National Homoeopathic Clinic

National Homoeopathic Clinic ⭐⭐⭐⭐⭐

"Welcome! Dr.Sohail Ahmed, a passionate classical homeopath with international clinical experience. Restoring health naturally.

My journey blends conventional medicine principles with holistic approaches. For appointment: 03253100003📲

میںری کلینکل پریکٹس میں آرسینک البم اُن دواؤں میں شامل ہے جس کے مریض کی سینکڑوں علامات اور بیماریاں فقط اس کے اسباب یعنی...
31/01/2026

میںری کلینکل پریکٹس میں آرسینک البم اُن دواؤں میں شامل ہے جس کے مریض کی سینکڑوں علامات اور بیماریاں فقط اس کے اسباب یعنی
Causation
سے معلوم کر لی جاتی ہیں اور اس کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے مجھے آرسینک کی جسمِ انسانی پر پرونگ کا کیمیکل میکانزم اور فزیکل ردِعمل کا گہرا مطالعہ کرنا پڑا، آرسینک مریض کو صرف ظاہری سطح پر نہیں بلکہ خلیے کی گہرائی تک جا کر متاثر کرتی ہیں۔ میں نے بارہا دیکھا ہے کہ یہ وہ مریض ہوتے ہیں جن کی
Lab reports
بظاہر نارمل ہوتی ہیں مگر مریض خود مسلسل یہ احساس بیان کرتا ہے کہ وہ اندر سے مردہ ہے۔ یہ کیفیت کسی نفسیاتی وہم کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ خالص physiological اور chemical failure کی علامت ہوتی ہے۔ آئیے اس دوا کو میرے کلینکل تجربہ اور ماسٹرز کے کمینٹس کے زریعے دریا کو کُوزے میں بند کرتے ہیں۔۔

آرسینک کا کیمیکل اور حیاتیاتی میکانزم

Arsenic
ایک protoplasmic poison ہوتا ہے یعنی یہ براہ راست خلیے کے زندہ مادے کو نقصان پہنچاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ خلیے کے اندر موجود mitochondria کو متاثر کرتا ہے جو توانائی بنانے کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ATP یعنی Adenosine Triphosphate کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ توانائی موجود ہونے کے باوجود جسم اسے استعمال کے قابل نہیں رہنے دیتا۔ اسی طرح Sodium Potassium pump یعنی Na K ATPase کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے جس سے خلیے کے اندر اور باہر ions کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ اس پورے عمل کا نتیجہ cellular hypoxia کی صورت میں نکلتا ہے یعنی آکسیجن خون میں ہونے کے باوجود خلیہ اسے استعمال نہیں کر پاتا۔ اس chemical failure کا clinical نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مریض زندہ ہوتا ہے، ہوش میں اور حتٰی کہ بات کرنے کے قابل ہوتا ہے مگر اندر سے جلتا ہوا، بے چین اور موت کے قریب اور شدید کمزوری و تھکن محسوس کرتا ہے۔

اعصابی نظام
(Nervous system)
پر آرسینک کی تبدیلیاں اور کرشمات جانتے ہیں، آرسینک کے مریض کو ہر وقت وہم شک (Ocd), بے چینی، گھبراہٹ (Anxiety), اور موت کاخوف (Thanatophobia) یا کچھ ہو جانے کا خوف کیوں ہوتا ہے؟ دراصل Arsenic کے زیر اثر اعصابی نظام میں neurotransmitters جیسے serotonin اور GABA کا توازن بگڑ جاتا ہے۔ ساتھ ہی cortisol hormone کا اخراج غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ اس chemical تبدیلی کے نتیجے میں مریض میں شدید گھبراہٹ، موت کا خوف، اکیلا رہنے سے ڈر، صفائی اور طہارت کے وسوسے، (OCD) اور مذہبی خیالات کی شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی کیفیت آگے چل کر panic disorder، anxiety neurosis اور obsessive disorders کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایسے مریضوں کا
(Serum Cortisol Test)
کروا کر ان کا Stress اور انزائٹی لیول چیک کر سکتے ہیں۔ میرے clinical مشاہدے میں ایسے مریض اکثر مغرب کے بعد یا آدھی رات کے وقت زیادہ بگڑ جاتے ہیں۔ بار بار اٹھنا، چلنا، دل کی بے چینی اور (reassurance) مانگنا ان کی عام عادت بن جاتی ہے۔ بے چینی اتنی ہو جاتی ہے کہ ان کا اعتماد والا مادہ ہی ختم ہو جاتا ہے، ہر وقت عدم تحفظ Insecurity بار بار لیب ٹیسٹ کرواتے مگر کوئی بھی ٹیسٹ یا دوا ان کی اس بے چینی حالت کو ختم نہیں کر سکتی۔ جب ایسے مریض کو Arsenic Album دی جاتی ہے تو neurotransmitters کا chemical balance بحال ہونا شروع ہو جاتا ہے اور مریض کے چہرے سے وہ خوف آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے جو برسوں سے اس کے ساتھ چلا آ رہا ہوتا ہے۔ میرے پاس ایسے مریض کثرت سے آتے ہیں جو گھبراہٹ، Ocd, panic attacks اور مزہبی وسوسوں کے لیے
Gabica, Citanew,
Fluoxotine, sertraline, or lexapro
وغیرہ لے رہے ہوتے ہیں، ہم ان کو آرسینک البم دے کر توازن کی طرف لے آتے ہیں۔ ایک کلینکل پوائنٹ بتاتا چلوں کہ تھوجا، کالی کارب اور آرسینک کے مریض آپ کو اپنی زات کے بارے ہسٹری دیتے وقت انتہائی کنفیوز کریں گے۔ باقی آپ جسمانی ساخٹ سے چاہے ایک منٹ میں پہچان لیں۔

قلبی اور دوران خون کا نظام
Cardiovascular and Circulatory System

اب دیکھتے ہیں کہ آرسینک کے ہاتھ پاوں ٹھنڈے، جسم پر نیلگی، نبض سُست، یک دم بے جان یا دل ڈُوبنے اور فیل ہونے کا احساس کیوں ہوتا؟
آرسینک
peripheral circulation
کو متاثر کرتی ہے جس سے peripheral vasoconstriction پیدا ہوتی ہے۔ tissues تک خون اور آکسیجن کی فراہمی کم ہو جاتی ہے اور cellular oxygen delivery متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے ہیں، دل بیٹھنے کا احساس ہوتا ہے، نبض کمزور ہو جاتی ہے اور collapse کی کیفیت محسوس ہوتی ہے۔

یہی chemical تبدیلی آگے چل کر septic shock، functional heart failure اور chronic weakness کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ میری practice میں ایسے مریض اکثر یہ جملہ دہراتے ہیں کہ ذرا سا کام کرنے سے ہی جان نکل جاتی ہے۔ ایسے مریضوں میں آرسینک نے ہمیشہ غیر معمولی رزلٹ دیے ہیں۔

تنفسی نظام
Respiratory System
اب آتے ہیں آرسینک کے مریض کو آکسیجن (O²) کی کمی اور خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO²) کی زیادتی کیوں ہوتی ہے، اور اس کی زیادتی سے خون زہریلہ کیوں ہو جاتا ہے؟
آرسینک
bronchial mucosa
میں irritation پیدا کرتی ہے اور آکسیجن کے استعمال کے عمل کو متاثر کرتی ہے۔ نتیجتاً مریض کو آدھی رات کے بعد دمہ، لیٹنے سے سانس کا گھٹنا اور بیٹھنے یا گرم چیز استعمال کرنے سے آرام محسوس ہوتا ہے۔ یہ کیفیت آگے چل کر bronchial asthma،
COPD
اور پرانے smokers میں dyspnea کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ میرے پاس نیشنل ہسپتال ڈیفنس لاہور سے ایک مریضہ ریفر کی گئی جو کہ سموکر تھیں، اس کی HB بالکل نارمل تھی مگر مریضہ کے بقول وہ مرنے کے قریب ہے، سانس آتا ہی نہیں، بولنا، چلنا، اور حرکت کرنا اس کے لیے ناممکن ہے کیونکہ اس کے بعد اس کا سانس غائب ہو جاتا ہے، جس کے لیے 3 مشینیں گھر میں رکھی ہوئی ہیں، جسم مکمل مردہ ہے اور وہ اس لیے کہ کمزوری جان لیوا ہے، اب آپ یہ بُوجھیں کہ Hb نارمل ہے تو پھر ایسا کیوں ؟ جب ہم نے مریضہ کے ABG- Arterial Blood Gas ٹیسٹ کروائے تو وہی بات ہوئی خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار 60 mmhg یعنی زیادہ جبکہ آکسیجن نارمل ہے اس کا مطلب ہے کہ جسم میں آکسیجن تو ہے مگر کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خون سے اخراج نا ہونے کی وجہ سے آکسیجن بالکل ناکارہ ہے، تو ہم نے پہلی بار COPD کی تشخیص کی اور اس مریضہ کو کاربوویج یا اینٹم ٹارٹ کے بجائے آرسینک اس لیے دی کہ مریضہ کی آکسیجن ٹھیک تھی، Carbo veg خون میں آکسیجن کی کمی Hypoxemia میں بحالی کا کام کرتی ہیں جبکہ Antim T سانس کی نالیوں airways کو صاف کرتی ہے۔ اور ادھر جبکہ مریضہ کا خون سگریٹ پی پی کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی وجہ سے زہریلہ تھا اس لیے آرسینک کا فیصلہ کیا۔ آرسینک Septicemia کی ٹاپ گریڈ دوا ہے۔ ایلوپیتھی میں مریض عمر بھر کے لیے abuterol, اور وینٹی لیشن پر لگے رہتے ہیں۔
آرسینک دینے کے بعد اکثر مریض انھی لمحوں میں یہ الفاظ کہتے ہیں کہ اب سانس اصل میں بحال ہو گئی، وہ مصنوعی سانس والا دھوکہ ختم ہو گیا۔

