01/05/2026
پروفیسر ڈاکٹر اقبال صاحب کے ساتھ آرتھوپیڈکس پی جی آرز کی ہائی۔ ٹی
ہسپتال کی مصروف زندگی میں کچھ لمحے ایسے ہوتے ہیں جو وارڈ کی بھاگ دوڑ، او پی ڈی کے رش اور آپریشن تھیٹر کی ٹینشن سے الگ ایک تازہ ہوا کا جھونکا لے کر آتے ہیں۔ ایسی ہی ایک شام آرتھوپیڈکس ڈیپارٹمنٹ کا ایک نجی ہوٹل میں "ہائی۔ ٹی پروفیسر ڈاکٹر اقبال"کے ساتھ اہتمام کیا گیا۔
سکرَب سے سموسے تک کا سفر
۔ میز پر چائے کی پیالیاں، پکوڑے، سینڈوچ اور کیک سجے تھے۔ سامنے وہی پی جی آرز بیٹھے تھے جو صبح سے پلستر، پلاسٹر آف پیرس اور پروکسیمل فیمر فریکچر میں الجھے ہوئے تھے۔ مگر آج سب کے چہروں پر تھکن کی بجائے مسکراہٹ تھی۔ کیونکہ آج *"سر"* یعنی پروفیسر ڈاکٹر اقبال صاحب صرف استاد نہیں، میزبان بن کر آئے تھے۔
چائے کی پہلی چسکی اور برف ٹوٹ گئی
ڈاکٹر اقبال صاحب نے چائے اٹھاتے ہی کہا: *"بیٹا، ہڈی جوڑنا تو ہم سکھا ہی دیں گے، پہلے انسان جوڑنا سیکھو"*۔ بس، ماحول کا سارا بوجھل پن ختم۔ جونیئر پی جی آر نے ہمت کر کے پوچھ لیا: *"سر، آپ کے زمانے میں نائٹ ڈیوٹی کیسی ہوتی تھی؟"*۔ جواب میں 30 سال پرانے قصے نکل آئے — جب وارڈ میں پنکھا نہیں ہوتا تھا، ایکسرے فلم دھونا پڑتی تھی، سب ہنسے، اور سمجھ گئے کہ ہر دور کی اپنی آزمائش ہوتی ہے۔
ہائی ٹی کا اصل فائدہ یہ تھا کہ یہاں *"وائیوا"* نہیں ہو رہا تھا۔ بات نکلی تو *"کیریئر کونسلنگ"* پر آ گئی۔ سر نے سمجھایا: *"آرتھوپیڈکس صرف راڈ اور پلیٹ کا نام نہیں۔ مریض کی نفسیات سمجھو۔ 80 سال کی دادی کا فیمر ٹوٹے تو اسے چلنے کے ساتھ حوصلہ بھی چاہیے"*۔ کسی نے FCPS کا ڈر بتایا، تو کسی نے بیرون ملک جانے کا پوچھا۔ جواب ایک ہی تھا: *"اسکل سیکھو، شارٹ کٹ نہیں۔ ہاتھ میں صفائی ہو گی تو دنیا خود بلائے گی"۔
چائے کے ساتھ ساتھ سینئر PGR نے سر کے *"فیمس ڈانٹنے کے اسٹائل"* کی نقل اتاری تو قہقہے گونج اٹھے۔ خود ڈاکٹر صاحب بھی ہنس دیے: *"ڈانٹتا اسی کو ہوں جس سے امید ہو"*۔ آخر میں گروپ فوٹو ہوئی۔ سکرَب کی بجائے سب نے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے — ایک ٹیم، ایک فیملی.
وہ ایک گھنٹے کی ہائی ٹی *تھیسس، لاگ بک اور کال سے زیادہ قیمتی تھی۔ کیونکہ وہاں ہم نے سیکھا کہ *بڑا سرجن وہ نہیں جس کے ہاتھ سیدھے ہوں، بڑا انسان وہ ہے جس کا دل مریض اور جونیئر دونوں کے لیے دھڑکے۔
, , , ,