Tib-e-Jadeed

Tib-e-Jadeed Easy and usefull herbal treatment

خارش #خارش    دوبارہ کبھی خارش ہوگی بھی نہیں۔ خون میں گرم اور گرم چیزوں کا زیاد ہ استعمال تکلیف کا باعث بنتا ہے لہذا گرم...
03/01/2026

خارش
#خارش

دوبارہ کبھی خارش ہوگی بھی نہیں۔ خون میں گرم اور گرم چیزوں کا زیاد ہ استعمال تکلیف کا باعث بنتا ہے لہذا گرم چیزوں سے پرہیز رکھیں
باہر کے چٹ پٹے کھانے سموسے پکوڑے ایسی چیزیں زیادہ تر نقصان دیتی ہیں

ھوالشافی

، گندھک آملہ سار 20گرام ،گیرو سرخ 20گرام ،کالی زیری 20گرام ،افسنتین 20گرام ،بر گ نیم 20گرام تما م اجزاء کا سفوف بنا لیناہے ۔ اس کے بعد فل سائز کے کیپسول بھرلینے ہیں۔ استعمال کا طریقہ صرف ایک کیپسول صبح کھانے کے بعد ہمراہ تازہ پانی لیں ۔ ایک کیپسول رات کو سوتے وقت پانی سے لینا ہے اگر خارش پرانی ہے تو ایک ماہ تک استعمال کریں۔ کھٹی بادی تلی اشیاء سموسہ پکوڑے وغیرہ جو آئل میں فرائی ہوتی ہیں ان سے دوران استعمال پرہیز کریں
بشکریہ
حکیم سیف اللہ ہزاروی
فاضل طب والجراحت۔

28/12/2025

ایک بڑی الائچی – 10 بڑی بیماریوں کا سستا علاج 🌿
چھینکوں کا طوفان ہو یا الرجی کا عذاب، صرف ایک بڑی الائچی سے نجات ممکن ہے!
ایک صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں ہر وقت چھینکیں آتی تھیں: موسم بدلے، پرفیوم لگے، الماری کھلے یا دھول اُڑے۔ علاج بھی کروایا، ماسک بھی پہنا، لیکن افاقہ نہ ہوا۔
پھر کسی نے مشورہ دیا کہ ایک بڑی الائچی چھلکے سمیت منہ میں رکھ کر چوسو، ہلکے ہلکے چباؤ اور لعاب نگلتے رہو۔
کمال ہو گیا! چھینکیں، الرجی، ناک بہنا سب کم ہوتا گیا۔ اب صرف دن میں ایک دو چھینکیں آتی ہیں۔

🌟 10 حیرت انگیز فوائد:
1. چھینکوں اور الرجی سے نجات:
بڑی الائچی منہ میں رکھ کر چوسنے سے چھینکوں کا طوفان رک جاتا ہے۔

2. ناک بہنا بند:
مسلسل ناک بہنے والوں نے چند دن استعمال سے شفاء پائی۔

3. کان کھجانا ختم:
ایسے لوگ جنہیں بار بار کان میں خارش ہوتی ہے، انہیں بڑا فائدہ ہوا۔

4. آنکھوں کا پانی، کمزور نظر:
نظر دھندلانا، آنکھوں سے پانی آنا، بڑی الائچی کے استعمال سے بہتر ہو جاتا ہے۔

5. دماغی کمزوری، یادداشت کی کمی:
یادداشت بہتر، ذہنی طاقت میں اضافہ اور فوکس بہتر ہوتا ہے۔

6. منہ کی بدبو، مسوڑھوں کی بیماریاں:
مسوڑھوں سے خون آنا، سوجن، منہ کی بدبو وغیرہ میں مفید۔

7. گندم یا فوڈ الرجی:
چھوٹے بچوں اور بڑوں میں گندم سے ہونے والی الرجی میں آزمودہ۔

8. موسمی الرجی کا علاج:
پولن یا دھول سے الرجی کا بہترین قدرتی توڑ۔

9. پرفیوم یا خوشبو سے چھینکیں:
پرفیوم یا کسی بھی خوشبو سے الرجک افراد کے لیے شفاء بخش۔

10. نظام تنفس میں بہتری:
سانس کے مسائل، نزلہ زکام اور ناک کی سوزش میں فائدہ دیتا ہے۔

🌱 طریقہ استعمال:
ایک بڑی الائچی (چھلکے سمیت) منہ میں رکھیں، ہلکے ہلکے چباتے رہیں، لعاب نگلتے رہیں۔ دن میں 2–3 بار یہ عمل دہرائیں۔ بچوں کے لیے چھوٹی مقدار میں کوٹ کر استعمال کرائیں۔

📢 سستا، آسان، آزمودہ اور بے ضرر نسخہ۔ آج سے ہی شروع کریں اور دوسروں تک بھی یہ رازِ شفاء پہنچائیں۔

کنول کا پودا و پھول کنول: انسان کا قابل بھروسہ ساتھی0 Commentsکنول: انسان کا قابل بھروسہ ساتھی - ChiltanPureقدرت نے انسا...
27/12/2025

کنول کا پودا و پھول
کنول: انسان کا قابل بھروسہ ساتھی
0 Comments
کنول: انسان کا قابل بھروسہ ساتھی - ChiltanPure
قدرت نے انسان کو بہت بڑی بڑی نعمتوں سے نوازہ ہے مگر انسان کو ان نعمتوں کا کم ہی ادراک ہے کہ وہ ان سے کیسے فائدہ اٹھائے۔انہی نعمتوں میں سے ایک نعمت کنول (Lotus) کا پودا بھی ہے جو کہ اگرچہ کیچڑ میں اگتا ہے مگر اس کی جڑ سے لے کر پھول تک ہر ہر حصہ طبی فوائد سے بھر پور ہوتا ہے اور اس کا استعمال عام غذا کے طور پربھی کیا جاتا ہے۔

کنول ایک سدا بہار آبی پودا ہے، جس کی جڑیں گانٹھ دار ہوتی ہیں۔ اس کے بڑے پتے جو پانی کی سطح سے بلند ہو جاتے ہیں۔ اپنے محیط میں 60سینٹی میٹر تک ہوتے ہیں اور افقی طور پر تین میٹر تک پھیل سکتے ہیں۔ جبکہ پھولوں کا محیط بھی 20سینٹی میٹر تک ہوتا ہے۔ خوبصورت گلابی پھول خوشبودار لیکن الگ تھلگ ہوتے ہیں۔ یہ پھول پتوں کی سطح سے اوپر ایک شوخ زرد مرکز اور سفید پتیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ کنول کا پھل ایک مخروطی پھلی (دوڈا) کی شکل جیسا ہوتا ہے۔ اور پھلی کے سوراخوں میں بیج ہوتے ہیں۔

کنول کا اصل وطن ہندوستان ہے، لیکن اب یہ پورے ایشیاء، مشرق وسطیٰ، آسٹریلیا،چین، جاپان، ایران، بھوٹان، انڈونیشیا، کوریا، نیوگنی، پاکستان، فلپائن، روس، سری لنکا، تھائی لینڈ، ویت نام اور دیگر ممالک میں پایا جاتا ہے۔ یورپ میں اسے 1787میں متعارف کروایا گیا۔

کنول کے نباتاتی خاندان میں دو انواع ہیں، جو پر کشش پھول رکھتی ہیں۔ لوٹس یعنی کنول اور دوسری واٹر للی یعنی نیلو فر۔جبکہ کنول کی مزید دو اقسام ہیں۔ ان میں ایک ہندوستانی یا مقدس کنول اور دوسری امریکی یا زرد کنول۔نیلا مصری کنول اور سفید مصری کنول دونوں ہی نیلو فر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ نیلو فر پودے مصر سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔

اس پھول کو ایشیا میں مقدس سمجھا جاتا ہے۔ مندروں، مسجدوں، خانقاؤں اور گردواروں کے گنبد کنول کی طرز پر بنے ہوتے ہیں۔ مہاتما بدھ کو مجسموں میں اکثر کنول کے پھول پر بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ نئی دہلی میں بہائیوں کی عبادت گاہ بالکل کنول کے پھول جیسی ہے۔اسلام آباد میں ایک کنول جھیل ہے اور راولپنڈی کے ایوب پارک میں کنول کے پھولوں اور پودوں سے بھری ایک جھیل ہے۔ یہ بھارت کا قومی پھول ہے۔

کنول میں پائے جانے والے کیمیائی اجزا: کنول کے ٹھوس مواد اور تیل میں پروٹین، چکنائی، کاربوہائیڈرٹیس،کیلشیم، وٹامنز، منرل، پوٹاشیم، کاپر، آئرن اور وٹامن سی، وٹامن بی سکس، پامیٹک ایسڈ میتھائیل ایسٹر 22.66فیصد، لینولیئک ایسڈ میتھائیل ایسٹر 11.16فیصد، پامیٹولیک ایسڈ میتھائیل ایسٹر 7.55فیصد، لینولینک ایسڈ میتھائیل ایسٹر5.16فیصد اور مرسٹک ایسڈ، نیوسی فیرین، ایپورفین کے علاوہ مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔

کنول کا روایتی استعمال: کنول کی کاشت گذشتہ تین ہزار برس سے ہو رہی ہے اور اسے نہ صرف اس کی زرعی اور زیبائشی اہمیت کی وجہ سے بلکہ اس کے طبی استعمال اور کھائے جانے کے قابل بیجوں اور جڑوں کیلئے بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ چین، جاپان اور ہندوستان میں کنول کی جڑوں کو بھون کر اچار بنایا جاتا ہے۔ انہیں سلائس یا قاشوں میں کاٹ پر چپس کی طرح فرائی بھی کیا جاتا ہے۔ کنول کے بیجوں کی پیسٹ چین میں پیسٹری میں استعمال کیا جاتی ہے۔ نوخیز پتے، پتوں کی ٹہنیاں اور پھول سبزی کی طرح ہندوستان میں پکائے جاتے ہیں۔ پھول کی پتیاں غذاؤں کو لپیٹنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

کنول کے پھول: کنول کا پھول طبی حوالے سے بہت مفید ہوتا ہے،اس کو سونگھنے سے بے خوابی کے مرض میں آرام ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ان پھولوں کو خشک کر کے اس کا شربت بنایا جاتا ہے جس کو شربت نیلوفر کہتے ہیں۔ یہ شربت ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ہاتھوں پیروں کی جلن کی صورت میں بھی اس کے استعمال سے افاقہ ہوتا ہے یہ جگر اور دل کے لیے بھی بہت مفید ہوتا ہے اور یرقان کے مریضوں کو اس کے استعمال سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

کنول کے پھل: کنول کا پھل سبز رنگ کا قیف نما (مخروطی)ہوتا ہے جس کے اندر اس کے بیچ موجود ہوتے ہیں۔ یہ بیچ عام طور پر لوگ کھاتے ہیں۔ یہ بیچ بڑھتی عمر کے اثرات کو کم کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ان بیچوں کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے اور یہ خون میں شوگر کے لیول کو کم کرتے ہیں۔ہاضمے کے عمل کو بہتر بناتے ہیں۔

کنول کی جڑیں: کنول کے پھول کی جڑیں انسانی صحت، جلد اور بالوں کے لیے بے شمار خوبیاں اپنے اندر رکھتی ہے۔ ان میں کیلشیم، وٹامنز، منرل، پوٹاشیم، کاپر، آئرن اور وٹامن بی سکس پایا جاتا ہے جو انسانی صحت کے لیے ضروری اور اہم اجزا شمار کیے جاتے ہیں۔ اس میں بڑی مقدار میں وٹامن سی موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا استعمال وزن کم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ یہ ہاضمے کے عمل کو بہتر بنا کر میٹابولزم کے عمل کو تیز کرتا ہے۔جسم میں نظام ہاضمہ کے عمل کو بہتر بناتی ہے۔ جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو متوازن رکھتی ہے اور بڑھنے سے روکتی ہے۔ ایسے افراد جن کا بلڈ پریشر زیادہ تر لو رہتا ہے ان کے لیے لوٹس روٹ بہت فائدہ مند ہے۔ جسم میں قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور جسم میں چستی پیدا کرتی ہے۔ کینسر کی مختلف اقسام میں مریض کے لیے فائدہ مند ہے۔ طبیعت کو متوازن رکھتی ہے، ذہنی دباؤ اور ذہنی تناؤ سے بچاتی ہے۔ کنول کی جڑیں جسم میں خون کی روانی کو بہتر بناتی ہے اور نیا خون بنے کے عمل کو تیز کرتی ہے۔

بالوں کی نگہداشت: کنول کی جڑیں بالوں کی نگہداشت کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔اس میں پائے جانے والے اجزا بالوں کی نگہداشت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جروں کے استعمال سے گرتے ہوئے بال رک جاتے ہیں اور نئے بالوں کی نشوونما یقینی ہوجاتی ہے۔ بال مضبوط اور گھنے ہوجاتے ہیں۔کنول کی جڑوں کے استعمال سے بال چمک دار اور کھلے کھلے رہتے ہیں کہ دیکھنے والا سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔کنول کی جڑیں بالوں میں کنڈیشنر کا کام بھی انجام دیتی ہے، اس کو لگانے سے بال سلکی اور ملائم ہوجاتے ہیں۔

کنول کی جڑوں کو بالوں کیلئے استعمال کا طریقہ: کنول کی جڑوں کو لے کر انھیں خشک کر کے اس کو پیس کر پاؤڈر بنا لیں اور دھی یا بیسن میں پیسٹ بنا کر بالوں میں لگا لیں۔اور آدھے گھنٹے بعد اس کو دھو دیں۔یا پھر تازہ جڑوں کولیکر انھیں اچھی طرح گوٹ لیں اور اس میں دہی اور بیسن کا آمیزہ بنا کر بالوں پے لگا لیں اور آدھے گھنٹے بعد اس کو دھو لیں۔ اچھے رزلٹ کیلئے اس کو کم ازکم ہفتے میں ایک بار لازمی لگائیں۔

کنول کے پتے: کنول کے پتے کنول کے پتے سائز کے اعتبار سے بہت بڑے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ یہ کافی مضبوط بھی ہوتے ہیں ہندوستان میں ان پتوں میں کھانے پینے کی اشیا کو فروخت کیا جاتا ہے اور ان کو بطور پیکنگ کے استعمال کیا جاتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

تھوک: Saliva or Spitآج تھوک کی افادیت پر بات کرتے ہیں😄. تھوک وہ گمنام ہیرو ہے جس کا کوئی بھی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتا ب...
26/12/2025

تھوک: Saliva or Spit
آج تھوک کی افادیت پر بات کرتے ہیں😄.
تھوک وہ گمنام ہیرو ہے جس کا کوئی بھی تذکرہ کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ نام سنتے ہی تھو تھو کرنا شروع کردیتے ہیں 😂 لیکن سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے!
تھوک کیا ہوتا ہے؟
تھوک دراصل پانی ہی ہے۔ یہ 98-99% فیصد تک پانی ہوتا ہے جبکہ باقی 1سے 2 فیصد مقدار کھانا ہضم کرنے والے انزائیمز, یورک ایسڈ، الیکٹرولائیٹس، اور پروٹین کی ہوتی ہے۔
تھوک کہاں سے آتا ہے؟
ہمارے منہ میں جبڑے کی پچھلی جانب، جبڑے کے نیچے اور زبان کے نیچے تھوک کے تین گلینڈز موجود ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ منہ میں تھوک کے تین جگہ پائیپ فٹ ہیں۔ جبڑے کے پیچھے پائیپ ( گلینڈ ) کو parotid gland, جبڑے کے نیچے submandibular gland , اور زبان کے نیچے گلینڈ کو sublingual gland کہتے ہیں۔ 2020 میں ہماری گالوں کے اندر گلینڈز کا ایک جوڑا بھی دریافت ہوا ہے جس پر پہلے کسی کی نظر نہیں پڑی انہیں Tubarial گلینڈز کہتے ہیں اور ان کے بارے میں بھی ڈاکٹروں میں بحث جاری ہے کہ آیا یہ بھی تھوک بنانے والے گلینڈز ہیں کہ نہیں۔یہ تمام گلینڈز خاص قسم کے کروڑوں سیلز سے مل کر بنے ہیں جنہیں acini کہتے ہیں اور یہی سب سیلز مل کر تھوک بنانے کا کاروبار کرتے ہیں۔
تھوک کی کتنی اقسام ہیں؟
تھوک کی پانچ اقسام ہیں جو دراصل پانچ ادوار ہیں جن میں تھوک کے اندر پائے جانے والے اجزا جسم کی ضرورت کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
1 پہلی قسم Cephalic:
یہ مشہور قسم ہے جو اپنا پسندیدہ کھانا دیکھنے یا سوچنے پر پیدا ہوتی ہے۔ جسے منہ میں پانی بھر آنا بھی کہتے ہیں۔
2 دوسری قسم Buccal:
تھوک کی یہ شکل کھانا کھاتے وقت پیدا ہوتی رہتی ہے۔
3 تھوک کی تیسری قسم Esophageal:
جیسے ہی کھانا منہ سے آگے نکل کر حلق سے ہوتا ہوا خوراک کی نالی Esophagus میں پہنچتا ہے تو منہ میں یہ تھوک پیدا ہوتا ہے۔
4 تھوک کی چوتھی قسم Gastric:
جب معدے میں گڑ بڑ ہو اور الٹی ہونے کا خدشہ ہو تو تھوک کی یہ قسم پیدا ہوتی ہے۔
5 تھوک کی پانچویں قسم intestinal:
جب خوراک ٹھیک طرح ہضم نہ ہو اور آنتوں میں پہنچ جائے تو تھوک کی ایسی قسم منہ میں بنتی ہے۔
تھوک کے متعلق کچھ دلچسپ باتیں:
* ہمارے منہ میں ہر روز تقریباً ایک سے دو لیٹر تھوک پیدا ہوتا ہے۔
* تھوک دن کے بعد اور شام تک سب سے زیادہ پیدا ہوتا ہے جبکہ رات کے وقت اسکی پیداوار کم ہوتی ہے۔
* عورتوں کی نسبت مردوں کے منہ میں تھوک زیادہ پیدا ہوتا ہے۔
*ننھے بچوں کے منہ سے رسنے والا پانی (پنجابی میں لیلیں) دراصل انکے دانت نکلنے کے مراحل کے دوران پیدا ہوتا رہتا ہے تاکہ مسوڑے سوجن، درد اور انفیکشن سے محفوظ رہیں۔ اس پانی کو Drool کہتے ہیں۔ البتہ کسی بڑے میں یہ بکثرت نکلنے لگے تو کسی انفیکشن کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔
تھوک کے فائدے:
* تھوک کے بیشمار فائدے ہیں 😁. نقلی دانتوں کی بتیسی کا ایک جوڑا کسی دانتوں کی دوکان سے اٹھائیں (پیسے دے کر) اور ان کو آپس میں رگڑتے جائیں۔ کیا ہوگا؟ جی ہاں خراشیں پڑ جائیں گی، ہلکے ہلکے ٹوٹ بھی جائیں گے ۔ لیکن ہمارے منہ میں ہم ہر روز کھاتے پیتے اور کسی رشتے دار کو دیکھتے دانت پیستے ہیں تو یہ سچ میں کیوں نہیں پسے جاتے؟
دراصل تھوک یہاں بطور موبل آئل یعنی Lubricant کام کرتا ہے۔ دانتوں کو تر رکھ کر رگڑ سے بچاتا ہے۔ دوسرا کام یہ کرتا ہے کہ اس میں موجود مختلف نمکیات دانتوں کے بیرونی سخت خ*ل جسے enamel کہتے ہیں اس کو ضروری معدنیات مہیا کرکے مضبوط کرتا ہے۔
*تیز تیزاب والے کھانے مثلاً لیمن ، اورنج, سوڈا وغیرہ دانتوں کے بیرونی خ*ل میں سوراخ کرسکتے ہیں۔ انہیں گلا سکتے ہیں۔ لیکن عین اسی لمحے تھوک اس تیزاب میں شامل ہوکر اس کو "نیوٹرل" کر دیتا ہے۔ اس طرح دانت محفوظ رہتے ہیں۔
*میٹھا بھی دانتوں کا سخت دشمن ہے میٹھا جو دانتوں میں آگے پیچھے تھوڑا بہت پھنس جاتا ہے وہاں بیکٹیریا حملہ کرکے تیزاب پیدا کرتے ہیں اور دانتوں میں کیویٹی یعنی کھوڑ پڑجاتے ہیں لیکن تھوک باقاعدہ اس میٹھے کو اتارتا رہتا ہے، تیزاب کو نیوٹرل کرتا رہتا ہے اور بیکٹیریاز کو بھی مارتا رہتا ہے۔ مطلب کہ یہ قدرتی دوائی ہے جو آپ کے دانتوں کے لئیے منہ میں رکھ دی گئی ہے۔ ( ہاں لیکن اگر آپ میٹھے پر ہتھ ہولا نہ رکھیں تو پھر تھوک کا کوئی قصور نہیں تین ہی پائپ فٹ ہیں ہزار نہیں 😄)
*دانت تو محفوظ کرلئیے اب آجائیں مسوڑوں کی جانب۔ تھوک مسوڑوں کی بھی جان ہے بلکہ مسوڑوں کی بقا تھوک میں ہے۔ تھوک میں لائیزو زائم، پیپٹائیڈز، اور کچھ پروٹین ہوتے ہیں جو مسوڑوں پر حملہ ہونے والے بیکٹیریاز کی کھال ادھیڑ دیتے ہیں ( سچ میں کھال)۔
*نظام انہضام میں پہلا کام تھوک کا ہے۔ اور یہی بات اوپر لکھی گئی کہ سب سے پہلے سب کے کام تھوک ہی آتا ہے 😁.
جب ہم کسی شے کا نوالہ لیتے ہیں تو تھوک منہ میں پھیلنا شروع ہوجاتا ہے۔ اس طرح خوراک کے زرات لے کر زبان پر پھیلادیتا ہے تاکہ زبان پر موجود ذائقے کے سیلز اس ذائقے کو پہچان کر دماغ تک پہنچائیں۔ بنا تھوک کے زبان کا کام بھی سخت مشکل ہوجائے گا۔ اب تھوک کا اگلا کام کھانے کو انتہائی نرم کچے آٹے جیسا گوندھنا ہے تاکہ حلق سے باآسانی پیٹ کی جانب سفر شروع کرے۔ اسی لئیے سیانے کہتے کہ کھانے کو خوب چبا چبا کر کھائو۔ تھوک میں موجود قدرتی کیمیکلز بہت سارے پیچیدہ غذائی زرات مثلاً سٹارچ اور Fats کو منہ سے ہی ہضم کرنا شروع کردیتےہیں۔ روٹی چاول نو ڈلز میں کافی سٹارچ ہوتا ہے بنا تھوک کے ان کا انہضام بڑا مشکل ہوتا۔
