیڈا اور امر یکہ کی یو نیورسسٹیوں کے پروفیسر ہونے کے باوجود جوان جٹ کے لہجے میں ویسی ہی نرمی اور اپناییت اور محبت موجود تھی ۔ ان کے ساتھ گفتگو میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے ۔
پھر رفیق رشید آئے—وہی رفیق بھائی جن کی خاموش شفقت ہم سب کے لیے ہمیشہ سہارا رہی ہے۔ ان کی موجودگی میں بات خود بخود متوازن ہو جاتی ہے۔ان کے بارے میں ایک کتا ب لکھی جاسکتی ہے مگر پھر کبھی ۔ آج کل جماعت اسلای ساہیوال ان کے زمے ہیں ۔
حافظ زہیر صالح اور یاسر مظہر بھی پہنچے۔باسر بھا ئی ٖاگرچہ عمر رسیدگی اور جماعت کی زمہ داری کی وجہ سے سنجیدہ دکھائی دیے مگر انداز آج بھی ویساہی چپ چاپ اور شرمیلا سا۔ حافظ صاحب کی خاموشی میں ایک عجب وزن تھا۔ جب انہوں نے ملک صاحب کے ڈیرے پر نماز کی امامت کرائی تو یوں لگا جیسے ساری محفل ایک نقطے پر آ کر ٹھہر گئی ہو۔ لمحے بھر کو سب کچھ خاموش، ساکت—اور بہت پاکیزہ ہو گیا۔ سرسوں کے کھیت، کھلا نیلا آسمان، مٹی کی خوشبو اور دھرتی کے خوبصورت افراد اللہ کے حضور جھکے ہوئے تھے۔ ہمارے ملک میں چند سر پھر ے لوگ ہی آپ دیکھے گے جو محض رضائے الہی کے حصول کے لیے ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہو
خیر ڈیرے سے واپسی پر ملک سیف اللہ خالد جو الخدمت جماعت اسلامی کے ڈاریکٹر بھی ہیں اور علاقے پھر صادق ا میں کے طور پر جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ انھوں دوپہر کے کھانے کا پر تکلف انتظام کر رکھاتھا۔ دسترخواں چاول، کوفتے انڈے ، اور حلیم سے سج چکا تھا۔ ۔ ۔ وہیں ایک اور دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ میزبان نے مظہر بھائی سے پوچھا کہ آپ ابھی تک کیوں نہیں آئے؟
جواب آیا
“مجھے تو اجتماع کا پتہ ہی نہیں تھا!”
سیف اللہ مسکرائے اور بے ساختہ بولے
“اے مری ذمہ دادری سے پیغام واٹس ایب تون کڈ کے وکھانا ۔۔؟”
بس پھر کیا تھا—یہ جملہ دیر تک محفل میں گردش کرتا رہا۔
ویڈیو کال پر مصعب توقیر اور رضا قادری بھی شامل ہو گئے۔ فاصلے سمٹ گئے۔ پھر مرحوم ساتھیوں کا ذکر آیا—اقبال صابر، ارسلان نفیس، محمود مدنی، احمد عبداللہ۔ بات دھیمی ہو گئی۔ آنکھیں نم ہوئیں۔ احساس ہوا کہ اجتماعیت صرف موجود لوگوں کا نام نہیں، وہ بھی اس کا حصہ ہیں جو اب صرف دعاؤں میں زندہ ہیں۔
آخر میں جب رخصت کا وقت آیا تو گلے ملتے ہوئے آنکھوں میں نمی تھی، مگر دل مطمئن تھے۔ یہ ملاقات کسی فائدے کے لیے نہیں تھی، کسی مقصد کے تحت نہیں تھی۔ یہ بس دلوں کا ملنا تھا—اللہ کے لیے۔
کچھ ملاقاتیں لفظوں میں قید نہیں ہوتیں،
وہ دل کی دھڑکن میں دھیرے سے بس جاتی ہیں۔
نہ وقت انہیں مٹا پاتا ہے، نہ فاصلے کم کر پاتے ہیں،
وہ ہنسی بن کر لوٹتی ہیں، آنسو بن کر ٹھہر جاتی ہیں۔
ایسی رفاقتیں عمر بھر کا سرمایہ ہوتی ہیں،
جو لمحوں میں جنم لیں مگر صدیوں کا اثر رکھیں۔
نہ یہ بچھڑتی ہیں، نہ ختم ہوتی ہیں کبھی،
بس انسان کے اندر کہیں چراغ بن کر جلتی رہتی ہیں۔
Muhammad Tahir Idrees
Saif Ullah Mursi
Jamaat-e-Islami South Punjab
Alkhidmat Foundation Sahiwal
Jamaat-e-Islami South Punjab

23/12/2025

Pind da Mahool

22/12/2025

Company matters

مجھے مدت سے اس بات کا احساس تھا کہ لفظوں کے چناؤ کی کتنی اہمیت ہوتی ہے، مگر اس کا بھرپور اور کسی حد تک تلخ تجربہ اُس وقت...
20/12/2025

مجھے مدت سے اس بات کا احساس تھا کہ لفظوں کے چناؤ کی کتنی اہمیت ہوتی ہے، مگر اس کا بھرپور اور کسی حد تک تلخ تجربہ اُس وقت ہوا جب میں نے ایک محفل میں یہ کہنا چاہا کہ ایسے تعلیمی ادارے جہاں ایک سے زیادہ وِنگز ہوں، وہاں ہر وِنگ کے حالات، ضروریات اور زمینی حقائق کو مدِنظر رکھ کر سلیبس ترتیب دیا جانا چاہیے۔
بدقسمتی سے موجودہ سلیبس آج کے دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں، اور جب تک اسے عصری ضروریات کے مطابق نہیں ڈھالا جائے گا، اساتذہ بھی طلبہ کو اُس معیار پر تیار نہیں کر سکیں گے جس معیار پر وہ خود دیکھنا چاہتے ہیں۔

لیکن افسوس کہ بات کہنے کا انداز اور لفظوں کا انتخاب ایسا نہ تھا کہ مفہوم اپنی اصل صورت میں سامنے آ پاتا۔
کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
Divisional Public Schoo & lnter College, GSW Model Town Lhr.
Divisional Public School & Inter College Model Town, Lahore.
DPS ModelTown Lahore.

Certain individuals have a profound effect on one's life, leaving a lasting impression. Brother Zahid Iqbal, an exceptio...
29/11/2025

Certain individuals have a profound effect on one's life, leaving a lasting impression. Brother Zahid Iqbal, an exceptional personality, offered me another chance to meet him on Friday evening. His friend, Syed Bilal Mustafa Sherazi, a notable political figure, was also present and hosted the gathering graciously. I was delighted to find the same love, warmth, and compassion in Zahid Bhai's eyes and was surprised to note that Sherazi sb, who occupies a key political post, shared profound spiritual perspectives. The discussion was highly memorable and impactful, prompting me to meet them regularly.

28/11/2025

کرینسٹ ریلیف ہمارے معاشرے کی خوبصورت تصویر ہے جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر خلوص دل سے کام کیا جائے تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی۔ اللہ تعالی اس تنظیم کو چلانے والوں کے لیے بھرپور اجر سے نوازئے گا۔ میرے لیے اس پروگرام میں شرکت باعث فخر ہے جہاں درجنوں یتیم طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی گئی اور انعامات تقسیم کیے گیے۔
Muhammad Tahir Idrees

Everything is possible...
24/11/2025

Everything is possible...

Life is all about challenges, troubles, and hurdles. The one who believes in goodness, positivity, and good faith finds ...
16/11/2025

Life is all about challenges, troubles, and hurdles. The one who believes in goodness, positivity, and good faith finds their way somehow. Bringing pleasure and happiness into others' lives will earn you a life of comfort, joy, and luxury from Divinity.

Address

DIVISION OF SCIENCE AND TECHNOLOGY TOWNSHIP LAHORE
Lahore

Telephone

03214218869

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sir Muhammad Tahir Idrees posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sir Muhammad Tahir Idrees:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram