12/02/2026
میرے معزز قارئین! لاہور میں بسنت تہوار کی بدولت کچھ دن آپ کی خدمت میں حاضر نہیں ہو سکا، اس کے لیے پیشگی معزرت، آپ اکثر سوشل میڈیا پر کچھ ایسی پوسٹیں دیکھتے ہوں گے جس میں ہومیوپیتھک دوا اگنیشیا کو بلاوجہ روزمرہ کے Stress یا پریشانی میں تجویز کر دیا جاتا ہے،چونکہ ہر ہومیوپیتھک دوا اپنے اندر کچھ خاص اسباب، مواقع اور ماحولیاتی اثرات رکھتی ہے اس لیے ہم آج اگنیشیا کی بالمثل یا درُست تجویز کی اپنے کلینکل تجربات اور ماسٹرز کے ڈھیر سارے Homeopathic literature کی روشنی میں وضاحت کرتے ہیں، اگنیشیا امارا کا ڈرگ پروونگ میں زیادہ تر ایکشن اور اظہار Limbic system, autonomic nervous system, اور endocrine system پر ہوا، جس میں hypothalamus, adrenal gland, اور پچوٹری گلینڈ سرفہرست ہیں، یہی وہ سسٹمز اور گلینڈز ہیں جن کے زریعے اگنیشیا کی علامات یا بیماریاں جسم کے ہر رگ و ریشہ تک پہنچ کر تینوں سطحوں یعنی جزباتی، جسمانی اور زہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ ہم اس تحریر میں ان بیماریوں اور ان کے کیمیکل میکانزم پر تفصیلی بات کرتے ہیں۔ ہومیوپیتھک فلاسفی آرگینن آف میڈیسن کے مطابق ہانیمن نے Mental diseases کو جِن 4 کیٹگریز میں تقسیم کیا ہے ان میں سے ایفورزم 211 کے مطانق ایک اہم کیٹگری Psychosomatic امراض کی ہے، اور اگنیشیا کی مکمل ڈرگ پکچر اسی کیٹگری کے مطابق ظاہر ہوتی ہے، یعنی ہر وہ بیماری جس کی بنیاد زہن سے شروع ہو اور یوں وہ اپنا سارا جال جسم کے ہر رگ و ریشہ تک پھیلا دے، سائکوسومیٹک psychosomatic کہلاتی ہے، ہانیمن ایفورزم 3 کے footnote میں بیماری کو دُور کرنے کے لیے واضح طور پر اسبابِ مرض Causation کو مٹانے یا ہٹانے کی بات کرتے ہیں، معزز ہومیوپیتھس اگنیشیا دو قسم کے مریضوں کو ظاہر کرتی ہے، پہلی قسم صدمہ سے پہلے کی نارمل مزاج اگنیشیا، جو کہ رومینٹک آزاد خیال مگر حیا اور حساسیت سے بھرپور ہوتی ہے، اور دوسری قسم کسی اچانک گہرے زہنی صدمہ یا رنج کی صورت میں ظاہر ہونے والی اگنیشیا، جس کا سارا رومینس مایوسی اور اداسی میں بدل جاتا ہے، چہرہ زرد پیلا اور بھوک غائب ہو جاتی ہے حتٰی کہ جتنا حساس یہ مریض ہوتاہے بیماری یا کسی بھی ایکیوٹ حالت میں حساسیت سے کئی گنا زیادہ نرم و نازک کھانا پیش کر دیں تب بھی اس کو ہضم نہیں ہوتا، اس دوا کا اصل کردار بھی اسی اچانک صدمہ کی حالت میں درکار ہوتا ہے، یہاں لفظ “صدمہ” سے زیادہ اہم دو عناصر ہیں، گہرائی (intensity) اور اچانک پن (suddenness)۔ ہر ذہنی دباؤ صدمہ نہیں ہوتا اور ہر پریشانی disease producing cause نہیں بنتی۔ روزمرہ زندگی میں انسان مختلف نوعیت کے stresses سے گزرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی فرد کو پہلے سے علم ہو کہ اس کے بجلی کے یونٹس زیادہ خرچ ہو رہے ہیں، ہر ماہ بل بڑھ رہا ہے، تو یہ مسئلہ اس کے conscious mind میں بھی موجود ہے اور subconscious میں بھی۔ اس صورت میں ذہن رفتہ رفتہ اس حقیقت کے ساتھ adjust ہو جاتا ہے۔ anticipation پیدا ہو جاتی ہے، coping mechanisms develop ہو جاتے ہیں، اور جسم کا hypothalamus, pituitary اور adrenal ایکسز آہستہ آہستہ اپنی baseline سیٹ کر لیتا ہے، اس کے نتیجہ میں ٹینشن، irritability یا fatigue تو ہو سکتی ہے مگر وہ کیفیت پیدا نہیں ہوتی جسے ہم اچانک یا گہرا صدمہ shock کہتے ہیں۔ اس لیے سائکوسومیٹک امراض کی یہ causation یعنی روزمرہ کا سٹریس اس دوائی میں براہِ راست fall نہیں کرتا۔
اب اس کے مقابلے میں ایک بالکل مختلف منظر نامہ ذہن میں رکھیے۔ ایک انسان معمول کی ذہنی حالت میں ہے، کسی اندرونی تیاری یا پیشگی خوف کے بغیر، اور اچانک اسے کوئی ایسی خبر ملتی ہے جو اس کے emotional framework کو ایک لمحے میں توڑ دیتی ہے، مثلاً ایک بہن کو اچانک خبر مِلتی ہے کہ اس کا بھائی ابھی ابھی ایک ایکسیڈینٹ میں مر چُکا، توبہ توبہ توبہ ، وہیں سے ایک اگنیشیا کی اصل Cause شروع ہوئی، یا کسی دوشیزہ کی اچانک منگنی ٹوٹ جائے یا پھر طلاق ہو جائے، یا سخت محنتی طالبعلم فیل ہو جائے؟
یا کوئی ایسا واقعہ جو ذہن کو process کرنے کا وقت ہی نہ دے۔ یہاں conscious mind واقعے کو سمجھنے سے پہلے ہی subconscious alarm state میں چلا جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں Autonomic Nervous System میں jerk آتا ہے، sympathetic overdrive ہوتا ہے، vagal balance disturb ہو جاتا ہے، اور vital force پر ایک dynamic blow پڑتا ہے۔ اسی sudden, deep psychic impact کے نتیجے میں جسم ایک مربوط (integrated unit) کے طور پر ردِعمل دیتا ہے۔ Brain میں آنے والا یہ shock صرف ذہن تک محدود نہیں رہتا بلکہ neuro-endocrine pathways کے ذریعے پورے جسم میں پھیل جاتا ہے۔ جس سے Cortisol, اور دیگر stress mediators بے ترتیب طور پر release ہوتے ہیں، گیسٹروانٹسٹائنل motility disturb ہو جاتی ہے، immune regulation کمزور پڑ جاتی ہے، اور vascular tone میں instability پیدا ہو جاتی ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ Ignatia کا مریض کمزور نہیں ہوتا، بلکہ حد سے زیادہ sensitive ہوتا ہے۔ Nervous system کی excitability اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ ایک شدید اور اچانک emotional stimulus پورے system کو بگاڑ دیتی ہے۔ اسی لیے ایسے مریضوں میں پٹھوں میں پھڑکن یا جھٹکے، بے ترتیب انداز اور بے جا قسم کی علامات symptoms ملتے ہیں۔ یہ سب علامات اس بات کی گواہ ہیں کہ disease کا آغاز جسم سے نہیں بلکہ psycho neuro endocrine axis سے ہوتا ہے۔ یعنی وہ بیماریاں جن کے اسباب اور شروعات دماغی اور زہنی سطح (لِمبک اور نروس سسٹم) سے ہوں جبکہ سارے جسم میں مرضیاتی پراسس اینڈوکرائن سسٹم کے زریعے ہو، جبکہ روزمرہ کا stress، جس کے ساتھ ذہن اور جسم پہلے ہی adapt کر چکے ہوں، Ignatia کی causation نہیں بنتا۔ Ignatia وہاں درکار ہوتی ہے جہاں گہرا اور اچانک ذہنی جھٹکا، بغیر کسی پیشگی ذہنی تیاری کے، vital force کو ایک ہی لمحے میں disturb کر دے۔ یہی distinction ایک عام emotional upset اور حقیقی psychosomatic disease کے درمیان فرق واضح کرتی ہے، اور یہی فرق ہمیں درُست دوا تک لے کر جاتا ہے۔
