
27/09/2023
وہ جو میدان میں اترے تو اپنی حکمت اور ہنر سے اپنے ملک کے نام کے جھنڈے گاڑے۔ میدان سے نکلے تو اپنی قوم کے درد کا درماں کرنے کو جت جائے۔اقتدار میں آئے تو اپنی پشت پر دھوپ سہے اپنے لوگوں کو چھاؤں میں رکھے۔بے گھروں کو سڑک سے اٹھا کر نرم بستر مہیا کرے۔ بھوکے کو عزت سے بٹھا کر تر نوالہ کھلائے۔ وہ بیمار ہوں تو ان کے زخموں پر مرہم رکھے۔ ان کے روزگار کی سبیل کرے۔ ان کی تعلیم کا انتظام کرے۔آفتوں میں ان کا “احساس” کرے۔
ایک اللہ کے سامنے جھکنے والا، خوددار ہو لیکن بادشاہوں کی محفلوں میں اپنے مزدور کی خاطر خواست کرے۔ اپنی گردن پہ بھلے تلوار لٹکی ہو، اپنے لوگوں کی حمیت کو دنیا کی خوشنودی پر مقدم رکھے۔ خود کی پیٹھ میں گھپے خنجروں سے بے نیاز ہو، اپنی آستین کے سانپوں کو معاف کرے لیکن اپنی قوم کی امانت میں خیانت کو درگزر کرنے سے انکاری ہو۔ وہ کہ جس کا جرم اپنی ملت سے وفاداری ہو۔
جو حکومت خدمت کی طرح کرتا ہو، سیاست جہاد کیطرح، تو پھر وہ قید بھی عبادت سمجھ کر کاٹتا ہے!
وہ بے قصور، عبادت سمجھ کے قید کاٹ رہا ہے، قوم اس کی قید کو اپنا امتحان سمجھ کے جھیل رہی ہے۔
مگر تم جو نخوت سے اس کی قید اور ہمارے امتحان کو اپنا اختیار جان رہے ہو تمہاری طاقت اللہ کی چھوڑی ہوئ وہ رسی ہے کہ گر خود نا رُکے تو اس کی طوالت جہنم کی گہرائیوں میں جا کے رکھتی ہے۔
یہ جو بے آسرا، کڑی دھوپ میں جلتی قوم تمہارے بوئے کانٹوں پر برہنہ پا چل کر قبرستانوں میں اپنے بچے دفنا رہی ہے۔ یہ جو مائیں ہسپتال کے ننگے فرشوں پر ایڑیاں رگڑ رہی ہیں۔ یہ بے کس باپ جو اپنے ہاتھوں کے چھالوں کو خالی آنکھوں سے تکتے اپنے آنسو پیتے ہیں۔ یہ جو بے ردا بہنیں تمہارے قید خانوں میں بے قصور شب و روز کاٹ رہی ہیں۔ یہ مٹھیاں بھینچے جوان کہ جن کے جسموں پر تمہارے ظلم کی داستانیں رقم ہورہی ہیں۔ یہ دربدر بھٹکتے خاندان، اپنے مال و متاع سے بیگانہ اپنی غیرت کی قیمت چکھاتے آنکھوں میں راتیں کاٹتے ہیں۔ ان راتوں کی طولانی اور تمہاری دراز رسی تم سے سوال کرتی ہے؛ تم عبادت سے تو گئے تھے کچھ اپنے انساں ہونے کا بھرم ہی رکھ لیتے۔۔
یہ کہانیاں گھانٹیں ہیں جو تمہاری دراز رسی کو تمہاری گردنوں کا طوق بنانے کے لئے ڈل رہی ہیں۔ وہ تو عبادت سمجھ کر کاٹ رہا ہے، ہم امتحان سمجھ کر جھیل رہے ہیں تمہاری ایسی بدبختی تم اپنے عذاب کو نخوت سے پاس بلا کر اپنے ہاتھوں اپنے طوق کی گھانٹیں باندھ رہے ہو۔ کیا کررہے ہو؟
کدھر کو گامزن ہو؟