22/02/2023
آدمی کا پتلا.
انسانی جسم میں 60 عناصر پائے جاتے ہیں جنکو مٹی کہا جاتا ہے۔
آکسیجن
کاربن
ہائیڈروجن
نائٹروجن
کیلسیم
فاسفورس
پوٹاسیم
سلفر
سوڈیم
کلورین
میگنیسیم
سونا
چاندی وغیرہ
انسانی جسم 37.2 ٹریلین خلیات پر مشتمل ہے۔
ہر خلیہ مرکزی جسمیہ نیوکلیس پر مشتمل ہے جو خلیہ کی تمام سرگرمیوں کو کنٹرول اور بحال رکھتا ہے۔
ہر انسانی نیوکلیس 46 کروموسوم پر مشتمل ہے۔ ہر نوع کے لیے کروموسوم کی تعداد الگ الگ ہے۔
ہر کروموسوم DNA پر مشتمل ہے۔ اور فرد سے متعلق تمام معلومات یہیں پائی جاتی ہیں۔
ہر ڈی این اے 4 نیوکلیوٹائیڈ پر مشتمل ہے۔
1۔ایڈینین
2۔گوانین
3۔تھائی مین
4۔سائیٹوسین
ہر ایڈینین 3 طرح کے عناصر پر مشتمل ہے۔
1۔کاربن
2۔ہائیڈروجن
3۔نائٹروجن
کاربن ایٹم مزید 3 طرح کے اجزا پر مشتمل ہے
1۔ 6الیکٹران
2۔ 6 پروٹان
3۔ 6 نیوٹران
ہر الیکٹرون قوارکس پر مشتمل ہے۔
1۔ اپ قوارک
2۔ ڈاؤن قوارک
ہر قوارک سٹرنگ نما یعنی ڈوری دار چکر ہے۔ جوکہ ابھی تک ایک سٹرنگ تھیوری کی حیثیت رکھتی ہے۔
سٹرنگ کا ذریعہ ڈارک میٹر یا کاسمک ریز ہے۔
سمری:
خلیہ
نیوکلیس
کروموسوم
ڈی این اے
نیوکلیوٹائیڈ
ایڈینین۔۔۔گوانین۔۔۔تھائی مین۔۔۔سائیٹوسین
کاربن۔۔۔نائٹروجن۔۔۔ہائڈروجن
الیکٹران۔۔۔پروٹان۔۔۔نیوٹران
قوارک
سٹرنگ
ڈارک میٹر
یہ ہے سائنس کی آخری حد۔۔۔جوکہ مادے تک محدود ہے۔
اس سے آگے روحانیت ہماری راہنمائی کرتی ہے۔
یعنی مادہ کی حقیقت روشنی ہے۔
روشنی کی حقیقت نور ہے۔
اور نور کی حقیقت تجلی ہے۔
تجلی صفت الہیہ ہے۔
صفت ذات کا ہی ایک رخ ہے۔
اور ذات واحد اللہ ہے۔