Dr Arsalan Awan-Urologist

Dr Arsalan Awan-Urologist ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوان
ایم بی بی ایس (نشر میڈیکل یونیورسٹی ملتان)
ایم ایس یورولوجی (TC) میو ہسپتال لاہور .
ماہر امراض گردہ و مثانہ

دل کی بیماریاں پہلے بھی تھیں… مگر آج کیوں زیادہ ہو گئی ہیں؟ 🤔کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک کوئی نئی ٹیکنالوجی ہے جیسے ...
21/11/2025

دل کی بیماریاں پہلے بھی تھیں… مگر آج کیوں زیادہ ہو گئی ہیں؟ 🤔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک کوئی نئی ٹیکنالوجی ہے جیسے آئی فون 16 آیا ہو۔ بھائی ایسا نہیں ہے!
دل کے مسئلے پچھلے زمانے میں بھی ہوتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مصر کے ممیوں میں بھی دل کی نالیوں میں کیلشیم جمع ملتا ہے۔
۔ تاریخ کی کتابوں میں قدیم مصر، یونان اور رومی دور کے طبی ریکارڈ ملتے ہیں جن میں سینے کے درد، دل کی کمزوری اور اچانک موت کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔
ابنِ سینا نے بھی قانونِ طب میں دل کے درد (Angina) اور خون کی نالیوں کی کمزوری کا ذکر کیا تھا۔ یعنی دل کے مسائل صدیوں سے انسانی صحت کا حصہ رہے ہیں۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی شرح پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

📌 آخر وجہ کیا ہے؟

آج ہمارا لائف اسٹائل ماضی سے بالکل مختلف ہے:

بیٹھ کر کام کرنا، جسمانی محنت کم

پروسیسڈ اور تلی ہوئی چربی والی غذا

ذہنی دباؤ، نیند کی کمی
اسکرین ٹائم زیادہ، ورزش نہ ہونے کے برابر

سگریٹ نوشی، شیشہ، اور انرجی ڈرنکس کا بڑھتا استعمال

یعنی ہم نہ جسم کو حرکت دیتے ہیں نہ دل کو صحت مند رکھنے والی عادات اپناتے ہیں۔

🍖

سوچیں… اگر آپ بازاری کھانا کھاتے ہیں اور اسکو تھوڑی دیر کھانا پلیٹ میں رکھ کر کچھ دیر چھوڑ دیں تو اسکا یہ حال ہو جاتا ہے جیسے زیر نظر تصویر میں ہے۔
تو یہ وہی چربی ہے جو ہمارے جسم میں جا کر خون کی نالیوں کے اندر جمتی ہے اور وقت کے ساتھ:

نالیاں تنگ

بلڈ فلو سلو

دل کے پٹھے کمزور

اور بالآخر ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ مثال صرف سمجھانے کے لیے ہے کہ وہی چیز جو پلیٹ میں جم جاتی ہے، جسم میں جا کر خون کے بہاؤ کے لیے کتنی "رکاوٹ" بن سکتی ہے۔
دل بچانا ہے تو عادات بدلیں:

✔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک
✔ تلی ہوئی اور گھی میں ڈوبی ہوئی چیزیں کم
✔ پانی زیادہ، چینی کم
✔ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز
✔ نمک اور کولیسٹرول کنٹرول کریں
✔ باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کروائیں

دل کسی مشین کا پرزہ نہیں… یہ زندگی کا مرکز ہے۔
اسے آخری وقت تک مضبوط رکھنے کے لیے آج سے قدم اٹھائیں۔

#
HeartHealth





















ہر اتوار کو صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک📍 عمر ہسپتال، قائد آباد، ضلع خوشاب👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوانماہر امراض گر...
01/11/2025

ہر اتوار کو صبح 10 بجے سے دوپہر 3 بجے تک
📍 عمر ہسپتال، قائد آباد، ضلع خوشاب

👨‍⚕️ ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوان
ماہر امراض گردہ و مثانہ (Urologist)

گردہ، مثانہ اور مردانہ امراض کے جدید ترین علاج کی سہولت اب آپ کے شہر میں

شعبے:

گردے اور مثانے کے انفیکشنز

گردوں کا کینسر

پیشاب میں جلن، ریشہ یا پیپ

مثانے کا بند ہونا یا بار بار بے قابو پیشاب

گردے و مثانے کی پتھری کا آپریشن بذریعہ کیمرا

مثانے و پیشاب کی نالی کا معائنہ بذریعہ کیمرا

پیشاب کی نالی کی تنگی کا جدید کیمیکل آپریشن

گردے کی پتھری (Kidney Stones)
کی تشخیص و علاج

پروسٹیٹ (BPH) اور غدود کے دیگر امراض

مردانہ و زنانہ بانجھ پن اور جنسی صحت کے مسائل

A public service message.روزانہ صرف ایک کین کولا زیرو یا کوئی بھی شوگر فری "ڈائٹ" مشروب پینے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 3...
28/10/2025

A public service message.

روزانہ صرف ایک کین کولا زیرو یا کوئی بھی شوگر فری "ڈائٹ" مشروب پینے سے ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ 38% تک بڑھ جاتا ہے — یہ ایک 14 سالہ بڑے مطالعے کا نتیجہ ہے۔
یہ شرح عام میٹھے سوڈا سے بھی بدتر ہے، جو خطرہ تقریباً 23% بڑھاتا ہے۔
اور نہیں، یہ صرف وزن کی بات نہیں — محققین نے غذا، ورزش اور دیگر عوامل کو بھی مدنظر رکھا۔
مصنوعی مٹھاسیں آپ کے آنتوں کے مائیکرو بایوم کو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور میٹابولزم کو بگاڑ سکتی ہیں۔
"صحت مند" متبادل؟
💧 پانی آزمائیں۔

Source: Monash university.
#کولا #صحت #ذیابیطس

  2025 💉 140,000 chasing the same dream. 139k will fail today, and the surviving 1k will FAIL later — not from failure, ...
26/10/2025

2025 💉 140,000 chasing the same dream. 139k will fail today, and the surviving 1k will FAIL later — not from failure, but from itself. Welcome to reality, future doctors. 🫀

“سر ہمارا جوان لڑکا ہے کسی بھی طرح اس کو بچا لیں ہم جتنے پیسے چاہئیں وہ دینے کو تیار ہیں”، یہ کہنا تھا اس باپ کا جو اپنے...
26/10/2025

“سر ہمارا جوان لڑکا ہے کسی بھی طرح اس کو بچا لیں ہم جتنے پیسے چاہئیں وہ دینے کو تیار ہیں”، یہ کہنا تھا اس باپ کا جو اپنے جوان بیٹے کو ٹھیک ڈیڑھ ماہ پہلے میرے کلینک پر لایا تھا۔ میں نے اس وقت پہلی نظر میں دیکھ کر بھانپ لیا کہ اسے لمف نوڈ کا کینسر (لمفوما) ہے جو اگریسیو لگ رہا تھا اور فوری علاج کا متقاضی تھا۔ علاج شروع کرنے سے پہلے لازمی تھا کہ بائیوپسی ہو جس پر کینسر کی نوعیت کا تعین کر کے اس کے لیے مخصوص دوائی کا فیصلہ کیا جا سکے۔ مگر یہاں سے اصل مسئلہ شروع ہوا! لڑکے کے باپ نے ایک “ڈاکٹر صاحب” کو سوشل میڈیا پر سُن رکھا تھا جن کا کہنا تھا کہ بائیوپسی کرنے سے جب کینسر کو “چھیڑا جائے” تو یہ پھیل جاتا ہے۔ میں نے بہتیرا زور لگایا کہ جناب اس کی گردن، بغل، پیٹ اور دیگر مقامات پر پہلے سے کینسر کی گلٹیاں ہیں، وہ کسی کے چھیڑنے سے نہ بنی ہیں نہ ان کو مزید پھیلنے کے لیے “چھیڑے جانے” کی حاجت ہے۔ لیکن نہیں، بات نہ بن سکی۔ نیچروپیتھ ڈاکٹر جیت گیا اور ہماری سپیشلائزیشن ہار گئی۔ پھر یہی کیس ڈیڑھ ماہ روحانی اور دیسی و نیچری علاج کے بعد ہمارے پاس دوبارہ آیا۔ لڑکا آخری سانسوں پر تھا۔ باپ کہہ رہا تھا کچھ بھی کر کے بچا لو، لیکن دیر ہو چکی تھی۔ میں نے احترام کے ساتھ فیس واپس کروائی اور والد سے دو بول ہمدردی کے بول کر انہیں سمجھا دیا کہ اب اس بچے کا علاج میرے پاس بھی نہیں ہے۔

دل اس بات پر دُکھا کہ لڑکے کا مرض سو فیصد قابل علاج تھا۔ بلکہ اتفاق سے جس دن میں نے اس بچے کے باپ کو کلینک سے رخصت کیا، اسی دن میرے پاس بالکل اسی مرض (لمفوما) کو کامیابی سے شکست دے چکنے والا میرا ایک اور مریض بھی رُوٹین فالو اپ کے لیے آیا تھا جس کی اجازت سے اس کی بائیوپسی رپورٹ (جس میں لمفوما کا ثبوت موجود ہے) اور ہم سے علاج کروانے کے بعد کی سکین رپورٹ (جس میں لکھا ہے کہ کینسر مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے) کو بھی شیئر کر رہا ہوں۔ دیکھیے کہ جہالت اور شعور کے درمیان کا فرق کیسے زندگی اور موت کے درمیان کا فرق بن جایا کرتا ہے۔ شفایاب ہو چکا مریض اب دو سال ہونے کو ہیں کہ اپنے اگریسیو کینسر سے مکمل نجات پا کر الحمد للہ نارمل زندگی گزار رہا ہے کیونکہ اسے شعبے کے ماہرین کی رائے معتبر لگتی تھی، جبکہ ایک جوان لڑکے کی فیملی اگلے سال اس کی برسی منائے گی کیونکہ انہیں ایک فراڈیے نے یقین دلایا تھا کہ کینسر بائیوپسی سے پھیلتا ہے!!!!

وطن عزیز میں یوں تو ہر حوالے سے جہالت کا سکہ رائج ہے لیکن طب کے حوالے سے یہ رجحان تشویشناک سطح تک ہے۔ ہر بندر جس کے ہاتھ کیمرہ، مائیک اور پوڈکاسٹ کی ماچس لگی ہوئی ہے وہ پوری توجہ کے ساتھ سارے جنگل کو آگ لگانے میں مصروف ہے۔

ہمارے حکام کسی ایک بندے کے سی سی ٹی وی پر کسی کو چھیڑنے کے عمل پر اتنے حساس ہیں کہ ایسوں کے نیفوں میں پستول چلوانے کے لیے ایک پورا ادارہ قائم کر دیا ہے۔ لیکن زیر نظر تصویر میں دیکھے جا سکنے والے جناب جمیل مہروی صاحب ڈنکے کی چوٹ پر طب کے ماہر بن کر سوشل میڈیا سے لے کر الیکٹرانک میڈیا تک بالکل غلط اور گمراہ کُن معلومات دے کر ہزاروں یا شاید لاکھوں لوگوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں، لیکن انہیں لگام ڈالنے کے لیے کوئی ادارہ متحرک نہیں ہو رہا۔

جب ادارے کام نہ کریں تو اگلی امید سول سوسائٹی (پڑھے لکھے انٹیلیجنشیا، جرنلسٹ، عدلیہ سے منسلک لوگ وغیرہ) سے ہوتی ہے کہ وہ تمام فورمز پر ایسوں کو ایکسپوز کریں۔ قانون کے کٹہرے میں لائیں یا پھر اگاہی کے لیے کام کریں۔ لیکن یہاں بھی قحط الرجال! ہمارے نامور کالم نگار و لکھاری بہت دلجمعی سے ڈاکٹر طبقے کے بارے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں (کہ کیسے ڈاکٹر لوٹتے ہیں، زیادہ فیس لیتے ہیں، توجہ نہیں دیتے وغیرہ)۔ لیکن ان کے قلم اور مائیکوں کیمروں سے ایسے فراڈیوں کے لیے ہمیشہ یا تو پبلیسیٹی کا انتظام ہوتا ہے یا خاموش تائید کا۔ اسے یوں ہی سمجھیں جیسے ملک میں ہر قانون اسی پر لاگو ہوتا ہے جو رجسٹر ہو کر ٹیکس پیئر بن کر قانونی دائرے میں آ جائے۔ آپ قانونی دائرے میں اگر سرے سے آئیں ہی نہ تو راوی چین ہی چین لکھتا رہتا ہے، نہ کوئی آپ کو معیار کی کہانی سناتا ہے، نہ کوئی پروفیشنل ازم کے وعظ کرتا ہے، نہ طبی اخلاقیات کی ڈُگڈُگی بجاتا ہے!

لیکن چلیں اگر ادارے و سول سوسائٹی ہمارے معاون نہیں تو ہمیں پھر بھی ہے حکمِ اذاں! ہر پروفیشنل ڈاکٹر کو چاہیے کہ فراڈیوں کی آواز سے بہتر، مدلل اور گونج دار آواز کے ساتھ اپنی بات ہر فورم پر رکھے تاکہ لوگوں کی زندگی و صحت ایسوں سے محفوظ رہے۔

-Dr. Uzair Saroya
(Cancer Specialist)

چھوٹی سی علامت… بڑی بیماری!" — یورولوجیکل امراض کی پہچان 🩺کیا آپ جانتے ہیں؟ہم میں سے اکثر لوگ پیشاب، گردوں یا مردانہ صحت...
24/10/2025

چھوٹی سی علامت… بڑی بیماری!" — یورولوجیکل امراض کی پہچان 🩺

کیا آپ جانتے ہیں؟
ہم میں سے اکثر لوگ پیشاب، گردوں یا مردانہ صحت کے مسائل کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کر دیتے ہیں —
جبکہ یہی معمولی علامتیں آگے چل کر سنگین بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

⚠️ عام یورولوجیکل بیماریاں جنہیں سنجیدگی سے لینا ضروری ہے:

🪨 گردے کی پتھری (Kidney Stones)
اچانک پیٹ یا پہلو میں تیز درد؟ یہ پتھری کی علامت ہو سکتی ہے۔
کم پانی پینا اور زیادہ نمکین غذا اس کی بڑی وجہ ہے۔

💦 پیشاب کی نالی کا انفیکشن (UTI)
جلن، بدبو یا بار بار پیشاب کی حاجت؟ خاص طور پر خواتین میں عام مسئلہ ہے۔
بروقت علاج نہ کروایا تو گردوں تک انفیکشن پہنچ سکت.

⚙️ پروسٹیٹ گلینڈ کا بڑھ جانا (BPH)
عمر رسیدہ مردوں میں پیشاب رکنے یا بار بار آنے کی شکایت؟
یہ پروسٹیٹ کے بڑھنے کی نشانی ہے — جس کا علاج ممکن ہے۔

❤️‍🔥 بانجھ پن اور مردانہ کمزوری (Infertility & ED)
ہارمونل تبدیلیاں، اسٹریس یا سگریٹ نوشی — سب اثر ڈالتے ہیں۔
مگر جدید علاج سے امید ہمیشہ باقی ہے!

🩸 پیشاب میں خون (Hematuria)
کبھی بھی عام بات نہیں!
یہ پتھری، انفیکشن، یا حتیٰ کہ کینسر کی ابتدائی علامت ہو سکتی ہے۔

🧠 یاد رکھیں:

شرم یا جھجک کی وجہ سے علاج میں تاخیر کرنا بیماری کو بڑھاتا ہے۔
یورولوجی میں آج جدید مشینیں اور علاج کے محفوظ طریقے دستیاب ہیں —

ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوان
ماہر امراض گردہ و مثانہ

اوقات کار: ہر اتوار کو صبح دس بجے سے تین بجے تک عمر ہسپتال قائد آباد ضلع خوشاب میں گردے کے مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں۔

شیطان کے لئے مومن کے غم سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ۔ لہٰذا تم خوش رہو، ہشاش بشاش رہو، پُر امید رہو اور اللہ پر حسن ظن...
14/10/2025

شیطان کے لئے مومن کے غم سے بڑھ کر کوئی چیز محبوب نہیں ۔
لہٰذا تم خوش رہو، ہشاش بشاش رہو، پُر امید رہو اور اللہ پر حسن ظن رکھو، تا کہ تم ذہنی سکون جیسی نعمت کو حاصل کر سکو۔
ابن القيم رحمه الله

01/10/2025

ہر اتوار کو صبح دس بجے سے تین بجے تک عمر ہسپتال قائد آباد ضلع خوشاب

ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوان
ایم بی بی ایس (نشر میڈیکل یونیورسٹی ملتان)
ایم ایس یورولوجی (TC) میو ہسپتال لاہور .
ماہر امراض گردہ و مثانہ

نیز: الٹراساؤنڈ اور تمام ٹیسٹوں کی سہولت بھی موجود ہے ۔

یورولوجی کی عام بیماریاںیورولوجی ایک ایسا شعبہ ہے جو پیشاب کے نظام (گردے، مثانہ، یوریٹر، یوریتھرا) اور مردانہ تولیدی اعض...
24/09/2025

یورولوجی کی عام بیماریاں

یورولوجی ایک ایسا شعبہ ہے جو پیشاب کے نظام (گردے، مثانہ، یوریٹر، یوریتھرا) اور مردانہ تولیدی اعضاء کی بیماریوں کا علاج کرتا ہے۔ ذیل میں چند عام یورولوجی کی بیماریاں بیان کی گئی ہیں:

1. گردے کی پتھری (Kidney Stones)

گردوں یا یوریٹر میں پتھری بن جانا ایک عام مسئلہ ہے۔ علامات میں شدید کمر یا پہلو کا درد، پیشاب میں خون اور بار بار پیشاب آنا شامل ہیں۔

2. پیشاب کی نالی کا انفیکشن (Urinary Tract Infection – UTI)

یہ زیادہ تر خواتین میں پایا جاتا ہے لیکن مردوں میں بھی ہو سکتا ہے۔ علامات میں جلنے کے ساتھ پیشاب آنا، بخار، اور پیشاب کی بدبو شامل ہیں۔

3. پروسٹیٹ کی بیماریاں

بینیگن پروسٹیٹک ہائپرپلازیا (BPH): بڑھتی عمر کے مردوں میں پروسٹیٹ گلینڈ بڑھ جانا۔

پروسٹیٹ کینسر: مردوں میں سب سے عام کینسرز میں سے ایک۔

4. مثانے کا کینسر (Bladder Cancer)

زیادہ تر تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں پایا جاتا ہے۔ پیشاب میں خون آنا اس کی اہم علامت ہے۔

5. بانجھ پن (Male Infertility)

🔹 اہم ہدایت: اگر آپ کو ان میں سے کسی بیماری کی علامات ہیں تو فوری طور پر رابطہ کریں ۔ بروقت تشخیص اور علاج سے پیچیدگیاں روکی جا سکتی ہیں۔

ڈاکٹر محمد ارسلان شریف اعوان
ماہر امراض گردہ و مثانہ

عمر ہسپتال قائد آباد ضلع خوشاب
ہر اتوار صبح دس بجے سے تین بجے تک ۔

10/09/2025

لوگ کہتے ہیں بس جی فلانی ٹینشن نے شوگر کروا دی
فلاں دکھ شوگر لگوا گیا
کیا واقعی پریشانی سے شوگر ہو جاتی ہے؟
چلیں آج اس پر بات کرتے ہیں
جب ہم سٹریس (ٹینشن یا پریشانی) میں ہوتے ہیں تو جسم "ایمرجنسی موڈ" میں چلا جاتا ہے۔
دماغ جسم کو سگنل دیتا ہے کہ ہمیں زیادہ انرجی چاہیے۔
اس کے لیے جسم کورٹیسول اور ایڈرینالین جیسے ہارمون بناتا ہے۔
یہ ہارمونز جگر کو کہتے ہیں کہ خون میں زیادہ گلوکوز (شوگر) چھوڑو تاکہ انرجی فوراً مل سکے۔
لیکن اگر بار بار یا مسلسل سٹریس رہے تو یہ شوگر خون میں جمع ہوتی رہتی ہے۔
آہستہ آہستہ جسم کی انسولین بھی کمزور پڑ جاتی ہے وہ اپنا کام کرنا کم کر دیتی ہے اور مریض کو شوگر ہو جاتی ہے
اس لیے یہ بات سچ ہے کہ کوئی بہت بڑی پریشانی یا لمبے عرصے تک چلنے والا سٹریس شوگر ہونے کا سبب بن جاتا ہے
سٹریس سے بچنے کے لیے واک ایکسرسائز، مثبت سوچ اور اللہ پر یقین رکھیں

امریکہ سے منظور شدہ ،✅
03/09/2025

امریکہ سے منظور شدہ ،✅

Address

Lahore
66000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Arsalan Awan-Urologist posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category