میں نے اپنی کلینکل opd میں یہ مریض اچانک typhoid, amenorrhea, IBS, ریسپائریٹری الرجیز, ہارمونل عدم توازن، depression, ocd ٹائپ حالتیں، حتیٰ کہ ischemic tendencies
میں مبتلا ہوئے مریض بحکمِ ربِ ﷻ شفایاب کیے ہیں، جس کی سب سے کلاسیکل مثال میری ایسی مریضائیں جو کہ تین بہنیں تھیں، ان کے والد استری، جوسر، اور دیگر لوکل مشینوں (home appliances) کی لاہور میں فیکٹری چلاتے (director) تھے، جن کی اچانک death ہو گئی، اور اتفاقاً تینوں بیٹیوں کو ischemic attacks آنے لگے، بی پی low, اور بے ہوشی کے دوروں کے ساتھ جسم کا balance بِگڑنے لگا، والد کو میڈیکل ہسٹری میں فالج اور heart کے مسائل رہ چکے تھے، تینوں بہنوں کو اِگنیشیا 200 ایسے دی گئی جیسے remedy of epidemicus, اور یہ مرضیاتی حالت یوں جاتی رہی، پروفیسر جارج وتھولکس اگنیشیا کو limbic system میں حساسیت کی بِنا پر 200 پوٹینسی تک ہی محدود رکھنے اور کئی ہفتوں تک انتظار کرنے کا کہتے ہیں، مگر میرے لیے اس کیس میں حیران کُن پہلو یہ تھا کہ ہر کوئی انفرادیت کے قانون کے مطابق ایک دوسرے سے الگ ہے، عادات الگ ہیں، susceptibility الگ، زہن الگ، جسمانی ردعمل الگ، مگر یہ تینوں بہنوں کا مرضیاتی ردِعمل ایک جیسا کیوں ہے؟
تینوں بہنوں کو ایک جیسا reaction اس لیے آیا کیونکہ یہاں دو چیزیں ایک ساتھ موجود تھیں، مشترک causation اور مشترک susceptibility۔
پہلا عنصر تھا sudden اور گہرا grief، جو تینوں کے لیے ایک ہی وقت میں، ایک ہی شدت کے ساتھ وارد ہوا۔ یعنی emotional trigger ایک تھا، timing ایک تھی، اور shock کی intensity تقریباً برابر تھی۔ دوسرا اور زیادہ اہم عنصر تھا genetic اور کونسٹیٹیوشنل مماثلت۔ اگر والد میں پہلے سے vascular weakness یا ischemic tendency موجود تھی تو arterial susceptibility جینیاتی طور پر بیٹیوں میں منتقل ہو سکتی ہے۔ ایسے میں جب شدید صدمہ اور غم آیا تو اس نے تینوں کے اندر موجود ایک جیسے کمزور نقطے کو activate کر دیا۔
انفرادیت ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ تینوں کی individuality کے باوجود ان کا weakest system ایک جیسا تھا۔ Homeopathy میں individuality کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص مختلف عضو میں بیمار ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے مخصوص کمزور مقام پر react کرے گا۔ یہاں تینوں کا weak axis vascular system تھا، اس لیے reaction بھی یکساں نظر آیا۔ یاد رہے اگنیشیا کے مریضوں میں زیادہ تر خواتین اور چھوٹی بچیاں پائی جاتی ہیں، میرے فیورٹ مصنف فِلپ ایم بیلی جو کہ میرے نزدیک کینٹ کا دُوسرا روُپ ہیں, Personality profiles میں لِکھتے ہیں کہ خاندان، دوستوں یا محلے میں جو سب سے زیادہ حساس طبیعت، نازک مزاج افراد ہونگے وہی اگنیشیا کے نارمل کونسٹیٹیوشن میں fall کرتے ہیں، اور وہی اچانک گہرہ صدمہ مِلنے کے بعد active اگنیشیا کی حالت میں چلے جاتے ہیں اور جسم کے ہر آرگن tissue اور system پر مختلف امراض اُمڈ آتے ہیں، میرے کلینک میں اگنیشیا کے ٹوٹل مریضوں میں 96 فیصد خواتین اور چھوٹی بچیاں آتی ہیں۔ جو کہ ہر طرح کی functional سطح پر متاثر ہوتی ہیں۔ اس پر سب سے بڑا رُبرک Never well since لاگُو ہوتا ہے، یعنی جسم میں کوئی بھی فنکشنل بیماری ہو اور اس سے پہلے ایک اچانک اور گہرا ذہنی صدمہ چُھپا ہو تو اپنے ایکسز کی موجودگی میں یہی دوا سرتاج ہو گی۔ یاد رہے اگنیشیا کی طرح اور بھی بہت ساری Psychosomatic ادویات موجود ہیں لہٰذا ان کو ایک دوسرے سے الگ کرنے کے لیے axis ضرور معلوم ہونے چاہیں، جیسا کہ نیٹرم میور اگنیشیائی حالت کی chronic دوا کہلاتی ہے، یعنی ایک نئے نویلے محبت کرنے والے جوڑے کا اچانک Break up ہوا، شروع میں جو گہرا صدمہ پہنچا اس کے بعد لڑکے کو Typhoid یا intermittent fever ہوا جبکہ لڑکی کی ماہواری رُک گئی، تو یہ سلسلہ اِدھر ہی نہیں رُکے گا، اگر عشق سچا اور گہرا تھا تو یہ غم بھی اتنا ہی گہرا ہوتا چلا جائے گا, limbic اور autonomic نروس سسٹم کے زریعے جسم کے بہت سارے اعضاء اور سسٹمز کو اپنی لپیٹ میں لے گا، وقت گزرنے اور chronic ہونے کے ساتھ ساتھ نیٹرم میور اگنیشا کو اپنی چھاپ میں بدل لے گی، یا یوں کہہ لیں اپنے رنگ میں رنگ لے گی، اسی لیے نیٹرم میور اگنیشیا کی کرونک دوا کہلاتی ہے۔ میں اپنے مریضوں میں اگنیشیا پہچاننے کے لیے چند باتوں کا خاص خیال رکھتا ہوں، ۱- مریض بالکل سیدھا بُت نما ہو کر ایک ہی جگہ پر بیٹھا رہے، بچہ تیز بخار میں بھی سکول جائے ہوم ورک مکمل کرے، والدہ تیز بخار میں بھی گھر کے کام نپٹائے، والد بیماری کے باوجود کام پر جائے، یعنی اگنیشیا پرسنیلٹی Conscientious اور Diligent بچوں میں ٹاپ گریڈ کی میڈیسن ہے، بالکل Staphysagria کی طرح، بخار کے بعد بھوک بھی سٹیفیسیگریا کی طرح، ٹھنڈی بھی سٹیفیسیگریا کی طرح، ایموشنل اور حساس سٹیفی سے زیادہ، دونوں ہی سائکوسومیٹک، مگر سٹیفی کی جسمانی بیماریاں insult, rejection، غصہ، جزبات دبنے کے بعد آئیں، جبکہ اگنیشیا کی بیماریاں اچانک گہرے صدمے سے آئیں۔
یہ بہت بولڈ قسم کے مریض نہیں ہوتے، بے شرمی اور بے حیائی سے دُور بھاگنے والے، محنتی، ہر کام سنجیدگی سے کرنے والے، Introvert, زیادہ تر دُبلے پتلے، تنہائی پسند، روشنی، زرہ سے شور سے انتہائی حساس، مگر نیٹرم میور کی طرح گرمی سے sensitive نہیں بلکہ سردی سے شدید حساس ہوتے ہیں باہر کا شور، ٹریفک کی آواز اور جانوروں کی آواز ان کو براہ راست دماغ میں لگتی ہوئی محسوس ہوتی ہے، اگر آپ میری پریکٹس میں اگنیشیا کا theme جاننا چاہیں تو sudden shock کے بعد کہوں گا highly sensitive، باقی حساسیت کا خود اندازہ لگا لیں۔ وہ لوگ جو حکم عدولی، بے ادبیوں، انسانی گستاخیوں، پُرسکون اور ہنس مُکھ چہرہ والے دکھائی دیں، پڑھائی سے بھاگتے ہوں، سخت مزاج ہوں تو ان کو اگنیشیا دینے سے پہلے اپنے فیصے کا ازسرِ نو جائزہ لیں۔
