Dar-E-Shaoor

Dar-E-Shaoor Welcome to Dar-E-Shaoor, your sanctuary for personal growth, transformation, and holistic well-being.

Here, we believe that every individual holds the power to unlock their true potential and live a fulfilling, balanced life. I’m Momina Nosheen — a woman, a mother, and a life coach who believes every challenge can turn into a breakthrough. After my own journey of struggles and growth, I now help women heal, discover their strengths, and live with self-respect and joy.

ورقِ شعور: وہ سبز خواب جو قربانیوں کے لہو سے سینچا گیا 🇵🇰وہ وقت… جب خواب صرف خواب نہ تھے،بلکہ ایمان کی شدت اور قربانی کی...
13/08/2025

ورقِ شعور: وہ سبز خواب جو قربانیوں کے لہو سے سینچا گیا 🇵🇰
وہ وقت… جب خواب صرف خواب نہ تھے،
بلکہ ایمان کی شدت اور قربانی کی خوشبو سے بھرے تھے۔
جب لاکھوں دل ایک ہی دعا میں دھڑکتے تھے:
"ہمیں ایک ایسا گھر ملے جہاں ہم آزاد سانس لے سکیں۔"

یہ مٹی… جس پر آج ہم کھڑے ہیں،
اس کے ذرے ذرے میں وہ کہانیاں دفن ہیں،
جہاں ماؤں نے اپنے بیٹوں کو رخصت کرتے ہوئے
آنسو نہیں… دعائیں دی تھیں۔
جہاں بہنوں نے بھائیوں کو وطن کے رنگ میں لپیٹ کر کہا تھا:
"جا، اور لوٹ کے آ… آزادی کے علم تلے۔"

لاکھوں جانیں، ہزاروں قربانیاں…
اور پھر ایک دن وہ سبز ہلالی پرچم اُبھرا،
جیسے صدیوں کے اندھیرے میں پہلی بار سورج نکلا ہو۔

پھر وقت گزرا،
اور ہم نے اپنے بچپن میں اس آزادی کو خوشیوں میں پرویا۔
یاد ہے… جب ہم چھوٹی چھوٹی سبز جھنڈیاں
لمبے دھاگوں پر باندھ کر
چھت سے لے کر برآمدے تک لٹکا دیتے تھے؟
ہوا کے جھونکوں میں وہ جھنڈیاں ناچتیں،
اور دل میں ایک عجیب سا فخر جاگتا تھا۔

گلیاں روشنیوں سے بھر جاتیں،
ہر چہرے پر مسکراہٹ، ہر دل میں اُمید۔
ہم بچے بس یہی سمجھتے تھے کہ
آزادی مطلب جشن، خوشیاں اور میٹھے رس گلے۔
ہمیں کیا پتا تھا کہ یہ سب…
کسی کی جان، کسی کی ممتا، اور کسی کی جوانی کے خون سے خریدا گیا ہے۔

آج… ہم پھر ایک نئے موڑ پر کھڑے ہیں۔
ملک سانس تو لے رہا ہے، مگر بوجھل ہے۔
ہمارے خواب ابھی بھی روشنی چاہتے ہیں،
ہمارا پرچم ابھی بھی ہمارے سچ کا طلبگار ہے۔

لیکن میں یقین رکھتی ہوں…
جس وطن کو قربانیوں نے بنایا،
اسے دعا اور عمل دونوں زندہ رکھ سکتے ہیں۔

یہ ورق… پاکستان کے نام
جو ہمارے دل کا سب سے سبز خواب ہے،
اور ہم سے وعدہ چاہتا ہے:
"مجھے لفظوں سے نہیں، اپنے عمل سے سنبھالو۔"

پاکستان زندہ باد! 🇵🇰💚
"آزادی صرف ایک دن کا جشن نہیں،
یہ اُن قربانیوں کا قرض ہے جو ہم پر باقی ہے…
پاکستان زندہ باد 🇵🇰💚"

