02/01/2026
لاہور کیئر ہسپتال
شعبہ امراضِ چشم (Ophthalmology Department)
کلینیکل اسکریننگ اور ریفرل پروٹوکول
1. فوری ریفر کریں (اسی دن)
کسی بھی ایک علامت کی صورت میں فوری طور پر آئی سپیشلسٹ سے رجوع کریں:
بینائی کا اچانک ختم ہو جانا یا تیزی سے کم ہونا
آنکھوں کے سامنے دھندلاہٹ یا چیزوں کا ٹیڑھا نظر آنا
روشنی کی چمک (Flashes)، کالے دھبے (Floaters) یا پردے جیسا سایہ نظر آنا (پردہ بصارت کے اکھڑنے کا خدشہ)
آنکھ کا سرخ ہونا اور ساتھ درد، متلی یا الٹی ہونا (کالا موتیا کی علامات)
آنکھ پر چوٹ لگنا یا کسی کیمیکل کا گر جانا
آنکھ کے آپریشن کے بعد درد ہونا یا نظر کا کم ہونا
2. ہنگامی ریفرل (24 سے 72 گھنٹوں کے اندر)
ذیابیطس (شوگر): اگر شوگر کے مریض کا گزشتہ 12 ماہ میں آنکھوں کا معائنہ نہ ہوا ہو
بینائی سے متعلق کوئی بھی شکایت
شوگر کا کنٹرول میں نہ ہونا یا طویل عرصے سے شوگر کا مرض
شوگر کی مریضہ کا حاملہ ہونا
بلڈ پریشر (Hypertension): اگر بلڈ پریشر کنٹرول میں نہ ہو یا 5 سال سے زیادہ عرصہ سے یہ مرض ہو
سر درد کے ساتھ بینائی میں خرابی محسوس ہونا
3. معمول کا ریفرل (Routine Referral)
ٹائپ 2 شوگر: تشخیص ہوتے ہی آنکھوں کا معائنہ کروائیں
ٹائپ 1 شوگر: تشخیص کے 5 سال بعد معائنہ کروائیں
بلڈ پریشر: اگر بلڈ پریشر قابو میں ہو، تب بھی ہر 1 سے 2 سال بعد معائنہ کروائیں
آئی کلینک میں کیا کیا جائے گا؟
معائنے کے دوران درج ذیل ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:
Visual Acuity: دور اور قریب کی نظر کا ٹیسٹ
Refraction: نظر کے چشمے کا نمبر چیک کرنا
Anterior Segment Exam: آنکھ کے اگلے حصے اور لینس کا معائنہ
IOP Measurement: آنکھ کے دباؤ کی پیمائش
Fundus Exam: آنکھ کے پردے کا تفصیلی معائنہ
ریفر کرنے سے پہلے درج ذیل معلومات فراہم کریں
تشخیص (شوگر یا بلڈ پریشر)
بیماری کا دورانیہ
حالیہ رپورٹ (HbA1c یا بلڈ پریشر کی ریڈنگ)
موجودہ ادویات کی تفصیل
یاد رکھیں: آنکھوں کا بروقت معائنہ مستقل اندھے پن سے بچا سکتا ہے۔