* تھوک کسی زخم پر لگانے کے قصے سنے دیکھے ہیں۔ دراصل یہ بات درست ہے! تھوک میں زخموں کو مرہم کرنے والے وائیٹ سیلز نیوٹرو فلز موجود ہیں جو زخم بھرنے کی رفتار کو تیز کرتے ہیں۔ اسی لئیے آپ نے اکثر جانوروں کو اپنے زخم چاٹتے دیکھا ہے (حیرت ہے انہیں یہ فوائد کیسے پتہ)۔ اس کے علاوہ تھوک میں موجود لائیزوزائم زخموں میں موجود بیکٹیریاز مار کر زخم صاف کردیتا ہے۔
تھوک کے نقصانات -/+18 دونوں😄:
*جنسی تعلقات میں تھوک کا استعمال انتہائی نقصان دہ ہے۔ تھوک کسی بھی لحاظ سے بطور Lubricant استعمال کرنا مخالف پارٹنر میں مختلف انفیکشن پیدا کرسکتا ہے (e.g vaginal yeast infection). اس کے علاوہ بہت ساری گلے اور منہ کی جنسی بیماریاں مثلاًHerpes تھوک کے ذریعے مخالف کے خاص حصوں میں منتقل ہوسکتی ہیں۔
*بوسہ لینے میں بھی تھوک کے زریعے جراثیم پھیلتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق 10 منٹ کے بوسے میں تقریباً 60 ملین جراثیم ایک دوسرے میں ٹرانسفر ہوتے ہیں۔ لیکن میاں بیوی اس کے خطرات سے محفوظ ہیں کیونکہ دونوں کے جراثیم ایک جیسے ہوجاتے۔مسئلہ غیر ازدواجی جنسی تعلقات اور دھوکہ دہی میں ہوتا ہے۔
*بہت سارے پالتو جانور خصوصاً کتے انسانی زخم چاٹتے ہیں۔ انہیں اس سے دور رکھیں۔ امریکہ میں کئی ایسے کیسز ہوئے جہاں لوگوں کو اپنے بازو ٹانگ وغیرہ کتے کے چاٹنے کی وجہ سے کٹوانے پڑگئے کیونکہ خطرناک بیکٹیریا تھوک کے ذریعے انکے زخموں پر منتقل ہوئے۔ انسانی تھوک بھی زخم پر نہیں استعمال کرنا چاہئیے کیونکہ اس سے بیکٹیریا پھیلنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔
*تھوک بکتا بھی ہے، جی ہاں سائوتھ افریقہ میں بڑھتی بیروزگاری کے سبب ٹی بی والے تھوک کی غیر قانونی منڈی لگتی ہے جہاں اچھے بھلے بیروزگار لوگ خرید کر لے کر جاتے ہیں اور اپنے آپکو یہ بیماری لگاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ٹی بی والوں کو ماہانہ حکومت خرچہ دیتی ہے۔ شاید اسی لئیے سائوتھ افریقہ ٹی بی کی بیماری میں ٹاپ پر ہے۔
* بہت سارے وائرس اور جراثیم مثلاً ہیپاٹائیٹس, ہرپیس، ایبولا زکا، تھوک کے ذریعے ایک دوسرے میں منتقل ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بندے کے منہ میں یہ وائرس ہیں 😆 بلکہ جو شخص کسی گندی جگہ سے ان کا متاثر ہوا ہو۔ اس لئیے ایسے مریضوں سے ملتے وقت ماسک لازمی پہنیں۔
منہ میں تھوک کی کمی کے اثرات:
منہ میں تھوک کی کمی کے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ تھوک میں کمی سے بہت سارے جراثیموں کو حملہ کرنے کا موقع ملے گا، منہ میں متعدد زخم ہوتے رہیں گے، مسوڑوں پر بیکٹیریا آکر حملہ کرتے رہیں گے جس سے مسوڑوں میں زخم بھی ہونگے منہ میں بدبو بھی پیدا ہوگی، گلے کے، معدے کے مسائل جنم لیں گے اور سب سے بڑی بات آپ کے دانتوں کی تباہی شروع ہوجائے گی۔
تھوک میں کمی کی بڑی وجہ سٹریس ہے۔ سٹریس میں ہمارے تھوک کے گلینڈز ٹھیک طرح کام نہیں کرتے۔ خوف میں بھی ہمارا منہ خشک ہوجاتا ہے۔ دراصل انسان 60 فیصد پانی پر مشتمل ہے اور دماغ اس پانی کو مختلف عضو کے ذریعے آگے پیچھے کرتا رہتا ہے اب چونکہ خوف میں جسم کا درجہ حرارت بڑھتا ہے تو نتیجتاً جسم پسینہ خارج کرتا ہے تاکہ جسم کے درجہ حرارت میں بیلنس ہو. پانی پسینے میں چلا جائے گا تو گلینڈز کو کم ملے گاجس سے تھوک میں واضح کمی ہوگی اسی لئیے خوف پریشانی میں گلا خشک ہوجاتا ہے۔ (پکڑے جائیں تو پھر بھی تھوک نہیں بنتا 😅)
تھوک میں کمی کو کیسے پورا کیا جائے۔
تھوک میں کمی کو Dry Mouthکہتے ہیں اور ڈاکٹرز ادوایات سے بھی اس کا علاج کرتے ہیں جبکہ سب سے بہتر حل پانی کا باقاعدہ استعمال ہے تاکہ جسم میں وافر مقدار میں پانی موجود ہو۔ اس لئیے خوف یا سٹریس میں خوب پانی پئیں۔
شوگر فری ببل گم اور ٹافیاں بھی ملتی ہیں جن میں Xylitol شوگر موجود ہوتی ہے۔ یہ کیمیکل تھوک کے گلینڈز کوایکٹو کرتا ہے۔ اس لئیے تھوک کی کمی کے شکار لوگ، ( جن کی زبان بھی سفید ہوجاتی ہے) اس ببل گم کا استعمال کریں۔ یہ گم بچوں کے دانتوں کے لئیے بھی مفید ہے۔
میڈیکل سٹور سے Dry Mouth والے مائوتھ واش کا استعمال بھی بہتر ہے۔ سگریٹ نوشی شراب نوشی، چائے سو ڈا کا زیادہ استعمال بھی تھوک کی کمی کا باعث بنتا ہے۔
تھوک کی کمی سے بہت سارے غزائی اجزا ٹھیک طرح ہضم نہیں ہوپائیں گے نتیجتاً معدے کی سختی آجائے گے۔ کھانا دیر سے ہضم ہوگا۔ گیس اور قبض کی شکایت ہوگی۔
بہت ساری ادوایات بھی تھوک کو خشک کرتی ہیں۔ منہ کی بدبو تھوک کا جمنا ہونٹوں کے اطراف میں کٹ سب تھوک کے مسئلے ہیں۔ زیادہ پانی پئیں، شوگر فری چیونگم چبائیں اور منہ بند کرکے سویا کریں😄.
منہ میں تھوک کی زیادتی:
حمل کے دوران اکثر خواتین کو ہوجاتی ہے، کسی زہریلے مادے مثلاً مرکری کے سامنے آنے سے بھی یہ مسئلہ ہوتا ہے، گلے کے انفیکشن ٹانسلز اور الرجی وغیرہ بھی تھوک میں زیادتی کرتے ہیں جو کافی الجھن پیدا کرتا ہے۔ لیکن کچھ خاص گھبرانے کی بات نہیں وقت سے ٹھیک ہوجاتا ہے۔ اگر نہ ہو پھر ڈاکٹرز خشک کرنا جانتے ہیں۔ 😆.
دنیا میں سب سے دور تھوک پھینکنے کا ریکارڈ امریکہ کے ایلکس پنا نے بنایا جنہوں نے اپنا تھوک 22 فٹ دور پھینکا۔
دل تو چاہ رہا تھوک پر مذید لکھوں لیکن اپنا گلا خشک ہوگیا 😛.
خوش رہنا بہت ساری بیماریوں کی شفا ہے۔ خوش رہنا سیکھیں!
بشکریہ: عظیم لطیف

ممسک اعلی و ممسک کمال👇👇👇👇👇👇👇👇کوکنار 32 ماشہنکچھکنی 35 ماشہتخم پھٹکنڈا32 ماشہ ہانڈی گلی میں پانچ سیر پانی میں سرپوش دے کر...
22/12/2025

ممسک اعلی و ممسک کمال
👇👇👇👇👇👇👇👇

کوکنار 32 ماشہ
نکچھکنی 35 ماشہ
تخم پھٹکنڈا32 ماشہ
ہانڈی گلی میں پانچ سیر پانی میں سرپوش دے کر پکائیں بعد چند جوش آنے کے اتار کر سرد کر کے چھان کر بوتل میں بھر رکھیں بوقت ضرورت ایک سے دو تولہ تک پانی پی لیں پھر ایک گھنٹے کے بعد مشغول ہوں قضیب سخت رہے گا اور انزال نہ ہوگا جب تک ترشی نہ کھائیں بغیر عورت کے ہرگز استعمال نہ کریں یہ انتہائی بے ضرر اور اسان علاج ہے بہت سستی چیزیں ہیں اور غریب مساکین لوگ اس کو استعمال کر سکتے ہیں اور اپنے ہر قسم کی اس جیسی مسائل جو مم گے ممسک امساک کے متعلقہ ہیں اس کو ختم کر سکتے ہیں انشاءاللہ اپ نا امید نہیں ہوں گے استعمال
کریں اور دعاؤں میں یاد رکھیں۔کوٸ بھی دوا طبیب کے مشورے کے بغیر استعمال نہ کریں۔
بشکریہ.

وجیہ خان نیازی۔

صرف خواتین کے لیے بہترین فربہ کرنے والا نسخہکچھ خواتین فطری طور پر دبلے پتلے جسم کی حامل ہوتی ہیں۔ جسم کمزور، ہڈیاں نمای...
10/12/2025

صرف خواتین کے لیے بہترین فربہ کرنے والا نسخہ

کچھ خواتین فطری طور پر دبلے پتلے جسم کی حامل ہوتی ہیں۔ جسم کمزور، ہڈیاں نمایاں، بھوک کم، چہرہ تازگی سے خالی اور معمولی کام سے بھی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ ایسی خواتین کو جب وزن بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو یا تو غذا ہضم نہیں ہوتی یا پھر جسم گوشت پوست نہیں پکڑتا۔ ایسے تمام مسائل کے حل کے لیے یہ آزمودہ نسخہ نہایت مؤثر ہے۔

اس نسخے نے بے شمار سوکھی، پتلی اور کمزور ماؤں اور بہنوں کے چہرے پر دوبارہ رونق لوٹائی ہے۔ جسم میں بھراؤ پیدا کیا، بھوک کو تیز کیا، جگر کو طاقت دی اور خون کی پیدائش میں اضافہ کیا۔
ھوالشافی
میٹھا سوڈا سو گرام
طباشیر سو گرام
دانہ الائچی خورد پچاس گرام
کشتہ فولاد پچاس گرام
زرشک شیریں سو گرام
زیرہ سفید پچاس گرام
اسگندہ ناگوری پچاس گرام
ورق نقرہ تین عدد
گوند کتیرا پچاس گرام
تخم قنب تیس گرام

تمام ادویات کو اچھی طرح صاف کر کے باریک پاؤڈر بنا لیں تاکہ محلول آسانی سے ہضم ہو سکے اور جسم فوراً جذب کر لے۔

طریقہ استعمال
صبح آدھی چمچ دودھ کے ساتھ
شام آدھی چمچ دودھ کے ساتھ

ساتھ میں یہ لازمی جاری رکھیں
رات کو چنے یا چھولے گیارہ عدد بھگو دیں
صبح نہار منہ چبا کر کھائیں
یہ جسم کو قدرتی پروٹین، فولاد اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔

فوائد
کمزور اور دبلے پتلے جسم والی خواتین کے لیے بہترین
جسم میں تیزی سے گوشت پوست پیدا کرتا ہے
بھوک لگاتا ہے اور غذا کو خوب ہضم کراتا ہے
جگر کو طاقت دیتا ہے
خون کی نئی مقدار پیدا کرتا ہے
چہرے کو تروتازہ، بارونق اور چمکدار بناتا ہے
لاغری کو دور کر کے جسم کو مضبوط اور فربہ کرتا ہے
ایسی خواتین جو چاہتی ہیں کہ ہم موٹے، مضبوط اور طاقتور ہو جائیں، ان کے لیے نہایت مفید ہے

میں نے یہ نسخہ بارہا سوکھی، پتلی اور کمزور بہنوں کو استعمال کرایا
چہرہ کھل اٹھا
جسم بھرپور اور خوبصورت ہوا
بھوک مناسب ہوئی
چہرے پر قدرتی شگفتگی لوٹ آئی

یہ نسخہ فربہی کے ساتھ ساتھ جگر کو جوان کرتا ہے اور خون کی کمی کو ختم کرتا ہے۔

*قدیم سنیاسی کوبرا طلاء جو سکڑے عضو کو دراز کرے, ٹوٹے عضو کو سیدھا کردے, اور چھیچھڑا نما عضو کی مردہ رگوں میں جان ڈالے*س...
09/12/2025

*قدیم سنیاسی کوبرا طلاء جو سکڑے عضو کو دراز کرے, ٹوٹے عضو کو سیدھا کردے, اور چھیچھڑا نما عضو کی مردہ رگوں میں جان ڈالے*

سنکھیا کانی 5 گرام
شنگرف رومی 50 گرام
دونوں کو اکٹھا ڈول جنتر کرلیں. پھر ان دونوں کو مخمل کے کپڑے کی پوٹلی مین باندھ لیں اور کپڑے کی ایک اور تہہ باندھین. اور ایک کھلا برتن لے کر گائے کا گھی تین کلو اور پانچ کلو گائے کا مکھن لے لین. گھی برتن مین ڈال کر گرم کریں جب ھلکا گرم ہوجائے تو پوٹلی گھی گھی میں ڈال دیں. آگ کو تیز کردین. جب گھی فل گرم ھوکر بلبلے بننے لگیں تو اس مین ایک ایک پاو کرکے چار کلو مکھن ڈالتے جائیں. باقی ایک کلو مکھن سمبھال کر رکھ لین. پوٹلی کو گھی مکھن مین مسلسل تین دن پکاتے رھین. جب گھی جل جل کر ڈیڑھ کلو رہ جائے تو آدھا کلو مکھن پھر ڈال دیں. اور پکاتے رھین. پوٹلی کو چمچے سے زیادہ ھلانا نہین تاکہ شنگرف اور سنکھیا چورہ نہ ہوجائے. جب آدھا کلو گھی رہ جائے تب بقیہ آدھا کلو مکھن پھر ڈالنا ہے. اور آگ مدھم کردین. اوپر ڈھکن نہین رکھنا. بارہ گھنٹے مزید پکانے کے بعد آگ تیز کر دین تو گھی گاڑہا اور پنک رنگ کا ہوجائے تو پوٹلی نکال لین اور دونوں ادویہ کھرل مین ڈالیں. اور اچھی طرح رگڑائی کردیں. بچا ھوا گھی الگ برتن مین سمبھال لین. اور اس ٹھنڈے گھی مین کھرل شدہ ادویہ ڈال دیں. اور 25 گرام مصفی پارا بھی ڈال دیں. پھر یہ سب مواد روح افزاء والی شیشے کی خالی بوتل مین ڈال دیں. اور تین گرام بلیک کوبرا کی زہر بھی اس بوتل مین ڈال دیں. اور سات سانپوں کے پتے ڈال دیں. چاہے خشک ھوں یا تازہ ہوں. اور بوتل کا ڈھکن اچھی طرح سیل بند کردیں.
اب دوسرا مرحلہ شروع ہوگا. ایک بڑی سی پرات لیں جس مین کپڑے دھوئے جاتے ھین. جس مین پندرہ بیس کلو چیز آ جائے. اب بھینس کا تازہ گوبر لے کر پرات مین ڈالین اور اس مین مزکورہ بوتل دبادینی ھے اور پرات سائے مین رکھ دین. . پندرھ بیس یوم کے بعد جب گوبر بالکل خشک ھوجائے تو بوتل نکال لین.
پچاس دیسی ابلے انڈوں کی زردیاں لے لین. بوتل کا سارا مواد کسی سٹیل کے برتن مین ڈال دیں. اور زردیاں اس مین مکس کردیں. ھاتہ نہین لگانا کسی لکڑی یا چمچ سے خوب مکس کرنا ہے. اب درج زیل ادویہ ھر ایک پچیس گرام لے کر باریک پاوڈر کرکے بوتل والے مواد مین مکس کردیں. . .
پھٹکڑی, بورہ ارمنی, میٹھا تیلیا, کچلہ, پوست بیخ کنیر سفید, فرفیون, مویزج کوھی, اجوائین خراسانی, مغز جمالگوٹہ, مغز حبہ, کٹھ تلخ, اندرجو شیریں, پوکھرمول, مازو سبز, انزروٹ, ھیرا ھینگ اصلی, زفت رومی, گھونگچی سفید, مالکنگنی, جونک, زرد چوب, عقرقرحا, دارچینی, خراطین, بہیر بہوٹی, جندبیدستر, برادہ عاج, شنگرف ڈلی, موم سفید, شاہ دیمک, جلوتری, جائفل, زنمار, جڑپان, بڑی آلائچی, تخم دھتورہ, گوگل بھینسیا..
اب ھاتھوں پر ربڑ کے دستانے چڑھا کر اس ادویہ ملے تمام مواد کو آٹے کی طرح گوندہ لین. اب آتشی شیشی گل حکمت کرلین اور تانبے کی سلائیاں بوتل مین ڈال کر آدہا مواد بھر دیں اور پتال جنتر تیل نکال لین. اور بقیہ مواد مین ایک کوبرا سانپ کا قیمہ مکس کرکے اسکا بھی پتال جنتر تیل نکال لین. دونوں تیل الگ الگ رکھین. یہ دونوں ہی طلے ہین. پندرہ دن تیل یونہی پڑا رہے. پندرہ دن بعد تیل مین کوئی سلائی مار کر چیک کرین. کہ تیل کے نیچے کچھ مواد رسوب کی مانند بیٹھا ہے تو اوپر سے تیل نتھار لین. اور وہ رسوب الگ کرلین.
تیل ایک نایاب طلا ہے. جو چھیچھڑا نما کمزور لاغر, اور درمیان سے یا جڑ سے ٹوٹے ہوئے عضو خاص کیلیئے بہترین طلا ہے. بطور خاص ان لوگوں کو بھی مفید ہے جو ویاگرہ کھا کھا کر خود کو تباہ کرچکے ھین. یہ طلاء عضو کی مردہ رگوں مین جان ڈالتا ہے اور خون کی روانی بحال کرتا ہے. یہ طلاء صرف سلائی سے عضر پر لکیر لگانی ھے اور انگلی سے مساج کردینا ہے. اوپر شاپر لگاکر پٹی باندھنی ہے اور سب سے اوپر ٹیپ چپکادینی ھے. صرف تین پٹیاں کافی ہین.
جس کا نفس سکڑ کر چھوٹا ہوگیا ہے یا ھاکی کی طرح بالکل ٹیڑھا ہوچکا ہے اسکے لیئے جو رسوب تیل کے نیچے سے برآمد ہوا تھا اسکا مرہم بناکر لگائیں سات پٹیاں کافی ہین.
بشکریہ
*وید احمد سلطان سنیاسی صاحب

جند بدستر یہ کتے سے مشابت رکھنے والا پانی کا حیوان ہے اس کو قندر اور سمور بھی کہتے ہیں۔ یہ  حیوان لومڑی کی مانند کالا ما...
07/12/2025

جند بدستر یہ کتے سے مشابت رکھنے والا پانی کا حیوان ہے اس کو قندر اور سمور بھی کہتے ہیں۔ یہ حیوان لومڑی کی مانند کالا مائل بہی لال رنگ کا ہوا کرتا ہے اس کے علاوہ اس حیوان کے ہاتھ نہیں ہوا کرتے مگر ٹانگیں ہوا کرتی ہیں اس کی پونچھ طویل لمبی ہوا کرتی ہے اور اس کا سر بشر کے سر کے جیسا ہوا کرتا ہے اس حیوان کا چہرہ گولائی میں ہوتا ہے اور یہ حیوان ہاتھ نہ ہونے کی وجہ سے سینہ کی مدد سے چلتا ہے البتہ یہ احساس ہوتا ہے کہ عام مویشیوں کی طرح چاروں ٹانگوں سے چلتا ہے اس حیوان کے چار خصیۓ ہوا کرتے ہیں دو خصیۓ ظاہر اور دو خصیے چھپے ہوئے ہوتے ہیں ان خصیوں کی خوبیوں کی وجہ سے شکار کرنے والے اس حیوان کا شکار کیا کرتے ہیں جس وقت اس حیوان کو علم ہوتا ہے کہ شکاری اس کو پکڑنے کا خواہاں ہے تو یہ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے مگر جس وقت اس کو یقین ہو جائے کہ شکار کرنے والے نے اس کو گھیرے میں لے لیا ہے اور اب بھاگنا مشکل ہے تو یہ اپنے دونوں ظاہری خصیوں کو جدا کر کے شکار کرنے والے کی جانب پھینک دیا کرتا ہے اور اپنی جان کو محفوظ کر لیتا ہے اس لیے کہ شکار کرنے والے کو اس کے ظاہری خصیوں کی حاجت ہوا کرتی ہے اس حیوان میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ یہ پانی کے اندر بھی زندگی بسر کر سکتا ہے اور زمین پر بھی مگر عموما یہ حیوان پانی میں ہی مقیم رہتا ہے اس حیوان کی غذا مچھلی اور کیکڑا ہوتے ہیں۔
خصوصیات!
جند بدستر کے خصیتین نہایت فائدہ مند ہوتے ہیں شیر کے کاٹ لینے سے انسان کے بدن میں پھیلنے والے جراثیم کو دور کرنے کے لیے اس حیوان کے خصیوں کو استعمال کرنا بے حد فائدہ مند ہے۔ اس کے علاوہ دوسری بیماریوں کے لیے بھی فائدہ مند ہے اس ایوان کے خوشیوں کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بدن کے حصوں کو گرمی پہنچاتا ہے رطوبت کو خشک کرتا ہے اور ہر طرز کے مرض کے لیے فائدہ مند ہے اس کی خصیوں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انسان کے بدن کے حصوں کے لیے کسی بھی کیفیت میں نقصان دہ نہیں ہے۔ مرگی کے مرض میں مبتلا شخص کے لیے اس حیوان کے خصیوں کو تیل میں ڈال کر بیمار شخص کے سر پر مساج کریں تو بے حد مفید ہے اگر کوئی آدمی فالج کا شکار ہو جائے یا اس کے بدن کے حصوں میں ڈھیلا پن پیدا ہو جائے تو اس حیوان کے خصیوں کو استعمال کرنے سے صحت یاب ہو جائے گا اس حیوان کے خصیۓ ہر طرز کے زہر کا تریاق ہوتے ہیں اس حیوان کے خصیوں کو استعمال کرنے سے افیون سے پیدا ہونے والی ساری بیماریوں اور بلغم کا خاتمہ ہو جایا کرتا ہے اس حیوان کی جلد موٹے بالوں والی ہوا کرتی ہے جس سے پوسٹ تین بنائی جاتی ہیں مشائخ اس کو استعمال کیا کرتے ہیں اس حیوان کا گوشت فالج کے مریض اور اصحاب رطوبات کے لیے نفع بخش ہے۔
والله اعلم
بشکریہ حکیم ابراہیم

جو مرد حضرات ابھی تک ازدواجی بندھن میں نہیں بندھے وہ سبھی مرد حضرات اس نسخے سے گریز کریں وگرنہ شہوت بہت زیادہ بڑھ جائے گ...
06/12/2025

جو مرد حضرات ابھی تک ازدواجی بندھن میں نہیں بندھے وہ سبھی مرد حضرات اس نسخے سے گریز کریں وگرنہ شہوت بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور آپ گناہ کرنے پہ مجبور ہو جائینگے۔

حکمت کا یہ منور نسخہ مادہ منویہ کی پیدائش کو بہت تیزی سے بڑھاتا ہے اور مادہ منویہ کو گوند کی طرح گاڑھا کرتا ہے جس کے نتیجے سے سختی اور ٹائمنگ بہت حاوی ہو جاتی ہے۔ اور جو شادی شدہ حضرات شہوت کے نہ آنے یا شہوت ٹوٹ جانے سے پریشان ہوتے ہیں انکے مسائل دب کے رہ جاتے ہیں۔ "مرد" بے اولاد حضرات جن کے سپرمز کم ہوتے ہیں۔ ان کے جراثیم (سپرمز) کی تعداد بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ جسکی بدولت پختہ حمل ٹھہر جاتا ہے کیونکہ جراثیم (سپرمز) انتہائی مضبوط اور جاندار ہو جاتے ہیں۔ موروثی طور پہ پیدائشی طور پہ نامرد کا تو الگ طریقے سے علاج ہوتا بے مگر جو غلط کاریوں سے نامرد بن چکے ہیں ان کو یہ دوا کامل مردانگی لوٹاتی ہے۔ بے اولاد حضرات اورسرعت انزال والے مریضوں کے لیے سونے اور ہیرے سے بڑھ کر یہ نسخہ ہے۔ عضو خاص کو طاقت ور بنانے کے ساتھ
ساتھ مرد کو دوسری شادی کے قابل بھی بناتا ہے۔

ھوالشافی
کابلی مصری پچاس گرام موصلی سفید پچاس گرام
اسگند ناگوری پچاس گرام ستاور پچاس گرام
سنگھاڑے پچاس گرام سونٹھ تیس گرام
ریگ ماہی بیس گرام عقرقرحا بیس گرام
بہمن سفید بیس گرام گوند ببول بیس گرام
گوند کتیرا بیس گرام اندر جو شیریں
طباشیر بیس گرام تالمکھانہ بیس گرام
لاجونتی بیس گرام مغز پنبہ دانہ بیس گرام
مصری بیس گرام شقاقل اس گرام
ثعلب پنجہ بیس گرام ثعلب مصری بیس گرام
کمرکس بیس گرام موصلی سیاہ بیس گرام
اور چھلکا اسپغول آدھ پاو

ٹین ایج کچی عمر اور نئی بلوغت ساتھ نوجوانی کی خطائیں، غلط کاریاں اور نادانیوں کو بھرنے کے لیے بہترین اجزاء سے جڑا نایاب ترین گوہر اعظم نسخہ ہے ٹھیک وقت میں ٹھیک طرح سے بنا ہو تو سونے ہیرے سے قیمتی نسخہ ہے۔ معدہ پورے جسم کا ہیڈ کوارٹر ہے یہ گوہر نایاب معدے و جگر کی ترتیب بحالی کے لیے کسی اکسیر و کشتہ سے کم نہیں بلکہ بڑھ چڑھ کے ہے۔ جن حضرات کو ایک بار ج**ع کے بعد دوبارہ شہوت جوش ہوشیاری نہیں آتی وہ دعا دینگے اِ نْ شَآ ءَ اللہ اگر قطرے آتے ہیں بار بار جو کے کام کاج بھی نہیں کرنے دیتے تو یہ نسخہ آپ کے سکون کی ضمانت ہے

ترکیب استعمال
نہار منہ ایک چمچ نیم گرم دودھ آدھ سیر سے ناشتہ کم از
کم تیس منٹس بعد کریں
دوسری خوراک مغرب سے عشاء کے مابین
شوگر کے مریض کابلی مصری نہیں استعمال کرینگے اس دوا میں بلکہ جب تمام اجزاء ملائم پیس جائینگے تو شوگر والے بھائی دوست جوہر خصہ استعمال کرینگے۔
دعاوں کی درخواست۔
بشکریہ
حکیم عبدالغفار

مربہ آملہ مشہور کہاوت ہے کہ آملہ کا  کھایا اور بزرگوں کا کہا بعد میں پتہ چلتا ہے یعنی ان دونوں میں جو فوائد پوشیدہ ہیں و...
02/12/2025

مربہ آملہ
مشہور کہاوت ہے کہ آملہ کا کھایا اور بزرگوں کا کہا بعد میں پتہ چلتا ہے یعنی ان دونوں میں جو فوائد پوشیدہ ہیں وہ بعد میں سامنے آتے ہیں آملہ میں قوت اور توانائی کا خزانہ بند ہے اگر آپ کی قوت کمزور ہے اور موسم کے بدلتے ہی آپ بیمار پڑ جاتے ہیں تو آپ مربہ آملہ کھائیے۔۔ مربہ آملہ کھانے سے موسم کی سختیوں سے لڑنے میں مدد ملتی ہے اس میں وٹامن سی کا خزانہ چھپا ہوا ہے ایک آملہ میں بارہ لیموں جتنا وٹامن سی ہوتا ہے ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے بہت مفید ہے ۔السر میں بہت مفید ہے۔جگر کی کارکردگی بڑھاتا ہے دل اور دماغ کو قوی کرتا ہے۔بڑھے ہوے کولیسٹرول میں فایدہ مند ہے۔ یاداشت بڑھاتا ہے اس کے علاوہ تیزابیت اور سینے کی جلن بالوں کے قبل از وقت سفید ہونے اور خون کی بہت سی بیماریوں میں مفید ہے ۔
ترکیب استعمال
اطباء قدیم صبح تین عدد کا آملہ کا ناشتہ کرنے کی تلقین کرتے آئے ہیں دو سے تین عدد آملہ اچھی طرح دھو کر میٹھا نکال کر چبا چبا کر کھائیں ۔ساتھ میں دودھ کا ایک کپ نیم گرم لیں۔
مربہ آملہ بنانے کا طریقہ ۔

دو کلو تازہ آملہ لے کر اس کو پانی میں اچھی طرح بھگودیں ایک رات پانی میں بھیگا رہنے کے بعد نکال کر صاف کریں اور اور ایک علیحدہ برتن میں پانی لے کر اس میں دو چمچ پسی ہوئی پھٹکری ڈالیں ایک رات کے لیے مزید پھٹکڑی والے پانی میں ڈبو دیں ۔ تقریباً 24 گھنٹے ڈوبا رہنے کے بعد تمام آملے پھٹکڑی والے پانی میں سے نکال کر کھلے پانی میں اچھی طرح دھوئیں تاکہ پھٹکڑی کا اثر زائل ہو جائے آملہ پھول کر نرم ہو جائے گا اس میں کانٹا چمچ کے ساتھ چاروں طرف سے چھید کریں اب اسے کھولتے ہوئے پانی میں پانچ سے چھ منٹ پکائیں ۔ایک علیحدہ برتن میں ایک کلو چینی اور ایک گلاس پانی کا قوام تیار کریں اس میں آملہ ڈال کر اچھی طرح پکائیں جب قوام گاڑھا ہوجائے تو دوسرے دن پتلا ہونے پر پھر پکائیں ۔اس طرح بنا ہوا آملہ کا مربہ انتہائی زود ہضم اور تادیر محفوظ رہے گا ۔جراثیم سے پاک مربہ گھر میں اپنے ہاتھوں سے بنائیں۔بچوں کو ناشتہ میں ضرور کھلائیں۔
اچھے مربہ آملہ میں رنگت سبزی مائل ہوگی۔سائیز بڑا ہو گا۔سیاہی مائل آملہ تازہ نہ ہوگا۔کھانے میں کڑوایٹ پیدا ہو چکی ہو گی۔لہذا خریدتے وقت ان ہدایات کو مد نظر رکھیے
آملہ کینڈی
آملہ مربہ
آملہ چٹنی
آملہ جام
آپ ایک آملہ سے مختلف چیزیں بنا سکتے ہیں

نسخہ پتھری گردہ..یہ نسخہ جناب سید ادریس گیلانی صاحب کا ھے  مجرب ھے.....نسخہ...کشتہ سنگ یہود سادہ25گرام.کشتہ سنگ سرماھی10...
27/11/2025

نسخہ پتھری گردہ..یہ نسخہ جناب سید ادریس گیلانی صاحب کا ھے مجرب ھے.....نسخہ...کشتہ سنگ یہود سادہ25گرام.کشتہ سنگ سرماھی10گرام دونوں کوپچاس گرام تیزاب گندھک میں تھوڑا تھوزا کرکے ڈال دیں پھر تیزاب نرم اگ پر ازا دیں اور پھر اس میں عام پانی ڈالکر پکائیں کہ تیزاب کااثر ختم ھو جائے پھر اس کشتہ میں 25گرام پانی کھٹکل بوٹی کا کھرل کرکے قرص بنا لیں اوردس ٹولہ اس بوٹی کھٹکل کے نغدہ میں دے کر گل حکمت کرکے سات کلو اگ دیں سرد ھونے پر نکال کر دوبارہ کھٹکل کے 25 گرام پانی میں کھرل کرکے بغیر نغدہ کے 5کلو گل حکمت اگ دیں اسی طرح ھر بار پچیس پچیس گرام پانی کھٹکل میں کھرل کرکےسات بار اگ دیں کشتہ اکسیری تیار ھوا ...خوراک چار چاول روزانہ انشاءاللہ چند دن میں پتھری موم بن کرنکل جائے گی مریض کو پتہ بھی نہی چلے گا جس کو مزید تفصیل چائیے تو سید صاحب کی ائی ڈی پر جائیں ............نوٹ کشتہ سنگ یہود اور سنگ سرماھی ......یہود25 گرام سنگ سرماھی دس گرام لے کر کزاھی میں ڈال کر ان کے اوپر کوئی برتن موندھا مار کر نیچے اگ تیز جلائیں چب اوازیں دینے لگیں تو کھٹکل بوٹی کا دس تولہ پانی برتن کے ایک طرف سے پتھروں پر ڈال دیں جب شور بند ھو جائے تو اگ بند کر دیں سرد ھونے پر پیس لیں یہ سادہ کشتہ ھیں اگے اوپر والا عمل کریں

Address

Sabzazar Lahore
Lahore

Telephone

+923234226763

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tib-e-Jadeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Tib-e-Jadeed:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram