Zainab Children and General Hospital

Zainab Children and General Hospital Zainab children and general hospital at adda panchwaan mile Chowk azam road layyah. For pediatric consultation, contact on WhatsApp:+923338544867.

07/05/2026

اج تھیلاسیمیا کا عالمی دن ہے، اس سے بچاو کیسے ممکن ہے؟

01/05/2026

Loose Motions in Children - When to Worry?

30/04/2026

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سی کے پھیلاؤ میں تشویشناک اضافہ

پاکستان، بھارت اور چین عالمی ہیپاٹائٹس سی بوجھ کا 39 فیصد برداشت کر رہے ہیں

پاکستان میں ہیپاٹائٹس سے 58 فیصد اموات رپورٹ ہونے کا انکشاف

2024 میں دنیا بھر میں 18 لاکھ نئے ہیپاٹائٹس کیسز سامنے آئے

ہیپاٹائٹس بی اور سی سے 13 لاکھ 40 ہزار اموات ریکارڈ ہوئیں

غیر محفوظ طبی طریقہ کار اور سرنجز کا دوبارہ استعمال بیماری پھیلاؤ کی بڑی وجہ
قرار
پاکستان میں غیر محفوظ انجیکشنز کے استعمال پر عالمی ادارہ صحت کی تشویش

صرف 20 فیصد ہیپاٹائٹس سی مریضوں کو علاج میسر آ سکا

ہیپاٹائٹس بی کے 5 فیصد سے بھی کم مریض علاج حاصل کر پاتے ہیں

ہیپاٹائٹس بی ویکسین 95 فیصد سے زائد تحفظ فراہم کرتی ہے

ہیپاٹائٹس سی 8 سے 12 ہفتوں میں قابل علاج قرار

2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے اہداف کے حصول میں پیش رفت ناکافی قرار

22/04/2026

گھر میں او۔ آر۔ ایس (ORS) بنانا بہت آسان ہے اور یہ خاص طور پر دست، قے یا پانی کی کمی (dehydration) میں بہت فائدہ مند ہوتا ہے۔
🥄 گھر میں ORS بنانے کا طریقہ:
اجزاء:
صاف پانی: 1 لیٹر (تقریباً 5 گلاس)
چینی: 6 چائے کے چمچ
نمک: آدھا (½) چائے کا چمچ
بنانے کا طریقہ:
پانی کو اچھی طرح اُبال کر ٹھنڈا کر لیں (یا صاف پینے کا پانی استعمال کریں)
اس میں 6 چمچ چینی ڈالیں
آدھا چمچ نمک شامل کریں
اچھی طرح مکس کریں یہاں تک کہ سب حل ہو جائے
⚠️ احتیاط:
نمک زیادہ نہ ڈالیں، ورنہ نقصان ہو سکتا ہے
محلول ہلکا میٹھا ہونا چاہیے، زیادہ نمکین نہ ہو
اسے 24 گھنٹے کے اندر استعمال کریں، اس کے بعد نیا بنا لیں
💧 استعمال:
تھوڑی تھوڑی مقدار میں بار بار پلائیں
خاص طور پر بچوں اور کمزور افراد کو وقفے وقفے سے دیں
اگر شدید کمزوری، مسلسل قے یا خون والے دست ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

21/04/2026

بچوں کو تیز دھوپ (خاص طور پر گرمیوں میں) سے بچانا بہت ضروری ہے کیونکہ ان کی جلد نازک ہوتی ہے اور وہ جلدی ڈی ہائیڈریشن اور ہیٹ اسٹروک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ یہاں چند مؤثر طریقے دیے جا رہے ہیں:
1. دھوپ کے اوقات سے پرہیز کریں
صبح 11 بجے سے دوپہر 4 بجے تک سورج کی شعاعیں سب سے زیادہ تیز ہوتی ہیں، اس وقت بچوں کو باہر لے جانے سے گریز کریں۔
2. مناسب لباس پہنائیں
ہلکے رنگ کے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے
سر کو ڈھانپنے کے لیے ٹوپی یا کیپ
آنکھوں کے لیے UV پروٹیکشن والے چشمے
3. سن اسکرین کا استعمال
SPF 30 یا اس سے زیادہ سن اسکرین لگائیں
باہر جانے سے 15–20 منٹ پہلے لگائیں
ہر 2–3 گھنٹے بعد دوبارہ لگائیں
4. پانی اور مشروبات زیادہ دیں
بچوں کو بار بار پانی پلائیں
تازہ جوس، لسی یا ORS بھی مفید ہیں
ڈی ہائیڈریشن سے بچانے کے لیے خاص خیال رکھیں
5. سایہ یا ٹھنڈی جگہ پر رکھیں
پارک یا باہر جاتے وقت درخت یا چھتری کا سایہ استعمال کریں
گھر میں پنکھا یا اے سی کا مناسب استعمال کریں
6. گاڑی میں اکیلا نہ چھوڑیں
گرمی میں بند گاڑی بہت جلد گرم ہو جاتی ہے، اس لیے بچے کو کبھی بھی اکیلا نہ چھوڑیں
7. علامات پر نظر رکھیں
اگر بچے میں یہ علامات ہوں تو فوراً توجہ دیں:
بہت زیادہ پسینہ یا بالکل پسینہ نہ آنا
چکر آنا، کمزوری
بخار یا الٹی
یہ ہیٹ ایکزاسشن یا ہیٹ اسٹروک کی علامات ہو سکتی ہیں
اگر آپ چاہیں تو میں عمر کے حساب سے (نوزائیدہ، اسکول جانے والے بچے) مزید مخصوص ہدایات بھی بتا سکتا ہوں۔

21/04/2026
اگر بچے کا ناک بار بار بند ہو تو  اس bulb sucker کی مدد سے بچے کا ناک اسانی سے  صاف کیا جا سکتا ہے
03/01/2026

اگر بچے کا ناک بار بار بند ہو تو اس bulb sucker
کی مدد سے بچے کا ناک اسانی سے صاف کیا جا سکتا ہے

03/01/2026

بچوں کو کیلا کھلانے سے نہ چھاتی خراب ہوتی اور نہ ریشہ ہو تا ہے۔۔ یہ 6 ماہ کے بچے کیلءے ایک بہترین نرم غذا ہے

شادی سے پہلے کروائے جانے والے پانچ ضروری ٹیسٹ ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذور...
31/12/2025

شادی سے پہلے کروائے جانے والے پانچ ضروری ٹیسٹ

ہماری جہالت کہیے یا کچھ اور کہ ہم بے اولادی، بچوں میں وراثتی جینیاتی معذوریوں کا ہونا، بیٹے کی بجائے صرف بیٹیاں پیدا کرنے کو اکثریت میں لڑکی سے جوڑتے ہیں۔ اور اسے مبینہ طور پر اس کا قصور وار بھی ٹھہراتے ہیں۔ کہیں تو وہ نمانی اس جاہلانہ تصور کو سچ مان کر خود کو قصوروار سمجھنے بھی لگ جاتی ہے۔ اسے بغیر کسی علم کے ان چیزوں کے علاج، دم درود، ٹیسٹوں کے لیے ساس نندیں لے کر جا رہی ہوتیں۔

جبکہ میڈیکل فیلڈ سے وابستہ لوگ میری بات کی تصدیق کریں گے کہ بے اولادی, بچوں میں پیدائشی معذوریاں ہونے کی جتنی ذمہ دار بیوی ہوتی اتنا ہی اس میں کردار خاوند کا بھی ہے۔ اور بیٹیاں پیدا کرنے میں تو عورت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ جینڈر طے کرنے کی صلاحیت تو ہے ہی مرد کے پاس۔

شادی سے پہلے کچھ ٹیسٹ کروا کر ہم اپنے قدامت پسند معاشرے میں پیش آنے والے ممکنہ مسائل سے بچ سکتے ہیں۔ یہاں تو شادی کے بعد مہینہ بھی نہیں گزرتا اور عقل سے پیدل لوگ لڑکی لڑکے دونوں سے خوشخبری کا پوچھنے لگتے ہیں۔ اور دین و دنیاوی علوم سے فارغ گھرانوں میں چند ماہ یا ایک دو سال اولاد نہ ہونے پر تو لڑکی کو نفسیاتی مریض بنا دیا جاتا۔

شادی سے پہلے حکیموں سنیاسیوں کے پاس جانے کی بجائے لڑکا اپنا سیمن انیلسز سپرم کاؤنٹ ٹیسٹ کروائے کہ وہ باپ بننے کے قابل ہے یا نہیں؟ یہ کسی بھی لیب یعنی چغتائی یا شوکت خانم آغا خان سے ہو سکتا ہے۔ 5 سو کا ٹیسٹ ہے۔ میں یہاں واضح کر دوں جنسی طور پر ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے اور سپرم کی حمل کے لیے مطلوبہ تعداد اور انکی صحت کا ٹھیک ہونا ایک الگ بات ہے۔ جس کا شعور ہمارے ہاں بہت کم ہے۔ لڑکی کو مہنگے ٹیسٹوں سے گزارنے کی بجائے مرد حضرات یہ بنیادی ٹیسٹ کروا لیں۔

کچھ مردوں کے مادہ منویہ میں ایک سپرم بھی نہیں ہوتا جبکہ وہ جنسی فعل بلکل ٹھیک انجام دے سکتے ہیں۔ باپ بننے کے لیے ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 40 ملین سے لیکر 300 ملین تک صحت مند سپرم ہو سکتے ہیں۔ اگر سپرم کی تعداد ایک ملی میٹر مادہ منویہ میں 15 ملین سے کم ہو تو چانسز بہت کم ہوتے ہیں کہ سپرم اور بیضہ کے ملاپ سے حمل ہو سکے گا۔ گو کہ حمل کے لیے صرف ایک سپرم اور ایک بیضہ ہی ملاپ کرتے ہیں مگر سپرم کی تعداد میں انکی ساخت اور مائیکروسکوپ میں نظر آنے والی حرکت بتاتی ہے کہ سپرم کتنے صحت مند ہیں۔

میرے قریبی سرکل میں ایک مرد نے اولاد کے لیے چار شادیاں کیں۔ بڑا زمیندار تھا کہ وارث تو چاہیے۔ آخری بیوی کی عمر بیس سال اور اسکی عمر 60 سال تھی۔ پیسے و زمین کے لالچی لوگ اس کو اپنی بیٹیاں دیتے رہے۔ اس کا پورا گاؤں گواہ ہے وہ فوت ہوا تو ایک کو چھوڑ کر 3 نے اسکی وفات کے بعد عدت پوری کرکے دوسری شادی کر لی۔ تینوں ابھی جوان تھیں۔ اللہ نے تینوں نے اولاد کی نعمت سے نوازا۔ اس کی سب سے چھوٹی بیوی کہتی تھی کہ اس بندے نے اپنا ایک دفعہ بھی کسی لیب سے ٹیسٹ نہیں کروایا تھا۔ حکیموں کے پاس جا جا کر نجانے کون کون سے کشتے لیا کرتا تھا۔ مگر کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جاتا تھا۔ وہ جنسی تعلق قائم کرنے کو ہی اپنے ٹھیک ہونے کا ثبوت مانتا تھا۔ اور ایسا بے شمار جگہوں پر ہے۔

اگر بیضہ دانیاں ایک ماہ میں دو بیضے پیدا کریں تو دو بچے یعنی جڑواں پیدا ہونگے تین سے چار بیضے ہونے کی صورت میں ان سے اتنے ہی سپرم ملاپ کرکے اتنے بچے پیدا کر دیں گے۔ 1998 میں امریکہ کی سٹیٹ Texas میں ایک جوڑے کے ہاں 8 بچے پیدا ہوئے جن میں ایک وفات پا گیا اور 7 بلکل ٹھیک پلے بڑھے اور نارمل زندگی گزاری۔

اگر ایک ہی بیضہ اووری سے نکلا۔ اور اسکے کسی وجہ سے دو ٹکڑے ہوگئے۔ اور ان سے دو سپرمز مل گئے۔ تو جڑواں بچے ہم جنس اور ہم شکل پیدا ہونگے۔ دو الگ بیضوں سے سپرم کے ملاپ سے جو جڑواں بچے پیدا ہونگے وہ ہم جنس نہیں بھی ہو سکتے۔ نہ ہی یہ ضروری کہ وہ ہم شکل ہونگے۔

اولاد تو یہاں شادی کے فوراً بعد ہر صورت میں چاہیے ہی چاہیے ناں؟ اگر آپ یہ سوچ ہے۔ یا آپ کے گھر والے آنے والی دلہن سے ہر ماہ ماہواری ہونے پر ناروا سلوک کریں گے تو سپرم کاؤنٹ کم ہونے پر اسے شادی سے پہلے بڑھانے کی کوشش ڈاکٹر کے مشورے سے کی جا سکتی ہے۔ اور اگر ہو ہی زیرو اور بڑھنے کے کوئی امکانات نہ ہوں۔ تو کسی ایسی خاتون سے شادی کریں جسکے پاس ایک دو بچے پہلے ہی ہوں۔ وہ مطلقہ ہو یا بیوہ ہو۔ آپ کبھی باپ نہیں بن پائیں گے اسکو ڈاکٹروں سے مشورہ کرکے قبول کر لیں اور کسی معجزے کے انتظار میں نہ رہیں۔ بعد میں بچے ہو بھی جائیں تو کیا ہے؟ نہ ہوئے زندگی تو بچوں کے ساتھ گزر جائے گی بھائی

اس ضمن میں لاہور فیروز پور روڈ پر حمید لطیف ہسپتال اچھا ہے۔ آپ ان معاملات کے ماہر پروفیسر ارشد جاوید صاحب Prof-Arshad Javed سے مل کر اپنا مسئلہ ڈسکس کر سکتے ہیں۔ ۔ انکی مشہور زمانہ معلوماتی کتاب سیکس ایجوکیشن ضرور پڑھیں۔ اسکی ہارڈ کاپی بھی مل سکتی کہیں سے بھی۔اسکے علاوہ ملتان سٹی ھسپتال میں ڈاکٹر اعجاز احمد سے بھی مل سکتے ھیں..

دوسری طرف لڑکیاں بھی اگر انکی ماہواری ٹھیک نہیں یا کوئی اور مسئلہ ہے تو اپنی دونوں اووریز Ovaries اور فلاپئین ٹیوبز کا ٹیسٹ کروا لیں کہ انکی صحت کیسی ہے؟
کسی ماہر تجربہ کار ریڈیالوجسٹ سے Obstetrical الٹرا ساؤنڈ کروا لیں۔

کیونکہ یہ اووریز ہی انڈے پیدا کرتی ہیں آگے فلاپئین ٹیوبز Fallopian tubes کے رستے ماں کے رحم میں آتے ہیں۔ اووریز اور فلاپئین ٹیوبز اگر ٹھیک نہ ہوں اور ان میں کوئی پیچیدہ مسئلہ ہو تو لڑکی کے ماں بننے کے چانس بہت کم ہوتے ہیں۔ شادی سے پہلے ہی اگر فرٹیلیٹی ٹیسٹ دونوں میاں بیوی کروا لیں تو انکے لیے آگے پلاننگ کرنا بہت آسان ہوگا کہ وہ بچہ کب پیدا کریں گے۔ دونوں میں سے ایک اگر مکمل بانجھ ہو تو دوسرے کو ضرور بتائے۔ ہمارے ہاں بے اولادی کو ہمیشہ عورت سے جوڑا جاتا ہے جبکہ سٹڈیز اور ریسرچز کہتی ہیں.

کہ سو میں سے 35 فیصد مرد بانجھ پن کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی برابر تعداد 35 فیصد ہی خواتین بانجھ ہوتی ہیں۔ 20 فیصد حمل نہ ہونے کی وجوہات دونوں کے بلکل ٹھیک ہونے پر بھی ہوتی ہیں بس مرد کے تولیدی خلیات اور نارملی بیضے ملاپ نہیں کر پاتے۔ اور باقی 10 فیصد نامعلوم وجوہات ہیں جنہیں ہم مسلمان یہی کہتے ہیں کہ اللہ نے قسمت میں ہی اولاد کی نعمت نہیں لکھی۔

پاکستان ڈیمو گرافک اینڈ ہیلتھ سروے کی 2019-2020 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 22 فیصد لوگ والدین نہیں بن پاتے۔ اور یہ ریشو دنیا بھر میں 15 فیصد ہے۔

دوسرا ٹیسٹ جو کروانا ہے وہ بلڈ گروپ کا ٹیسٹ کروانا ہے اگر دونوں کا بلڈ گروپ ایک ہو تو انکا rhesus factor جسے آر ایچ فیکٹر بھی کہتے ہیں معلوم کیا جاتا ہے وہ ابھی ایک جیسا ہے کہ نہیں۔ اگر نہیں تو ماں کو ڈاکٹر کی ہدایت پر پہلے حمل میں یا دوسرے حمل سے پہلے ایک انجیکشن 7 ہزار روپے کا لگتا ہے جس سے بچے کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ اگر وہ نہ لگے تو بچے کو خون کی کوئی بھی بیماری ہو سکتی ہے جیسے sickle cell anemia ہیمو فیلیا یا کوئی اور بیماری۔

اگر زوجین میں سے خاتون کا آر ایچ نیگیٹو اور مرد کا آر ایچ پازیٹو ہو تو ایسی صورت میں ہر زچگی کے فورا بعد نوزائیدہ کا بلڈگروپ چیک کیا جاتا ہے ۔ بچہ اگر والد کے گروپ پر آر ایچ پازیٹو ہو تو زچہ کو اینٹی ڈی ٹیکہ لگایا جاتا ہے جس کی قیمت 4 سے 7 ہزار رک ہو سکتی ہے ۔ یہ ٹیکہ اگلے حمل کو محفوظ بناتا ہے۔

تیسرا ٹیسٹ ہے تھیلیسیمیا کا اگر دونوں میں ایک کو مائنر تھیلسمیا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں اور اگر دونوں کو مائنر تھیلسمیا ہے تو بچہ میجر تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوگا۔ ایسے بچوں کے خون میں ہیمو گلوبن لیول بہت کم ہوتا ہے وہ جتنی عمر زندہ رہیں انہیں ہر ماہ خون لگتا ہے۔ دونوں میں سے ایک اگر میجر تھیلیسیمیا کا مریض ہے اور ڈاکٹر اجازت دیں تو شادی کرکے بچے بھی پیدا کر سکتا ہے ہر کیس ایکدوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تھیلیسیمیا ٹیسٹ ضرور کروائیں ورنہ آپ شادی کے بعد کسی بھی بڑے مسئلہ میں پڑ سکتے ہیں۔ یہ بچے اکثر خون لگنے کے باوجود بھی فوت ہو جاتے ہیں۔ احتیاط سے اس مرض سے بچا جا سکتا ہے۔

چوتھے ٹیسٹ کی قسم ہے STDs یعنی sexually transmitted diseases۔ شادی سے پہلے لڑکے لڑکی کے اگر کسی سے جنسی تعلقات رہے ہوں تو اسکے پارٹنر سے بھی اسے چند بیماریاں لگ سکتی ہیں جن میں human immunodeficiency virus) جسے HIV وائرس کہتے ہیں جو ایڈز کا سبب بنتا۔ مزید ہیپاٹائٹس بی اور سی بھی اسی وجہ سے ہو سکتا ہے یہ سب ٹیسٹ بھی ضرور کروائیں۔ یہ پرسن ٹو پرسن لگنے والی بیماریاں ہیں.۔

پانچواں اور آخری وہ ٹیسٹ ہے جو دائمی یا آپکے خاندان میں کوئی موروثی بیماری ہو جیسے دل کے امراض، شوگر، گردوں کے مسائل، خون کی بیماریاں جیسے ہیمو فیلیا جس میں کٹ لگنے پر خون جمتا نہیں اور مریض کی موت تک واقع ہو سکتی ہے۔ الغرض کوئی بھی مرض آپکے والدین کو دائمی ہو تو اپنا وہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔.

ان سب ٹیسٹوں کے بعد آپ کے لیے نئی زندگی شروع کرنا اور اسے خوشی سے لیکر چلنا بہت ہی آسان ہوجائے گا۔ ان ٹیسٹوں پر زیادہ سے زیادہ مرد کے 5 ہزار روپے لگیں گے اور خاتون کے 10 سے 15 ہزار روپے۔.

کچھ جینو ٹائپ ٹیسٹ ہوتے ہیں جن سے معلوم ہوتا کہ والدین کے جین میں اگر کوئی خرابی ہے تو وہ بچوں کو منتقل ہونے کے کتنے چانسز ہیں۔ آپ یہ سمجھیں کہ جینز ایک سافٹ ویئر ہوتا ہے جو بلکل ویسے ہی والدین huسے بچوں میں انسٹال ہوجاتا ہے۔ کسی بھی ایک خراب جین سے کوئی بھی معذوری ہو سکتی ہے۔ یہ ٹیسٹ بھی کروا لیں تو بہتر ہے۔.

Address

Leiah
31200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zainab Children and General Hospital posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Zainab Children and General Hospital:

Share

Category