10/11/2025
Midlife Crisis کے حوالے سے تحریر پر حسب توقع کافی سوالات موصول ہوئے ہیں احباب کی خدمت میں اس حوالے سے چند گزارشات پیش خدمت ہیںہم نے جن ہربل ازم کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کی وہ سب سے پہلے مختلف پھولوں کی چائے اور پتیوں کی چائے سے شروع کرواتے ہیں‘اس کے ساتھ خوراک اور لائف اسٹائل میں تبدیلیاں اکثریتی مریض اس معمولی تھراپی سے ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں‘میرے ایک دوست”کرانک ڈیپریشن“کا شکار تھے‘ماہرنفسیات اسے جو دوائیاں دے رہا تھا اس سے یاداشت اور دماغی افعال متاثرہورہے تھے‘تین ماہ تک اسے ایک گھنٹا شام کی واک‘تین دن دوستوں سے لازمی ملاقات‘ذہنی دباﺅ برداشت سے باہر ہونے کی صورت میں فوری باہر نکل کر ٹہلنا‘ دوائی کے طور پر لیونڈر ‘چنبیلی‘لمیوں کے چھلکے‘تلسی اور دارچینی کا قہوہ دن میں تین چار کپ ‘ دن میں دو کپ سبزالائچی ‘گل خطمی‘تلسی اورگل بابونہ کا قہوہ‘تکیے کے غلاف میں لمیوں کے خشک چھلکے کے کچھ ٹکڑے ‘گرمیوں میں دومرتبہ جبکہ سردیو ں میں کم ازکم ایک مرتبہ نہانا‘سونے سے دو گھنٹے پہلے فون ‘ٹی وی‘کمپیوٹر ہر قسم کی ڈیوائسز بند کرکے گھروالوں کے ساتھ بیٹھ کر پوری توجہ سے گپ شپ کرنا‘پودوں کی دیکھ بھال‘گلی کو کھانا دے کر کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھنا-یہ وہ ”نسخہ“ تھا جس سے دوست کی تھراپی کی الحمدللہ دو‘تین ہفتوں میں ہی نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے تھے-ہی نسخہ ان تمام خواتین وحضرات کے لیے ہے جو کسی بھی قسم کے ڈپیریشن کا شکار ہیںمیں پھولوں کی چائے کی اہمیت کا بہت قائل ہوں ‘پھولوں کی چائے (دودھ کے بغیر‘قہوہ بنانا ہے) قدرتی اینٹی ڈپیریشن ہے ‘آپ خشک پھولوں کا ٹینکچر بناکر بھی استعمال کرسکتے ہیں اگر آپ کو دن میں چھ‘سات مرتبہ چائے بنانے سے مسلہ ہوتو ٹینکچربنا کر استعمال کریں ‘اسی طرح لیموں ‘مالٹا‘سیب اور دیگر موسمی پھلوں کے چھلکے ضائع نہ کریں بلکہ انہیں اچھی طرح دھوکر حسب ضرورت پانی میں ڈال کر ان کا قہوہ بناکرپئیں‘انار کے چھلکے سے سیرپ‘قہوہ اور ٹینکچر بنا کر استعمال کیا جاسکتا ہے(پانی کے برتن میں دو ‘تین چمچ بیکنگ سوڈا حل کرکے محلول میں چھلکوں کو دھونے سے ان پر موجود ہر طرح کے مضرصحت اجزا صاف ہوجاتے ہیں)-خواتین اور بچیوں کے لیے انار کا سیرپ‘قہوہ یا ٹینکچر بہت زیادہ مفید ہے کیونکہ یہ فولڈایسڈ (فولاد) سے بھر پور ہے اور ہمارے ملک میں خواتین اور بچیوں کی اکثریت آئرن کی کمی کا شکار ہے ‘یہ بغیر کوئی پیسہ خرچ کیئے ایک بہت ہی مفید نسخہ ہے ‘اس میں انار کے چھلکوں کے ساتھ ایک حصہ لمیوں‘مالٹا‘موسمی ‘نارنگی ‘گریپ فروٹ یا کنوں جس کے بھی چھلکے دستیاب ہوں وہ ڈال لیں‘ سیرپ بنانے کی صورت میں سفید چینی کی بجائے دیسی گڑاستعمال کریں کیونکہ گڑمیں گلوکوزکے علاوہ آئرن کی کافی مقدار ہوتی ہے ‘سٹریس فیملی کے چھلکے کیوں ضروری ہیں؟ انار کے چھلکوں سے آئرن کی بڑی مقدار جسم کو ملے گی تو لمیوں‘مالٹا‘ نارنگی ‘گریپ فروٹ یا کنوں کے چھلکے میں موجود وٹامن سی آئرن کے جسم میں جذب کرنے میں مددگار ہیں‘ڈاکٹر آئرن کی گولیوں کے ساتھ مالٹے کا جوس یا لمیوں کا رس اسی لیے استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں یا ایسی آئرن کی گولیاں نسخے میں شامل کی جاتی ہیں جن میں وٹامن سی بھی شامل ہو -امید ہے احباب ان چھوٹے چھوٹے نسخوں سے استفادہ کریں گے اور ضرورت مند لوگوں تک بھی انہیں پہنچائیں گے