National Homoeopathic Clinic

National Homoeopathic Clinic ⭐⭐⭐⭐⭐

"Welcome! Dr.Sohail Ahmed, a passionate classical homeopath with international clinical experience. Restoring health naturally.

My journey blends conventional medicine principles with holistic approaches. For appointment: 03253100003📲

Ramzan Mubarak !  رمضان مبارک
19/02/2026

Ramzan Mubarak ! رمضان مبارک

میرے معزز قارئین! لاہور میں بسنت تہوار کی بدولت کچھ دن آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا، اس کے لیے پیشگی معزرت، آپ اکثر س...
12/02/2026

میرے معزز قارئین! لاہور میں بسنت تہوار کی بدولت کچھ دن آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا، اس کے لیے پیشگی معزرت، آپ اکثر سوشل میڈیا پر کچھ ایسی پوسٹیں دیکھتے ہوں گے جس میں ہومیوپیتھک دوا اگنیشیا کو بلاوجہ روزمرہ کے Stress یا پریشانی میں تجویز کر دیا جاتا ہے،چونکہ ہر ہومیوپیتھک دوا اپنے اندر کچھ خاص اسباب، مواقع اور ماحولیاتی اثرات رکھتی ہے اس لیے ہم آج اگنیشیا کی بالمثل یا درُست تجویز کی اپنے کلینکل تجربات اور ماسٹرز کے ڈھیر سارے Homeopathic literature کی روشنی میں وضاحت کرتے ہیں، اگنیشیا امارا کا ڈرگ پروونگ میں زیادہ تر ایکشن اور اظہار Limbic system, autonomic nervous system, اور endocrine system پر ہوا، جس میں hypothalamus, adrenal gland, اور پچوٹری گلینڈ سرفہرست ہیں، یہی وہ سسٹمز اور گلینڈز ہیں جن کے زریعے اگنیشیا کی علامات یا بیماریاں جسم کے ہر رگ و ریشہ تک پہنچ کر تینوں سطحوں یعنی جزباتی، جسمانی اور زہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ہم اس تحریر میں ان بیماریوں اور ان کے کیمیکل میکانزم پر تفصیلی بات کرتے ہیں۔ ہومیوپیتھک فلاسفی آرگینن آف میڈیسن کے مطابق ہانیمن نے Mental diseases کو جِن 4 کیٹگریز میں تقسیم کیا ہے ان میں سے ایفورزم 211 کے مطانق ایک اہم کیٹگری Psychosomatic امراض کی ہے، اور اگنیشیا کی مکمل ڈرگ پکچر اسی کیٹگری کے مطابق ظاہر ہوتی ہے، یعنی ہر وہ بیماری جس کی بنیاد زہن سے شروع ہو اور یوں وہ اپنا سارا جال جسم کے ہر رگ و ریشہ تک پھیلا دے، سائکوسومیٹک psychosomatic کہلاتی ہے، ہانیمن ایفورزم 3 کے footnote میں بیماری کو دُور کرنے کے لیے واضح طور پر اسبابِ مرض Causation کو مٹانے یا ہٹانے کی بات کرتے ہیں، معزز ہومیوپیتھس اگنیشیا دو قسم کے مریضوں کو ظاہر کرتی ہے، پہلی قسم صدمہ سے پہلے کی نارمل مزاج اگنیشیا، جو کہ رومینٹک آزاد خیال مگر حیا اور حساسیت سے بھرپور ہوتی ہے، اور دوسری قسم کسی اچانک گہرے زہنی صدمہ یا رنج کی صورت میں ظاہر ہونے والی اگنیشیا، جس کا سارا رومینس مایوسی اور اداسی میں بدل جاتا ہے، چہرہ زرد پیلا اور بھوک غائب ہو جاتی ہے حتٰی کہ جتنا حساس یہ مریض ہوتاہے بیماری یا کسی بھی ایکیوٹ حالت میں حساسیت سے کئی گنا زیادہ نرم و نازک کھانا پیش کر دیں تب بھی اس کو ہضم نہیں ہوتا، اس دوا کا اصل کردار بھی اسی اچانک صدمہ کی حالت میں درکار ہوتا ہے، یہاں لفظ “صدمہ” سے زیادہ اہم دو عناصر ہیں، گہرائی (intensity) اور اچانک پن (suddenness)۔ ہر ذہنی دباؤ صدمہ نہیں ہوتا اور ہر پریشانی disease producing cause نہیں بنتی۔ روزمرہ زندگی میں انسان مختلف نوعیت کے stresses سے گزرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد کو پہلے سے علم ہو کہ اس کے بجلی کے یونٹس زیادہ خرچ ہو رہے ہیں، ہر ماہ بل بڑھ رہا ہے، تو یہ مسئلہ اس کے conscious mind میں بھی موجود ہے اور subconscious میں بھی۔ اس صورت میں ذہن رفتہ رفتہ اس حقیقت کے ساتھ adjust ہو جاتا ہے۔ anticipation پیدا ہو جاتی ہے، coping mechanisms develop ہو جاتے ہیں، اور جسم کا hypothalamus, pituitary اور adrenal ایکسز آہستہ آہستہ اپنی baseline سیٹ کر لیتا ہے، اس کے نتیجہ میں ٹینشن، irritability یا fatigue تو ہو سکتی ہے مگر وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جسے ہم اچانک یا گہرا صدمہ shock کہتے ہیں۔ اس لیے سائکوسومیٹک امراض کی یہ causation یعنی روزمرہ کا سٹریس اس دوائی میں براہِ راست fall نہیں کرتا۔
اب اس کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف منظر نامہ ذہن میں رکھیے۔ ایک انسان معمول کی ذہنی حالت میں ہے، کسی اندرونی تیاری یا پیشگی خوف کے بغیر، اور اچانک اسے کوئی ایسی خبر ملتی ہے جو اس کے emotional framework کو ایک لمحے میں توڑ دیتی ہے، مثلاً ایک بہن کو اچانک خبر مِلتی ہے کہ اس کا بھائی ابھی ابھی ایک ایکسیڈینٹ میں مر چُکا، توبہ توبہ توبہ ، وہیں سے ایک اگنیشیا کی اصل Cause شروع ہوئی، یا کسی دوشیزہ کی اچانک منگنی ٹوٹ جائے یا پھر طلاق ہو جائے، یا سخت محنتی طالبعلم فیل ہو جائے؟
یا کوئی ایسا واقعہ جو ذہن کو process کرنے کا وقت ہی نہ دے۔ یہاں conscious mind واقعے کو سمجھنے سے پہلے ہی subconscious alarm state میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں Autonomic Nervous System میں jerk آتا ہے، sympathetic overdrive ہوتا ہے، vagal balance disturb ہو جاتا ہے، اور vital force پر ایک dynamic blow پڑتا ہے۔ اسی sudden, deep psychic impact کے نتیجے میں جسم ایک مربوط (integrated unit) کے طور پر ردِعمل دیتا ہے۔ Brain میں آنے والا یہ shock صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ neuro-endocrine pathways کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ جس سے Cortisol, اور دیگر stress mediators بے ترتیب طور پر release ہوتے ہیں، گیسٹروانٹسٹائنل motility disturb ہو جاتی ہے، immune regulation کمزور پڑ جاتی ہے، اور vascular tone میں instability پیدا ہو جاتی ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ Ignatia کا مریض کمزور نہیں ہوتا، بلکہ حد سے زیادہ sensitive ہوتا ہے۔ Nervous system کی excitability اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک شدید اور اچانک emotional stimulus پورے system کو بگاڑ دیتی ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں میں پٹھوں میں پھڑکن یا جھٹکے، بے ترتیب انداز اور بے جا قسم کی علامات symptoms ملتے ہیں۔ یہ سب علامات اس بات کی گواہ ہیں کہ disease کا آغاز جسم سے نہیں بلکہ psycho neuro endocrine axis سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ بیماریاں جن کے اسباب اور شروعات دماغی اور زہنی سطح (لِمبک اور نروس سسٹم) سے ہوں جبکہ سارے جسم میں مرضیاتی پراسس اینڈوکرائن سسٹم کے زریعے ہو، جبکہ روزمرہ کا stress، جس کے ساتھ ذہن اور جسم پہلے ہی adapt کر چکے ہوں، Ignatia کی causation نہیں بنتا۔ Ignatia وہاں درکار ہوتی ہے جہاں گہرا اور اچانک ذہنی جھٹکا، بغیر کسی پیشگی ذہنی تیاری کے، vital force کو ایک ہی لمحے میں disturb کر دے۔ یہی distinction ایک عام emotional upset اور حقیقی psychosomatic disease کے درمیان فرق واضح کرتی ہے، اور یہی فرق ہمیں درُست دوا تک لے کر جاتا ہے۔
میں نے اپنی کلینکل opd میں یہ مریض اچانک typhoid, amenorrhea, IBS, ریسپائریٹری الرجیز, ہارمونل عدم توازن، depression, ocd ٹائپ حالتیں، حتیٰ کہ ischemic tendencies
میں مبتلا ہوئے مریض بحکمِ ربِ ﷻ شفایاب کیے ہیں، جس کی سب سے کلاسیکل مثال میری ایسی مریضائیں جو کہ تین بہنیں تھیں، ان کے والد استری، جوسر، اور دیگر لوکل مشینوں (home appliances) کی لاہور میں فیکٹری چلاتے (director) تھے، جن کی اچانک death ہو گئی، اور اتفاقاً تینوں بیٹیوں کو ischemic attacks آنے لگے، بی پی low, اور بے ہوشی کے دوروں کے ساتھ جسم کا balance بِگڑنے لگا، والد کو میڈیکل ہسٹری میں فالج اور heart کے مسائل رہ چکے تھے، تینوں بہنوں کو اِگنیشیا 200 ایسے دی گئی جیسے remedy of epidemicus, اور یہ مرضیاتی حالت یوں جاتی رہی، پروفیسر جارج وتھولکس اگنیشیا کو limbic system میں حساسیت کی بِنا پر 200 پوٹینسی تک ہی محدود رکھنے اور کئی ہفتوں تک انتظار کرنے کا کہتے ہیں، مگر میرے لیے اس کیس میں حیران کُن پہلو یہ تھا کہ ہر کوئی انفرادیت کے قانون کے مطابق ایک دوسرے سے الگ ہے، عادات الگ ہیں، susceptibility الگ، زہن الگ، جسمانی ردعمل الگ، مگر یہ تینوں بہنوں کا مرضیاتی ردِعمل ایک جیسا کیوں ہے؟
تینوں بہنوں کو ایک جیسا reaction اس لیے آیا کیونکہ یہاں دو چیزیں ایک ساتھ موجود تھیں، مشترک causation اور مشترک susceptibility۔
پہلا عنصر تھا sudden اور گہرا grief، جو تینوں کے لیے ایک ہی وقت میں، ایک ہی شدت کے ساتھ وارد ہوا۔ یعنی emotional trigger ایک تھا، timing ایک تھی، اور shock کی intensity تقریباً برابر تھی۔ دوسرا اور زیادہ اہم عنصر تھا genetic اور کونسٹیٹیوشنل مماثلت۔ اگر والد میں پہلے سے vascular weakness یا ischemic tendency موجود تھی تو arterial susceptibility جینیاتی طور پر بیٹیوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جب شدید صدمہ اور غم آیا تو اس نے تینوں کے اندر موجود ایک جیسے کمزور نقطے کو activate کر دیا۔
انفرادیت ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ تینوں کی individuality کے باوجود ان کا weakest system ایک جیسا تھا۔ Homeopathy میں individuality کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص مختلف عضو میں بیمار ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مخصوص کمزور مقام پر react کرے گا۔ یہاں تینوں کا weak axis vascular system تھا، اس لیے reaction بھی یکساں نظر آیا۔ یاد رہے اگنیشیا کے مریضوں میں زیادہ تر خواتین اور چھوٹی بچیاں پائی جاتی ہیں، میرے فیورٹ مصنف فِلپ ایم بیلی جو کہ میرے نزدیک کینٹ کا دُوسرا روُپ ہیں, Personality profiles میں لِکھتے ہیں کہ خاندان، دوستوں یا محلے میں جو سب سے زیادہ حساس طبیعت، نازک مزاج افراد ہونگے وہی اگنیشیا کے نارمل کونسٹیٹیوشن میں fall کرتے ہیں، اور وہی اچانک گہرہ صدمہ مِلنے کے بعد active اگنیشیا کی حالت میں چلے جاتے ہیں اور جسم کے ہر آرگن tissue اور system پر مختلف امراض اُمڈ آتے ہیں، میرے کلینک میں اگنیشیا کے ٹوٹل مریضوں میں 96 فیصد خواتین اور چھوٹی بچیاں آتی ہیں۔ جو کہ ہر طرح کی functional سطح پر متاثر ہوتی ہیں۔ اس پر سب سے بڑا رُبرک Never well since لاگُو ہوتا ہے، یعنی جسم میں کوئی بھی فنکشنل بیماری ہو اور اس سے پہلے ایک اچانک اور گہرا ذہنی صدمہ چُھپا ہو تو اپنے ایکسز کی موجودگی میں یہی دوا سرتاج ہو گی۔ یاد رہے اگنیشیا کی طرح اور بھی بہت ساری Psychosomatic ادویات موجود ہیں لہٰذا ان کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے axis ضرور معلوم ہونے چاہیں، جیسا کہ نیٹرم میور اگنیشیائی حالت کی chronic دوا کہلاتی ہے، یعنی ایک نئے نویلے محبت کرنے والے جوڑے کا اچانک Break up ہوا، شروع میں جو گہرا صدمہ پہنچا اس کے بعد لڑکے کو Typhoid یا intermittent fever ہوا جبکہ لڑکی کی ماہواری رُک گئی، تو یہ سلسلہ اِدھر ہی نہیں رُکے گا، اگر عشق سچا اور گہرا تھا تو یہ غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا چلا جائے گا, limbic اور autonomic نروس سسٹم کے زریعے جسم کے بہت سارے اعضاء اور سسٹمز کو اپنی لپیٹ میں لے گا، وقت گزرنے اور chronic ہونے کے ساتھ ساتھ نیٹرم میور اگنیشا کو اپنی چھاپ میں بدل لے گی، یا یوں کہہ لیں اپنے رنگ میں رنگ لے گی، اسی لیے نیٹرم میور اگنیشیا کی کرونک دوا کہلاتی ہے۔ میں اپنے مریضوں میں اگنیشیا پہچاننے کے لیے چند باتوں کا خاص خیال رکھتا ہوں، ۱- مریض بالکل سیدھا بُت نما ہو کر ایک ہی جگہ پر بیٹھا رہے، بچہ تیز بخار میں بھی سکول جائے ہوم ورک مکمل کرے، والدہ تیز بخار میں بھی گھر کے کام نپٹائے، والد بیماری کے باوجود کام پر جائے، یعنی اگنیشیا پرسنیلٹی Conscientious اور Diligent بچوں میں ٹاپ گریڈ کی میڈیسن ہے، بالکل Staphysagria کی طرح، بخار کے بعد بھوک بھی سٹیفیسیگریا کی طرح، ٹھنڈی بھی سٹیفیسیگریا کی طرح، ایموشنل اور حساس سٹیفی سے زیادہ، دونوں ہی سائکوسومیٹک، مگر سٹیفی کی جسمانی بیماریاں insult, rejection، غصہ، جزبات دبنے کے بعد آئیں، جبکہ اگنیشیا کی بیماریاں اچانک گہرے صدمے سے آئیں۔
یہ بہت بولڈ قسم کے مریض نہیں ہوتے، بے شرمی اور بے حیائی سے دُور بھاگنے والے، محنتی، ہر کام سنجیدگی سے کرنے والے، Introvert, زیادہ تر دُبلے پتلے، تنہائی پسند، روشنی، زرہ سے شور سے انتہائی حساس، مگر نیٹرم میور کی طرح گرمی سے sensitive نہیں بلکہ سردی سے شدید حساس ہوتے ہیں باہر کا شور، ٹریفک کی آواز اور جانوروں کی آواز ان کو براہ راست دماغ میں لگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اگر آپ میری پریکٹس میں اگنیشیا کا theme جاننا چاہیں تو sudden shock کے بعد کہوں گا highly sensitive، باقی حساسیت کا خود اندازہ لگا لیں۔ وہ لوگ جو حکم عدولی، بے ادبیوں، انسانی گستاخیوں، پُرسکون اور ہنس مُکھ چہرہ والے دکھائی دیں، پڑھائی سے بھاگتے ہوں، سخت مزاج ہوں تو ان کو اگنیشیا دینے سے پہلے اپنے فیصے کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔
میں نے اپنی کلینکل opd میں زیادہ تر اگنیشیا، نیٹرم میور اور سیپیا سانولی یا گندمی رنگت کے ساتھ ہی دیکھی ہیں۔ اور یہاں پر کلینکل hint دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اگنیشیا سفید اور صاف رنگت والیوں کو نہیں دی جا سکتی۔ ایک ہومیوپیتھ کو اگر مریض کے چہرے سے حقیقی یاسیت، اداسی اور سنجیدگی ٹپکتی ہوئی دکھائی دے تو جان لیں یہی اگنیشیا ہے، باقی ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس کے مصنفین نے اگنیشیا کی علامات کے بارے انبار لگا رکھے ہیں جن کو پڑھ کر ایک معالج کے کنفیوز اور دوا کی ڈرگ پکچر سے دُور رہنے کا اندیشہ رہے گا۔

اگنیشیا کی مریضہ کو چہرے پر بال کیوں اُگ آتے ہیں؟
یہاں بھی وہی میکانزم کارفرما ہوتا ہے جو اوپر بیان ہو چکا، یعنی گہرا اور اچانک صدمہ ہائپوتھیلمس، پچوٹری اور ovarian ایکسز کو ڈسٹرب کرتا ہے، جس سے ovarian ہارمونز خصوصاً estrogen کم ہو جاتا اور androgen dominance پیدا ہو جاتی ہے، جب ایسٹروجن کم اور androgen نسبتاً زیادہ ہو جائیں تو خواتین کے چہرے پر بال اُگنا شروع ہو جاتے ہیں، آپ کسی بھی Repertory میں اگنیشیا کو خواتین کے چہروں پر اُگنے والے بالوں کے لیے Unwanted hairgrowth, facial hair in women یا Hirsutism جیسے rubrics میں دیکھ سکتے ہیں۔

اگنیشیا کی مریضہ میں مینسز کیوں رُک جاتے ؟
اگنیشیا میں اچانک اور گہرا emotional shock hypothalamus کو disturb کرتا ہے جس سے گونیڈوٹرافن ریلیزنگ یارمون GnRH کی سیکریشن عارضی طور پر رک جاتی ہے نتیجتاً pituitary کی FSH اور LH secretion کم ہو جاتی ہے ovaries کو ovulation کا signal نہیں ملتا جس کی وجہ سے periods رُک جاتی ہیں یا delayed ہو جاتی ہیں اس طرح sudden grief یا shock کی وجہ سے amenorrhea ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایسی مریضہ کو بروقت اگنیشیا دے دی جائے تو یہ فنکشنل delay فوراً ٹھیک ہونے لگتا ہے۔

اگنیشیا کے مریض کو IBS کیوں ہوتا ہے؟
اچانک یا گہرا صدمہ hypothalamus کو disturb کرتا ہے جس سے خودکار عصبی نظام autonomic nervous system کا توازن بگڑ جاتا ہے gastrointestinal motility irregular ہو جاتی ہے اور abdominal pain، bloating، constipation یا diarrhea رہنے لگتا ہے۔

اگنیشیا کا مریض اچانک شور یا ہلکی سی بھی آواز سے حساس کیوں ہوتا ہے؟
اچانک جزباتی صدمہ auditory cortex اور limbic system کو heighten کرتا ہے، sympathetic tone بڑھ جاتی ہے اور patient ہلکی آوازوں پر بھی overstimulated ہو کر irritability اور anxiety محسوس کرتا ہے۔ حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

اگنیشیا کا مریض OCD جیسی حرکتیں کیوں کرنے لگتا ہے ؟
شدید صدمہ limbic system اور frontal cortex کو hyperactivate کرتا ہے، serotonin اور dopamine pathways disturb ہو جاتے ہیں جس سے بار بار ایک جیسی سوچیں اور compulsive behaviors ظاہر ہوتے ہیں۔

اگنیشیا کا مریض Typhoid کا شکار کیوں ہوتا ہے؟
آپ جب بھی ایسے مریض کی CBC رپورٹ کروائیں گے تو WBCs ہمیشہ low یا high آئینگے، یہ گہرا صدمہ Hypothalamus, پچوٹری اور ایڈرینل کے axis کو ڈسٹرب کرتا ہے، جس سے ایمیون سسٹم کمزور ہو جاتا ہے اور WBCs ریسپانس کمزور ہونے لگتا ہے۔ جس سے تمام بیکٹیریاز سر اُٹھانے لگتے ہیں خصوصاً Salmonella typhi وغیرہ۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مریض کو اگنیشیا دے کر کرشمات دکھائی دیتے ہیں۔ اگنیشیا ایلوپیتھک علاج سے دبے ہوئے suppressed ٹائفائیڈ کو بھی تیزی سے ٹھیک کرتی ہے۔ معزز ہومیوپیتھس اور مریضانِ ہومیوپیتھی، آخر میں چند گزارشات ہیں، میں میسجز یا کالز پر بلامعاوضہ دوائیاں نہیں بتاتا، بیماریوں پر ٹوٹکے نہیں بتاتا، اپنا زیادہ تر وقت صرف ہومیوپیتھی کو پڑھنے، سمجھنے اور مریضوں کی خدمت میں گزارتا ہوں، ایک جنون اور شوق کی حد تک لگاو رکھتا ہوں، کیونکہ لوگ مجھے چہرہ شناس، باڈی لینگوئج observer، اور پرسنیلٹی reader کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، اپنے بارے میں مسحور کُن فقرے سُننا فقط ہومیوپیتھک سائنس کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے، مجھے زیادہ مریضوں کی ہر گز ضرورت نہیں ہے، کم مریض اور سُتھری پریکٹس میرا شیوہ ہے، لہذا میں اپنی Opd میں 15 سے زیادہ مریض دیکھنے کا متحمل نہیں ہوتا، اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے، فیملی سپورٹ، بیوی گورنمنٹ آفیسر، مختلف علوم سے آشنائی، کتب سے محبت یہ سبھی کچھ مجھے حاصل ہے۔ البتہ بیگم تحریروں کے لیے بڑا محدود وقت allot کرتی ہے، کہتی ہے یہ کیا ہر وقت ٹائپنگ پر جُڑے رہتے 😆ہو، یہی وجہ کے بسنت festival پُورا ہفتہ غائب رہا، مگر اللہ ہمارا شوق سلامت رکھے، ہم لکھتے رہیں_ آمین۔
لہٰذا مجھ سے inbox یا whatsapp پر ٹوٹکے نا پوچھا کریں، ٹوٹکوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور اس امر سے جان جاتی ہے۔ مجھ تک پہنچنا انتہائی آسان ہے مگر صرف اپوائنٹمنٹ کی صورت میں، خواہ کلینک آئیں یا آنلائن کال کنسلٹیشن لیں، البتہ کلینکل وزٹ کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ اللہ کا کروڑہا شکرگزار ہوں میری فقط آخری چار تحریروں کے فیسبک views تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں، اوورسیز ڈاکٹرز اور مریضوں کی بھرمار رہی، بے تحاشہ پیغامات اور اپوائنٹمنٹ موصول ہوئیں، الحمداللہ ہمیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لاہور کے نامور ہومیوپیتھس بھی ہمیں کیسز ریفر کرتے ہیں، اور ہم ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، اور تمام گروپس کے admins کا بھی تہہ دل سے شکریہ جو ہمارے اس منفرد انداز میں دوائیوں کی وضاحت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میری اس تحریر سے فائدہ پہنچے یا علم میں اضافہ ہو یا پھر انسانیت کے لیے مفید لگے تو میری حوصلہ افزائی کے لیے کمینٹ اور شئیر لازمی کریں، مجھے آپ سے کوئی اپوائنٹمنٹ نہیں چاہیے، اس خلوص نیت اور کام کا اجر اللہ کریم سے لونگا۔

تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

آج ایک ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ آخر ہومیوپیتھک دوا کام کیسے کرتی ہے؟ شفاء کا میکانزم کیا ہے، لہٰذا آج ہم فقط دوائی...
08/02/2026

آج ایک ڈاکٹر صاحب نے سوال پوچھا ہے کہ آخر ہومیوپیتھک دوا کام کیسے کرتی ہے؟ شفاء کا میکانزم کیا ہے، لہٰذا آج ہم فقط دوائی نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ انتہائی دلچسپ اور عِلمی موضوع پر بات کرتے ہیں، کیس اینڈ آخر تک پڑھنے والوں کے لیے خزانہ ثابت ہو گا، یہ میری کلینیکل Opd کا ایک ایسا میازمیٹک شفایافتہ کیس ہے جس کے زریعے ہم ہئیرنگ لاء آف کیور، اس کا Human embryology سے تعلق، دوائی کا پرائمری اور سیکنڈری ایکشن، سپریشن تھیوری، مٹیریامیڈیکا اور میازم کو بیک وقت آسان لفظوں اور تہوں Layers کے زریعے سمجھ سکیں گے۔ یہ کیس لاہور کے ایک ایلیٹ کلاس خاندان کے 7 سالہ بچے کا ہے جو بنیادی طور پر نہایت ذہین، تخلیقی صلاحیت سے بھرپور Creative اور صحت مند constitution رکھتا ہے۔ بچے کو ابتدائی طور پر لگ بھگ سوا 3 سال پہلے خشک ایکزیمہ Atopic dermatitis شروع ہوا، اس مرحلے پر اگر بیماری کو اپنے قدرتی راستے پر رہنے دیا جاتا تو یہ محض محدود اور self limiting جِلدی بیماری رہ سکتی تھی۔ مگر چونکہ بچے کو طویل عرصہ تک topical اور internal steroids اور anti allergic ادویات دی گئیں، اس لیے جلدی علامات دب گئیں اور بیماری زبردستی اندر کی طرف Deepseated دھکیل دی گئی۔ اس سے والدین بھی خوش اور چائلڈ سپیشلسٹ+ڈرماٹالوجسٹ بھی خوش کہ بیماری Manage ہے،
ایک دن بچے کو شدید چیسٹ انفیکشن ہوا اور اس انفیکشن کو بھی اینٹی بائیوٹک اور انہیلرز سے suppress کر دیا گیا اور چند دن بعد یہ انفیکشن دوبارہ اُمڈ آیا، اب یہ دمہ اور غوطہ دار کھانسی کی شکل اختیار کر گیا، جس کا دورانیہ دو گھنٹوں اور تعداد دن میں کئی بار تک جا پہنچی، یہ تبدیلی فقط میازم کی نہیں، بلکہ tissue level پر بھی disease جِلد سے پھیپھڑوں تک پہنچا دی، اور یہ بیماری ہومیوپیتھک علاج سے پہلے تقریباً 3 سال تک اپنے جوبن پر رہی۔ suppression کے نتیجے میں بیماری نے اپنی direction تبدیل کی اور psoric سطح سے نکل کر sycotic miasm میں داخل ہو گئی۔
یعنی بیماری شروع میں پہلی تہہ سورا تک محدود تھی، مگر ایلوپیتھک ڈرگز کے بے تاج بادشاہوں نے بیماری کو باڈی کی گہری اور اندرونی تہہ layer نمبر 2 تک پہنچا دیا، نتیجتاً بچے کو بار بار chest infections ہوئیں اور بالآخر bronchial asthma بمع کالی کھانسی develop ہو گیا جو مسلسل تین سال تک جاری رہا۔ ااور ہاں اس دوران سکن کے لیے steroids رُکے نہیں بلکہ وہ بھی چلتے رہے، ساتھ دمہ کی مینجمنٹ بھی چلتی رہی۔ اور یوں پہلی تہہ اور دوسری تہہ والی دونوں بیماریاں ایک chronic suppressed state میں برقرار رہی۔ یہ بھی اللہ کا شکر ہے کہ بیماری سفلس کی تہوں تک نہیں پہنچ گئی جب یہ مریض بچہ میرے فِیڈبیکس دیکھنے کے بعد ہمارے پاس لایا گیا تو ہسٹری لینے پر یہ بات واضح تھی کہ بچے کے constitution میں psoric qualities نمایاں تھیں اور مجموعی علامات Sulphur کی طرف اشارہ کُن تھیں، لیکن چونکہ مریض ایک گہری suppression کے بعد sycotic layer اینڈوڈرم میں پھنس چکا تھا، اس لیے اس مرحلے پر constitutional remedy دینا شاید کیس کو مزید سپریس کر دیتا، کیا آپ جانتے ہیں سلفر سپریشن ختم کرنے کے علاوہ بذاتِ خود جلدی علامات کو سپریس کرنے کی بھی خاص دوا ہے، اور یوں سلفر دینا فلسفے، سپریشن کی تھیوری، اسبابِ مرض etiology اور ہئیر لاء آف ڈائریکشن آف کیور کے اصولوں کے خلاف ہوتا، اور یہاں مسئلہ دوا کی شناخت کا نہیں بلکہ بیماری کی direction درست کرنے کا ہے۔ اسی بنیاد پر Sulphur کو مؤخر کیا گیا اور anti-sycotic کے طور پر Thuja کا انتخاب کیا گیا۔ یہاں Causation کی ریپرٹری اور باقی دیگر ریپرٹریز بھی اس کلاسیکل اصول کی رُبرک کے طور پر تائید کرتی ہیں، Thuja 200 کی ایک خوراک دی گئی جس کا مقصد علاج نہیں بلکہ لئیر نمبر 2 کو gently ہِٹ کرنا تھا، تھوجا کے بعد جو ردعمل سامنے آیا وہ خالصتاً وہی تھا جو آپ کینٹ لیکچرز اور ہانیمن کے اقوال میں پڑھ چکے ہیں، بچے کا eczema دوبارہ ظاہر ہونا شروع ہوا مگر بحکمِ باری تعالٰی درمیانی پوٹینسی کی وجہ سے شدت زیادہ نہیں ہونے دی، اور جیسے جیسے جلدی علامات میں شدت آئی، ویسے ویسے asthma کا پیٹرن تبدیل ہوا، دمہ اور کھانسی کی waves کی شدت میں کمی آتی گئی۔ یاد رہے میں نے یہاں waves کی تعداد نہیں بلکہ waves کی شدت کہا ہے، جس کھانسی اور دمہ کا حملے پہلے 1 سے دو گھنٹہ تک رہتا، وہ بتدریج دو سے ایک گھنٹہ، پھر چند منٹ مزید کم ہوتے ہوتے دو منٹ تک محدود ہو گیا۔ یہ عمل اچانک نہیں بلکہ layer by layer اور ہفتہ وار follow up میں مشاہدوں کے تحت ہوا۔ sycotic asthma سے psoric eczema کی طرف واپسی میں تقریباً ڈیڑھ سے ڈھائی ماہ لگے، اور تین سے ساڑھے تین ماہ کے اندر بچہ واضح طور پر دوبارہ epidermal psoric level تک پہنچ آیا، مگر خشک ایکزیمہ کی شدت کم ہو گئی اور ایک جگہ پر آ کر رُک گئی، یاد رہے ہومیوپیتھک فلاسفی کے مطابق سائکوسس میازم کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم Inherited یا congenital کہلاتی ہے اور بچہ یہ میازم اپنے والدین کے آپسی تال میل سے لیکر پیدا ہوتا ہے، ایسے بچوں کو بچپن سے ہی سُست گروتھ، عضویاتی ابنارمل گروتھ یا ہر وقت سرجریز گھیرے رکھتی ہیں، اور یہ عمر کے ساتھ ساتھ موہکوں مسوں سے اظہار کرتے ہیں۔ اور یہ میازم کی قسم کبھی سپریس نہیں ہوتی، بلکہ جس حالت میں آتی ہے اسی خام حالت میں جاری رہتی ہے۔ سائکوٹک Sycotic میازم کی دوسری قسم Acquired سائکوسس کہلاتی ہے اور یہ وراثتی منتقلی نہیں بلکہ سپریشن، ادویاتی بھرمار، لائف ایونٹس یا کسی بھی اوپری سچ پر موجود بیماری کے دبنے سے ظاہر develop ہوتی ہے، یہ قسم زیادہaggressive , reactive اور مِکس میازمیٹک تاثرات دیتی ہے۔ جیسا کہ یہ مریض بچہ دونوں میازموں کے مکسچر یعنی psoro-sycotic، کی حالت میں لایا گیا، لیکن چونکہ یہ میازم اگریسو اور بڑھنے grow کرنے والا ہوتا ہے اس لیے اس کی اگلی منزل Syco-syphilitic overlap ہوتی ہے۔ لہٰذا نسبتاً بہتر ہوا کہ یہ بچہ سائکوسفلس میں تبدیل نہیں ہوا، بلکہ سوروسائکوسس تک محدود رہا، یہاں بیماری نے وہی راستہ اختیار کیا جو Herring law of direction of cure کے مطابق شفا کا راستہ کہلاتا ہے۔
اب ہم یہ دیکھیں گے کہ ہم نے اس کیس کو کلاسیکل ہومیوپیتھی، اصل سائنٹفک میازمیٹک تھیوری، ہئیرنگ لاء اور سپریشن کی تہوں کے عین مطابق cure کیا ہے یا پھر سپریس کیا ہے۔ اس کیس میں:
Principle: 1
بیماری vital organ یعنی lungs سے کم اہم عضو skin کی طرف آئی، یعنی اہم تہہ Ectoderm سے کم اہم تہہ Endoderm کی طرف آئی۔ کیا ہم درست ہیں؟
Principle: 2
بیماری اندر سے باہر کی طرف آئی، یعنی اندرونی deepseated تہہ endoderm سے بیرونی تہہ ectoderm کی طرف آئی۔ کیا ہم ٹھیک جا رہے؟
Principle: 3
بیماری کو جس direction میں suppression کے ذریعے سے اندر دھکیلا گیا تھا اسی کے الٹ direction میں واپس لوٹی۔ یعنی پہلے ecto تہہ اترنے کی بجائے endo لئیر اُتری۔ کیا ہم ٹھیک جا رہے؟
Principle: 4
بیماری سورا میں پانچویں مقام پر تھی، جبکہ سائکوسس میں جاتے جاتے ٹوٹل 9th نویں مقام تک پہنچ گئی اور ہم الحمداللہ بیماری کو واپس 9 سے 5 پر لے آئے، یعنی ہم اوپر سے نیچے لے آئے۔ کیا اس قانون کے مطابق بھی ہم درست جا رہے؟
معزز ہومیوپیتھس کیا یہی ہیں ہئیرنگ لاء آف ڈائریکشن آف کیور کے principles ?
اسی مرحلے پر، جب مریض psoric surface پر آ چکا تھا اور suppression کی بڑی تہیں ہٹ چکی تھیں، constitutional remedy کے طور پر Sulphur کا آغاز کیا گیا۔ یاد رہے Sulphur بذاتِ خود ایکزیمیٹک مزاج کی سرتاج دوا ہے، مگر چونکہ مرض کے نام پر دوائی نہیں جاتی، بچہ پیدائشی طور پر سلفر کی تخلیقی خوبیوں اور محور axis کے ساتھ کلینک آیا اس لیے اب اس کی حتمی اور آخری تہہ (dry eczema) سلفر کے زریعے ہی صاف کرنا واجب ٹھہرا، لہٰذا بچے کو اس کی کونسٹیٹیوشنل ریمڈی دیدی، مڈل پوٹینسی اور محتاط repetition کے ساتھ جلدی علامات ایسے ہی جادوئی صورت میں غائب ہوئیں جیسے عینک والا جِن، البتہ اس عرصے کو مزید 20سے 25 دن لگ گئیے۔ بچہ مکمل شفایاب ہے، میری وال پر بچے کی والدہ کا ویڈیو فیڈبیک موجود ہے۔ بچے کے والدین کو متنبع کر دیا کسی بھی طرح کی ہلکی پھلکی خارش پر کوئی مرہم کریم یا دوائی استعمال نہیں کروانی فقط خالص ناریل اور سرسوں کا تیل لگا دیں اور دھوپ میں غیر ضروری exposure سے اجتناب برتیں۔
معزز ہومیوپیتھس یہ کیس بیان کرنے کا مقصد صرف ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم میازمیٹک تھیوری یا سپریشن کو اتنا مشکل بنا کر کیوں پیش کرتے ہیں؟ کیا یہ ہمارے تشہیرپسند ہومیوپیتھس کا قصور تو نہیں جنہوں نے ہمیں ٹوٹکوں، نسخوں اور روزانہ 1m ، Cm جیسے بلنڈروں کی بھینٹ چڑھا دیا۔
ہم ہیرنگ لاء آف کیور کو مزید آسان کرتے ہیں یہ لاء Human Embryological پیٹرن یعنی ماں کے پیٹ میں بچہ بننے کے مراحل کے عین مطابق کام کرتا ہے جہاں سب سے پہلے اندرونی اور اہم اعضاء وائٹل organs وجود میں آتے ہیں، پھر بیرونی اور کم اہم اعضاء یعنی جلد اعصاب بنتے ہیں، اس کو تین جراثیمی پرتوں Germ layers میں تقسیم کیا جاتا ہے،
سب سے پہلے اندرونی نظام یا ٹشو Endoderm یعنی GIT, Lungs وغیرہ۔
پھر Mesoderm ہڈیاں، گردے، دل، عضلات
اور آخر میں Ectoderm جلد، اعصابی نظام، دماغ۔ جب بھی کوئی کیس suppress ہو رہا ہو تو وہ پہلے ectoderm میں بہتری لائے گا اور بتدریج meso اور پھر endo میں بہتری لائے گا، اور اسی طرح جب ہماری سو فیصد بالمثل دوا سے سپریشن ختم ہو گی تو اس کا اظہار اس کے اُلٹ ہو گا، یعنی جس طرح اللہ نے ماں کے پیٹ میں جنین بننے کی ترتیب بنائی ہے، شفاء کے لیے لازم ہے کہ جو حصہ پہلے بنے گا وہی سب سے پہلے ٹھیک ہو گا، بیماری اس نظام یا ٹشو سے بعد میں بننے والے ٹشو کی طرف سفر کرے گی۔
یعنی زندگی اندر سے باہر کی طرف آتی ہے۔
یہ کیس اس بات کی عملی مثال ہے کہ کلاسیکل ہومیوپیتھی میں علاج کا اصل مقصد صرف علامات کو ختم کرنا نہیں بلکہ deepseated سپریشن کو سمجھ کر بیماری کی direction کو درست کرنا ہے۔ ہمارے بہت سارے ہومیوپیتھس دوائی تو منتخب کرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بالمثل دوا کا ایک پرائمری ایکشن ہوتا ہے اور ایک سیکنڈری ایکشن، کرونک کیسز میں پرائمری ایکشن کے دوران ہومیوپیتھک ایگراویشن ضروری ہوتی ہے، اسی سے ہیرنگ لاء کا پتا چلتا ہے، وہ کہتے ہیں مریض کو فلاں بنیاد پر فلاں دوائی دی اور چل بھئی دھڑام سے کیس کیور😆🙏 ارے یار یہ تو کیس کا 2 پرسنٹ بھی نہیں جو آپ نے کیا، جب ہم نے کرنی ہی سپریشن ہے تو پھر شفاء کا claim تو خود کو دھوکا دینے کے مترادف ہے، معزز ہومیوپیتھس، ہومیوپیتھی میں بنیادی ایگراویشنز 3 طرح کی ہوتی ہے،
1-Homeopathic aggravation
2-Medicinal aggravation
3-Disease aggravation
اس کیس میں ہم صرف ہومیوپیتھک ایگراویشن سمجھ لیتے ہیں، جب ہماری دوا 100 فیصد Similar ہوتی ہے تو فوراً یہ دوا کی علامات مریض کی علامات سے ملتی جلتی اور ہم پلہ ہونے کی وجہ سے مریض پر ایک آرٹیفیشل ڈیزیز create کرتی ہے، جس سے بہت کم عرصے کے لیے مریض کی جسمانی علامات میں شدت آتی ہے اور اسے دوائی کا پرائمری ایکشن یا ہومیوپیتھک ایگراویشن کہتے ہیں۔ جب یہی آرٹیفشل disease (بالمثل ریمڈی) جو کہ ہم نے خود اصل ڈیزیز کے اوپر (بیمار کی مجموعی علامات) پر چڑھائی تھی وہ جسم میں پہلے سے موجود اصل بیماری کو اپنے ساتھ میگنٹ کی طرح attach کر لیتی ہے، چونکہ یہ مصنوعی بیماری تھی اس لیے اس نے تو ختم ہونا ہی تھا تو یہ اپنے ساتھ اصل بیماری کو لے ڈوبتی ہے، یعنی زائل کر دیتی ہے، اور یوں ہم آرٹیفیشل ڈیزیز کے زریعے اصل disease کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے ڈیزیز سے مراد مریض کی مجموعی علامات ہیں۔ جو کہ دوا کی مجموعی علامات سے ۱۰۰ فیصد ملتی جلتی ہیں، یہی قانونِ بالمثل کہلاتا ہے، اور یوں یہی ایکشن Curative aggravation بھی کہلاتا ہے، یہ وہی ایگراویشن ہے جس نے مریض کو شفاء سے ہمکنار کروانا ہے اور اس نے اپنا اظہار ہیرنگ لاء کے مطابق کرنا ہے۔ مگر یاد رہے اس ایگراویشن کا دورانیہ زیادہ عرصہ نہیں ہوتا۔
جب بیماری کو اس کے قدرتی اور درست راستے پر واپس لایا جائے تو شفاء خود اپنے قوانین کے مطابق تکمیل کو پہنچ جاتی ہے۔ یہ کیس واضح طور پر ثابت کرتا ہے کہ suppression کے بعد بھی اگر صحیح دوا، صحیح وقت اور صحیح repetition کے ساتھ دی جائے تو chronic اور deep seated بیماری بھی حقیقی شفا کی طرف واپس آ جاتی ہے۔
آپ سے فقط ایک ہی التجا ہے، اگر کیس دل کو لگے اور آپ نے اس کیس سے کچھ سیکھا ہو تو میری حوصلہ افزائی کے لیے دوسروں تک ضرور شئیر کیجیے گا۔ اس محنت کا اجر میں اللہ تعالیٰ سے لونگا۔ شکریہ

تحریر و تحقیق : کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

معزز ہومیوپیتھس! میرے اُستاد محترم نے مجھے برائٹا کارب کے ایک دو ایسے رستے اور مرکز سکھائے تھے جس کے گِرد ساری کی ساری ب...
03/02/2026

معزز ہومیوپیتھس! میرے اُستاد محترم نے مجھے برائٹا کارب کے ایک دو ایسے رستے اور مرکز سکھائے تھے جس کے گِرد ساری کی ساری برائٹا کارب گُھومتی ہے، اور میں نے ان راستوں کی سائنس سمجھ کر ایک سمندر حاصل کر لیا۔

برائٹا کارب کے بچے کند ذہن کیوں ہوتے ہیں؟
معزز ہومیوپیتھس کلینک میں آنے والا برائٹا کارب کا بچہ دراصل بے وقوف یا intellectually disabled نہیں ہوتا، بلکہ اس کا مسئلہ brain maturation کا delayed ہونا ہوتا ہے، اس دوا کا خام حالت (proving) میں بنیادی اثر cortical neurons کی functional development کو slow کرنا ہے، یعنی brain cells موجود ہوتے ہیں مگر synaptic connections پوری طرح mature نہیں ہوتے، نتیجتاً بچہ بات سمجھ لیتا ہے مگر جواب دینے میں دیر کرتا ہے، کسی بھی نئی صورتحال یا جگہ میں confusion اور hesitation دکھاتا ہے، یہ کیفیت stupidity نہیں بلکہ delayed cortical development ہے۔ اکثر آپ نے سنا ہو گا اس بچے کا IQ لیول تھوڑا پیچھے ہے یا اس کا IQ لیول اپنی عمر سے پانچ سال پیچھے ہے، اس حالت میں neuropsychological assessment کروائیں تو آپ کو فقط functional delay ہی ملے گا، structural defect ہرگز نہیں، چاہے جتنی مرضی CT scan یا MRI کروا لیں۔

برائٹا کارب آٹزم میں ممنوع کیوں؟
برائٹا کارب زہنی اور جسمانی ہر سطح پر مسپلیسمنٹ کی دوا ہے، اور آگے چل کر ہم یہ جانیں گے کہ برائٹا کی زہنی سطح پر کون کونسی مسپلیسمنٹ ہے اور یہ آٹزم سے مختلف کیس کیوں ہوتا ہے؟ میرے پاس اکثر آٹزم Autism spectrum disorder میں مبتلا بچے ریفر ہو کر آتے ہیں، جب کسی معالج کا نسخہ مل جائے تو پڑھ کر یا جان کر افسوس ہوتا ہے، وہ ہومیوپیتھک ڈاکٹرز جو بچوں کو مہینوں یا سالوں تک کیمیکل میکانزم جانے بغیر برائٹا کارب 1M یا 200 دیتے رہتے ہیں، یہ مریض کے ساتھ ظلم کرتے ہیں، برائٹا کارب میں مسئلہ functional ہوتا ہے، یعنی brain کام تو کرتا ہے مگر رفتار سست ہوتی ہے۔ آٹزم میں مسئلہ developmental wiring کا ہوتا ہے، یعنی neurons کا آپس میں جڑنے کا pattern مختلف ہوتا ہے۔ برائٹا کارب میں brain کا structure نارمل ہوتا ہے، آپ جب مرضی MRI یا CT scan کروا لیں typical برائٹا میں کبھی بھی کوئی major structural defect نہیں ہو گا، فقط فنکشنل خرابی ہو گی، آٹزم میں brain development شروع سے atypical ہوتی ہے، جسے neurostructural developmental defect کہتے ہیں، اور آٹزم میں synaptic wiring پہلے ہی abnormal ہوتی ہے۔ اس صورت میں برائٹا کارب neuronal maturation کو مزید suppress کر دیتی ہے، برائٹا میں neurotransmitters جیسے Acetylcholine اور Dopamine کی activity کم ہو جاتی ہے، اس لیے ہر فنکشن میں سستی اور delay آ جاتا ہے، مثلاً اکثر Materia Medica میں برائٹا کی یہ فنکشنل خرابیاں درج ہیں؛ سوچ بچار کا عمل سست (Thought process slow)، ردِعمل دیر سے (Reaction time delayed)، فیصلہ سازی کی قوت کمزور (Decision making weak)، سیکھنے کا عمل مفقود (Learning capacity reduced)
۔ اب دیکھتے ہیں برائٹا کارب کی زہنی سطح پر مسپلیسمنٹ؛
Misplacement on mental sphere:
1- Misplaced priorities in religion،
ارکانِ اسلام کی بجائے چڑھاوے، چادروں اور خانقاہوں کو ہی دین سمجھ کر پیروی، بابوں کو خدا جتنا رتبہ دے دینا۔
2- Misplaced response, answering،
سوال گندم جواب چنا
3- Misplaced understanding،
سمجھ بوجھ میں ادل بدل
4- Misplaced behavior does not relate to age، اپنی عمر سے کم عمر بچوں جیسا رویہ یا حرکات یعنی ہنستے رہنا یا جنسی شعور نا رکھنا، اکثر علاقوں میں اوباش اور جرائم پیشہ لوگ ایسی بچوں یا بچیوں کو جنسی استحصال کا نشانہ بناتے ہیں جن کی عمر تو جوانی والی ہوتی ہے مگر ان کا رویہ سوچ اور ردِعمل بہت نچلی سطح پر اور بچوں جیسا ہوتا ہے، میں نے ایک ایسی ہی بچی کا کیس ٹھیک کیا جو کہ اپنی پوپھو کے گھر رہتی تھی اور گاؤں میں اس کا استحصال کیا گیا، اس کو جنسی عمل کا شعور نہیں تھا اور بلوغت سے محروم تھی باوجود اس کے کہ اس کی عمر 25 سال تھی، ہارمونل تباہیوں کا بھی شکار تھی، Strabismus کا شکار بھی تھی اور یہ بھی ایک فزیکل مسپلیسمنٹ ہے۔
5- Misplaced confidence, assessment، کانفیڈنس کی کمی یا کانفیڈنس غلط جگہ پر قائم ہو جائے، مثال کے طور پر یہی بابا جی یا گرو مجھے فیض دیں گے یا میری دعا قبول کروائیں گے یا میری بخشش کروائیں گے۔
6- Misplaced priorities, importance & seriousness،
ترجیحات، سنجیدگی یا اہم چیزوں سے بھٹکا ہوا یا خائف۔
7- Misplaced actions, indiscretion،
لکیر کے فقیر، یعنی آسانی سے اپنے یا اپنوں کے راز بتا دینے والے، طوطے کی طرح۔
8- Misplaced anxiety, fears & apprehension، اجنبی افراد سے خوف، گھلنا ملنا کم، اندھیرے، بجلی گرجنے یا ذمہ داری کا خوف۔
9- Misplaced attachment, affections، انسانوں کی بجائے جانوروں سے محبت۔
10- Misplaced opinion،
یعنی غلط یا درست رائے کسی خاص واقعہ کے بعد قائم کر لینا اور اس کو اپنا معمول بنا لینا، جیسا کہ میرے ہمسائے کا کالی بلی نے راستہ کاٹ لیا اور اسی ہفتے اس کی موت ہو گئی، یعنی توہم پرستی، اور اب سے اس کے نزدیک ہر کالی بلی کے راستہ کاٹنے سے موت ہو سکتی ہے 😆۔ معزز ہومیوپیتھس یہ ہر طرح کی مسپلیسمنٹ نیوروٹرانسمیٹرز کے مرہونِ منت ہی ہوتی ہے اور یہ کیمیکل تبدیلیاں دماغی فنکشنز کو سست اور misplace کر دیتی ہیں، مگر یہ کیمیکلز slowly but reversible ہوتے ہیں، آٹزم میں مسئلہ neurotransmitters نہیں بلکہ synapse formation اور synaptic pruning ہی abnormal ہوتی ہے۔ برائٹا کارب میں کوئی structural genetic defect نہیں ہوتا، جبکہ آٹزم میں structural defect، genetic mutations یعنی وراثتی مادوں (RNA, DNA) میں تبدیلیاں شامل ہوتی ہیں۔ برائٹا کارب میں social interest موجود ہوتا ہے مگر جھجھک اور خوف کی وجہ سے پیچھے رہ جاتا ہے، آٹزم میں social reciprocity کمزور ہوتی ہے، مثال کے طور پر برائٹا کو کوئی تھپڑ مارے تو آگے سے ردِعمل ممکن ہے چاہے سست یا کم ہو، مگر آٹزم میں تھپڑ کے بعد کا مثالی response expect نہیں کیا جا سکتا، اور آٹزم میں eye contact اور emotional response بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ برائٹا کارب میں speech کا فنکشنل delay ہوتا ہے، بولنے کی خواہش ہوتی ہے مگر confidence اور speed نہیں، آٹزم میں speech delay کے ساتھ communication intent بھی متاثر ہوتا ہے، برائٹا کارب میں eye contact محفوظ رہتا ہے، آٹزم میں eye contact کم یا صفر ہوتا ہے۔ اسی لیے برائٹا کارب میں صحیح selection سے brain activation اور functions نارمل ہو جاتے ہیں، کیونکہ یہاں مسئلہ فنکشنل خرابی کا ہے، مگر آٹزم میں ہومیوپیتھک علاج کے ساتھ ساتھ therapy، رویے میں مداخلت (Counseling) اور multidisciplinary approach ضروری ہوتی ہے، اور بدقسمتی سے ہمارے کچھ ہومیوپیتھس مریضوں کو بچوں کی تھراپیز اور کونسلنگ ختم کروا کر فقط دوائی پر انحصار کروا لیتے ہیں اس لیے ان کا روزگار سالوں چلتا رہتا ہے اور وہ بھی برائٹا کارب کے بارے کم علمی یا بے توجہی کی بدولت، حالانکہ وہ اس پروفیشنل تعصب اور برائٹا Barium دینے کی وجہ سے آٹزم میں وسیع بہتری کی گنجائش کو بھی ختم کر دیتے ہیں، میرے کلینیکل تجربہ کے مطابق برائٹا کارب جب بھی غیرمماثل dissimilar تجویز کی جائے گی ہر حال میں زہنی چستی، جسمانی axis اور ہارمونل prosperity کو متاثر کرے گی، یہی بات ڈاکٹر پرافل وجیاکر بھی اپنی theories میں کر چکے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں؟
ہانیمن نے Organon of Medicine کے آخری aphorisms میں تمام therapies کا ذکر کیوں کیا ہے، مرض کی مطابقت سے ماحول میں تبدیلیوں، غذائی اور رہن سہن میں تبدیلیوں کا ذکر کیوں کیا ہے۔ لحاظہ ہر کیس میں برائٹا کا misuse بند کر دیجیے اور جسمانی افعال، endocrinology، ہارمونل توازن کو مدِنظر رکھ کر مماثل دوا تجویز کرنا ضروری ہے، پروفیسر جارج وتھالکس اور ڈاکٹر پرافل وجیاکر لکھتے ہیں کہ اصل مماثل دوا وہ ہے جو بیک وقت constitutional+genetic+miasmatic ہو، اور اس ہنر تک پہنچنے کے لیے ہمیں drug کا کیمیکل reaction، جسم انسانی کا ردِعمل اور اس کے بعد کی علامات تک پہنچنا ضروری ہے، جبکہ ہم نے آج تک علامات کو ہی مکمل ہومیوپیتھی سمجھ لیا ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک ہمارا سب سے بڑا مسئلہ potency، مقدار اور دہرانے کا علم Posology ہی حل نا ہو سکا۔

دنیا ہم سے یہ سوال بھی کرتی ہے کہ ہومیوپیتھک دوائی کیسے کام کرتی ہے؟
وہاں پر ہم بے بس ہو جاتے ہیں کیونکہ وہ اس کا کیمیکل میکانزم پوچھتے ہیں، اور ہمارے پاس یہی جواب بچتا ہے کہ یہ روحانی طریقہ علاج ہے، ارے یار ہومیوپیتھی ایک مدلل اور ثبات پذیر میڈیکل سائنس ہے۔

برائٹا کارب میں immaturity اور stunted growth کیوں پائی جاتی ہے؟
چونکہ ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ اس دوا کا اثر تمام غدودوں کے اوپر ہوتا ہے اور یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ یہ action کیوں ہوتا ہے، لہٰذا اس دوا کا endocrine level پر اثر pituitary اور thyroid axis کو suppress کرنا ہے، نتیجتاً growth hormone activity کم ہو جاتی ہے، puberty delay ہو جاتی ہے، قد چھوٹا رہ جاتا ہے اور sexual organs پوری طرح develop نہیں ہو پاتے، ایسے مریض عمر کے حساب سے بڑے مگر biological age میں پیچھے ہوتے ہیں، bone age X-ray اکثر chronological age سے کم نکلتی ہے اور IGF-1 یا thyroid hormones اکثر borderline low ہوتے ہیں۔

برائٹا کارب مریض shy، بزدل اور خوف زدہ کیوں ہوتا ہے؟
یہ محض psychological کمزوری نہیں بلکہ neuro-developmental insecurity ہوتی ہے، brain threat perception کو exaggerate کرتا ہے، یہ مریض strangers سے ڈرتا ہے، ذمہ داری لینے سے گھبراتا ہے، public performance سے avoid کرتا ہے، یہ anxiety disorder نہیں بلکہ immature fear response ہے جس میں amygdala over-reactive ہوتی ہے مگر cognition محفوظ رہتی ہے۔

برائٹا کارب کے تمام غدود Glands سوجے ہوئے کیوں ہوتے ہیں؟
بیریٹا کارب کی affinity lymphatic اور glandular system کے ساتھ ہے، اور اس کا central action cellular metabolism کو سست کرنا ہے، یعنی خلیہ زندہ ہوتا ہے مگر activity کم ہو جاتی ہے، اس کا براہِ راست تعلق Enzyme activity، Cellular respiration اور Ion exchange (Calcium–Sodium balance) سے ہوتا ہے، برائٹا salt خاص طور پر calcium signaling کو disturb کرتا ہے اور calcium signaling glands کے لیے بہت ضروری ہوتی ہے، تمام glands کا فنکشن adequate blood supply، lymphatic drainage اور normal cellular metabolism پر منحصر ہوتا ہے، برائٹا کارب ان تینوں کو slow کر دیتی ہے، نتیجتاً lymph flow sluggish ہو جاتا ہے اور chronic مگر رفتہ رفتہ swelling شروع ہو جاتی ہے جن میں Tonsils، cervical lymph nodes، thyroid، prostate اور mammary glands شامل ہیں، یہ glands سخت، painless اور لمبے عرصے تک enlarged رہتے ہیں، lab reports میں ESR ہلکا سا بڑھا ہوا، lymphocytosis یا thyroid profile borderline hypothyroid range میں ملتی ہے، تشخیص میں tonsillitis یا lymphadenopathy آتی ہے اور CBC، ESR اور ultrasound مددگار ہوتے ہیں۔

آپ سب سے صرف ایک ہی تمنا ہے اور وہ ہے تحریر اچھی لگنے کی
صورت میں کمنٹ اور شئیر ، باقی میں اس محنت کا اجر ﷲ سے لوں گا۔

تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

Address

49, C Block, Guldasht Town
Lahore

Opening Hours

Monday 13:00 - 21:00
Tuesday 13:00 - 21:00
Wednesday 13:00 - 21:00
Thursday 13:00 - 21:00
Friday 15:00 - 21:00
Saturday 13:00 - 21:00

Telephone

+923253100003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to National Homoeopathic Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram