03/02/2026
شاکر حسین ( آر پی ایچ)
سکردو میں غیر مستند کلینکس اور اینٹی بایوٹکس کا بڑھتا
ہوا غلط استعمال۔
سکردو شہر، جو قدرتی حسن اور پُرامن ماحول کی علامت سمجھا جاتا ہے، آج ایک سنگین عوامی صحت کے مسئلے کی لپیٹ میں ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں درجنوں ایسے کلینکس سرگرم ہیں جہاں MBBS یا مستند طبی تعلیم کے بغیر، صرف GMt یا اسی نوعیت کے مختصر ڈپلومہ رکھنے والے افراد مریضوں کا معائنہ کر رہے ہیں اور بلا جھجھک ادویات، خصوصاً اینٹی بایوٹکس، تجویز کر رہے ہیں۔ یہ عمل نہ صرف طبی اصولوں کے خلاف ہے بلکہ قانون اور انسانی صحت دونوں کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
ان کلینکس میں عام بخار، نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش اور یہاں تک کہ بچوں کے معمولی اسہال میں بھی اینٹی بایوٹکس کا استعمال ایک معمول بن چکا ہے۔ بغیر کسی لیبارٹری ٹیسٹ، درست تشخیص یا بیماری کی نوعیت کو سمجھے، طاقتور ادویات دے دی جاتی ہیں۔ بعض جگہوں پر تو انجیکشن اینٹی بایوٹکس کو “فوری شفا” کے نام پر پہلی ہی وزٹ میں لگا دیا جاتا ہے، جو مریض کی جان کے لیے شدید خطرہ ہو سکتا ہے۔
سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بچے بھی اس غیر معقول علاج سے محفوظ نہیں۔ بچوں کو ان کی عمر اور وزن کے مطابق خوراک دینے کے بجائے وہی ادویات دے دی جاتی ہیں جو بالغ مریضوں کو دی جاتی ہیں۔ اس لاپرواہی کے نتیجے میں بچوں میں شدید اسہال، الرجی، جگر اور گردوں کو نقصان، اور قوتِ مدافعت کی کمزوری جیسے مسائل سامنے آ رہے ہیں، جن کے اثرات زندگی بھر باقی رہ سکتے ہیں۔
اینٹی بایوٹکس کے غلط اور بے جا استعمال کا ایک نہایت خطرناک نتیجہ اینٹی مائیکروبیل ریزسٹنس ہے، یعنی بیکٹیریا کا ادویات کے خلاف مزاحمت پیدا کر لینا۔ جب اینٹی بایوٹکس غیر ضروری طور پر، غلط خوراک میں یا نامکمل مدت کے لیے استعمال کی جاتی ہیں تو بیکٹیریا ان ادویات کے عادی ہو جاتے ہیں۔ نتیجتاً وہ دوائیں جو کبھی مؤثر تھیں، مستقبل میں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں معمولی انفیکشن بھی سنگین اور جان لیوا شکل اختیار کر سکتا ہے۔
اس مسئلے کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ کمزور نگرانی اور عوامی لاعلمی ہے۔ غیر مستند افراد باآسانی کلینکس کھول لیتے ہیں اور ان سے کوئی باز پرس نہیں کی جاتی۔ دوسری طرف عوام کی اکثریت غربت، فوری علاج کی خواہش اور طبی شعور کی کمی کے باعث ایسے کلینکس کا رخ کرتی ہے جہاں کم فیس اور جلد آرام کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ نہیں جانتے کہ وقتی سکون کے بدلے وہ اپنی اور اپنے بچوں کی مستقبل کی صحت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔
فارمیسیوں پر بغیر نسخے کے اینٹی بایوٹکس کی فروخت بھی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔ اگر اینٹی بایوٹکس صرف مستند ڈاکٹر کے نسخے پر دی جائیں اور مریضوں کو مکمل رہنمائی فراہم کی جائے تو اس بگاڑ کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں فارماسسٹس کا کردار نہایت اہم ہے، جو مریضوں کو درست معلومات دے کر غیر ضروری ادویات کے استعمال سے روک سکتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ صحت گلگت بلتستان فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ غیر مستند کلینکس کی نشاندہی، ان کی بندش، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی مہمات کے ذریعے لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ ہر بیماری اینٹی بایوٹک سے ٹھیک نہیں ہوتی اور غلط علاج مستقل نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر آج اس مسئلے پر سنجیدگی سے توجہ نہ دی گئی تو آنے والے وقت میں سکردو بھی اینٹی بایوٹک ریزسٹنس جیسے عالمی بحران کا شکار ہو جائے گا۔ صحت کے ساتھ تجربات کی کوئی گنجائش نہیں، خاص طور پر جب معاملہ بچوں کی زندگیوں کا ہو۔ غیر معقول ادویات کے استعمال کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے، کیونکہ خاموشی اس خطرناک عمل کو مزید مضبوط کرتی ہے۔