21/11/2025
دل کی بیماریاں پہلے بھی تھیں… مگر آج کیوں زیادہ ہو گئی ہیں؟ 🤔
کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک کوئی نئی ٹیکنالوجی ہے جیسے آئی فون 16 آیا ہو۔ بھائی ایسا نہیں ہے!
دل کے مسئلے پچھلے زمانے میں بھی ہوتے تھے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم مصر کے ممیوں میں بھی دل کی نالیوں میں کیلشیم جمع ملتا ہے۔
۔ تاریخ کی کتابوں میں قدیم مصر، یونان اور رومی دور کے طبی ریکارڈ ملتے ہیں جن میں سینے کے درد، دل کی کمزوری اور اچانک موت کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔
ابنِ سینا نے بھی قانونِ طب میں دل کے درد (Angina) اور خون کی نالیوں کی کمزوری کا ذکر کیا تھا۔ یعنی دل کے مسائل صدیوں سے انسانی صحت کا حصہ رہے ہیں۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج ان کی شرح پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
📌 آخر وجہ کیا ہے؟
آج ہمارا لائف اسٹائل ماضی سے بالکل مختلف ہے:
بیٹھ کر کام کرنا، جسمانی محنت کم
پروسیسڈ اور تلی ہوئی چربی والی غذا
ذہنی دباؤ، نیند کی کمی
اسکرین ٹائم زیادہ، ورزش نہ ہونے کے برابر
سگریٹ نوشی، شیشہ، اور انرجی ڈرنکس کا بڑھتا استعمال
یعنی ہم نہ جسم کو حرکت دیتے ہیں نہ دل کو صحت مند رکھنے والی عادات اپناتے ہیں۔
🍖
سوچیں… اگر آپ بازاری کھانا کھاتے ہیں اور اسکو تھوڑی دیر کھانا پلیٹ میں رکھ کر کچھ دیر چھوڑ دیں تو اسکا یہ حال ہو جاتا ہے جیسے زیر نظر تصویر میں ہے۔
تو یہ وہی چربی ہے جو ہمارے جسم میں جا کر خون کی نالیوں کے اندر جمتی ہے اور وقت کے ساتھ:
نالیاں تنگ
بلڈ فلو سلو
دل کے پٹھے کمزور
اور بالآخر ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتی ہے۔
یہ مثال صرف سمجھانے کے لیے ہے کہ وہی چیز جو پلیٹ میں جم جاتی ہے، جسم میں جا کر خون کے بہاؤ کے لیے کتنی "رکاوٹ" بن سکتی ہے۔
دل بچانا ہے تو عادات بدلیں:
✔ روزانہ کم از کم 30 منٹ واک
✔ تلی ہوئی اور گھی میں ڈوبی ہوئی چیزیں کم
✔ پانی زیادہ، چینی کم
✔ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز
✔ نمک اور کولیسٹرول کنٹرول کریں
✔ باقاعدہ میڈیکل چیک اپ کروائیں
دل کسی مشین کا پرزہ نہیں… یہ زندگی کا مرکز ہے۔
اسے آخری وقت تک مضبوط رکھنے کے لیے آج سے قدم اٹھائیں۔
#
HeartHealth