مطب احسن Matab Ahsan

مطب احسن Matab Ahsan دارالعلاج مطب احسن

روح امرت:-سم الفار 6 ماشہ 50 گرام آب لیموں میں کھرل شدہ شنگرف 1 تولہ 100 گرام آب ادرک میں کھرل شدہ زعفران 1 تولہ 50 گرام...
09/05/2026

روح امرت:-
سم الفار 6 ماشہ 50 گرام آب لیموں میں کھرل شدہ
شنگرف 1 تولہ 100 گرام آب ادرک میں کھرل شدہ
زعفران 1 تولہ 50 گرام عرق گلاب سہہ آتشہ میں کھرل شدہ
2 درجن زردی بیضہ مرغ ہر سہہ اشیاء میں 1۔1 زردی ڈال کر کھرل کرتے جائیں جب تمام زردیاں ختم ہو جائیں تو ریگ ماہی 2 تولہ باریک کرکے ملا دیں
5 کلو دودھ بھینس میں تمام اشیاء شامل کرکے ضامن لگا کر مکھن نکالیں اور مکھن کو گرم کر کے روغن حاصل کریں
1۔2 قطرے دودھ ،بالائی،حلوہ میں ملا کر کھائیں مرغن غذا استعمال کریں
زبردست مقوی اعصاب ہے۔دل و جگر اور معدہ کو قوی کرتا ہے ۔خون صالح پیدا ہوتا ہے بھوک خوب لگتی ہے ۔بدن میں توانائی اور چہرہ سرخ ہو جاتا ہے ۔جوانوں اور بوڑھوں کے لیے بہترین ٹانک ہے ۔نزلہ و زکام میں بھی مفید ہے
مقوی باہ اور ممسک اعلی ہے
بہترین رزلٹ کی بنا پر اسی ہفتہ میں دوسری بار تیار کیا گیا ہے
والسلام
میاں محمد احسن

کشتہ تانبہ 3 خوراکی ۔۔۔۔نامرد کو مرد کامل بنائے
09/05/2026

کشتہ تانبہ
3 خوراکی ۔۔۔۔نامرد کو مرد کامل بنائے

کھجور اللہ کی بہترین نعمت !کھجور کو سنسکرت میں بھومی کھرجورکا، سوارشٹھ، دراوہا، سکندھ پھلا، کھرجو، کھر جوری، راج جمبو، پ...
09/05/2026

کھجور اللہ کی بہترین نعمت !
کھجور کو سنسکرت میں بھومی کھرجورکا، سوارشٹھ، دراوہا، سکندھ پھلا، کھرجو، کھر جوری، راج جمبو، پنڈی پھل وغیرہ، مرہٹی میں شندی، کھجوری، پینڈ کھجور، بنگالی میں کھیجور، پنڈ کھجور، انگریزی میں Date Sugar Palm, Wild Date Palm وغیرہ کہتے ہیں۔
یہ ایک مشہور پھل و میوہ ہے۔
اسلام میں اس کی کافی اہمیت ہے۔ خاص طور پر رمضان میں اس کا استعمال بکثرت کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ روزے کے دوران مسلسل فاقہ کی وجہ سے جسم میں نقاہت ہوتی ہے۔ اس وقت ایسی غذا کی ضرورت ہوتی ہے جو جامع اور سہل الہضم ہو اور اس کا اثر فوری طور پر شروع ہوجائے اور کمزوری جاتی رہے۔ معدہ سارا دن خالی رہنے کی وجہ سے کسی بھاری چیز کو آسانی سے قبول نہیں کرتا۔ کھجور فوری طور پر ہضم ہوکر جگر کے لئے تقویت کا باعث بن جاتی ہے۔
کھجور قدرت کا وہ پھل ہے کہ جو اپنے اندر بے شمار افادی پہلو رکھتا ہے، جس کے ہر تین اجزاء کارآمد ہیں۔ قدرت نے ایسے غذائی اجزاء اس میں شامل کردیئے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ کھجور میں پائے جانے والے نمکیات اور معدنیات معدہ کی بڑھتی ہوئی تیزابیت کو اعتدال پر لے آتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی وجہ سے معدہ اور آنتوں پر سکون دینے والے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خاص طور پر وہ افراد جو معدہ کے السر کے مریض ہوں، ان کے لئے کھجور بے حد مفید ہے۔
غذائیت کے اعتبار سے یہ ایک بہترین اور مقوی غذا ہے۔ چند ہی ایسی چیزیں ہوں گی جو کم مقدار کے باوجود جسم کو قوت و حرارت فراہم کرنے میں کھجور کے اہم پلہ ہوں گی لیکن کھجور کو اس حوالے سے برتری حاصل ہے کہ یہ بہت جلد ہضم ہوجاتی ہے۔
کھجور کی غذائی اہمیت کا اندازہ اس بات سے باآسانی لگایا جاسکتا ہے کہ کھجور میں فولاد کی مقدار 16.10 فیصد ہوتی ہے۔ جبکہ پالک میں یہ مقدار 5 فیصد، سیب میں 7.1 فیصد، امرود میں 1 فیصد اور انار میں 3 فیصد ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کھجور کو خون پیدا کرنے کا خزانہ کہا گیا ہے۔
اگر ایک چھٹانک انار استعمال کریں تو ہمیں 32 کیلوریز حاصل ہوں گے۔ ایک چھٹانک سیب کھائیں تو 35 کیلوریز ملیں گے۔ ایک چھٹانک کے لئے 86 کیلوریز حاصل ہوں گی لیکن ایک چھٹانک کھجور کھانے سے 160 کیلوریز حاصل ہوں گی۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامن اے، بی اور سی بھی مناسب مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ پوٹاشیم، میگنیشیم، تانبا، سلفر، جست، آرسینک اور آیوڈین جیسے اہم عناصر بھی موجود ہیں۔
ماہرین طب کے مطابق کھجور کا مزاج پہلے درجہ میں گرم تر ہے۔
نوٹ:پہلے درجہ سے مراد ہے کہ کسی قدر۔ اگر کسی چیز کے بارے میں یہ کہا جائے کہ یہ تیسرے یا چوتھے درجے میں گرم، سرد، خشک یا تر ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اس شے میں گرمی یا متعلقہ کیفیت کی شدت زیادہ ہے۔
کھجور میں مندرجہ ذیل فوائد پائے جاتے ہیں۔
1۔کھجور جسم کو طاقت دینے کے ساتھ ساتھ اعصاب، قلب اور معدے کے لئے تقویت کا باعث بنتی ہے۔
2۔جنسی قوت کو بڑھانے اور اسے طاقتور کرنے میں بھی کھجور بہت معاون ثابت ہوتی ہے۔
3۔جن لوگوں میں آئیوڈین کی کمی ہو، انہیں خاص طور پر کھجور استعمال کرنی چاہئے۔
4۔کھجور کمزور جسموں کو فربہ یعنی موٹا بناتی ہے۔ اس لئے جو لوگ بہت دبلے پتلے ہوں یا جن کا وزن کم ہو یا جنہیں سردی زیادہ لگتی ہو، انہیں چاہئے کہ وہ کھجور کو باقاعدگی سے استعمال کریں۔
5۔بہترین طریقہ یہ ہے کہ پانچ عدد کھجوریں رات کو نیم گرم دودھ میں بھگو دیں اور صبح دودھ کو جوش دے کر یعنی ابال کر یہ کھجوریں کھالی جائیں اور اوپر سے دودھ پی لیا جائے۔ اسی طریقہ سے دونوں وقت کھانے کے بعد بھی کھدائی جاسکتی ہیں۔
6۔جنسی تقویت حاصل کرنے کے لئے اسی طریقہ سے چھوہارے دودھ میں جوش دے کر کھائے جائیں اور اوپر سے یہ دودھ پی لیا جائے۔
7۔کھجور عورتوں، مردوں اور بچوں کے لئے یکساں مفید ہے اور اسے بلا جھجک استعمال کیا جائے۔
8۔خواتین کی بعض شکایات کا دور کرنے کے لئے بھی کھجور تجویز کی جاتی ہے۔ نبی اکرمﷺ کا ارشاد ہے۔
’’میرے نزدیک ایام کی تکلیف اور شدت کے لئے پکی ہوئی کھجور سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے‘‘
9۔کھجور ولادت کے عمل میں بھی مدد دیتی ہے۔ اگر بچے کی پیدائش میں دشواری ہو تو کھجور کے سات دانے گرم دودھ کے ساتھ استعمال کئے جائیں۔ اس طرح ولادت میں آسانی ہوجاتی ہے۔
10۔بعض مائیں اپنے بچے کو اپنا دودھ نہیں دے سکتیں کیونکہ ان میں دودھ کی کمی ہوتی ہے۔ ایسی مائوں کو چاہئے کہ دودھ کے ساتھ کھجور کا استعمال جاری رکھیں کیونکہ کھجور دودھ پیدا کرنے والے خلیات کی پرورش کرکے انہیں فعال بناتی ہے۔
11۔حضرت امام محمد احمد ذہبی رحمتہ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ حاملہ عورتوں کوکھجور کھلانے سے لڑکا پیدا ہوگا جو کہ حلیم، خوبصورت اور بردبار ہوگا۔
12۔نوزائیدہ بچوں کے لئے کھجور بہترین گھٹی ہے۔
13۔امراض قلب میں بھی کھجور نہایت مفید ثابت ہوئی ہے۔ خاص طور پر عجوہ کھجور اس کے لئے نہایت مفید بیان کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں بیمار ہوا۔ میری عیادت کو رسول اﷲﷺ تشریف لائے۔ آپ نے اپنا ہاتھ میرے کندھوں کے درمیان رکھا تو آپ کے ہاتھ کی ٹھنڈک میری ساری چھاتی میں پھیل گئی۔ پھر آپﷺ نے فرمایا کہ اسے دل کا دورہ پڑا۔ اسے حارث بن کلرہ کے پاس لے جائو جو بنو سقیف میں مطب کرتا ہے۔ حکیم کو چاہئے کہ وہ مدینہ کی سات عجوہ کھجوریں گھٹلیوں سمیت کوٹ کر اسے کھلائے۔ کھجور کے فوائد کے بارے میں یہ حدیث بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ طب کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی مریض کے دل میں درد کی تشخیص کی گئی۔
14۔کھجور پر جو تازہ تحقیقات ہوئی ہیں اس سے پتہ چلا ہے کہ کھجور میں پائے جانے والے معدنی نمکیات قلب کی حرکت کو منظم رکھتے ہیں۔
15۔دل کے سکڑ جانے اور پھیلنے میں کیلشیم کا بڑا دخل ہے۔ اگر روزانہ پانچ سات دانے کھجور کے کھائے جائیں تو یہ دن بھر کے لئے ہمارے جسم کی کیلشیم کی ضرورت پوری کردیں گے۔
16۔کھجور کے استعمال کا سب سے اہم فائدہ یہ ہے کہ اس کے استعمال سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار نہیں بڑھتی۔ کولیسٹرول کی مقدار خون میں بڑھ جائے تو دل کے دورے کا باعث بن سکتی ہے۔
17۔دماغی کام کرنے والوں کے لئے کھجور ایک بے نظیر تحفہ ہے۔ چونکہ اس میں موجود لحمیات، حیاتین اور معدنی نمکیات دماغ اور اعصاب کو طاقت بخشتے ہیں۔ اس کے متواتر استعمال سے نسیان (بھولنے کی بیماری) سے بھی نجات مل جاتی ہے۔
18۔جن لوگوں کے ہاتھوں اور پیروں میں رعشہ (کپکپاہٹ) ہو وہ بھی کھجور کی مدد سے اس شکایت سے چھٹکارا حاصل کرسکتے ہیں۔
19۔ کھجور بلغم کو خارج کرکے کھانسی میں فائدہ پہنچاتی ہے۔ اگر اسے پابندی سے استعمال کیا جائے تو جو پھیپھڑے عام طور پر بار بار کھانسی کے حملوں یا نمونیا کے بعد کمزور ہوجاتے ہیں، دمہ حساسی (الرجک استھما) کی وجہ سے بھی پھیپھڑے کمزور ہوجاتے ہیں اور ان کی خشکی بڑھ جاتی ہے۔ ایسی صورت میں دس عدد کھجوروں کو گھٹلی الگ کرکے باریک پیس لیا جائے اور ایک اونس مکھن (بغیر نمک والا) میں ملاکر نصف مقدار صبح نہار منہ اور باقی نصف مقدار شام چار یا پانچ بجے استعمال کی جائے۔ خیال رہے کہ اس کے فورا بعد پانی نہ پیاجائے۔
20۔کھجور میں موجود سلفر جراثیم کو ہلاک کرنے کے ساتھ ساتھ زخموں کو بھرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
21۔یرقان کے لئے بھی کھجور کا استعمال بہترین ہے کیونکہ پتہ اور جگر کے فعل کو درست کرتی ہے۔
22۔اس کی بے شمار اقسام ہیں۔ ان میں خاص طور پر مشہور عجوہ، شامی، شبلی اور برنی وغیرہ ہیں۔
23۔جدیدتحقیقات سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ کھجور میں زہر کو بے ضرر بنانے کی خاصیت موجود ہے۔
24۔کھجور کی نبیذ (کھجور کو بھگو کر اسکا پانی حاصل کرنا) میں بھی توانائی کے ساتھ ساتھ فرحت پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہ پانی جسم کی غلیظ رطوبتوں کو خشک کرتا ہے۔ معدہ کو تقویت دیتا ہے۔ منہ کے زخموں کو مندمل کرتا ہے۔ خاص طور پر مسوڑھوں کی سوزش میں مفید ہے۔
25۔کھجور تمام پھلوں میں ممتاز حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ یہ جسم کے ہر حصے کے لئے یکساںطور پر مفید ہے۔
کھجور کا حلوہ: خرمہ 250 گرام، کھویا 100 گرام، دودھ ایک کپ، گھی ایک چمچہ، کھوپرہ، مونگ پھلی، ہر ایک ایک کھانے والا چمچہ، پہلے خرمہ کو کوٹ لیں پھر اس میں گھی ڈال کر بھونیں۔ جب برابر بن جائے تو اس میں دودھ ڈال کر پکائیں، جب دودھ برابر پک جائے تو اس میں کھویا ڈال کر خوب ہلائیں، تھوڑی دیر میں حلوہ تیار ہوجائے گا۔ پھر نیچے اتار کر اس میں مونگ پھلی اور کھوپرہ باریک کرکے ملالیں۔ اس میں چینی وغیرہ ڈالنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
کھجور کے بارے میں یہ احتیاط رہے کہ نیم پختہ اور پرانی کھجور کو ملاکر نہیں استعمال کرنا چاہئے۔ اسی طرح کھجور اور انجیر کو بیک وقت نہیں کھانا چاہئے، جب آنکھیں دکھتی ہوںتو بھی کھجور کھانا مناسب نہیں۔ نیز کھجور کا ایک ہی وقت میں زیادہ استعمال بھی نہیں کرنا چاہئے۔ اس کا ایک چھٹانک تک استعمال صحت کے نقطہ نظر سے جائز و فائدہ مند ہے۔

شاہی پاور کیپسول برباد کی ہوئی طاقت پھر سے لوٹ آئے گی عمدہ اور قابل اعتماد نسخہ ہے اس کو ایک بار ضرور آزمائیں بہترین رزل...
08/05/2026

شاہی پاور کیپسول

برباد کی ہوئی طاقت پھر سے لوٹ آئے گی عمدہ اور قابل اعتماد نسخہ ہے اس کو ایک بار ضرور آزمائیں بہترین رزلٹ دیتا ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس کے استعمال سے برباد ہوئی جوانی بحال ہو کر پھر سے طاقت و توانائی بحال کرتی ہے بلکہ مادہ منویہ میں بھی اضافہ کرتی ہے.
پہلے ہی دن عضو خاص لوہے کی طرح سخت اور انتشار بے تحاشا ہو گا۔
ایک ماہ استعمال کریں اس کے بعد کسی دوا کی ضرورت نہیں رہے گی.
کمر درد جوڑ گنٹھیا یورک ایسڈ اور مہروں کا درد چٹکیوں میں غائب ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ.

ھوالشافی۔۔
عقرقرحا 10 گرام
جنسگ 10 گرام
لونگ 10 گرام
جلوتری 10 گرام
دارچینی 10گرام
خراطین مصفی 10 گرام
ثعلب پنجہ 20 گرام
ثعلب مصری 20 گرام
مصطگی رومی 10 گرام
سلاجیت مصفیٰ 10 گرام
جڑ پان 10 گرام
مغز جائفل 10 گرام
اجوائن خراسانی 10 گرام
مروارید ناسفتہ 15 گرام
زعفران ایرانی 15 گرام
جواہر مہرہ خود ساختہ 05 گرام
عنبر اشہب 3 گرام
ورق طلاء 2 گرام

500 ملی گرام کیپسول بھر لیں یا شہد خالص دیسی کی مدد سے گولیاں نخودی بنا لیں .
استعمال..
1 کیپسول یا گولی رات کھانے کے بعد دودھ نیم گرم سے
فوائد...
زندگی تبدیل کر دینے والی دوائی ہے . اسکے اجزاء ایک خود منہ بولتا ثبوت ہیں زیادہ تعریف کرنے کا محتاج نہیں اسمیں شامل اجزاء ہی اپنی تعریف آپ ہے.
مقوی باہ.محرک.کمی انتشار .اعصابی جسمانی کمزوری.آلہ تناسل کی رگوں میں خون کی روانگی بڑھا کر کجی لاغری کودور کرکے آلہ تناسل کی لمبائی اور موٹائی میں اضافہ کرنے کے لیے مفید ھے ممسک بھی ھے.
بلکل کسی بھی قسم کے سائیڈ ایفیکٹ سے پاک ہے
والسلام
میاں محمد احسن
قیمت 5000 روپے بمع ڈلیوری ایک ماہ کے
(COD available)

08/05/2026

پرانی کھانسی :-
گلے کی خرابی، حلق کی سوزش، سانس کی نالی میں کسی قسم کے انفکشن کا جنم لینا یا پھیپھڑوں کی خرابی، کھانسی کا سبب بنتی ہے۔ کھانسی کا مؤثرعلاج نہ ہونے کی صورت میں یہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔
کھانسی چند روزہ ہو یا کہنہ، برونکائیٹس کی شکل اختیار کر چُکی ہو یا خُشک اور شدید ہو، اس کا تعلق نظام تنفس کی گوناگوں بیماریوں سے ہوتا ہے
کہنہ کھانسی کی وجوہات:-
کہنہ بروناکائیٹس یا پھیپھڑوں کے ورم کی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہوتی ہے۔ 40 سال کی عمر سے زائد کے ہر دوسرے تمباکو نوش میں ڈاکٹر برونکائیٹس یا پھیپھڑے کے ورم کی بیماری کی تشخیص کرتے ہیں۔ جتنی زیادہ تمباکو نوشی کی جائے گی، مرض کی شدت بھی اتنی ہی بڑھتی جائے گی۔ برونکائیٹس کے مرض میں مبتلا 90 فیصد مریض یا تو تمباکو نوشی کی بُری عادت میں مبتلا ہوتے ہیں یا ماضی میں رہ چکے ہوتے ہیں۔
برونکائیٹس سے نجات حاصل کرنے کے لیے فوری طور پر تمباکو نوشی ترک کرنا اور طبی علاج کا سہارا لینا ناگزیر ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق سگریٹ نوشی ترک کرنے کے قریب چار ہفتوں بعد کھانسی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ چند خاص قسم کے کام کرنے والوں میں پھپپھڑوں کی خرابی اور کھانسی زیادہ عام ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر کانوں میں کام کرنے والوں میں یہ بیماری عام ہے اور اگر وقت پر اس کا مؤثر علاج نہ کیا جائے تو یہ پھیپھڑوں کے کینسر یا سرطان کا سبب بن سکتی ہے۔
علاج و ترتیب"-
برگ مدار پختہ 2 عدد۔گل مدار 7 عدد۔شکر سفید 7 تولہ ۔مویز منقہ 12 عدد۔مغز بادام 10 عدد۔تخم خرفہ 5 ماشہ ۔شیر مدار 6 ماشہ
سب کو باریک کر کے 4 رتی گولیاں بنا لیں 1 گولی روزانہ استعمال کریں
والسلام
میاں محمد احسن

07/05/2026

چیونٹی_بھگانا

07/05/2026

پاگل_کتے_کا_کاٹنا

جگرین شربت:-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہلیلہ آدھا پاؤبلیلہ آدھا پاؤآملہ آدھا پاؤپودینہ خشک آدھا پاؤاجوائن دیسی آدھا پاؤتیز پات ...
07/05/2026

جگرین شربت:-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہلیلہ آدھا پاؤ
بلیلہ آدھا پاؤ
آملہ آدھا پاؤ
پودینہ خشک آدھا پاؤ
اجوائن دیسی آدھا پاؤ
تیز پات آدھا پاؤ
سنڈھ آدھا پاؤ
دروانج عقربی آدھا پاؤ
پتری فولاد 150 گرام
ٹینکچر نکسوامیکا 100 ملی لیٹر
ترتیب و ترکیب :-
سوائے پتری فولاد اور ٹینکچر کے سب ادویہ کو جوکوب کرکے 15 کلو پانی میں بھگو دیں صبح 10 بوتل عرق کشید کریں اور 10 کلو چینی ملا کر قوام تیار کریں۔
جب ٹھنڈا ہونے پہ آئے تو پتری فولاد اور نکسوامیکا ٹینکچر شامل کریں
3 گرام ست لوبان شامل کرکے محفوظ کرلیں
مزید ترکیب و ترتیب سمجھنے کے لیے یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور وڈیو دیکھیں
https://youtu.be/UjVdbs5ZEak
خوراک:-
1۔1 چمچ صبح و شام کھانے کے بعد دودھ میں ملا کر پئیں۔
فوائد:-
جسم میں خون کی کمی چاہے جس وجہ سے بھی ہو( ۔پیچش۔اسہال۔بدہضمی و قبض سستی و کاہلی
رنج و غم اور فکر و تردد میں مبتلا رہنا۔کثرت محنت دماغی۔کثرت مجامعت و جلق وغیرہ
جریان منی۔ عورتوں میں سیلان رحم کثرت حیض)ان عوارض کی وجہ سے کمزوری اور خون کی کمی کو دور کرتا ہے
بھس secondary anaemia کے لیے لاجواب ٹانک ہے ۔چند دن کے استعمال سے مردہ جسم تازہ اور چہرہ لال ہو جاتا ہے ۔
غذا کو ہضم کرتا ہے بھوک بڑھاتا ہے ۔بوڑھا جوان اور کمزور نوجوان تصور کرتا ہے
آنکھوں اور ناخن کی سفیدی ختم کرتا ہے
دل کی دھڑکن ۔اٹھتے وقت سر چکرانا۔طبیعت کی سستی اور نڈھالی جیسے مسائل کو ٹھیک کرتا ہے ۔خون کی کمی کو پورا کرنے کےلیے اسکے مدمقابل کوئی شربت نہ ہوگا ۔
ان لوگوں کے لیے ایک نعمت سے کم نہ ہوگا جنہیں کھایا پیا نہ لگتا ہو
والسلام
میاں محمد احسن

 #ہینگ"ہینگ" کا عربی نام حلتیت، فارسی نام انگوزہ، گجراتی نام ہنگرا تیلیگو رنگوا اور انگریزی نام ایسافی ٹیڈا asefitida ہے...
07/05/2026

#ہینگ

"ہینگ" کا عربی نام حلتیت، فارسی نام انگوزہ، گجراتی نام ہنگرا تیلیگو رنگوا اور انگریزی نام ایسافی ٹیڈا asefitida ہے۔
یہ "انجدان" درخت کا گوند ہے۔

یہ دوا نہایت قدیمی ہے کیونکہ سنسکرت کی کتابوں میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔
اس کی بو تیز مثلِ لہسن کی بو کے ہوتی ہے۔
اصلی "ہینگ" کو پانی میں حل کریں تو زردی مائل سفید رنگ کا ایملشن بن جاتا ہے۔
اس ایملشن میں نقلی شامل کرنے پر اس کا رنگ سبزی مائل زرد ہو جاتا ہے۔
اگر اصل "ہینگ" کا ٹکڑا لے کر اس کو دیا سلائی سے آگ لگائیں تو موم بتی کی طرح جلنے لگتا ہے۔
اگر "ہینگ" کی تازہ ٹوٹی ہوئی سطح پر تیزاب شورہ لگائیں تو تھوڑی دیر کیلئے اس کا رنگ سبز ہو جاتا ہے۔
اس کی بہترین قسم "ہیرا ہینگ" ہے،
جو فیرولا کی قسم کے ایک پودے "انجدانِ سفید" سے حاصل ہوتی ہے۔

"ہینگ" کی ایک قسم "ہینگرہ" یا "قندھاری ہینگ" کہلاتی ہے،
جس میں الکحل میں حل ہونے کی خاصیت پائی جاتی ہے اور ٹنکچر سازی کیلئے موزوں ہے۔
اس لئے مغربی مارکیٹ میں اس کی زیادہ مانگ ہے۔
برعکس اس کے ہندوستان میں "ہینگرہ" کو "ہینگ" کی گھٹیا قسم سمجھا جاتا ہے۔
کیونکہ یہاں اس کا استعمال مسالے کے طور پر ہوتا ہے۔
اس لئے زیادہ بودار ہونے کی وجہ سے "ہیرا ہینگ" زیادہ پسند کی جاتی ہے۔
رنگ:
سفیدی مائل زرد،
ذائقہ:
تلخ نا مرغوب اور مغشی،
مزاج:
گرم درجہ چہارم،
خشک:
درجہ دوم،
مقدارِخوراک:
ایک سے دو رتی تک۔
مقامِ پیدائش:
ہرات افغانستان اور ایران کے خشک اور بلند مقامات کی آب و ہوا "انجدان" کے پودوں کیلئے نہایت موزوں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تقریباً تمام "ہینگ" انہی ملکوں سے آتی ہے۔
ہندوستان میں تقریباً ایک کروڑ روپے سالانہ کی "ہینگ" درآمد کی جاتی ہے۔
تقسیم سے پہلےتقریباً ساری "ہینگ" خشکی کے راستے درہِ خیبر سے گزر کر آتی تھی لیکن اب بمبئی کے راستہ سے بھی درآمد کی جاتی ہے۔
"ہینگ" کے پودوں سے "ہینگ" بلکل ربڑ کی طرح حاصل ہوتی ہے۔
جب انکی عمر 4 اور 5 سال درمیان ہوتی ہے تو اس کی جڑ کا قطر قریباً 6 انچ ہوتا ہے۔
یہ پودا مارچ اپریل میں پھول دیتا ہے۔
پھول آنے سے ذرا پہلے جڑ کا بالائی حصہ اردگرد کی زمین کھود کر ننگا کر دیا جاتا ہے۔
پھر تنے کو کاٹ کر مٹی کا بنا ہوا پیالہ نما برتن باندھ دیا جاتا ہے۔
تنے کے کٹے ہوئے حصّے سے دودھ خارج ہو کر اس برتن میں جمح ہوکر بعد میں خشک ہو جاتا ہے۔
ایک پودے سے 2 اور تین پونڈ کے درمیان خام "ہینگ" نکلتی ہے۔
حاصل شدہ "ہینگ" کو بوریوں یا چمڑے کے تھیلوں میں بھر لیا جاتا ہے۔

:
مخرجّ بلغم، مدربول و حیض کا سر ریاح دافع تسنج اور محمر جلد ہے۔
گھر میں رکھنا وبائی امراض سے بچاتا ہے۔
اکثر زہروں کیلئے تریاق ہے۔
جگر طحال اور معدہ کی بیماریوں کو مفید ہے۔
ہاضمِ طعام ہے۔
بھوک خوب لگاتا ہے۔
دماغی اور اعصابی امراض، مرگی، فالج، لقوہ، رعشہ، خدر اور خصوصاً اختناق الرّحم میں بکثرت مستعمل ہے اور ام اور ریاح کو تحلیل کرتا ہے۔
اکلاً وطلاءً مقوی باہ ہے۔
اس کو بریاں کرکے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ قے نہ لائے۔
بغیر بھنی ہوئی "ہینگ" غثیان پیدا کرتی ہے۔



مزاج کے اعتبار سے ہینگ گرم اور خشک ہے۔
ہینگ کا استعمال انڈین کھانوں میں زیادہ کیا جاتا ہے۔
بادی کھانے جن میں ماش کی دال، آلو، اروی اور کچالو وغیرہ شامل ہیں، ان کھانوں میں "ہینگ" کا استعمال کرنا چاہئے۔
"ہینگ" اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات رکھتی ہے۔

چھوٹے بچے جب گھٹنوں کے بل چلنا سیکھتے ہیں تو وہ زمین پر پڑی ہر چیز منہ میں ڈال لیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا پیٹ اکثر خراب رہتا ہے یا پھر پیٹ میں کیڑے پیدا ہو جاتے ہیں۔
ایسے میں ہینگ گھر میں رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

بڑوں کو بھی نزلہ جم جانے کی وجہ سے کان کے درد کی شکایت رہتی ہے۔ ایسے میں "ہینگ" کا گھر میں ہونا ضروی ہوتا ہے۔
ایک ایک تولہ ہینگ ،سونٹھ اور ثابت دھنیا پیس کر ایک کلو پانی اور آدھا پاؤ سرسوں کے تیل میں ہلکی آنچ پر اس وقت تک پکائیں کہ سارا پانی خشک ہو جائے اور تیل باقی رہ جائے۔
اب تیل کو ٹھنڈا کرکے چھان کر بوتل میں بھر کر رکھ لیں۔
کسی قسم کا بھی کان کا درد ہو تیل کو ہلکا گرم کرکے چند بوندیں ڈالیں۔
فوری آرام آ جائے گا۔



ہینگ کا لیپ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
دو چمچ ہینگ میں آدھا چائے کا چمچ پسی کالی مرچ اور دو کھانے کے چمچ سرکہ ملا کر بالوں کی جڑوں میں مساج کریں۔
چند دنوں میں بال جھڑنا بند ہو جائیں گے۔



ہینگ جسم کے ہر درد میں مفید ہوتی ہے اور سوجن دور کرتی ہے لیکن دانت کے درد میں اس کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔

داڑھ کے درد میں اگر ایک چٹکی ہیرا ہینگ داڑھ میں رکھ لی جائے تو تھوڑی دیر میں آرام آجاتا ہے۔

کالی مرچ، ہینگ، نیم کے خشک پتے اور لاہوری نمک ہم وزن لے کر باریک پیس کر رکھ لیں، ہفتے میں دو بار اس منجن کا استعمال کریں نہ دانت میں کیڑا لگے گا اور نہ ہی ٹھنڈا گرم کھانے میں مشکل ہو گی۔

دانت کے درد میں ایک کپ پانی میں دو چٹکی ہینگ اور دو لونگیں ڈال کر ابال لیں اور اس پانی سے کلی کریں دانت کے درد میں آرام آئے گا۔

لیموں کے رس میں "ہینگ" ملا کر گھول لیں اور روئی سے دانت پر لگائیں تو دانت سے خون نکلنا اور پیپ آنا بند ہو جاتی ہے۔



جن لوگوں کا معدہ خراب رہتا ہو،
بادی یا بھاری چیزیں کھانے سے معدے میں درد ہوتا ہو تو منقہ کے بیج نکال کر اس میں زرا سی ہینگ بھر دیں اور مریض کو کھلا دیں، معدے کے درد میں فوری آرام آجائے گا۔
یہ ٹوٹکہ ان لوگوں کے لئے بھی مفید ہے جنھیں معدے کے درد سے غنودگی طاری ہونے لگتی ہے یا ان کو چکر آتے ہیں۔



نزلہ یا تکان سے ہونے والا سر کا درد ہو یا پھر مایگرین،
"ہینگ" کا استعمال فوری راحت دیتا ہے۔

کافور، "ہینگ" ، پیپرمنٹ اور سونٹھ کو باریک پیس کر عرق گلاب میں ملا کر لیپ بنا لیں اور اس لیپ کو سر پر لگا کر ہلکے ہاتھ سے مساج کریں۔
تھوڑی دیر میں سر کے درد میں آرام محسوس کریں گے۔



وہ خواتین جو ہر ماہ ماہواری کا شدید درد برداشت کرتی ہوں یا جنھیں ماہواری کھل کر نہ آتی ہو اور ماہواری کا ماہانہ نظام مستقل نہ ہو ان کو ہینگ کا استعمال ضرور کرنا چاہئے۔
ایک کپ بٹر ملک میں ایک چٹکی ہینگ، ڈیڑھ کھانے کا چمچ میتھی دانہ کا سفوف اور آدھا چائے کا چمچ نمک ملا کر ایک مہینہ تک مستقل دن میں دو دفعہ پینا چاہئے۔
ایک مہینہ کے اندر ہی ماہواری کی تکلیف دور ہو جائے گی۔



"ہینگ" اینٹی بائیوٹک خصوصیات رکھتی ہے اس لئے دمہ، کھانسی، بلغم،کالی کھانسی اور پسلیاں چلنے کے درد اور سردی میں انتہائی موثر ہے۔

بلغمی کھانسی میں ہم وزن سونٹھ پاؤڈر اور شہد میں ایک چٹکی "ہینگ" ملا کر لینے سے بلغمی کھانسی میں آرام آتا ہے۔
بلغم آنے کی وجہ سے سینے میں درد بھی ہوتا ہے۔
ایسے میں "ہینگ" اور پانی کو ملا کر سینہ پر ملنے سے سکون کی نیند آتی ہے۔

پسلی کے درد میں عمدہ "ہینگ" باریک پیس لیں اور انڈے کی زردی میں ملا کر لیپ کریں۔
پسلی کے درد میں آرام آئے گا۔



پیٹ کے درد، قے، جگر کا ورم، بد ہضمی، گردہ کا درد، بھوک کی کمی ہو یا پیٹ میں گیس ہو تو "ہینگ" گرم پانی کے ساتھ کھانے سے پیٹ کا ہر طرح کا درد ٹھیک ہو جاتا ہے۔

پیٹ میں ریح رک جانے سے درد پیدا ہو جائے تو دو ماشہ "ہینگ" لے کر تین چھٹانک پانی میں اتنا پکائیں کہ ایک چھٹانک رہے جائے۔
اب اس کو نیم گرم حالت میں مریض کو پلا دیں فوری طور پر آرام آئے گا۔



ماشہ "ہیرا ہینگ" کو عرقِ گلاب میں حل کرکے روزانہ پلائیں۔
نیز ہینگ کو پانی میں پتلا کرکے پاگل کتے کے کاٹے پر لگائیں۔



"ہینگ" کو پیس کر چیونٹیوں کے سوراخ میں ڈالنے سے چیونٹیاں بھاگ جاتی ہیں۔
کچن کیبنیٹ کے کونوں میں بھی "ہینگ' لگانے سے چیونٹیاں اور لال بیگ نہیں آتے۔

Address

ہیلاں چونگی پھالیہ ضلع منڈی بہاؤ الدین
Mandi Bahauddin
50430

Telephone

+923426989262

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مطب احسن Matab Ahsan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to مطب احسن Matab Ahsan:

Share