نظام ہاضمہ
Gastrointestinal System

اب دیکھتے ہیں جن مریضوں میں Diarrhea, dysentry, Ibs, Ulcerative colitis, Gastric Ulcers, H. Pylori+, Food poisoning
اکثر رہتا یا بار بار ہوتا ان میں آرسینک کا خام حالت میں کیا ایکشن ہوتا اور ہم ڈائنامائزڈ آرسینک دے کر کیا کرشمہ کرتے۔
آرسینک نظام ہاضمہ میں mucosal corrosion پیدا کرتی ہے، تیزابیت کے اخراج کو غیر متوازن کرتی ہے اور آنتوں کے اعصابی نظام کو irritate کرتی ہے۔ اس کے نتیجے میں جلنے والا درد، کھانے کے بعد قے، ہر وقت جلن، بدبودار اسہال اور تھوڑا تھوڑا پانی پینے کی شدید طلب پیدا ہوتی ہے۔
یہی chemical injury آگے چل کر food poisoning، ulcerative colitis، chronic gastritis اور IBS کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جن کی موجودگی میں تیزابیت، جلن اور پیٹ میں بے چینی اِک خاص پیش گوئی Prognosis ہے۔ ایسے مریضوں میں آرسینک دیں اور اللہ کی نصرت آتی دیکھیں۔ 😊

میٹابولزم اور خون
Metabolism and Blood

آرسینک
oxidative stress
بڑھاتی ہے، red blood cells
کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اور غذائی اجزاء کے جذب کو کم کر دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں anaemia، وزن میں تیزی سے کمی، cachexia اور diabetes mellitus جیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ریپرٹری میں Anemia اور Diabetes mellitus کے سیشن میں آرسینک ہمیشہ پہلے نمبر میں دیکھیں گے۔ مگر یاد رکھیں فقط تھیراپیوٹک کی بنیاد پر نہیں دینگے 😬 Causation جاننا واجب ہے۔

جلد Skin

جب خون میں toxins بڑھ جاتے ہیں اور tissue repair کا عمل سست ہو جاتا ہے تو جلد خشک، کھردری اور جلنے والی ہو جاتی ہے۔ eczema، psoriasis، ulcers، bed sores اور gangrene جیسی بیماریاں اسی chemical خرابی کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں۔ اس لیے جب بھی شوگر کا کا مریض گینگرین یا بدبودار کوئی اور زخم لیکر آئے تو آرسینک پہلے نمبر کی دوا ہو گی، ریپرٹری دیکھ 😊، ایسی Etiology پر Pyrogenum آرسینک کی معاون دوا ہے جس میں گینگرین کی وجہ شوگر یا خون کا زہریلہ پن Septicemia ہو،

جسمانی خدوخال
Physical Appearance
آرسینک
کا مریض عام طور پر سردی سے انتہائی حساس، کھٹاس سے حساس، تنہا رہنے سے حساس، زرد اور مومی یا سیاہ زرد چہرے والا، دھنسی ہوئی آنکھوں کے ساتھ، انتہائی کمزور اور شکی مزاج ہوتا ہے۔ اسے گرم چیزوں کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ اور یہ گرمی کے موسم میں ہی پھلتے پھولتے ہیں۔
آرسینک
علامات یا صرف کسی ایک organ پر کام نہیں کرتی بلکہ خلیے کی توانائی اور cellular chemistry کو درست کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ دوا درست مریض کو دے دی جائے تو علاج معجزہ محسوس ہوتا ہے حالانکہ وہ مکمل طور پر scientific اصولوں پر مبنی ہوتا ہے۔ چاہے خام حالت میں آرسینک کی آزمائش proving ہو یا پھر جسم کی کیمسٹری، اور آرسینک کی تجویز، ہم نے ساری تفصیل ادھر لِکھ دی ہے۔
میرے اس دو دن میں وقفے وقفے سے تحریر لکھنے کے درمیان دونوں دن کی OPD میں آرسینک البم کے دو دو مریض آئے
مریض نمبر # 1
لاہور Leads یونیورسٹی کا 65 سالہ پروفیسر جس کو گزشتہ وزٹ پر جلدی جلدی میں غلط پریسکرپشن (Kali Carb) select ہو گئی، میں نے ہفتہ کے بعد feedback مِلنے پر سوچ لیا تھا کہ یہ شاید آرسینک ہو، جب میں نے آج review کیا تو میری آنکھیں کُھل گئیں کہ اس کی خاندانی ہسٹری اور مزاجی ڈھانچہ مجھے آرسینک کی طرف لے گیا اور میں نے اس کو یہ تحریر (نامکمل) دِکھا دی، مجھے لگا اس کو آرسینک کی سمجھ نہیں ہو گی لحاظہ ان پر دھاک بٹھاتے، مگر وہ پڑھ کر کہتے ڈاکٹر صاحب میری باڈی میں آرسینک کی کمی ہے یا زیادتی؟ میں نے کہا یہ ایک پوائزن ہے، پروفیسر کہتا ڈاکٹر صاحب میں نے تو آرسینک کھایا ہوا ہے۔ میرے والد ایک حکیم تھے وہ ایک کُشتہ بنا رہے تھے میں نے اپنی انگلی پر لگا کر ہلکا سا چکھ لیا، مگر مجھے یہ سب نہیں ہوا جو آپ نے لِکھا سوائے Palpitation اور گھبراہٹ کے۔ میں نے کہا میں آپ کو یہی دوں گا مگر اپنی فلاسفی اور پوٹینسی کے مطابق، کہتا جو آپ کو بہتر لگے آپ وہی کریں، ویسے بھی جو اچھے ڈاکٹر یا حکیم ہوتے ہیں ان کو اللہ کی طرف سے دماغ میں دوائی ڈالی جاتی ہے شاید آپ سے یہ اللہ لکھوا رہا ہو۔ تو دوستوں اس پروفیسر نے دنیا جہاں کے ایڈوانس ٹیسٹ کروا رکھے تھے، مگر تشخیص کچھ نا ہو سکا، اس کا نالج ایک عام ڈاکٹر سے بھی زیادہ تھا آخر میں کہتا (انگلش میں) ڈاکٹر صاحب آپ کی یہ والی بات بھی صحیح لکھی ہے کہ میری باڈی میں آکسیجن کم ہو سکتی، کیونکہ میرے (RBCs) اکثر کم آتے ہیں، اور شاید Septic blood والی بات بھی ٹھیک لکھی ہے کیونکہ میرا ESR اکثر 15, 18 آتا ہے جو کہ مردوں کے لحاظ سے زیادہ ہے۔ میں نے ہنس دیا، جناب Fastidious تھے، نظم و ضبط کے عادی Disciplined اصول پرست، فرض شناسDiligent
، Punctual
میں نے نظم و ظبط کی کوئی دس مثالوں سے وضاحت لی، دو مثالیں پیش خدمت ہے کہتے ڈاکٹر صاحب یہ جو آپ کی ٹیبل پر بُکس ہیں اگر یہ میرے سیٹ اپ میں پڑی ہوتیں تو جو سب سے بڑی کتاب ہے وہ سب سے نیچے رکھتا اور اصولاً چھوٹی ترتیب وار اس کے اوپر آتیں (Ascending order)۔ پھر کہتے اگر کوئی چیز ترتیب میں نا دکھے تو میں تھرتھلی مچا دیتا ہوں، میں بِنا کسی قدغن کے بالکل 8 بجے یونیورسٹی پہنچ جاتا ہوں، اور اسی بات سے جانا جاتا ہوں، میں نے کہا آپ اس بار بغیر اپوائنٹمنٹ کے آ گئے؟ 😂 کہتے مجھے پہلے C بلاک اپنے بھائی کے گھر ضروری آنا تھا، تو وہاں کی clarity نا ہونے کی وجہ سے میں نے ٹائم نہیں لیا، اور آپ نے کہا تھا میں صرف 10, 12 مریض ہی چیک کرتا ہوں۔ ٹائم کا کوئی مسئلہ نہیں۔ بہرحال آرسینک کے Axis, اینٹری پوائنٹس، مزاج Temprament اور اسباب Causation کنفرم ہونے پر
ان کو آرسینک دے دی گئی ہے، ان کے لیے دعا کریں۔

