01/03/2026
سوچ اچھی لگتی ہے
جب ذہن
رسول اللہ ﷺ
کے شہرِ مدینہ کے تخیلات میں گم ہو جاتا ہے۔
نیند اچھی لگتی ہے
جب اس امید کے ساتھ سرہانے رکھی جاتی ہے
کہ شاید خواب میں
آپ ﷺ کے قدموں سے لپٹنے کی سعادت نصیب ہو جائے۔
خیالات اچھے لگتے ہیں
جب تصور، کھجور کی ٹہنیوں والی مسجدِ نبوی میں لے جاتا ہے
جہاں رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں
صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بیٹھے ہیں۔
دھڑکن اچھی لگتی ہے
جب دل
رسول اللہ ﷺ کی ملاقات کی آرزو میں دھڑکتا ہے۔
سانسوں کی آمد و رفت اچھی لگتی ہے
کہ ہر سانس میں
خاکِ مدینہ کی مہک محسوس ہوتی ہے۔
ہاتھوں کی پکڑ اچھی لگتی ہے
اگر قلم پر گرفت
رسول اللہ ﷺ کی سیرت لکھنے کے لیے ہو۔
قلم کا اعزاز ہے
کہ اسے مہرِ نبوت پر لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔
مہرِ نبوت
سچے دلوں کے لیے علامتِ ہدایت تھی۔
منزل کے متلاشیوں کے لیے
قطبی ستارے کی مانند
جو سیدھی راہ دکھاتا ہے۔
یہ نشان
رسول اللہ ﷺ کے مقدس بدن پر
ربانی حفاظتی حصار کا مظہر تھا۔
یہ اس حقیقت کا اظہار تھا
کہ جبریل و میکائیل علیہم السلام بھی
آپ ﷺ کے خدمت گزاروں میں سے ہیں۔
یہ اس حکمِ الٰہی کا حسی ثبوت تھا
کہ اللہ تعالیٰ نے
نبوت و شریعت کی نعمت
اس بدنِ مقدس کے قلب پر مکمل فرما دی ہے۔
مہرِ نبوت
﴿لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّنۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ
يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ ٱللَّهِ﴾
کی عملی تفسیر تھی۔
یہ رسول اللہ ﷺ کے
کمالاتِ باطنیہ
اور شمائلِ معنویہ کا
علامتی ظہور تھی۔
یہ اس جگمگاتے ہیرے کی مانند تھی
جس کا جمال
ہر نظر میں نئے روپ کے ساتھ ظاہر ہوتا تھا۔
اور یہ
﴿وَعَلَـٰمَـٰتٍۢ وَبِٱلنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ﴾
کا روشن مصداق تھی۔
رسولِ اکرم ﷺ کے مبارک کندھوں کے درمیان ثبت اس ربانی نشان کا تفصیلی تذکرہ جو صدیوں سے اہلِ دل کے لیے
علامتِ ہدایت رہا ہے۔
مہرِ نبوت
✒️ مصنف:
ڈاکٹر حافظ عثمان احمد
(اسسٹنٹ پروفیسر، انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی لاہور)
برائے حصولِ کتاب رابطہ:
دارالمصادر پبلی کیشنز، لاہور
📞 0333-4226644