Dr.Muhammad Asad German Homeo Clinic & Research Center Thana

Dr.Muhammad Asad German Homeo Clinic & Research Center Thana Expert acute and chronic disease Trust advice for a healthier life

I'm Qualified Doctor DHMS BHMS MDAM Alternative Medicine and expert acute and Chronic diseases and personal care

24/01/2026
🧠 شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر آخر دماغ میں ہوتا کیا ہے؟سائنسدانوں نے اب یہ جان لیا ہے کہشیزوفرینیا (Schizophrenia) ...
24/01/2026

🧠 شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر آخر دماغ میں ہوتا کیا ہے؟

سائنسدانوں نے اب یہ جان لیا ہے کہ
شیزوفرینیا (Schizophrenia) اور
بائی پولر ڈس آرڈر (Bipolar Disorder)
صرف “سوچ کا مسئلہ” نہیں بلکہ دماغ کے مخصوص نیورل سرکٹس (Neural Circuits) کی خرابی کا نتیجہ ہیں۔

🔹 بنیادی میکانزم (Basic Mechanism) — آسان زبان میں

1️⃣ دماغ ایک نیٹ ورک ہے

دماغ میں اربوں نیورونز (Neurons) ہوتے ہیں جو آپس میں راستوں (Circuits) کے ذریعے بات کرتے ہیں۔
یہ بات چیت کیمیکلز (Neurotransmitters) کے ذریعے ہوتی ہے۔

اہم کیمیکلز:

ڈوپامین (Dopamine)

گلوٹامیٹ (Glutamate)

سیروٹونن (Serotonin)

2️⃣ شیزوفرینیا میں کیا خراب ہوتا ہے؟

شیزوفرینیا میں:

سوچ اور حقیقت کے درمیان سرکٹ خراب ہو جاتا ہے

دماغ کا Prefrontal Cortex (فیصلے اور منطق والا حصہ)
اور Limbic System (جذبات والا حصہ)
آپس میں غلط سگنلز بھیجتے ہیں

🔴 نتیجہ:

آوازیں سنائی دینا (Hallucinations)

غلط یقینات (Delusions)

الجھی ہوئی سوچ

جذبات کا ختم ہو جانا

یہ اس لیے ہوتا ہے کیونکہ:

ڈوپامین زیادہ یا غلط جگہ پر فعال ہو جاتا ہے

3️⃣ بائی پولر ڈس آرڈر میں کیا مسئلہ ہوتا ہے؟

بائی پولر میں:

موڈ کنٹرول کرنے والا سرکٹ غیر متوازن ہو جاتا ہے

ایک وقت:

دماغ بہت زیادہ تیز ہو جاتا ہے (Mania)

کم نیند

تیز بولنا

خود کو بہت طاقتور سمجھنا

دوسرا وقت:

دماغ بہت سست ہو جاتا ہے (Depression)

شدید اداسی

تھکن

نا اُمیدی

🔴 وجہ:

دماغ کے Mood Regulation Circuits میں
سگنلز کبھی بہت تیز، کبھی بہت سست ہو جاتے ہیں

🧩 یہ دریافت کیوں اہم ہے؟

پہلے:

“یہ ذہنی کمزوری ہے”
“یہ شخصیت کا مسئلہ ہے”

اب:

❌ غلط
✔️ یہ دماغ کے قابلِ پیمائش سرکٹس کا مسئلہ ہے

یہ:

بدنامی (Stigma) کم کرتی ہے

مریض کو قصوروار نہیں ٹھہراتی

علاج کو زیادہ سائنسی بناتی ہے

🧠 اب علاج کیسے بدلے گا؟ (Recommended Therapy)

🔹 1️⃣ دواؤں کا بہتر استعمال (Targeted Medication)

اب دوائیں:

پورے دماغ پر اثر نہیں کریں گی

بلکہ خاص خراب سرکٹ کو ٹھیک کریں گی

جیسے:

Dopamine stabilizers

Mood stabilizers (Lithium وغیرہ)

🔹 2️⃣ سائیکو تھراپی (Psychotherapy) — بہت ضروری

✔️ CBT (Cognitive Behavioral Therapy)

غلط سوچ کے پیٹرنز کو پہچاننا

حقیقت اور وہم میں فرق سکھانا

✔️ Reality Testing Therapy

مریض سیکھتا ہے:

“یہ خیال دماغ کا سگنل ہے، حقیقت نہیں”

🔹 3️⃣ دماغ کو دوبارہ تربیت دینا (Brain Re-training)

نئی تحقیق کے مطابق:

Neuroplasticity کے ذریعے
دماغ کے سرکٹس کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکتا ہے

استعمال:

Mindfulness

Grounding techniques

Structured routine

Sleep regulation

🔹 4️⃣ Non-Invasive Brain Stimulation

جیسے:

TMS (Transcranial Magnetic Stimulation)
یہ:

بغیر آپریشن

خراب سرکٹ کو متوازن کرتا ہے

🌱 خلاصہ (Conclusion)

شیزوفرینیا اور بائی پولر:

کمزوری نہیں

پاگل پن نہیں

کردار کی خرابی نہیں

یہ: ✔️ دماغ کے مخصوص نیورل سرکٹس کی بیماری ہے
✔️ قابلِ فہم
✔️ قابلِ علاج

یہ تحقیق ہمیں ایک ایسا مستقبل دکھا رہی ہے جہاں:

علاج زیادہ مؤثر ہوگا

مریض بااختیار ہوگا

ذہنی بیماری کو احترام کے ساتھ دیکھا جائے گا

نیشنل ٹریڈیشنل, کمپلیمنٹری اینڈ الٹرنیٹو میڈیسن ایکٹ، 2025 (مسودہ)تمہید:یہ ایکٹ "نیشنل کونسل فار ٹریڈیشنل، کمپلیمنٹری ای...
18/01/2026

نیشنل ٹریڈیشنل, کمپلیمنٹری اینڈ الٹرنیٹو میڈیسن ایکٹ، 2025 (مسودہ)
تمہید:
یہ ایکٹ "نیشنل کونسل فار ٹریڈیشنل، کمپلیمنٹری اینڈ الٹرنیٹو میڈیسن" (NCTCAM) کے قیام اور اس سے منسلک معاملات کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد صحت کی تعلیم کے نظام کو بہتر بنانا، معیاری TCAM (طب، تکمیلی اور متبادل ادویات) کے ماہرین کی دستیابی کو یقینی بنانا اور عوام تک ان کی رسائی کو ممکن بنانا ہے۔
حصہ اول: ابتدائیہ (Preliminary)
1. مختصر عنوان اور نفاذ:
* اس ایکٹ کو "نیشنل ٹریڈیشنل، کمپلیمنٹری اینڈ الٹرنیٹو میڈیسن ایکٹ، 2025" کہا جائے گا۔
* یہ پورے پاکستان پر لاگو ہوگا اور فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
2. تعریفات (اہم نکات):
* ایکٹ: سے مراد TCAM ایکٹ 2025 ہے۔
* کونسل (NCTCAM): اس سے مراد وہ نیشنل کونسل ہے جو اس ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
* ڈگری: کونسل اور ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے منظور شدہ ڈگری پروگرام۔
* مس کنڈکٹ (بدانتظامی): ایسا رویہ یا عمل جو اس ایکٹ، قواعد یا اخلاقی ضابطوں (Code of Ethics) کے خلاف ہو۔
* TCAM (روایتی، تکمیلی اور متبادل ادویات): وہ طریقہ علاج جو عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہو، جس میں ہومیوپیتھک، یونانی (طب)، آیورویدک، سدھا، نیچروپیتھی اور چینی روایتی ادویات شامل ہیں۔ اس میں جڑی بوٹیوں، غذائی طریقوں اور دماغ و جسم (Mind and Body) کے تعلق پر مبنی علاج بھی شامل ہیں۔
حصہ دوم: کونسل کی تشکیل اور افعال
3. کونسل کا قیام:
وزیراعظم پاکستان اس ایکٹ کے نفاذ کے بعد "نیشنل کونسل فار TCAM" تشکیل دیں گے۔ یہ ایک کارپوریٹ ادارہ ہوگا جو جائیداد رکھنے اور قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھے گا۔ کونسل کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہوگا۔
4. کونسل کی تشکیل (ممبران):
کونسل درج ذیل اراکین پر مشتمل ہوگی:
* صوبائی نمائندے: ہر صوبے اور اسلام آباد سے ایک رکن (وفاقی حکومت نامزد کرے گی)، جس کے پاس بیالوجی میں بیچلر ڈگری اور TCAM کی بنیادی اہلیت ہو اور 10 سال کا تجربہ ہو۔
* ماہرین تعلیم: ایک نامور ماہر تعلیم (بیچلر ڈگری + 10 سالہ تدریسی تجربہ)۔
* پریکٹیشنرز: وفاقی حکومت کی طرف سے نامزد کردہ دو رجسٹرڈ پریکٹیشنرز (جن کے پاس 15 سالہ ریگولیٹری تجربہ ہو)۔
* خواتین اراکین: دو خواتین پریکٹیشنرز (10 سالہ تجربہ)۔
* HEC نمائندہ: گریڈ 20 کا افسر۔
* وزارت کا جوائنٹ سیکرٹری: (برائے بجٹ و اکائونٹس)۔
اہم نوٹ: کوئی بھی ایسا شخص ممبر نہیں بن سکتا جس کا "مفادات کا ٹکراؤ" (Conflict of Interest) ہو۔
5. ممبران کی مدت:
ممبران کی مدت 4 سال ہوگی۔ کوئی ممبر مسلسل دو بار سے زیادہ منتخب نہیں ہو سکتا۔
11. کونسل کے اختیارات اور افعال:
کونسل کے پاس وسیع اختیارات ہوں گے، جن میں شامل ہیں:
* تعلیمی اداروں اور قابلیتوں کو تسلیم کرنا۔
* نصاب (Curriculum) اور تعلیمی معیار ایچ ای سی (HEC) کی پالیسیوں کے مطابق طے کرنا۔
* پریکٹیشنرز کی رجسٹریشن کرنا۔
* داخلوں کا معیار اور فیکلٹی کا معیار طے کرنا۔
* جعلی دعوؤں، غیر محفوظ ادویات اور جادوئی علاج کے خلاف ایڈوائزری جاری کرنا۔
* فیس اور جرمانے وصول کرنا۔
* برجنگ پروگرام (Bridging Programs): پرانے ڈپلومہ ہولڈرز (جو طیبہ اور ہومیوپیتھک کونسل سے رجسٹرڈ تھے) کے لیے ڈگری کے برابر لانے کے لیے پروگرام بنانا۔
* اخلاقی ضابطہ (Code of Ethics) بنانا۔
* ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (DRAP) کے ساتھ تعاون کرنا۔
13. اسسمنٹ بورڈ (Assessment Board):
معاون عملے (Auxiliary staff) کے امتحانات لینے کے لیے ایک بورڈ بنایا جائے گا۔
باب دوئم: تعلیمی اداروں کی منظوری اور امتحانات
19. اداروں کی منظوری (Recognition):
کوئی بھی ادارہ جو TCAM کی ڈگری یا ڈپلومہ کروانا چاہتا ہے، اسے کونسل سے منظوری لینا ہوگی۔ منظوری کے بغیر کام کرنے پر تادیبی کارروائی ہوگی۔
22. کورس کا دورانیہ اور نصاب (انتہائی اہم):
* ڈگری پروگرام: TCAM کے تسلیم شدہ اداروں میں ڈگری پروگرام کا دورانیہ کم از کم 5 سال ہوگا، جس کے بعد ایک سال کی لازمی ہاؤس جاب/انٹرن شپ ہوگی۔
* 4 سالہ ڈپلومہ کا خاتمہ: پرانے ایکٹ (1965) کے تحت ہونے والے تمام 4 سالہ ڈپلومہ پروگرامز فوری طور پر ختم تصور ہوں گے۔
* تاہم، جو طلباء پہلے سے داخل ہیں، وہ اپنا کورس مکمل کر سکیں گے۔
* برجنگ پروگرام: کونسل HEC کے ساتھ مل کر پرانے 4 سالہ ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے "برجنگ پروگرام" لائے گی تاکہ وہ اپنی تعلیم کو 5 سالہ ڈگری کے برابر کر سکیں۔ اس کے لیے کوئی عمر کی قید نہیں ہوگی۔
23. داخلے کی اہلیت:
انڈر گریجویٹ پروگرام میں داخلے کے لیے کم از کم اہلیت ایف ایس سی (پری میڈیکل) یا مساوی تعلیم (کم از کم 50 فیصد نمبروں کے ساتھ) ہوگی۔ داخلہ ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔
باب سوئم: پریکٹیشنرز کی رجسٹریشن
26. رجسٹریشن کا طریقہ کار:
* ہر وہ شخص جس نے تسلیم شدہ ادارے سے امتحان پاس کیا ہو، رجسٹریشن کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔
* ڈائریکٹر رجسٹریشن جانچ پڑتال کے بعد رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کرے گا۔
* نوٹ: 1965 کے ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ پریکٹیشنرز (حکیم/ہومیو ڈاکٹرز) بدستور رجسٹرڈ تصور ہوں گے اور پریکٹس جاری رکھ سکیں گے۔
28. نام کا اخراج:
کونسل کسی بھی پریکٹیشنر کا نام رجسٹر سے خارج کر سکتی ہے اگر:
* وہ کسی مجرمانہ فعل یا غیر اخلاقی حرکت کا مرتکب ہو۔
* پیشہ ورانہ غفلت (Professional Negligence) کا مرتکب ہو۔
* اسے اپنی صفائی کا موقع دیا جائے گا۔
باب پنجم: جرائم، سزائیں اور طریقہ کار
34. بغیر رجسٹریشن پریکٹس کی سزا:
* کوئی بھی شخص جو رجسٹرڈ نہیں ہے، وہ TCAM پریکٹیشنر کے طور پر کام نہیں کر سکتا۔
* خلاف ورزی پر 1 لاکھ سے 2 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
* رجسٹرڈ پریکٹیشنر صرف اپنے شعبے (جیسے صرف یونانی یا صرف ہومیو) میں پریکٹس کرے گا۔
* سرجری کرنے کی اجازت نہیں ہوگی (جب تک کونسل خاص اجازت نہ دے)۔
* لائف سیونگ ادویات (ایلوپیتھک) استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی (سوائے کونسل کی اجازت کے)۔ ان خلاف ورزیوں پر 1 لاکھ سے 3 لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔
35. غیر منظور شدہ اداروں پر پابندی:
غیر منظور شدہ ادارے داخلے یا اشتہار نہیں دے سکتے۔ خلاف ورزی پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
37. اشتہارات اور پروموشن پر پابندی:
کوئی بھی پریکٹیشنر اپنے علاج کے بارے میں جھوٹے دعوے (جیسے شرطیہ علاج وغیرہ) اخبار، ٹی وی یا سوشل میڈیا پر نہیں کر سکتا۔ مریضوں کو گمراہ کرنے پر 5 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
38. جعلی ڈگری:
جعلی ڈگری دینے یا رکھنے پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
39. ٹائٹل کا استعمال (ڈاکٹر کا لفظ):
* کوئی بھی شخص خود کو "ڈاکٹر" نہیں لکھ سکتا سوائے اس کے جو ٹائٹل کونسل نے سرٹیفکیٹ میں دیا ہو۔
* ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز "ہومیوپیتھک ڈاکٹر" لکھ سکتے ہیں (دونوں الفاظ برابر نمایاں ہونے چاہئیں)۔
* خلاف ورزی پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوگا۔
باب ششم: متفرق (Miscellaneous)
48. منسوخی اور بچت (Repeal):
* یونانی، آیورویدک اور ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز ایکٹ، 1965 کو منسوخ (ختم) کر دیا گیا ہے۔
* پرانی کونسلز (قومی طبی کونسل اور ہومیو کونسل) تحلیل ہو جائیں گی اور ان کے تمام اثاثے اور ریکارڈ نئی کونسل (NCTCAM) کو منتقل ہو جائیں گے۔
* پرانے ایکٹ کے تحت ہونے والی تمام رجسٹریشنز اور منظوریاں نئی کونسل کے تحت بھی قانونی مانی جائیں گی۔
49. عبوری دور (Transitory Period):
نئی کونسل 90 دن کے اندر تشکیل دی جائے گی۔ اس دوران ایک "عبوری کمیٹی" تمام اختیارات استعمال کرے گی۔
خلاصہ برائے آپ (بطور پریکٹیشنر):
* آپ کی موجودہ رجسٹریشن محفوظ ہے، لیکن نیا نظام 5 سالہ ڈگری کا ہوگا۔
* پرانے ڈپلومہ ہولڈرز کے لیے "برجنگ پروگرام" آئے گا تاکہ وہ ڈگری کے برابر ہو سکیں۔
* اشتہارات اور ٹائٹل کے استعمال پر سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔
* "مطب" یا کلینک کے معیارات اب نئی کونسل چیک کرے گی۔

ٹینائٹس، کان میں شور کی آوازیں...!ایک ایسا مسئلہ ہےجس کا دنیا بھر میں کروڑوں افراد سامنا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت ت...
15/01/2026

ٹینائٹس، کان میں شور کی آوازیں...!

ایک ایسا مسئلہ ہے
جس کا دنیا بھر میں کروڑوں افراد سامنا کر رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت تک اس بیماری کا کوئی حتمی علاج دریافت نہیں ہوا۔

تاہم، کچھ طریقے اور قدرتی علاج ایسے ضرور موجود ہیں جن سے لوگوں کو واضح فائدہ ہوا ہے۔ میں یہ بات اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔

کئی سال پہلے جب میرے ساتھ
یہ مسئلہ شروع ہوا تو میں نے بہت سے طریقے آزمائے۔ تحقیق اور ماہرین کی آراء کے ساتھ، وٹامنز اور منرلز کی کمی پوری کرنے پر کام کیا۔

خاص طور پر جسم میں
وٹامن بی 12 اور زنک کی کمی ٹینائٹس
کو بڑھا دیتی ہے۔ اگر آپ بھی اس مسئلے
سے پریشان ہیں تو پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ
تمام ضروری وٹامنز اور منرلز کے ٹیسٹ کروائیں۔
ان میں وٹامن بی 12، زنک، میگنیشیم، اور کاپر شامل ہیں۔

جب ضروری سمیت وٹامن بی 12 اور زنک کو متوازن کیا گیا، تو وہ لوگ جو شدید شور سے پریشان تھے، ان کی حالت بہتر ہو گئی۔ آپ بھی اپنے قریبی معیاری لیبارٹری سے ان ٹیسٹس کو کروائیں۔

اس کے علاوہ، جو چیز مجھے ذاتی طور پر
بہت زیادہ فائدہ دے رہی ہے، وہ ہے ہمنگ یوگا۔
اسے بھرمری یوگا بھی کہا جاتا ہے۔ ہمنگ کا مطلب ہے وہ آواز جو بھنورا اڑتے وقت نکالتا ہے۔

یوگا کرنے کا طریقہ کچھ اس طرح ہے کہ انگلیوں، انگوٹھے یا ہتھیلی سے دونوں کان بند کر لیں، منہ بند رکھیں، اور ناک کے ذریعے" ہوووووووں " جیسی آواز نکالیں۔ یہ عمل حیرت انگیز طور پر سکون دیتا ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ یہ مشق 45 منٹ
تک کی جائے، لیکن میں نے چار منٹ سے شروع کیا تھا اور پھر آہستہ آہستہ وقت بڑھایا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی بار گھنٹوں تک کان کے شور کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ ہمنگ یوگا نہ صرف ٹینائٹس میں بلکہ ذہنی سکون، یادداشت کی بہتری، اور توجہ بڑھانے میں بھی مددگار ہے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ
ان آوازوں کو زندگی کا حصہ سمجھنے
کی عادت ڈالیں۔ جیسے میں ابھی لکھتے ہوئے باورچی خانے سے پریشر ککر کی آواز چُھک چُھک چُھک کی آواز سن رہا ہوں، لیکن مجھے یہ پریشان نہیں کر رہی۔ آپ بھی دماغ میں آنے والی ان آوازوں کو یہی سمجھیں کہ یہ باہر کی آوازیں ہیں۔ اس طریقے سے شور کا اثر کم ہو جاتا ہے۔

اللہ کا شکر ہے کہ مجھے ان تمام طریقوں سے
فائدہ ہوا، لیکن اس کے لیے حوصلہ، صبر، اور
مستقل مزاجی ضروری ہے۔

کان میں شور کی آوازیں
آنے والے احباب سے ضرور شئیر کیجئے.

⚠️ سخت انتباہ — خوبصورتی کے نام پر خود کو تباہ مت کریں ⚠️ہیئر ٹرانسپلانٹ اور میڈیکل/لیزر میک اپ آج کل فیشن بن چکا ہے، مگ...
09/01/2026

⚠️ سخت انتباہ — خوبصورتی کے نام پر خود کو تباہ مت کریں ⚠️
ہیئر ٹرانسپلانٹ اور میڈیکل/لیزر میک اپ آج کل فیشن بن چکا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر گلی، ہر محلے میں عطائی بیٹھے ہیں جن کے پاس نہ ڈگری ہے، نہ علم، نہ ذمہ داری۔ یہ لوگ انسانی چہرے اور جلد کے ساتھ تجربے کر رہے ہیں، اور نتیجہ؟
جلد جل جانا، مستقل داغ، الرجی، انفیکشن اور ایسی بیماریاں جو زندگی بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔
خاص طور پر خواتین ہوشیار رہیں!
ہر دکان سے میک اپ مت کروائیں، ہر مشہور نام کے پیچھے مت بھاگیں، اور ہر قسم کی کریم اپنے چہرے پر مت لگائیں۔ جو کریم آج گوری کرے، وہی کل جلد کو برباد بھی کر سکتی ہے۔
یاد رکھیں!
ہیئر ٹرانسپلانٹ اور میڈیکل میک اپ کوئی بیوٹی ٹپ نہیں بلکہ میڈیکل پراسیجر ہے۔
صرف اور صرف مستند، رجسٹرڈ، تجربہ کار ڈاکٹر سے ہی کروائیں — ورنہ نقصان کا ذمہ دار کوئی اور نہیں ہوگا۔
خوبصورتی چند دن کی،
خراب جلد عمر بھر کی سزا ہے۔
فیصلہ آج کریں، پچھتاوا کل نہیں۔

12 Warning Signs Your Uterus Is Crying for Help – Don’t Ignore These Symptoms 👇
09/01/2026

12 Warning Signs Your Uterus Is Crying for Help – Don’t Ignore These Symptoms 👇

05/01/2026

Address

Shahai Market Near Superior Lalazar School And College Nasapai Thana District Malakand
Malakand
23000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr.Muhammad Asad German Homeo Clinic & Research Center Thana posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Dr.Muhammad Asad German Homeo Clinic & Research Center Thana:

Share

Category