28/07/2020
28 جولائی۔ ہیپاٹائٹس کا عالمی دن اور پاکستان
ہمارے لیے اس دن کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ پاکستان ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں ہیپاٹائٹس بی اور سی کے مریض سب سے زیادہ ہیں۔ محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے پانچ ملین جبکہ ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد دس ملین ہے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ اس خطرناک اضافے کی وجہ اس مہلک بیماری کے بارے میں آگاہی کا فقدان اور علاج معالجہ کی سہولتوں کی قلت ہے۔ ہیپاٹائٹس بی اور سی ( کچھ لوگ اسے کالایرقان بھی کہتے ہیں) ایک خاموش قاتل ہیں کیونکہ بدقسمتی سے اس کی ابتدائی مراحل میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اور جب علامات سامنے آتی ہیں تب تک یہ جگر کو بہت حد تک متاثر کر چکا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں صرف 12 فیصد لوگ ایسے ہیں جو اپنے مرض سے آگاہ ہیں جبکہ باقی لوگ اس مہلک بیماری کے کاری وار سے یکسر بے خبر ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے ہیپاٹائٹس کے کنٹرول کے لیے ایک جامع پروگرام وضع کیا ہے جس کے مطابق یہ ہدف مقرر کیا گیا ہے کہ 2030 میں ہیپاٹائٹس سی وائرس پر 90 فیصد تک کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔
وسائل کی کمی کی وجہ سے ہم ابھی اس ہدف سے بہت پیچھے ہے۔ اگرچہ حکومتی سطح پر اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے کافی سنجیدہ کوششیں شروع ہو چکی ہیں لیکن جب تک ہم انفرادی طور پر عمل نہیں کریں گے تو اس ہدف کو حاصل کرنا ناممکن ہے۔
انفرادی طور پر ہم جو کرسکتے ہیں وہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس وائرس کا ٹیسٹ کروائیں تاکہ ٹیسٹ کرکے ان لاکھوں لوگوں کا پتا چلایا جا ئے جو اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں اور وہ اس بات سے بے خبر ہیں اور دوسروں کو پھیلانے کا باعث بھی بن رہے ہیں۔ خوش قسمتی سے ہیپاٹائٹس سی کا بہت متاثرکن علاج موجود ہے جس میں کامیابی کی شرح 95 فیصد سے زیادہ ہے۔ پہلے کے تکلیف دہ انجیکشن کی جگہ اب صرف گولیاں استعمال ہوتی ہیں۔
آئیں مل کر جدوجہد کریں اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
ڈاکٹر راجہ اکرام الحق۔ ماہر امراض معدہ،جگر