18/07/2025

ورق شعور #2۔
وہ تنہا ایک فلیٹ میں رہتی تھی۔
روشنیوں کے خواب آنکھوں میں سجائے — وہ اپنا گھر، اپنے لوگ، سب کچھ پیچھے چھوڑ آئی تھی۔
نام، شہرت، کامیابی… شاید یہ ہی زندگی کا مقصد بن گیا تھا۔

مگر پھر… نہ کوئی فلم سائن ہوئی، نہ کوئی شو۔
رفتہ رفتہ دنیا کے لیے وہ غائب ہو گئی۔

مہینوں گزر گئے۔
نہ ماں نے کال کی، نہ دوستوں نے پوچھا۔
نہ کسی کولیگ کو اس کی غیر موجودگی کا احساس ہوا۔

اور ایک دن…
اس کا جسم، ایک بوسیدہ فلیٹ سے ملا — گلی سڑی لاش، تنہا، خاموش، لاوارث۔
2 عیدین گزریں , رمضان کا مہینہ جب سب ایک ساتھ دسترخوان پر بیٹھتے ہیں۔ کسی کو اُسکی ضرورت نہیں پڑی نہ اسکو کسی کی یاد آئی۔ اس نے اپنی پہچان بنا نے کی خاطر سب کو پیچھے چھوڑ کر خود کو تنہا کر لیا ۔

سوچیں…
کتنا شور مچایا ہوگا اُس نے دل ہی دل میں…
کتنی بار چیخی ہوگی…
کتنے دروازے بند ہوتے دیکھے ہوں گے اُس نے…

کاش اُس دن کوئی ایک شخص اُس سے پوچھ لیتا:
"تم ٹھیک ہو؟ تم سنبھل تو رہی ہو نا؟"
اس نے تنہائی کو خود چنا مگر ہماری ہاں ہر عورت تنہا ہے سب کے بیچ میں بھی۔ کوئی نہیں جس سے وہ اپنے دل کی ہر بات بلا جھجھک کر سکے۔

یہ کہانی صرف اُس کی نہیں… ہر وہ عورت اس درد سے گزرتی ہے جو لوگوں کے بیچ ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوتی ہے۔

اگر آپ بھی خود کو تنہا، بےسہارا یا بوجھل محسوس کرتی ہیں…
تو یاد رکھیں:
ایک سیشن… شاید وہ پہلا قدم ہو جو آپ کو پھر سے جینے کی طرف لے جائے۔

📩 مجھ سے رابطہ کریں — دل کا بوجھ بانٹنے کے لیے کوئی تو ہونا چاہیے۔

1ورقِ شعور: وہ ماں جو خود کو الزام دیتی رہیایک ماں میرے پاس آئی تھی — آنکھوں میں نیند کی نہیں، تھکن کی لکیریں تھیں۔اس کی...
16/07/2025

1ورقِ شعور: وہ ماں جو خود کو الزام دیتی رہی
ایک ماں میرے پاس آئی تھی — آنکھوں میں نیند کی نہیں، تھکن کی لکیریں تھیں۔
اس کی گود میں ایک بچہ تھا، اور دل میں سینکڑوں زخم۔

وہ بولی:
"سب کہتے ہیں میں اچھی ماں نہیں ہوں۔
بڑا بیٹا میری بات نہیں سنتا، ہر بات پر غصہ کرتا ہے،
کبھی چھوٹے کو مارتا ہے، کبھی کھلونوں کو توڑتا ہے۔
اور سب… سب مجھے ہی موردِ الزام ٹھہراتے ہیں۔
ساس، نند، شوہر… سب کہتے ہیں کہ بچے کو میں نے بگاڑا ہے۔"

میں خاموشی سے سنتی رہی، کیونکہ اس کی آواز میں وہ چیخیں چھپی تھیں،
جو شاید وہ برسوں سے صرف اپنے تک رکھتی آئی تھی۔

اس نے کہا:
"کاش میں الگ رہتی… شاید سب ٹھیک ہو جاتا…
لیکن شوہر سے جھگڑا نہیں کرنا چاہتی،
میں بکھرنا نہیں چاہتی، صرف سکون چاہتی ہوں۔"

میں نے آہستہ سے اس کا ہاتھ تھاما…
اور کہا:

تم نے شاید دیر سے آنکھ کھولی ہو،
لیکن اب تم جاگ چکی ہو۔
اور جاگی ہوئی ماں، وہ خزانہ ہوتی ہے
جو پورے خاندان کو بدل سکتی ہے۔

تمہارا بچہ بگڑا نہیں — وہ الجھا ہوا ہے۔
وہ تمہارے لمس، تمہاری نظر، تمہاری توجہ کو ترس رہا ہے۔
جسے سب نے "بگاڑ" کہا،
وہ دراصل "بےتوجہی کی فریاد" تھی۔

تمہارے اندر آج بھی ایک ماں ہے
جو اپنے بچے کو چھو کر محبت سے بھر سکتی ہے۔
جو خود کو پہچان کر اپنے بچوں کو محفوظ بنا سکتی ہے۔
جو خاموشی سے بغاوت کیے بغیر،
اپنا اثر قائم کر سکتی ہے۔

تم الگ گھر نہ سہی، الگ انداز تو اپنا سکتی ہو…
تم تنہا نہیں ہو — تم خود اپنی طاقت ہو۔

آج سے، روز رات سونے سے پہلے،
اپنے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھ کر بس اتنا کہو:

"میں اب جاگ چکی ہوں…
میرا بچہ اب مجھ سے جڑے گا،
اور میں خود کو کبھی اکیلا نہیں سمجھوں گی۔"

یہ ورق… اُس ماں کے نام
جو برسوں خاموش رہی،
مگر اب بولنا سیکھ رہی ہے — اپنی پہچان میں، اپنی ممتا میں۔

25/06/2025

جب کوئی شخص کوچنگ کے لیے آتا ہے، تو وہ صرف سوالات یا مسائل لے کر نہیں آتا — وہ کئی طرح کے ان دیکھے، ان کہے بوجھ ساتھ لاتا ہے۔

کبھی وہ ماضی کی تلخ یادوں کا بوجھ ہوتا ہے، کبھی مستقبل کی بےیقینی کا خوف۔
کبھی جذبات کا طوفان سنبھالا نہیں جا رہا ہوتا، تو کبھی روح اندر ہی اندر چپ چاپ تھک چکی ہوتی ہے۔
کچھ لوگ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ کوئی انھیں سن لے… دل سے، دھیان سے۔
لیکن ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں، وہاں سننے والوں کی کمی ہے — سب کچھ کہنا چاہتے ہیں، سیکھنا کم اور سکھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔

ایسے میں جب کوئی آ کر صرف اپنی کہانی کہہ جاتا ہے — تو وہ خود کو ہلکا محسوس کرنے لگتا ہے۔
حال ہی میں ایک کلائنٹ، سیشن کے اختتام پر بو لیں:
" ابھی کوئی حل نہیں ملا ، لیکن جیسے میری روح ہلکی ہو رہی ہے… جیسے اندر کا بوجھ کچھ کم ہو گیا ہو…"

اصل میں، بعض اوقات صرف ہمدردی سے سن لینا ہی آدھے مسئلے کا حل بن جاتا ہے۔
کہیں نرم لہجے میں بات کرنا، کہیں کچھ مشقیں کروانا، کہیں محض موجود ہونا —
یہ سب مل کر کسی کو دوبارہ زندگی سے جوڑ سکتے ہیں۔

🌿 بعض لوگ جھیل کنارے پرندوں کی طرح ہوتے ہیں —
خاموش، تھکے ہوئے، مگر کسی گہرے روحانی ربط کی تلاش میں۔۔۔
ہم بس وہ پل بن جاتے ہیں، جہاں وہ چند لمحوں کو رک سکیں، سانس لے سکیں، اور پھر خود کو نئے سفر کے لیے تیار کر سکیں۔

19/06/2025

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کا پیسے سے رشتہ 10 سال کی عمر سے پہلے ہی پروگرام ہو چکا ہوتا ہے؟
*"پیسہ درختوں پر نہیں اگتا۔"
*"ہم یہ افورڈ نہیں کر سکتے۔"
کیا یہ جملے آپ کو جانے پہچانے لگتے ہیں؟
اب وقت ہے کہ کمی کا بیج نکال کر فراوانی کا بیج بویا جائے۔
* 3 دن کا خصوصی سیشن: مائنڈسیٹ ری وائرنگ، منی ہیلنگ، اور دولت کو اپنی طرف کھینچنے کے عملی ٹولز کے ساتھ۔
اگر آپ تیار ہیں تو کمنٹ کریں: "IN"

13/06/2025
31/05/2025

اپنے اندر چھپے بچے کو توجہ دیں جسکو بچپن میں نظر انداز کیا گیا تھا۔
1۔خود پر دوسروں کی طرح سختی مت کریں، خود سے نرمی اور پیار سے بات کریں ۔
خود کو بار بار موقع دیں۔
2۔کسی سے تعریف یا داد کی توقع نہ رکھیں۔ خود کو پہچانیں۔ خود کو خود داد دیں اور اللہ کہ شکریہ ادا کریں۔
3۔ سٹریس محسوس کرنا کوئی کمزوری نہیں، بلکہ خود کو سمجھنے کے اس موقع کو ضائع نے ہونے دیں۔
4۔ کسی کو "نا" کہنے سے نے ڈریں۔ نا کہنے آپکا حق ہے۔ اپنی طاقت کو خود کے لیے اور اپنے پیاروں کے لیے بچا کر رکھیں۔
5۔اپنے اندر کے بچے کی دوبارہ تربیت کیجئے۔
دارـشعور

مشکلیں کتنی مشکل ہوتی ہیں؟ ہر تصویر کے   کم از کم دو رخ ہوتے ہیں، ہم صرف ایک رخ دیکھ کر جیتے چلے جاتے ہیں۔ اور دوسرا رخ ...
24/05/2025

مشکلیں کتنی مشکل ہوتی ہیں؟
ہر تصویر کے کم از کم دو رخ ہوتے ہیں، ہم صرف ایک رخ دیکھ کر جیتے چلے جاتے ہیں۔ اور دوسرا رخ بیچارہ تشنہ کی رہتا ہے کے کوئی مجھے بھی تو دیکھے اور سمجھے۔۔۔
سب رب کا نظام ہے، جو کہ سمجھ آتے آتے ہی سمجھ آنا شروع ہوتا ہے۔ وہ کہیں ایک کی مشکل اساں کرتا ہے تو کہیں دوسرے کو مشکل میں ڈال رہا ہوتا ہے *مگر آسان کرنے کے لیے۔* وہ *مہرباں* ہے *محبت* کرنے والا ہے، وہ کہاں کبھی اپنی بندے کو تکلیف میں دیکھ سکتا ہے! کیا کبھی ماں بھی اپنے بچے کو تکلیف دیتی ہے؟
تو پھر کیوں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کا دعویٰ کرنے والا ربّ اپنے ہی بندے کو مشکل سے دوچار کرتا ہے!
اللہ کی اپنی ٹیچنگ اکیڈمی ہے، اسکا اپنا سلیبس ہے، اُسکی اپنی ہی متھیڈولوجی ہے۔ اس اکیڈمی میں ہر کسی کو ایڈمشن ملتا ہے مگر اپنے اپنے وقت پر۔ کوئی ایک مشکل سے دوچار ہو کے کسی دوسرے کے پاس حل کے لیے جاتا ہے تو وہ اُسکی کسی مشکل کا حل ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی بیمار ہو کہ ڈاکٹر کے پاس چلا گیا ، تو ڈاکٹر کی کسی ضرورت کا پورا ہونا تھا۔
دوسرا پھر جب وہ کسی کو سیکھانے کہ ارادہ کرتا ہے تو اسے مشکل میں ڈال دیتا ہے، مگر اکیلا نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے بندے پر پوری نظر رکھتا ہے اور پوری رہنمائی کرتا ہے۔ کہ یہ بندہ میرا پاس آئے میری طرف لو ٹے، مجھ سے رجوع کرے، میں ہوں دینے والا، مجھ سے جُڑ جائے۔ انسان اِدھر اِدھر بھٹکنے لگتا ہے، وہ جتنا دیر کرتا ہے نا رب کی طرف جانے میں اتنا ہی مشکل بڑھتی جاتی ہے۔ سب کچھ کر لیتا ہے مگر حل نہیں نکلتا۔ کوئی اللہ کا ہی مقرر کردہ دوست یا مسیحا اُسکی رہنمائی کر دیتا ہے، وہ رہنمائی اصل میں اللہ کو طرف سے ہی ہوتی ہے کیوں کے اُسکی بھی اسائنمنٹ ہوتی ہے اللہ کی طرف سے۔ اور ہر طرف سے مایوس ہو کہ وہ پلٹتا ہے رب کی طرف جہاں رب پہلے سے ہی اسکا منتظر ہے۔ اُسکا استقبال کرتا ہی انعام سے۔ نوازتا ہے اپنے قرب سے۔ اس سب کے ہونے کے دوران جو اپنے عیب اور کوتاہیاں آپ پر آشکار ہوتی ہیں تب سمجھ آتا ہے کے خود کو پا لینا کیا ہوتا ہے۔ سکون اور اطمینان جب آپکی روح تک اترتا ہے تب سمجھ آتا ہے کہ مشکل کیوں آئی تھی ۔ پھر لگتا ہے کے مشکلات تو اللہ سے جوڑنے کا بہانا ہیں۔
اگر کسی مشکل میں اللہ نے ڈال رکھا ہے تو یقین رکھیں کے اللہ کی اکیڈمی میں ایڈمشن مل چکا ہے ۔
از قلم
مومنہ نوشین
لائف کوچ/NLP Hypnosis Practitioner

پتہ ہے ماں باپ اپنے خواب بچوں کے ذریعے کیوں جیتے ہیں؟کیوں کے وہ اس قابل نہیں ہوتے کے اپنے خواب آپ جی سکیں ۔  زندگی ایک م...
06/05/2025

پتہ ہے ماں باپ اپنے خواب بچوں کے ذریعے کیوں جیتے ہیں؟
کیوں کے وہ اس قابل نہیں ہوتے کے اپنے خواب آپ جی سکیں ۔ زندگی ایک مسلسل کوشش کا نام ہے۔ تقریباً آدھی زندگی گزارنے کے بعد سمجھ آنا شروع ہوتا ہے کےہم کیا ہیں، کیوں ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنا چاہیے۔ پھر خود سے ایک جنگ شروع ہو جاتی ہے، دل تو چاہتا ہے کے سب کچھ منٹوں میں سمیٹ لیں مگر ایک گتھی سلجھائیں تو دوسری اُلجھ جاتی ہے۔ ایک گرہ لگاؤ تو دوسری کھیل جاتی ہے۔ جب سمجھ آئی تو وقت نکل چکا تھا یہ اولاد کا وقت آ چکا تھا۔ پھر کوشش کرتے ہیں جو خود نا کر پائے وہ اولاد کو کروا دیں۔
خود شناسی کا ہنر اگر بچپن سے سیکھایا جائے تو سب لوگ اپنے خواب خود جینے کی صلاحیت رکھ سکتے ہیں۔ مگر اس سے بھی پہلے خود کو جانیے پھر ہی آپ اپنی اولاد کو خود کی پہچان سیکھا سکتی/سکتے ہیں۔
بچوں کو اپنے جذبات احساسات موڈز کی سمجھ دینا ماں باپ کا فرض ہے۔ تا کے وہ بڑے ہوتے ہوتے اپنے جذبات کو قابو کرنا سیکھ جائیں اپنے فیصلے خود کار سکیں اور مضبوط انسان بن کر بھرپور زندگی گزاریں۔
یہی تو دین کی تربیت کے اُصولوں کے عین مطابق ہے۔
دارـ شعور
از قلم
مومنہ نوشین
اگر آپ اپنی زندگی کے کسی بھی الجھن میں کوئی رہنمائی چاہتی ہیں تو رابطہ کیجئے
0330-9212444

02/05/2025

جب عورت پہلی بار ماں بنتی ہے تو اسکی تما م توجہ اس ننھی جان ہی طرف ہو جاتی ہے کیوں کہ یہ ماں کے لیے نیا اور پہلا تجربہ ہوتا ہے۔ پہلے سے سیکھا نہیں ہوتا، اور بچہ ماں کو اپنی روٹین کے مطابق چلاتا ہے۔ ایک طرف نئی نئی شادی، خاوند کا رشته ، سسرال ، میکہ ، ایک جیون ساتھی کو اپنی زندگی میں شامل کرنا اور سمجھنا ، سب کی توقعات ،ایک طرف اور ایک اکیلی عورت دوسری طرف۔
ابھی یہ سب چیلنجز سمجھ نہیں پاتی تو ایک اور مضبوط ترین تعلق جو اُسی کے جسم کا حصہ ہے وہ دنیا میں آ جاتا ہے۔ اور پھر جو ا ب تک کسی حد تک سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوتی ہے، ایک نئے تعلق کی زنجیر میں بندھ جاتی ہے اور وہ تعلق اسکو مکمل کر تا ہے اسی لیے اُسکے لیے سب سے اہم بن جاتا ہے۔ اور ہونا بھی چاہیے کیوں کہ وہ ننھی جان خود تو کچھ کر نہیں سکتی، مکمل طور پر ماں پر انحصار کرتی ہے۔
اور یہاں سے سٹوری ٹوسٹ لیتی ہے اور ہر طرف سے گلے شکوے سنائی دینے لگتے ہیں۔ خاص طور پے خاوند کی ناراضگی اس کے لیے سب سے زیادہ اذیت کا باعث ہوتی ہے۔ کیوں کے یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب عورت کو اپنے جیون ساتھی کے ساتھ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ بچہ صرف ماں کا نہیں باپ کا بھی ہے ۔
ہمارے ہاں عجیب رواج ہے ۔ جب لڑکا اپنی زندگی کی ذمےداریاں اٹھانے لگتا ہے تو اس وقت اسکو ماں باپ بہن بھائی کی ذمےداریاں یاد کروائی جانے لگتی ہیں جو کے پہلے کرنا چاہیے۔ خیر یہ الگ بحث ہے مگر ماں جو کہ سا س ہوتی ہے اُسکی ذمے داری بنتی ہے کہ نہ صرف وہ خود اس ٹائم پر بّہو کا ساتھ دے اور بیٹے کو بھی اسکا پابند کرے ۔ شادی سے پہلے اگر لڑکی کو تربیت کے ضرورت ہے تو اس سے کہیں زیادہ لڑکوں کو تربیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ ذمے داری ماں کی ہے۔ خدارا اپنے بیٹوں کی تربیت یہ سوچ کر کریں کے انکو اپنی ذمےداریوں کے لیے اللہ کے سامنے جواب دہ ہونا ہے۔
اللہ ہم سب کو عمل کی توفیق دیں۔
آمین
از قلم
مومنہ نوشین
NLP/Hypnosis practitioner
اگر آپ لائف کے کسی مسئلہ کے لیے رہنمائی چاہتی ہیں تو رابطہ کیجئے۔ رہنمائی لینا برائی نہیں بلکہ خود سیکھیں اور اپنی اور دوسروں کی زندگی کو آسان بنائیں۔
آسانیاں بانٹیں۔

Address

Lahore
54400

Opening Hours

Monday 12:00 - 20:00
Tuesday 12:00 - 20:00
Wednesday 12:00 - 20:00
Thursday 12:00 - 20:00
Saturday 12:00 - 20:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dar-E-Shaoor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram