18/10/2025
👺 وہ جو ہم چنوں کی طرح antibiotics چھینک آنے پر بھی کھا لیتے ہیں ۔۔۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ اب نمونیا، ٹائیفائڈ اور sepsis کے بعد پیشاب کے انفکشن میں بھی عام انٹیباؤٹکس کام نہیں کر رہیں 👺
🛑کراچی، لاہور اور پشاور کے Tertiary نگہداشت کے اسپتال پہلے ہی ٹائیفائیڈ، پیشاب کی نالی کے انفیکشن اور نمونیا کے علاج میں سیفٹریاکسون اور سیپروفلوکسین کی ناکامی کی اطلاع دے رہے ہیں۔
Klebsiella pneumoniae اور E. coli🛑
کے آدھے سے زیادہ strains جو پیٹ اور پیشاب کے انفیکشن سے منسلک ہوتے ہیں ۔۔۔اب تیسری نسل کے Cephalosporin بھی اُن پر اثر انداز نہیں ہو رہے ⬅️، جس کی وجہ سے بالکل آخری ٹائپ جو کہ صرف انجیکشن کی شکل میں ہوتے ہیں ⬅️ اُن کی طرف شفٹ ہونا پڑتا ہے
🛑راولپنڈی اور کراچی میں نوزائیدہ بچوں کے وارڈوں کی رپورٹ ہے کہ sepsis کے ساتھ داخل ہونے والے premature بچوں کو اب فرسٹ لائن تھراپی کے طور پر تیسری جنریشن کی دوائیوں پر شروع کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔کیونکہ معمول کی اینٹی بائیوٹکس اب کام نہیں کرتیں۔
🛑خواتین میں ڈیلیوری کے بعد انفیکشن بھی ختم ہونے میں زیادہ وقت لے رہے ہیں، جس سے صحت یابی کا وقت اور علاج کی لاگت دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
🛑متعدی امراض کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ یہ بحران اس لئے پیدا ہوا ہے کہ antibiotics بغیر کسی پابندی کے over the counter فروخت ہو رہی ہے۔
🛑"یہ بنیادی مسئلہ ہے۔قانون موجود ہے مگر لاگو نہیں ہوتا 🛑
https://vitalsnews.com/top-story/after-typhoid-pneumonia-sepsis-utis-turning-untreatable-as-pakistan-runs-out-of-effective-antibiotics/