مریضہ نمبر # 2
25 سالہ مریضہ پیشہ استانی ضلع قصور بھائی اور بھابھی کے ساتھ کرونک نیزل الرجی اور دمہ کی وجہ سے تشریف لائیں، مریضہ جس ریفرنس سے آئی تھی مجھے گُڑ والی چائے کا اہتمام کروانا پڑا، بھائی اور بھابھی نے چائے پی لی مگر مریضہ نے سب کے اسرار کے باوجود refuse کر دیا، جب مریضہ بھابھی کے چیک اپ کے دوران waiting area میں براجمان تھیں تو وہ بچوں کو بار بار اپنے سے دُور کر رہی تھیں اور میں کیمرے پر دیکھ رہا تھا جبکہ بچے بار بار frequently اپنے بابا کے پاس آتے اور ان کو پھر کہہ دیا جاتا پُوپھو کے پاس پیچھے بیٹھو, ہماری آنکھیں یہ منظرکشی کر رہی تھیں اور دماغ مشاہدے Observation میں مصروف تھا، کیونکہ بچوں کی گاڑھی نوزی (ریشہ) بہہ رہا تھا، اور پُوپھو ہمیں اپنی ڈریسنگ سے بھی طہارت پسند Fastidious لگی، جب ہسٹری لی تو ساری کی ساری آرسینک کھُل کر سامنے آ گئی،کونسٹی ٹیوشن آرسینک مگر فیملی اور زاتی میازم ٹیوبر، مگر آپ حیران ہونگے ہم نے نا میازمیٹک Miasmatic اور نا آرسینک دی، ہم نے تھوجا انٹرکرنٹ Intercurrent پر دے دی، ایسا کرنے کی دلیل کیا ہے؟ آپ کمینٹ میں پُوچھ سکتے ہیں۔
مریض نمبر # 3
27 سالہ ایبٹ آباد کا رہائشی جاب کی وجہ سے بیوی بچوں کے بِنا لاہور شِفٹ ہوا، اپنی اپوائنٹمنٹ سے دس منٹ پہلے پہنچ گیا، دو ماہ سے کبھی ڈائریا، کبھی آنتوں میں انفیکشن، کبھی گھبراہٹ اور بے چینی، ایلوپیتھک پروفیسروں نے رائزک، اینٹی بائیوٹک، پروبائیوٹکس، Probiotics سٹیرائیڈ Steroids برائے جینیٹل انفیکشن Genitalia لکھ کر دی ہیں۔ میں کہا آپ نے کوئی ایسا ویسا کام تو نہیں کیا لاہور شفِٹ ہونے کے بعد؟ کہتا سر بالکل نہیں، پھر کہتا ایک دوست کا فلیٹ میں ٹراوزر پہنا تھا شاید اس کے بعد شروع ہوا، کہتا میں ہر وقت بے چین رہتا ہوں اور دل کرتا ہے ابھی بیوی کے پاس چلا جاوں، suppression of sexual desire سے مریض کو شدید قطرے اور اح**ام ہو رہا تھا، ہم نے Axis اور مزید اینٹری پوائن لینے کے بعد آرسینک دینے کا فیصلہ کیا، کیا آپ جانتے ہیں آرسینک ہجرت یا شہر تبدیل کرنے کے بعد آنے والے عوارض Ailments کی پہلی دوا ہے، خصوصاً Gastric, اور یہ دُوری کے سبب پیدا ہونے والی بے چینی یا کمزوری Prostration کی خاص دوا ہے، مگر اپنی Causation اور ڈرگ پکچر Drug picture کی بنیاد پر، اس بیچارے کے پاس دو ماہ کے اندر ہی ایک کلو 1 kg لیب رپورٹیں اکٹھی ہو چکی ہیں بشمول اینڈوسکوپی کے، مگر علاج فقط رائزک، فائزک، وائزک وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

مریض نمبر # 4
معزرت، کیس لمبا ہے اور میں تھک گیا ہوں سکرین دیکھ دیکھ کر۔ 😊
دوستو میں کسی بھی طرح کے ٹوٹکوں اور نسخوں سے متاثر نہیں ہوتا، مجھے پتہ ہے آجکل روزانہ 1m کھلانے والی مافیہ پنجاب میں سرگرم ہے بلکہ ان کی شاگردی کرنے والے اب kpk اور بلوچستان میں بھی پھیل گئے، مگر ہومیوپیتھی ایک سائنس ہے یہ اپنے اصولوں کی بدولت ہی شفاء دیتی ہے وگرنہ کرتے رہیں Palliation, آخر کب تک کرینگے 😆

فقط آپ دعا کر دیں اور اگر تحریر اچھی لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسروں گروپوں میں شئیر کر دیں۔ اور کمینٹ میں میری حوصلہ افزائی کرنے اور اپنے کسی سوال کو پوچھنے سے گریز مت کیجیے گا۔ جزاک اللہ

تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد لاہور

بہت سارے ہومیوپیتھک معالجین اس دوا کی Etiology اور کیمسٹری جانے بغیر چند ایک علامات یا گنی چنی بیماریوں پر ہی تجویز کر پ...
29/01/2026

بہت سارے ہومیوپیتھک معالجین اس دوا کی Etiology اور کیمسٹری جانے بغیر چند ایک علامات یا گنی چنی بیماریوں پر ہی تجویز کر پاتے ہیں، اور شاید اُس لیول کے ریزلٹس نہیں لے پاتے جِس لیول کی یہ پولی کریسٹ دوا ہے، اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ جِسم انسانی پر نیٹرم میور کے کیمیکل میکانزم اور فزیکل ردِ عمل سے لا عِلم ہوتے ہیں، آئیے ہم نیٹرم میور یعنی sodium chloride NaCl کو اِس طریقے سے سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر کے میٹریا میڈیکا اِسی تحریر میں بند ہو جائیں، نیٹرم میور
1- الیکٹرولائٹ ریگولیشن Electrolyte regulation
2- اوسموٹک دباؤ Osmotic pressure
3- ٹشوز کی ہائیڈریشن Tissues hydration
کو برقرار رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ جب اس نمک کی فزیالوجیکل مقدار یا تقسیم بگڑتی ہے تو پورا جسم ایک خاص کیمیائی پیٹرن کے تحت بیمار ہونا شروع کرتا ہے۔
سب سے پہلے پانی کے توازن Water Metabolism میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ کیمیائی طور پر سوڈیم آئنز extracellular fluid میں پانی کو روکے رکھتے ہیں، اور اُن کی کمی یا غلط تقسیم سے پانی خون اور خلیات کے بجائے Interstitial tissues میں جمع ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مریض کے سارے جسم میں شدید خشکی، پانی کی کمی Dehydration, ہو جاتی ہے جس سے شدید پیاس، ہونٹوں کی خشکی یا ہونٹ پھٹنا، آنکھوں کے نچلی سائڈ پر سوجن، صبح اٹھنے پر چہرے کی Puffiness یا ٹانگوں پر ورم ہوتا ہے، اور یہی علامات ہر میٹریا میڈیکا میں keynotes کے طور پر درج ہیں، البتہ ہم نے سمجھ لیا کہ یہ علامات پیدا کیسے ہوتی ہیں، جب ہم نے پانی کی منصفانہ تقسیم نا ہونے کی وجہ سے سارے جسم کے اندرونی و بیرونی اعضاء اور سسٹمز میں شدید خشکی پیدا کر لی اور خشکی سے یہ علامات پیدا کر لی تو اِسی میکانزم کے تحت بیماری پیدا کرنا کونسا مشکل کام ہے؟ ارے نیٹرم میور کے مریض کو Electrolyte imbalance کی وجہ سے بلڈ پریشر low اور High دونوں ہی ہوتے ہیں، Edema، اور kidney کی فنکشنل خرابیاں امڈ آتی ہیں۔ جو کہ serum Electrolytes Test سے تشخیص کی جا سکتی ہیں۔ ایسے مریضوں میں نیٹرم میور خُون، خلیات، اور ٹشوز کے درمیان پانی کی صحیح تقسیم بحال کرتی ہے۔

خون کے نظام Hemotology (بلڈ کیمسٹری) میں خرابی اس وقت سامنے آتی ہے جب Plasma میں پانی کم ہو جائے اور سرخ خلیات (RBC’s) سکڑنے (Crenation) لگیں۔ اس کیمیائی تبدیلی سے خون ظاہری طور پر پتلا مگر فعلی طور پر کمزور (Thrombocytopenia) ہو جاتا ہے۔ مریض میں پیلاہٹ، تھکن، سانس کا پھولنا، کمزور نبض اور دل کی دھڑکن تیز ہونا عام ہو جاتا ہے۔ تشخیص میں یہ بیماریاں:
Anemia, Low HB, Thrombocytopenia, Chronic fatigue syndrome, Chronic constitutional anemia, weakness, prostration عموماً نیٹرم میور میں واضح نظر آتی ہیں۔ اِن کو جانچنے کے لیے
CBC Test
خاص اہمیت کا حامل ہے، اور ایسے مریضوں میں نیٹرم میور خون کی Dehydration اور نمکیاتی توازن درست کر کے RBCs کے فنکشن کو درست بناتی ہے اور Anemia کی شکایت کو رفع کرتی ہے۔
نیٹرم میور کا مریض سُکڑتا اور سُوکھتا کیوں چلا جاتا ہے؟ آئیے اِس کی کیمسٹری جاننے کی کوشش کریں👇

‏خلیاتی غذائیت ‎(Cellular Nutrition)‎ شدید متاثر ہوتی ہے کیونکہ سوڈیم–پوٹاشیم اے ٹی پی ایس پمپ ‎(Sodium–Potassium ATPase Pump)‎ درست کام نہیں کر پاتا۔ اس کے نتیجے میں گلوکوز ‎(Glucose)‎، امائنو ایسڈز ‎(Amino Acids)‎ اور منرلز ‎(Minerals)‎ خلیے Cell کے اندر مناسب مقدار میں داخل نہیں ہو پاتے، جس سے ٹشوز کی مرمت ‎(Tissue Repair)‎ سست پڑ جاتی ہے۔ مریض کمزور، دبلہ، اور سُوکھتا چلا جاتا ہے، اور اسی دُبلے پن Emaciation کا ذکر ہر مٹیریا میڈیکا میں صفِ اول میں درج ہوتا ہے، ٹشو repair سُست ہونے کی وجہ سے یہ مریض دیر سے صحت یاب ہونے والا اور بار بار ریلیپس ‎(Relapse)‎ کا شکار ہوتا ہے۔ تشخیص میں یہ کیفیت ‎Chronic Malnutrition at Cellular Level‎ اور
‎Delayed Tissue Repair State‎
کہلاتی ہے۔ جو مائیں کہتی ہیں بچہ کھاتا پیتا تو بہت ہے مگر لگتا نہیں، اس کو نیٹرم میور کے حوالے کریں اور کرِشمہ دیکھیں۔ کیوں یہاں ساری گیم ہی Metabolism کی ہے۔

‏Natrum Mur سیلولر جھلی ‎(Cell Membrane)‎ کی پرمی ایبیلٹی ‎(Permeability)‎ درست کر کے غذائی اجزاء کے جذب ‎(Nutrient Uptake)‎ کو بحال کرتی ہے۔ جس سے Emaciation ختم ہو جاتی ہے۔

‏ بلغمی جھلیاں ‎( Mucous Membranes)‎ جیسے ویجائنا Va**na, منھ Oral یا ناک Nose
کیمیائی طور پر ان جھلیوں کی قدرتی رطوبت‎ کم ہو جاتی ہے، جس سے رگڑ اور کھچاؤ
‎(Friction & Tension)‎ بڑھتی ہے۔ مریضہ کو ویجائنہ میں خشکی کی وجہ سے انٹرکورس میں رگڑ کے باعث تکلیف ہوتی ہے، اسی لیے نیٹرم میور ہر ریپرٹری میں تکلیف دہ جنسی ملاپ
Dyspareunia
کی ٹاپ گریڈ میڈیسن ہے، اس کا لیکوریا بھی خشکی کے سبب جاری ہوتا ہے (نیٹرم میور کے علاوہ سیپیا، ایلومینا اور ہائڈراسٹس کا لیکوریا بھی اندام نہانی اور رحم میں خشکی کے باعث جاری ہوتا ہے۔
میں نے اپنی ایسی مریضہ ٹھیک کی ہے جس کو گائناکالوجسٹ نے جڑواں حمل کے کیس میں بچوں کے گرد پانی
Amniotic fluid
بالکل نا ہونے اور گروتھ زیرو کی وجہ سے کیس لاعلاج اور بے بس قرار دیا، اللہ کریم نے بچوں کے گرد سیال مائع چار سو گُنا تک بڑھا دیا، اور بچوں کی گروتھ 300 فیصد بڑھ گئی۔
نیٹرم میور ان میوکسی جھلیوں کے لیے لبریکیشن کا کام کرتی ہے، وہاں پر Bartholine glands کے زریعے چِپچپاہٹ پیدا کرنے اور رگڑ سے بچانے کے لیے میوکس کو پروموٹ کرتی ہے۔ خشک موسم کے باعث جب ناک سے زکام جاری ہو تو نیٹرم میور اپنا اثر دکھاتی ہے۔

سیرس ممبرین (Serous membrane) جیسے پلیورا ‎(Pleura)‎، پیریٹونیم ‎(Peritoneum)‎ اور مینینجیز ‎(Meninges)‎ خاص طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ کیمیائی طور پر ان جھلیوں کی بھی قدرتی رطوبت ‎ (Serous Fluid)‎ کم ہو جاتی ہے، جس سے رگڑ اور کھچاؤ
‎(Friction & Tension)‎ بڑھتی ہے۔
مریض کو سر درد، سینے میں جکڑن ‎(Chest Tightness)‎، سانس کے ساتھ درد یا پیٹ میں کھچاؤ محسوس ہوتا ہے۔ تشخیصی طور پر یہ کیفیت ‎Dry Serous Inflammation‎، ‎Functional Pleuritic Pain‎ یا ‎Meningeal Tension State‎ کہلاتی ہے۔
‏Natrum Mur سیرس جھلیوں کی نارمل لبریکیشن ‎(Physiological Lubrication)‎ بحال کرتی ہے۔

‏غدود اور رطوبتیں ‎(Glandular Secretions)‎ ایک خاص ترتیب سے متاثر ہوتی ہیں۔ ابتدا میں پانی جیسی رطوبتیں ‎(Watery Discharges)‎ ظاہر ہوتی ہیں، جیسے نزلہ، Chronic Rhinorrhea آنسو یا watery لیکوریا ‎(Leucorrhea)‎، مگر بعد میں شدید خشکی غالب آ جاتی ہے۔ اس کی کیمیائی بنیاد کلورائیڈ آئن ‎(Chloride Ion)‎ کی ترسیل میں خرابی ‎(Transport Dysfunction)‎ ہے، جس سے غدودی اوسموسس ‎(Glandular Osmosis)‎ ناکام ہو جاتی ہے۔ تشخیص میں یہ حالت ‎Chronic Catarrhal Disorder Turning into Dry Mucosal Disease‎ کہلاتی ہے۔
Natrum Mur
غدودی اوسموسس کو متوازن کر کے غیر فطری رطوبت اور بعد کی خشکی دونوں کو درست کرتی ہے۔

‏اعصابی نظام
‎(Nervous System)‎
میں خرابی سوڈیم پر منحصر اعصابی ترسیل ‎(Sodium-Dependent Nerve Impulse Conduction)‎ کے متاثر ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ ایکشن پوٹینشل ‎(Action Potential)‎ کمزور ہو جاتا ہے، اعصاب جلد جواب دے دیتے ہیں، اور مریض ذہنی طور پر خاموش یعنی (Introvert) اداس، چرچڑا، غصیلا، یادداشت میں کمزور اور جذبات دبانے والا بن جاتا ہے۔ دماغ آگے کی طرف نہیں دیکھتا، پیچھے کی جانب ماضی میں دھنس جاتا ہے اسی لیے اس دوا میں پچھتاوے Regrets اور کچھ خاص کھو چکنے کا خوف Fear of loss رہتا ہے، محبت کے برے اثرات غالب ہی اس لیے آتے ہیں کہ اس کا نروس سسٹم جزباتی زوال و شکستگی کا شکار ہو کر collapse کر جاتا ہے اور مریض انتہائی حساس ہو کر خود کو ایک خ*ل میں بند کر لیتاہے۔ تشخیص میں یہ کیفیات
‎Neuro-Electrolyte Exhaustion‎،
Depression, ‎Grief-Suppressed Neurosis‎،
Love disappointment
کہلاتی ہیں۔ ایسے والدین کے بچے اعصابی طور پر شکست خوردہ Genes سے پیدا ہوتے ہیں، نروز collapse ہسٹری کی وجہ سے دیر سے بولنا اور چلنا سیکھتے ہیں۔ اگر ایسے بچوں کو نیٹرم میور دے دیں تو مسئلہ حل ہو حاتا ہے۔
Natrum Mur
اعصابی ترسیل کو مضبوط بنا کر ذہنی و جذباتی توازن بحال کرتی ہے۔ پچھتاوے سے نکال کر مستقبل کی طرف راغب کرتی ہے، نئی امید اور نئی محبت کی راہ دکھاتی ہے۔

‏دماغی افعال ‎(Cerebral Function)‎ میں خرابی بنیادی طور پر دماغی خشکی ‎(Cerebral Dehydration)‎ سے پیدا ہوتی ہے۔ دماغی خلیات ‎(Neurons)‎ سکڑتے ہیں اور مینینجیز میں کھچاؤ ‎(Meningeal Tension)‎ بڑھتا ہے، جس کے نتیجے میں سورج کی روشنی سے بڑھنے والا، ہتھوڑے لگنے جیسا یا پھٹنے والا سر درد ہوتا ہے۔ تشخیص میں یہ کیفیت ‎Migraine یا ‎Stress-Induced Headache‎ کہلاتی ہے۔
Natrum Mur
دماغی ہائیڈریشن ‎(Cerebral Hydration)‎ درست کر کے سر درد کی اصل وجہ کو ختم کرتی ہے۔

‏ہاضمہ نظام ‎(Digestive System)‎ میں خرابی اس لیے پیدا ہوتی ہے کہ کلورائیڈ آئنز کی کمی سے ہائیڈروکلورک ایسڈ ‎(Hydrochloric Acid – HCl)‎ کم بنتا ہے، جس سے ہاضمہ ‎(Digestion)‎ سست پڑ جاتا ہے۔ آنتوں میں خشکی، پیریسٹالسس کی سستی ‎(Atonic Peristalsis)‎، کی وجہ سے قبض اور فشرز ‎(Fissures)‎ پیدا ہو جاتے ہیں۔
میں نے سینے کی جلن میں نیٹرم فاس، نیٹرم سلف، سے زیادہ نیٹرم میور کے کرشمے دیکھے ہیں البتہ مریض باتیں اندر ہی اندر دبا لینے کی ضخیم ہسٹری رکھتا ہو، تشخیص میں یہ کیفیت
Constipation, Heartburn, Fissures
Atonic Peristalsis movement
‎Hypochlorhydria‎، ‎
Dry Gut Syndrome‎ کہلاتی ہے۔
‏Natrum Mur معدے اور آنتوں میں سوڈیم کلورائیڈ ‎(NaCl)‎ کے فزیالوجیکل کردار کو بحال کر کے ہاضمہ درست کرتی ہے۔ جلن کا دائمی خاتمہ کرتی ہے، قبض کو مستقل ختم کرتی ہے۔

‏جلد اور بال ‎(Skin & Hair)‎ میں خرابی ٹشوز کی خشکی ‎(Tissue Dehydration)‎ اور سیبیشیس گلینڈ کی خرابی ‎(Sebaceous Gland Dysfunction)‎ سے پیدا ہوتی ہے۔ جلد بظاہر چکنی مگر اندر سے خشک، ایگزیما ‎(Eczema)‎، ہرپس ‎(Herpes)‎، بالوں کا جھڑنا اور سفید خشکی ‎(white Dandruff)‎ عام علامات ہیں۔ تشخیص میں یہ حالت
‎Chronic Dry Eczema‎
Sebaceous gland overstimulation
‎Seborrheic Imbalance‎
Face acne, oily face
Urticaria
کہلاتی ہے۔
Natrum Mur
جلدی خلیات کی ہائیڈریشن اور غدودی توازن بحال کرتی ہے۔ Sebacious gland سے آئل کی ترسیل کو کنٹرول کرتی ہے، Scalp میں ڈینڈرف ختم کر کے بالوں کو
نیوٹریشن پہنچاتی ہے جس سے ہئیر فال رک جاتا ہے۔

تحریر اچھی لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسرے معالجین تک بھی شئیر کیجیے۔
نوٹ: یہ تحریر حصول علم کے لیے شائع کی گئی ہے، کسی بھی بیماری کی صورت میں مریض اپنے ہومیوپیتھک معالج سے رابطہ کریں۔
تحریر و تحقیق: ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد

25/01/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہومیوپیتھک علاج میاں بیوی کے درمیان نفرت کو ختم کرنے ، جنسی رغبت قائم کروانے اور سیکس ہارمونز کو بُوسٹ کرنے میں انتہائی معاون ہے۔ حتیٰ کہ غیر فطری ناجائز محبت، یعنی extramarital affairs, illicit relationship
کا میلان کم کرتا ہے۔



24/01/2026

لاء آف سیمیلیا کس پرانے لاء کی بدولت آشکار ہوا ؟

22/01/2026

ہانیمن نے دماغی امراض کو کن 4 اقسام میں تقسیم کیا اور
اُن کا علاج کیسے ممکن ہے ؟

آرگینن آف میڈیسن کی روشنی میں ۔۔۔

Hahnemann’s classification of mental diseases according to “Organon of medicine.






16/01/2026

ڈسٹ الرجی ہومیوپیتھک علاج سے مکمل طور پر قابلِ شفاہ ہے





14/01/2026

Book your appointment at National Homoeopathic Clinic

07/01/2026

🌾 گندم سے الرجی ؟




World 🌎 Trusted Classical Homoeopathy National Homoeopathic ClinicScan Now:  🔎 QR Code
30/12/2025

World 🌎 Trusted Classical Homoeopathy
National Homoeopathic Clinic
Scan Now: 🔎 QR Code

27/12/2025

بادی و خونی بواسیر سے نِجات پائیں ، آج ہی ہومیوپیتھک علاج کے لئے اپوائنٹمیٹ بُک کروائیں۔




24/12/2025

دودھ سے الرجی یا عدم برداشت




18/12/2025

Unmatchable Beauty with Homeopathic Treatment

Address

49, C Block, Guldasht Town
Lahore

Opening Hours

Monday 13:00 - 21:00
Tuesday 13:00 - 21:00
Wednesday 13:00 - 21:00
Thursday 13:00 - 21:00
Friday 15:00 - 21:00
Saturday 13:00 - 21:00

Telephone

+923253100003

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when National Homoeopathic Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to National Homoeopathic Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram