08/04/2026
گردے میں پتھری کے مریضوں کے لیے خصوصی ہدایات
ہومیوپیتھی میں گردے مثانے کی پتھریوں کا بغیر آپریشن اور بغیر کسی سائیڈ ایفیکٹ کے علاج موجود ہے، پتھری خواہ گردے میں ہو، مثانے میں یا پتے میں ہومیوپیتھک ادویات سے ریزہ ریزہ ہو کر نکل جاتی ہے اور مریض کو کوئی تکلیف بھی نہیں ہوتی، البتہ جن افراد کے گردوں میں بار بار پتھری بنتی ہے یا کسی فرد کے گردے میں پتھری موجود ہے اور وہ ہومیوپیتھک علاج کروا رہا ہے، اس کو کن باتوں سے پرہیز کرنا چاہیے اور کون سی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہئیں ، وہ یہاں بتائی جا رہی ہیں کیونکہ
گردوں کی پتھری کی صورت میں غذا کا صحیح انتخاب نہ صرف پتھری کو مزید بڑھنے سے روکتا ہے بلکہ نئی پتھری بننے کے عمل کو بھی سست کر دیتا ہے۔
روزانہ کم از کم 10 سے 12 گلاس پانی پیئیں تاکہ پیشاب کی رنگت شفاف رہے۔
لیموں پانی، مالٹا اور مسمی کا استعمال بہت مفید ہے کیونکہ ان میں موجود 'سائٹریٹ' پتھری کو بننے سے روکتا ہے۔
غذا میں کیلشیم (جیسے دودھ، دہی) کی مناسب مقدار ضروری ہے، کیونکہ یہ آنتوں میں موجود آکسیلیٹ کے ساتھ مل کر اسے جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے۔
جو، باجرہ، اور دالیں (متوازن مقدار میں) استعمال کریں۔
اگر پتھری 'کیلشیم آکسیلیٹ' قسم کی ہے، تو ان چیزوں سے مکمل پرہیز کریں: پالک، ساگ، چقندر۔
چاکلیٹ اور کوکو پاؤڈر۔
خشک میوہ جات (خاص طور پر بادام اور کاجو)۔
نمک خون میں کیلشیم کی مقدار بڑھاتا ہے جو گردوں میں جمع ہو کر پتھری بناتا ہے۔ اوپر سے نمک ڈال کر کھانے سے گریز کریں۔
سرخ گوشت (بڑا اور چھوٹا گوشت)، مرغی اور انڈوں کا زیادہ استعمال یورک ایسڈ بڑھاتا ہے، جو پتھری کا باعث بنتا ہے۔
کولڈ ڈرنکس اور سوڈا میں فاسفیٹ کی بڑی مقدار ہوتی ہے جو پتھری بننے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔ اس لیے ان سے پرہیز کریں
موٹاپا گردوں کی بیماریوں اور پتھری کے خطرے کو بڑھاتا ہے اس لیے اگر آپ کا وزن زیادہ ہے تو اس کو ہومیوپیتھک ادویات ، ورزش اور سیر کے ذریعے باڈی میس انڈیکس کے مطابق کریں
روزانہ ہلکی پھلکی واک یا ورزش کو معمول بنائیں تاکہ میٹابولزم بہتر رہے۔
ٹماٹر، بینگن اور کھیرا استعمال کرتے وقت ان کے بیج نکال دیں ۔
وٹامن سی اور کیلشیم کے سپلیمنٹس ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہ لیں، کیونکہ ان کی زیادتی پتھری کا سبب بن سکتی ہے۔
چونکہ پتھری کی مختلف اقسام ہوتی ہیں (جیسے یورک ایسڈ، کیلشیم، یا سٹرومائٹ)، اس لیے بہتر ہے کہ اپنے معالج سے مشورہ کر کے ایک مخصوص ڈائٹ پلان بنوائیں جو آپ کی رپورٹ کے مطابق ہو_
مزید معلوما