میں نے اپنی کلینکل opd میں زیادہ تر اگنیشیا، نیٹرم میور اور سیپیا سانولی یا گندمی رنگت کے ساتھ ہی دیکھی ہیں۔ اور یہاں پر کلینکل hint دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ اگنیشیا سفید اور صاف رنگت والیوں کو نہیں دی جا سکتی۔ ایک ہومیوپیتھ کو اگر مریض کے چہرے سے حقیقی یاسیت، اداسی اور سنجیدگی ٹپکتی ہوئی دکھائی دے تو جان لیں یہی اگنیشیا ہے، باقی ہومیوپیتھک میڈیکل سائنس کے مصنفین نے اگنیشیا کی علامات کے بارے انبار لگا رکھے ہیں جن کو پڑھ کر ایک معالج کے کنفیوز اور دوا کی ڈرگ پکچر سے دُور رہنے کا اندیشہ رہے گا۔
اگنیشیا کی مریضہ کو چہرے پر بال کیوں اُگ آتے ہیں؟
یہاں بھی وہی میکانزم کارفرما ہوتا ہے جو اوپر بیان ہو چکا، یعنی گہرا اور اچانک صدمہ ہائپوتھیلمس، پچوٹری اور ovarian ایکسز کو ڈسٹرب کرتا ہے، جس سے ovarian ہارمونز خصوصاً estrogen کم ہو جاتا اور androgen dominance پیدا ہو جاتی ہے، جب ایسٹروجن کم اور androgen نسبتاً زیادہ ہو جائیں تو خواتین کے چہرے پر بال اُگنا شروع ہو جاتے ہیں، آپ کسی بھی Repertory میں اگنیشیا کو خواتین کے چہروں پر اُگنے والے بالوں کے لیے Unwanted hairgrowth, facial hair in women یا Hirsutism جیسے rubrics میں دیکھ سکتے ہیں۔
اگنیشیا کی مریضہ میں مینسز کیوں رُک جاتے ؟
اگنیشیا میں اچانک اور گہرا emotional shock hypothalamus کو disturb کرتا ہے جس سے گونیڈوٹرافن ریلیزنگ یارمون GnRH کی سیکریشن عارضی طور پر رک جاتی ہے نتیجتاً pituitary کی FSH اور LH secretion کم ہو جاتی ہے ovaries کو ovulation کا signal نہیں ملتا جس کی وجہ سے periods رُک جاتی ہیں یا delayed ہو جاتی ہیں اس طرح sudden grief یا shock کی وجہ سے amenorrhea ظاہر ہوتا ہے۔ اگر ایسی مریضہ کو بروقت اگنیشیا دے دی جائے تو یہ فنکشنل delay فوراً ٹھیک ہونے لگتا ہے۔
اگنیشیا کے مریض کو IBS کیوں ہوتا ہے؟
اچانک یا گہرا صدمہ hypothalamus کو disturb کرتا ہے جس سے خودکار عصبی نظام autonomic nervous system کا توازن بگڑ جاتا ہے gastrointestinal motility irregular ہو جاتی ہے اور abdominal pain، bloating، constipation یا diarrhea رہنے لگتا ہے۔
اگنیشیا کا مریض اچانک شور یا ہلکی سی بھی آواز سے حساس کیوں ہوتا ہے؟
اچانک جزباتی صدمہ auditory cortex اور limbic system کو heighten کرتا ہے، sympathetic tone بڑھ جاتی ہے اور patient ہلکی آوازوں پر بھی overstimulated ہو کر irritability اور anxiety محسوس کرتا ہے۔ حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اگنیشیا کا مریض OCD جیسی حرکتیں کیوں کرنے لگتا ہے ؟
شدید صدمہ limbic system اور frontal cortex کو hyperactivate کرتا ہے، serotonin اور dopamine pathways disturb ہو جاتے ہیں جس سے بار بار ایک جیسی سوچیں اور compulsive behaviors ظاہر ہوتے ہیں۔
اگنیشیا کا مریض Typhoid کا شکار کیوں ہوتا ہے؟
آپ جب بھی ایسے مریض کی CBC رپورٹ کروائیں گے تو WBCs ہمیشہ low یا high آئینگے، یہ گہرا صدمہ Hypothalamus, پچوٹری اور ایڈرینل کے axis کو ڈسٹرب کرتا ہے، جس سے ایمیون سسٹم کمزور ہو جاتا ہے اور WBCs ریسپانس کمزور ہونے لگتا ہے۔ جس سے تمام بیکٹیریاز سر اُٹھانے لگتے ہیں خصوصاً Salmonella typhi وغیرہ۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب مریض کو اگنیشیا دے کر کرشمات دکھائی دیتے ہیں۔ اگنیشیا ایلوپیتھک علاج سے دبے ہوئے suppressed ٹائفائیڈ کو بھی تیزی سے ٹھیک کرتی ہے۔ معزز ہومیوپیتھس اور مریضانِ ہومیوپیتھی، آخر میں چند گزارشات ہیں، میں میسجز یا کالز پر بلامعاوضہ دوائیاں نہیں بتاتا، بیماریوں پر ٹوٹکے نہیں بتاتا، اپنا زیادہ تر وقت صرف ہومیوپیتھی کو پڑھنے، سمجھنے اور مریضوں کی خدمت میں گزارتا ہوں، ایک جنون اور شوق کی حد تک لگاو رکھتا ہوں، کیونکہ لوگ مجھے چہرہ شناس، باڈی لینگوئج observer، اور پرسنیلٹی reader کے طور پر بھی دیکھتے ہیں، اپنے بارے میں مسحور کُن فقرے سُننا فقط ہومیوپیتھک سائنس کی بدولت ہی ممکن ہوا ہے، مجھے زیادہ مریضوں کی ہر گز ضرورت نہیں ہے، کم مریض اور سُتھری پریکٹس میرا شیوہ ہے، لہذا میں اپنی Opd میں 15 سے زیادہ مریض دیکھنے کا متحمل نہیں ہوتا، اللہ کا دیا ہوا بہت کچھ ہے، فیملی سپورٹ، بیوی گورنمنٹ آفیسر، مختلف علوم سے آشنائی، کتب سے محبت یہ سبھی کچھ مجھے حاصل ہے۔ البتہ بیگم تحریروں کے لیے بڑا محدود وقت allot کرتی ہے، کہتی ہے یہ کیا ہر وقت ٹائپنگ پر جُڑے رہتے 😆ہو، یہی وجہ کے بسنت festival پُورا ہفتہ غائب رہا، مگر اللہ ہمارا شوق سلامت رکھے، ہم لکھتے رہیں_ آمین۔
لہٰذا مجھ سے inbox یا whatsapp پر ٹوٹکے نا پوچھا کریں، ٹوٹکوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے، اور اس امر سے جان جاتی ہے۔ مجھ تک پہنچنا انتہائی آسان ہے مگر صرف اپوائنٹمنٹ کی صورت میں، خواہ کلینک آئیں یا آنلائن کال کنسلٹیشن لیں، البتہ کلینکل وزٹ کرنے والوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہوں۔ اللہ کا کروڑہا شکرگزار ہوں میری فقط آخری چار تحریروں کے فیسبک views تقریباً ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں، اوورسیز ڈاکٹرز اور مریضوں کی بھرمار رہی، بے تحاشہ پیغامات اور اپوائنٹمنٹ موصول ہوئیں، الحمداللہ ہمیں یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ لاہور کے نامور ہومیوپیتھس بھی ہمیں کیسز ریفر کرتے ہیں، اور ہم ان کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش بھی کرتے ہیں، اور تمام گروپس کے admins کا بھی تہہ دل سے شکریہ جو ہمارے اس منفرد انداز میں دوائیوں کی وضاحت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میری اس تحریر سے فائدہ پہنچے یا علم میں اضافہ ہو یا پھر انسانیت کے لیے مفید لگے تو میری حوصلہ افزائی کے لیے کمینٹ اور شئیر لازمی کریں، مجھے آپ سے کوئی اپوائنٹمنٹ نہیں چاہیے، اس خلوص نیت اور کام کا اجر اللہ کریم سے لونگا۔
تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور