29/12/2025
پاکستان کے بیشتر نجی تعلیمی ادارے آج کارپوریٹ اداروں کی طرح چلتے ہیں۔ یہاں طالب علم علم حاصل کرنے والا فرد نہیں بلکہ ایک فائل، رجسٹریشن نمبر، فیس سلپ اور حاضری شیٹ بن چکا ہے۔ جب طالب علم اس مشین میں ذرا سا بھی فٹ نہ بیٹھے تو اسے ایڈجسٹ کرنے کے بجائے نکال دینے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ہم اکثر “ڈسپلن” کا لفظ بڑے فخر سے استعمال کرتے ہیں، مگر کم ہی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ ڈسپلن اور بے حسی کے درمیان لکیر کہاں ختم ہوتی ہے۔ کیا کسی طالب علم کو کلاس سے باہر بٹھانا، پوری کلاس کے سامنے اس کی تذلیل کرنا، اس کے مستقبل کو ایک حاضری فیصد (75%) کے ساتھ مشروط کرنا، واقعی تعلیم ہے؟ یا یہ محض طاقت کا مظاہرہ ہے؟