09/11/2025
شادی یا پنگا؟؟؟
سورہ نساء اور سورہ مائدہ میں جہاں مرد اور عورت کے مابین حلال اور حرام تعلق کے احکام بیان فرمائے گئے ہیں وہاں یہ بات بطورِ خاص ذکر فرمائی گئی کہ ولا متخذی اخدان/ ولا متخذاتِ اخدان (یعنی اجنبی مرد اور عورت کا باہم تعلق خفیہ آشنائی کے طور پر نہ ہو)
اس کا ایک مفہوم تو واضح ہے کہ بغیر شادی کے مرد اور عورت کا باہم جذباتی یا جنسی تعلق رکھنا بے حیائی کے زمرے میں آئے گا۔ مگر اس کے ضمن میں حلال تعلق یعنی نکاح کی نفسیات بھی سمجھائی گئی ہیں جن پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔
قرآن پاک شادی کو ایک کھلم کھلا اور جرات مندانہ سماجی معاہدہ قرار دیتا ہے جس میں مرد کی طرف سے نہ صرف معاشی ذمہ داری کا اعتراف ہو بلکہ اخلاقی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی اٹھایا جارہا ہو، جس میں دو افراد کے بجائے دو خاندانوں کا ملاپ ہورہا ہو۔ ولی کی اجازت بھی اسی لیے ضروری قرار پائی ہے۔
اس عقد کو چھپانا اس کے مقصد کے براہِ راست خلاف ہے۔ اس عقد کا کھلم کھلا اظہار لازم ہے۔ اسے ہوتے ہوئے دکھائی دینا ضروری ہے۔ اس کے لیے گواہ بنائے جائیں گے۔ بلکہ بعض فقہا کے ہاں اسے مجمعِ عام میں کیا جانا ضروری ہے۔ اس کے بعد ولیمے کی سنت بھی اسی اظہار کا ایک خوبصورت تکملہ (complement) ہے۔
ہمارے سماج میں اکثر دوسری، تیسری یا چوتھی شادی کے مسائل کو بہت غلط تناظر میں چھیڑا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ جواز یا عدم جواز کا نہیں بلکہ اس کے لیے مناسب اہلیت ہونے یا نہ ہونے کا ہے۔ دوسری شادی بالکل جائز ہے. تیسری یا چوتھی کی بھی اجازت ہے مگر اُس شخص کے لیے جو عدل ومساوات کے ساتھ ساتھ اس عقدِ ثانی کے اظہار کی پوری ذمہ داری قبول کرسکے۔ جو شادی کے بعد کے عواقب ونتائج کا جرات مندانہ سامنا کرسکے۔ ہمارے قانون میں عقدِ ثانی کو پہلی بیوی کی اجازت سے نتھی کیا گیا ہے۔ اس میں اجازت کے الفاظ کو مشاورت اور اطلاع سے بدل دیا جائے تو یہ شرط بہت مناسب ہے۔ یہ اسی اخلاقی جرات کا پہلا ٹرائل ہے۔ بہرحال پورے طور پر یہ عقد کھلا ہوا ہونا چاہیے۔
لیکن جو شخص دوسری شادی کے لیے دلیل تو صحابہ وتابعین کو بنائے مگر اس مبارک عقد کو اپنی کرتوت سے سکینڈل کے طور پر چھپانا چاہیے اور جب ایکسپوز ہوجائے تو تاثر دے کہ اس نے "کیا" نہیں لیکن یہ "ہوگیا" ہے، جہاں ماں باپ جیسے رشتوں کو بھی اس کی شادی کی اطلاع بطور "افواہ" کے ملے، تو اعتماد اور اخلاق سے عاری ایسے بزدل شخص کے لیے دوسری شادی ہرگز مناسب نہیں۔ یہ شادی نہیں محض ایک پنگا ہے۔ شادی رحمت، مودت اور سکون کو کا باعث ہوتی ہے، مگر پنگا مزید درجنوں پنگوں کو جنم دیتا ہے۔
ان سطور کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن جس عقد کے شاندار نتائج کی ضمانت بیان کرتا ہے اس کے آداب اور تقاضے کچھ مختلف ہیں۔ اگر ان کی رعایت نہ کی جائے تو اسی کا انجام بھیانک ہوسکتا ہے۔
امیرحمزہ