02/02/2026
یہ تصاویر لاھور سے چند کلومیٹر دور انڈیا کی ہیں جہاں ایک نیا وائرس جس کا نام نیپا وائرس ھے تیزی سے تباہی مچا رھا ھے، یہ کرونا وائرس سے ستر فیصد زیادہ محلق ھے۔
نیپا وائرس (Nipah Virus) ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہو سکتی ہے، اور انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔ یہ وائرس سب سے پہلے 1998 میں ملائیشیا میں سامنے آیا تھا۔ اس کی شرحِ اموات کافی زیادہ ہو سکتی ہے، اسی لیے احتیاط بہت ضروری ہے۔
نیپا وائرس کیا ہے؟
نیپا وائرس ایک زوناؤٹک وائرس ہے، یعنی یہ جانوروں (خاص طور پر چمگادڑ) سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
اکثر کیسز میں:
پھل کھانے والی چمگادڑ
آلودہ پھل یا کھجور کا رس
بیمار جانور (خصوصاً سور)
ذریعہ بنتے ہیں۔
نیپا وائرس کی علامات
علامات عام طور پر انفیکشن کے 5 سے 14 دن بعد ظاہر ہوتی ہیں۔
ابتدائی علامات:
بخار 🤒
سر درد
جسم میں درد
گلے میں خراش
تھکن اور کمزوری
شدید علامات:
سانس لینے میں دشواری
الٹیاں
ذہنی الجھن
غنودگی
دورے (Fits)
دماغ کی سوجن (Encephalitis)
بے ہوشی یا کوما
⚠️ شدید کیسز میں مریض کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
نیپا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
چمگادڑ کے لعاب یا فضلے سے آلودہ پھل کھانے سے
کچا کھجور کا رس پینے سے
متاثرہ جانوروں سے قریبی رابطہ
نیپا وائرس کے مریض کے جسمانی رطوبتوں (کھانسی، تھوک) سے
نیپا وائرس سے بچاؤ کے طریقے
ابھی تک نیپا وائرس کی کوئی مخصوص ویکسین یا مکمل علاج موجود نہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے بہتر حل ہے۔
احتیاطی تدابیر:
🍎 پھل اچھی طرح دھو کر کھائیں
🥭 گرے ہوئے یا کٹے پھل نہ کھائیں
🥤 کچا کھجور کا رس پینے سے پرہیز کریں
😷 بیمار شخص سے فاصلہ رکھیں
🧼 بار بار ہاتھ صابن سے دھوئیں
🐖 بیمار جانوروں سے دور رہیں
🏥 بخار اور اعصابی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں
علاج
اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں
علاج صرف علامات کے مطابق کیا جاتا ہے
شدید مریضوں کو اسپتال میں داخل کرنا ضروری ہوتا ہے