غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy

  • Home
  • Pakistan
  • Lahore
  • غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy

غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy, Health/Medical/ Pharmaceuticals, Lahore.

غذا کے افعال واثرات اور اہمیت
پس ضروری ہے کہ انسان اپنی غذا وطعام میں غور فکر کرے۔ (سورۃ عبس آیت ۲۴)
حلال طیب چیزوں میں سے کھاؤ پیؤ اور اسراف نہ کرو،بلاضرورت،بلابھوک وپیاس نہ کھاؤ اور نہ ہی بسیاری خوری کرو۔(مفہوم آیت ۳۱ سورۃ اعراف ا)
قابل غور وفکر:قدرتی غذاؤ ں اور دواؤں سے علاج کیوں کیمیکل ادویہ سے کیوں نہیں؟ …………. کیونکہ …………… !!!
قابل غور و فکر:
1) غذا سے کردار بنتا ہے
2) غذا ہی سے خون بنتا ہے اور خون کے اجزاء ،ترکیب و ساخت ،ماہیت ،قوام،کیفیت و مزاج اور انسجہ وٹشوز بنتے ہیں،اور غذا سے اعضائے انسانی بنتے بڑھتے وارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔
3) اعضائے بدن کے افعال ،صحت ،قوت مدافعت((Immunity force توانائی وحرارت اور انسانی كردار, فكر وادراك سب غذا سے حاصل ہوتے ہںi.
4) مختلف طریقوں (حلال وحرام)سےکمائی ہوئی غذا کھانے سے مختلف قسم(مختلف مزاج،کیفیت،اثرات ،خواص وقوام)کاخون بنتا ہے۔
5) حلال وطیب غذا کھانے سے پاک وطیب ارواح وخون اور انسجہ (Tissues) پیدا ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں مثبت، تعمیری اور صالح سوچ وفکر اور اخلاقِ حمیدہ پیدا ہوتے ہیں اور انسجہ و اعضاء بھی صحت مند وتوانا بنتے اورنشو، ارتقاء پاتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسان روحانی جسمانی اور اخلاقی امراض سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
6) حرام وناجائز طریقوں (غصب ، دھوکہ دہی وغیرہ)سے حاصل شدہ غذا کھانے سے سوچ وفکر ،اخلاق وکردار ،شعور وجذبات بھی منفی اور تخریبی اور خود غرضی والے پیدا ہوتے ہیں ،یاد رکھیں !! جسمانی و روحانی ،نفسیاتی واخلاقی امراض سے اعضائے جسمانی کے افعال کا دھارا بھی بدل جاتا ہے ،جس وجہ سےعضوی وجسمانی امراض بھی پیدا ہوجاتے ہیں،یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ:بدن کا وجود اور اس کی طاقت کادارومدار غذا پر ہے کیونکہ خون کی تعمیروتکمیل صرف غذا سے پُرہوتی ہے،خون غذا سے بنتا ہے نہ کہ دواء سے اور خون حرکت وزندگی،شعوروجذبات ،شوق ورفع،خیر وشر کی تمیزپیدا کرتا ہے۔
7) علاج بالغذا کا مطلب : کسی مرض کے لاحق ہونےکی صورت میں مزاج کی مناسبت سے طبیعت اور قوت مدبرہ بدن (وائٹل فورسVital force) کی معاونت کیلئے بدن واعضاء کی ضروریات کومناسب اورمعقول غذا وماحول وجذبات سے پورا کرناہے،کیونکہ:خراب صحت کی بحالی کیلئے غذا کا اثر50% فیصد ہوتاہےاور 25% فیصد ماحول کااثر ہوتا ہے،اور صرف 25% فیصد ادویہ کا اثر ہوتا ہے،
8) اسی طرح غذا کی کمی پیشی یا تبدیلی سے خون میں کیمیاوی تبدیلی ہوکر امراض پیداہوتے ہیں،اور اسی مزاج کے مطابق غذا میں رد وبدل اور کمی پیشی اور ماحول وسوچ میں تبدیلی کرکے امراض کاعلاج کیا جاسکتا ہے۔
9) بچہ دودھ وغذا ہی سے جسمانی ،روحانی ،شعوری ،جذباتی ،اخلاقی نشو ونما پاکر قوت اور صحت مند جوانی اوربڑھاپے تک پہنچتا ہے۔
غذا کب اور کیسے کھانی چاہیے
1) غذا شدید بھوک پرکھانی چاہیے ،بغیر بھوک کھائی ہوئی غذاخمیر بن جاتی ہے،جس کاتعفن،تزابیت اورزہرجسم پربوجھ، تنخیرمعدہ اور امراض کا باعث بنتا ہے۔
2) بلاضرورت کھائی ہوئی غذا ضعف ِجسم کا سبب بنتی ہے۔
3) غذا خوب پکی ہوئی ،ذائقہ دار ،پسندیدہ ہو ، اگر طبیعت نے پسند نہ کیا تو غذا ہضم نہیں ہو گی۔
4) جب تھکاوٹ ہو تو غذا کھانے سے پرہیز کریں۔
5) ایک غذا سے دوسری غذا کے درمیان وقفہ کم ازکم 6چھ گھنٹے ہو،غذا کھانے میں وقت کی پابندی نہیں بلکہ حقیقی بھوک پر کھانی چاہیے،چاہے وقفہ زیادہ ہوجائے۔
6) اغذیہ پاک، صاف ، اور حلال کمائی کی ہو،ورنہ کسی نہ کسی صورت کے امراض لاحق ہونا لازمی امر ہے
ان ہدایات پر کھائی ہوئی غذا خون میں تبدیل ہوکر بدل مایتحلل ،اعضا وجسم کی نشو ونما کا سبب بنتی ہے،جوبیماریوں کے خلاف قوت مدافعت وقوت مدبرہ بدن کی مددکرتی ہے۔
غذا سے اخلاق وکردار ،عقل وفہم ،شعوروجذبات اور جسمانی حرارت پیدا ہوتی ہے۔
غذا سےجسم وصحت، اخلاق وکردار بنتے ہیں
الدعی الی
علاج بالغذا
حکیم محمد رفیق شاہین حفظہ اللہ
صابرشاہیں فاؤنڈیشن لاہور
042-37580888

20/07/2015

TIBB o SIHAT: - #1
برسات کا موسم اور احتاوطی تدابیر
پانی ابال کر پیئں
پھلوں کو دھو کر کھائیں تا کہ گرد وغبار اور زہریلا مصالحہ اتر جائے
اوس میں نہ سوئیں اگر سونا پڑے تو چادر وغیرہ سے جسم کو ڈھانپ کر سوئیں
بغیر شدید بھوک کھانا نہ کھائیں بلکہ
اگر بخار کی کیفیت ہو تو کھانا بند کر دیں صرف چائے کی پتی کا قہوہ گرم گرم چسکیاں لے کر پئیں
آرام کریں اورجسم کو گرم رکھنے کی کوشس کریں
سر لپیٹ کر پنکھے کے سے ذرا ہٹ کر آر
TIBB o SIHAT: - #2
جوٹھی پیاس (پیٹ بھرا ہوا ہو اور منہ خشک ہو نے)پر چائے کی پتی کا گرم گرم قہوا چسکیاں لے کر پیئں
زیادہ ٹھنڈا پانی اور ٹھنڈے مشروبات (کوک سپرائٹ ،جوس ،ملک شیک وغیرہ ) سے سختی سے پرہیز کریں ،کیونکہ انکی زیادتی سے شوگر ،ٹائیفیڈ بخار،بدہضمی،موشن ،ہیضہ، تخمہ وغیرہ لاحق ہو سکتی ہیں
TIBB o SIHAT: - #3
اگر خدانخواستہ ایسی کوئی کیفیت خصوصا ہیضہ ہو جائے تو
لونگ ایک چٹکی،دار چینی ایک چٹکی،پودینہ ایک چٹکی ،پانی ایک گلاس کا قہوا بنا کرگرم گرم چسکیاں لگا کر پئیں،سادہ یا ٹھنڈا پانی اور جوس ہرگز ہرگز نہ پلائیں۔
بطور دواء : لونگ ،دارچینی،کالی مرچ،انار دانہ ہم وزن لے کر باریک سفوف بنا کر ایک ایک چٹکی ہر پانچ منٹ بعد زبان پر رکھ کر چوسیں۔
ان شاءاللہ شفا ہو گی
منجانب:حکیم ابو بکر عبداللہ
مدنی بیت الحکمت

08/04/2015

-
طبى معائنہ
(checkup)
کروانے کیلئے:

*رات ۹ بجے سے صبح تک کے پیشاپ کی پوری مقدار
سفید صاف شفاف بوتل میں لائین
فون پرنمبرکا اندراج صبح 7:00 تا8:00
مدنی بیت الحکمت
(تعطیل بروزجمعرات)
چوک یتیم خانہ ملتان روڈ لاہور
بالمقابل حمایت اسلام ڈگری کالج برائے خواتین
03458581386
04237580888

(صرف جمعرات کو)
بیت الحکمت
کینٹ ویو ہاوسنگ سکیم گلی نمبر۱(حکیم والی گلی) بیدیاں روڈنزد بھٹہ چوک لاہور
04235742689
0345858138

03/10/2014

قابل غور وفکر:قدرتی غذاؤ ں اور دواؤں سے علاج کیوں کیمیکل ادویہ سے کیوں نہیں؟ …………. کیونکہ …………… !!!
قابل غور و فکر:
کیونکہ کیمیکل،سٹیرائڈز ادویہ جتنی تیزی سے اثر انداز ہوتی ہیں ،تکلیف کو رفع یاسکون دیتی ہیں؛اتنی ہی تیزی سے جسم کے دوسرے اعضاء (بافتوں،انسجہ،ٹشوز)کو متاثر کرتی ہیں،اورصرف یہ کیمیکل ،سٹیرائڈز ادویہ وقتی طور پر علامات کو چھپاکر وہاں کے حسی اعصاب کو بلاک(بے حس،سن) کرکے درد ،تکلیف ،علامات کودبا دیتی ہیں؛لیکن مرض اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے بلکہ مزید بڑھ کر پیجیدہ اور مشکل العلاج ہو جاتا ہے ،اور موقع ملنے پرمرض دوبارہ پہلے سے زیادہ سخت حملہ کرتا ہے،اس لئے کیمکل ادویہ کی بجائے فطری طریقہ علاج ؛علاج بالغذاء اور قدرتی ،نباتی ادویہ ،اغذیہ کو طبیعت اور مزاج کے مطابق استعمال کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

03/10/2014

غذا کے افعال واثرات اور اہمیت
پس ضروری ہے کہ انسان اپنی غذا وطعام میں غور فکر کرے۔ (سورۃ عبس آیت ۲۴)
حلال طیب چیزوں میں سے کھاؤ پیؤ اور اسراف نہ کرو،بلاضرورت،بلابھوک وپیاس نہ کھاؤ اور نہ ہی بسیاری خوری کرو۔(مفہوم آیت ۳۱ سورۃ اعراف ا)
قابل غور وفکر:قدرتی غذاؤ ں اور دواؤں سے علاج کیوں کیمیکل ادویہ سے کیوں نہیں؟ …………. کیونکہ …………… !!!
قابل غور و فکر:
کیونکہ کیمیکل،سٹیرائڈز ادویہ جتنی تیزی سے اثر انداز ہوتی ہیں ،تکلیف کو رفع یاسکون دیتی ہیں؛اتنی ہی تیزی سے جسم کے دوسرے اعضاء (بافتوں،انسجہ،ٹشوز)کو متاثر کرتی ہیں،اورصرف یہ کیمیکل ،سٹیرائڈز ادویہ وقتی طور پر علامات کو چھپاکر وہاں کے حسی اعصاب کو بلاک(بے حس،سن) کرکے درد ،تکلیف ،علامات کودبا دیتی ہیں؛لیکن مرض اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے بلکہ مزید بڑھ کر پیجیدہ اور مشکل العلاج ہو جاتا ہے ،اور موقع ملنے پرمرض دوبارہ پہلے سے زیادہ سخت حملہ کرتا ہے،اس لئے کیمکل ادویہ کی بجائے فطری طریقہ علاج ؛علاج بالغذاء اور قدرتی ،نباتی ادویہ ،اغذیہ کو طبیعت اور مزاج کے مطابق استعمال کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

1) غذا سے کردار بنتا ہے
2) غذا ہی سے خون بنتا ہے اور خون کے اجزاء ،ترکیب و ساخت ،ماہیت ،قوام،کیفیت و مزاج اور انسجہ وٹشوز بنتے ہیں،اور غذا سے اعضائے انسانی بنتے بڑھتے وارتقاء پذیر ہوتے ہیں۔
3) اعضائے بدن کے افعال ،صحت ،قوت مدافعت((Immunity force توانائی وحرارت اور انسانی كردار, فكر وادراك سب غذا سے حاصل ہوتے ہں .
4) مختلف طریقوں (حلال وحرام)سےکمائی ہوئی غذا کھانے سے مختلف قسم(مختلف مزاج،کیفیت،اثرات ،خواص وقوام)کاخون بنتا ہے۔
5) حلال وطیب غذا کھانے سے پاک وطیب ارواح وخون اور انسجہ (Tissues) پیدا ہوتے ہیں جس کے نتیجہ میں مثبت، تعمیری اور صالح سوچ وفکر اور اخلاقِ حمیدہ پیدا ہوتے ہیں اور انسجہ و اعضاء بھی صحت مند وتوانا بنتے اورنشو، ارتقاء پاتے ہیں جس کے نتیجہ میں انسان روحانی جسمانی اور اخلاقی امراض سے محفوظ ہوجاتا ہے۔
6) حرام وناجائز طریقوں (غصب ، دھوکہ دہی وغیرہ)سے حاصل شدہ غذا کھانے سے سوچ وفکر ،اخلاق وکردار ،شعور وجذبات بھی منفی اور تخریبی اور خود غرضی والے پیدا ہوتے ہیں ،یاد رکھیں !! جسمانی و روحانی ،نفسیاتی واخلاقی امراض سے اعضائے جسمانی کے افعال کا دھارا بھی بدل جاتا ہے ،جس وجہ سےعضوی وجسمانی امراض بھی پیدا ہوجاتے ہیں،یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ:بدن کا وجود اور اس کی طاقت کادارومدار غذا پر ہے کیونکہ خون کی تعمیروتکمیل صرف غذا سے پُرہوتی ہے،خون غذا سے بنتا ہے نہ کہ دواء سے اور خون حرکت وزندگی،شعوروجذبات، شوق ورفع،خیر وشر کی تمیزپیدا کرتا ہے۔
7) علاج بالغذا کا مطلب : کسی مرض کے لاحق ہونےکی صورت میں مزاج کی مناسبت سے طبیعت اور قوت مدبرہ بدن (وائٹل فورسVital force) کی معاونت کیلئے بدن واعضاء کی ضروریات کومناسب اورمعقول غذا وماحول وجذبات سے پورا کرناہے،کیونکہ:خراب صحت کی بحالی کیلئے غذا کا اثر50% فیصد ہوتاہےاور 25% فیصد ماحول کااثر ہوتا ہے،اور صرف 25% فیصد ادویہ کا اثر ہوتا ہے،
8) اسی طرح غذا کی کمی پیشی یا تبدیلی سے خون میں کیمیاوی تبدیلی ہوکر امراض پیداہوتے ہیں،اور اسی مزاج کے مطابق غذا میں رد وبدل اور کمی پیشی اور ماحول وسوچ میں تبدیلی کرکے امراض کاعلاج کیا جاسکتا ہے۔
9) بچہ دودھ وغذا ہی سے جسمانی ،روحانی ،شعوری ،جذباتی ،اخلاقی نشو ونما پاکر قوت اور صحت مند جوانی اوربڑھاپے تک پہنچتا ہے۔
غذاسے جسم وصحت ،اخلاق وکردار بنتے ہیں۔
صابر شاهين فاونديشن لاهور
افادات از حكيم محمد رفيق شاهين حفظه الله ورعاه

24/08/2014

غذا کے افعال واثرات اور اہمیت


قابل غور وفکر:قدرتی غذاؤ ں اور دواؤں سے علاج کیوں کیمیکل ادویہ سے کیوں نہیں؟ …………. کیونکہ …………… !!!
قابل غور و فکر:
کیونکہ کیمیکل،سٹیرائڈز ادویہ جتنی تیزی سے اثر انداز ہوتی ہیں ،تکلیف کو رفع یاسکون دیتی ہیں؛اتنی ہی تیزی سے جسم کے دوسرے اعضاء (بافتوں،انسجہ،ٹشوز)کو متاثر کرتی ہیں،اورصرف یہ کیمیکل ،سٹیرائڈز ادویہ وقتی طور پر علامات کو چھپاکر وہاں کے حسی اعصاب کو بلاک(بے حس،سن) کرکے درد ،تکلیف ،علامات کودبا دیتی ہیں؛لیکن مرض اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے بلکہ مزید بڑھ کر پیجیدہ اور مشکل العلاج ہو جاتا ہے ،اور موقع ملنے پرمرض دوبارہ پہلے سے زیادہ سخت حملہ کرتا ہے،اس لئے کیمکل ادویہ کی بجائے فطری طریقہ علاج ؛علاج بالغذاء اور قدرتی ،نباتی ادویہ ،اغذیہ کو طبیعت اور مزاج کے مطابق استعمال کرنے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔

16/06/2014

عظم قلب كا مريض جس كو الله نے غذاء کے ذریعہ شفاء عطا کی
اللہ تعالی جناب استاذ الحکماء حکیم رفیق شاہین کو سلامت رکھے جو لوگوں کی رہنمائی کر کے اس فرض کر بخوبی انجام دے رہے ہیں

عظم قلب كا مريض جس كو الله نے غذاء کے ذریعہ شفاء عطا کیاللہ تعالی جناب استاذ الحکماء حکیم رفیق شاہین کو سلامت رکھے جو  ل...
16/06/2014

عظم قلب كا مريض جس كو الله نے غذاء کے ذریعہ شفاء عطا کی
اللہ تعالی جناب استاذ الحکماء حکیم رفیق شاہین کو سلامت رکھے جو لوگوں کی رہنمائی کر کے اس فرض کر بخوبی انجام دے رہے ہیں

24/05/2014

حكماء حضرات سے ایک سوال ہے ؟
تھیلی سیمیا کے مریض کا قارورہ سرخ کیوں ہوتا ہے حالانکہ غدد ناقلہ(جگر) ضعف میں اور غدد جاذبہ(طحال) تسکین میں ہوتے ہیں
اس ایک حالت(یعنی اعصابی تحریک) میں تو پیشاپ سفید ہونا چاہئے لیکن سرخ ہوتا ہے؟؟؟

جواب : گاہے مرض بارد ہونے کے باوجود قارورہ سرخ ہوتا ہے، جیسا فالج میں ہوتا ہے اورجیسا مرض سوء القنیہ (تھیلی سیمیا، یہاں سوء القنیہ سے اسکی وہ قسم مراد ہے جس میں بخار نہیں ہوتا) میں جو استسقاء کا مقدمہ سمجھا جاتا ہے،
ان امراض میں قارہرہ اس لئے سرخ پوتا ہے کہ اس پانی سے خون کم جدا ہوتا ہے جو قارورہ کے ساتھ مندفع ہوتا ہے(کلیات نفیسی جلد ۲ صفحہ ۳۳۵ مطبوعہ مطبوعات سلیمانی لاہور)

14/05/2014

غذاء میں شفاء ہے
ہیپاٹائٹس کا غذاء سے کامیاب علاج
فرنگی طب میں لاعلاج مریض کا الحمد للہ غذاء سے کامیاب علاج
یہ مریض ہیپاٹائٹس کا 2 مرتبہ کورس (یعنی 140 انجیکشن لگوا چکا ہے) کروا چکا ہے لیکن مرض اپنی جگہ قائم رہا اب الحمد للہ غذاء سے اللہ نے شفا عطا فرمائی

انٹر ویو حاضر خدمت ہے

غذاء میں شفاء ہےفرنگی طب میں لاعلاج مریض کا الحمد للہ غذاء سے کامیاب علاجیہ مریض ہیپاٹائٹس کا 2 مرتبہ کورس (یعنی 140 انج...
14/05/2014

غذاء میں شفاء ہے
فرنگی طب میں لاعلاج مریض کا الحمد للہ غذاء سے کامیاب علاج
یہ مریض ہیپاٹائٹس کا 2 مرتبہ کورس (یعنی 140 انجیکشن لگوا چکا ہے) کروا چکا ہے لیکن مرض اپنی جگہ قائم رہا اب الحمد للہ غذاء سے اللہ نے شفا عطا فرمائی

انٹر ویو حاضر خدمت ہے

Address

Lahore

Telephone

+924237580888

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to غذاء ميں شفاء ہے، Healing in food، Giza Main Shifa Hy:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram