Al-Shifa Hospital

Al-Shifa Hospital

Comments

کورونا کی اس وبا سے یہ پتہ چل گیا ہے کہ قصائی کون ہے۔۔۔
غور کریں آپ سب لوگ اور فرق جانیئے
5 روہے والا ماسک دوکاندار 35 میں بیچ رہا ہے اور 150 والا ڈبا 1500۔۔N 95 ماسک 100 کے بجائے 1300 کا
10 روپے والے کلوروکوین گولیاں فارمیسی والے 100 کا بیچ رہے ہیں۔۔
سینیٹائزر مہنگا ۔800 آٹے والے بوری 1100 کی بک رہی ہے۔۔پیاز مہنگا آلو مہنگے۔۔آپ زرا اگر سفر کیلیے ٹیکسی کرنا چاہے تو 200 کی جگہ 500 لے گا
یعنی اوپر حکمرانوں سے لےکر ریڑھی بان اور دکاندار سب چور۔۔
اب آتے ہیں ڈاکٹر یعنی قصاب کی طرف۔۔پہلی بات ڈاکٹر اپنی ڈیوٹیاں کر رہے ہیں جو کوئی انوکھی بات نہیں۔۔لیکن کسی ڈاکٹر نے چھپ کر بلیک میں مریض چیک نہیں کیا۔۔کوئی ایک ڈاکٹر بتاؤ جس نے اس مشکل حالت میں 500 کی بجائے 5000 فیس لی ہو ۔۔
چونکہ سرکاری اور پرائویٹ کلینک بند ہیں اس لیے ہر ڈاکٹر سوشل میڈیا پر اپنا موبائل نمبر شیئر کر رہا ہے تاکہ تکلیف کی صورت میں ان سے رابطہ کیا جا سکے بغیر فیس کے۔۔
ٹیلی میڈیسن۔۔۔یہ وہ کلینک ہیں جہاں ہر وقت ڈاکٹر ٹیلیفون کے سامنے بیٹھا ہوتا ہے اور مریض کی کال کا انتظار کرتا رہتا ہے ۔۔مریض گھر میں بیٹھ کرباآسانی ڈاکٹر سے رابطہ کر سکتا ہے بغیر ایک روپے خرچ کیے۔۔
کسی نے بھی نہیں سنا ہوگا کہ اس وبا کے دور میں فلاں ڈاکٹر نے مجھ سے 50 ہزار کی جگہ ایک لاکھ روپے لے لیے۔۔۔
بلکہ ڈاکٹر اسامہ کی طرح بہت سے ڈاکٹر اس جنگ میں شہید ہو جائینگے لیکن نہ ان کی خاندان والوں کو ڈی ایچ اے میں پلاٹ ملیں گے نہ ان کی تعلیم کو فری کیا جائے گا نہ ان کو حکومت کی طرف سے ایک کوڑی ملے گی. نہ ہی ڈاکٹرز ان میں سے کسی چیز کی ڈیمانڈ کر رہے ہیں۔ ڈاکٹرز صرف اور صرف دوران ڈیوٹی ماسک اور حفاظتی کٹ کی مانگ کر رہے ہیں،تاکہ وہ خود اور مریض دونوں اس وبا کے مزید پھیلانے میں شامل نہ ہوں۔ حکومتی نا اہلی کی وجہ سے ایک ڈاکٹر دوران ڈیوٹی ان حفاظتی کٹس کے نہ ملنے کی وجہ سے اپنی جان سے چلا گیا، اور نہ جانے کتنوں نے کرونا کے مریضوں کی دیکھ بھال کے دوران اس مرض کو اپنے گلے لگا لیا،لیکن اسکے باوجود نہ جانے کتنے ڈاکٹرزاپنی ڈیوٹیاں سر انجام دے رہے ہیں،
لیکن قصائی پھر بھی ڈاکٹر ہی ہے !!!
Ye hosptal konsi jagh pe ha lahore ma ha ya abbottabad ma

Our mission is to provide compassionate,accessible,cost effective and high quality health care to al

Operating as usual

14/01/2023

الشفاء ہسپتال شعبہ آرتھوپیڈک سرجری اینڈ فزیوتھراپی۔۔۔
گھٹنے کی درد۔۔۔

درحقیقت عمر بڑھنے کے ساتھ ہڈیاں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں جس کے باعث جوڑوں کا درد لوگوں کو اپنا شکار بنالیتا ہے اور اس کا سب سے زیادہ اثر گھٹنوں پر ہوتا ہے۔

گھٹنوں میں تکلیف کسی حالیہ انجری کا نتیجہ ہو یا جوڑوں کے امراض کا نتیجہ، چند عام چیزوں کا خیال رکھ کر آپ اس مسئلے سے نجات یا اس کی شدت میں کمی لانے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

بہت زیادہ آرام مت کریں
بہت زیادہ آرام یا بیٹھے رہنے سے مسلز کمزور ہوسکتے ہیں، جو جوڑوں کی تکلیف کو بدتر کرسکتا ہے۔ ایسی ورزشیں کرنا عادت بنائیں جو گھٹنوں کے لیے محفوظ ہوں اور ان کو کرنا عادت بنالیں۔ اگر آپ کو یقین نہ ہو کہ کونسی جسمانی سرگرمی محفوظ ہے یا نہیں یا کتنی دیر تک کرنی چاہیے، تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

ورزش ضرور کریں
کارڈیو ورزشیں جیسے چہل قدمی، سوئمنگ، سائیکل چلانا اور دیگر، مسلز کو مضبوط بنا کر گھٹنوں کو سپورٹ کرتی ہیں اور لچک بڑھاتی ہیں، فزیوتھراپی کروائیں۔مسلز کو مضبوط بنائیں اور ہڈی پر سے بوجھ کم کریں۔

گرنے سے بچیں
تکلیف دہ یا عدم توازن کے شکار گھٹنے گرنے کا امکان بڑھاتے ہیں، جس سے گھٹنوں کو مزید نقصان بچ سکتا ہے۔ گرنے سے بچنے کے لیے گھر کو روشن رکھیں یا کسی چہز کا سہارا لیں۔

'رائس' کا استعمال کریں
ریسٹ، آئس، کمپریشن اور ایلیویشن (رائس) معمولی انجری یا جوڑوں کے امراض کے باعث گھٹنوں کی تکلیف سے بچاﺅ کے لیے بہتر حکمت عملی ہے۔ اپنے گھٹنوں کو کچھ آرام دیں، برف سے سوجن کم کریں، کمپریسیو بینڈیج لگائیں اور اپنے گھٹنوں کو کچھ اونچا رکھ ہیں

وزن کو نظرانداز مت کریں
اگر آپ کا جسمانی وزن زیادہ ہے تو اس میں کمی لانا گھٹنوں پر تناﺅ کم کرسکتا ہے، آپ کو مثالی وزن کے حصول کی ضرورت نہیں ہوتی، معمولی کمی بھی فرق پیدا کرسکتی ہے۔

چلنے کے لیے سہارے سے گریز مت کریں
ایک بیساکھی یا چھڑی گھٹنوں پر سے تناﺅ کمی لانے میں مدد دے سکتے ہیں، گھٹنوں پر چڑھائے جانے والے بریسز بھی اسے مستحکم رکھنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

جوتوں کا خیال رکھیں
نرم سول والے جوتے گھٹنوں پر تناﺅ میں کمی لاسکتے ہیں، گھٹنوں میں پرانے درد کے لیے ڈاکٹر اکثر خصوصی سول کے استعمال کا مشورہ دیتے ہیں، اس مقصد کے لیے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

گرم ٹھنڈا بھی مددگار
گھٹنوں میں انجری کے بعد اولین 48 سے 72 گھنٹے کے بعد سوجن اور تکلیف میں کمی کے لیے کولڈ پیک کو استعمال کیا جاسکتا ہے، اس مقصد کے لیے پلاسٹک بیگ میں برف کو ڈال کر اس کے گرد تولیہ لپیٹ دیں، پھر دن میں 3 سے 4 بار 15 سے 20 منٹ تک استعمال کریں۔اس کے بعد گرمائش سے مدد لیں، اس کے لیے ہیٹنگ پیڈ یا گرم تولیہ پندرہ سے 20 منٹ کے لیے تین سے 4 بار دہرائیں۔

جوڑ کو مشکل میں مت ڈالیں
زیادہ سخت ورزشیں تکلیف دہ گھٹنوں کو مزید نقصان پہنچاسکتی ہیں، ایسی ورزشیں جیسے رننگ، جمپنگ وغیرہ سے گریز کریں جبکہ اٹھک بیٹھک سے بھی بچیں کیونکہ اس سے بھی گھٹنوں پر دباﺅ بڑھ جاتا ہے۔

ڈاکٹر سے مشورہ کریں
اگر گھٹنوں میں تکلیف نئی ہے تو ڈاکٹر سے اس کا معائنہ کرالیں، یہ بہتر ہوتا ہے کہ فوری طر پر جان لیں کہ آپ کو کس مسئلے کا سامنا ہے تاکہ مزید نقصان سے بچنا ممکن ہوسکے۔

دعاء گو ڈاکٹر سہیل احمد کنسلٹنٹ آرتھو پییڈک سرجن الشفاء ہسپتال

22/12/2022

الشفاء ہسپتال شعبہ آرتھوپیڈک سرجری اینڈ فزیوتھراپی۔۔۔۔

ڈاکٹر سہیل احمد کنسلٹنٹ آرتھو پیڑک سرجن

ہڈیوں کے بھربھرا پن سے متاثرہ مریضوں کا تناسب بڑھنے لگا

پاکستان ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جن میں آسٹیو پراسس (ہڈیوں کا بھر بھرا پن) سے متاثرہ مریضوں کا تناسب بہت زیادہ ہے ۔آسٹیو پراسس کی بروقت تشخیص اور باقاعدہ علاج اہم ہے کیونکہ موثر علاج میں تاخیر کئی پیچیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ جیسا کہ ہڈیوں کی کمزوری اور بوسیدگی‘ بتدریج ہڈیوں خصوصاً کولہے‘ ریڑھ اور کلائی کے چٹخنے یا ٹوٹنے (Fracture) جیسے حادثات۔

آسٹیو پراسس کیا ہے؟

آسٹیو کا مطلب ہڈیاں‘ پراسس کا مطلب کمزور ہونا یا خستہ ہونا ہے لہٰذا آسٹیو پراسس کا مطلب ہڈیوں کا کمزور اور خستہ ہونا (بھر بھرا پن) ہے۔اس بیماری میں ہڈیاں کمزور‘ خستہ اور پتلی ہوجاتی ہیں کہ ان پر پڑنے والا معمولی دبائو مثلا مڑنے یا کھانسنے سے پڑنے والا دبائو کولہے‘ ریڑھ کی ہڈی یا بازو کی ہڈی میں فریکچر کرسکتا ہے۔ آسٹیو پراسس بڑے پیمانے پر پھیلنے والا طبی مسئلہ ہے لیکن 1994ء تک اسے ایک بیماری نہیں سمجھا جاتا تھا۔ حتیٰ کہ عالمی ادارہ صحت نے اسے ایک ترجیحی مسئلہ صحت قرار نہ دیا۔ہڈی ایک زندہ ٹشو ہے جو مستقل طور پر بنتی رہتی ہے جبکہ اس کے پرانے حصے ختم ہوتے رہتے ہیں ہڈی تیس سے چالیس برس کے دوران اپنی بھرپور صورت میں ہوتی ہے جبکہ ان کے بعد جوں جوں عمر بڑھتی ہے ہر فرد کی ہڈیاں گھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔

تین عورتوں میں سے ایک یا پانچ مردوں میں سے ایک اپنی زندگی کے کسی بھی مرحلے میں آسٹیوپراسس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ آسٹیوپراسس کو عموماََ عورتوں کی بیماری سمجھا جاتا ہے حالانکہ یہ مردوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں پچاس برس سے زائد عمر کی عورتوں کی ایک تہائی اور مردوں کی بیس فیصد تعداد ہڈیوں کی فرسودگی یا خستگی کا شکار ہے۔ اگرچہ عورتوں میں یہ بیماری مردوں سے زیادہ پروان چڑھتی ہے۔ 75 برس اور اس کے بعد مردوں اور عورتوں میں آسٹیوپراسس یکساں نوعیت کا ہوتا ہے۔ جوں جوں عمر بڑھتی ہے عورتوں کی طرح مردوں میں بھی ہڈیوں کی کمزوری کے امکانات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
مینوپاز (Menopause) ::

سن یاس کے بعد جب اوسٹروجن کی سطح کم ہوتی ہے عورتوں میں ہڈیوں کے گھلائو میں تیزی آجاتی ہے۔ سن یاس کے بعد عورتوں میں یہ انحطاط اپنے ہی ہم عمر مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ ساٹھ برس کی عمر میں عورتوں میں ہڈیوں کے انحطاط کی رفتار کم ہوجاتی ہے لیکن یہ رکتی نہیں ہے۔ اسی دورانیئے میں مردوں میں یہ انحطاط تیز ہوجاتا ہے اور 65 برس کی عمر میں مرد وں اور عورتوں میں اس کی رفتار یکساں ہوجاتی ہے۔ عورتوں میں پایا جانے والا ہارمون اوسٹروجن ہڈیوں کی دبازت محفوظ رکھنے کے لئے نہایت ضروری ہے سن یاس کے بعد اس ہارمون کی ناکافی مقدار ہڈیوں کے گھلائو کی رفتار بڑھا دیتی ہے سن یاس کے بعد کے برسوں میں ایک عورت اپنی ہڈیوں کے 30% فیصد اجزاء سے محروم ہوسکتی ہے۔

آسٹیوپراسس کے اسباب:

ہڈیوں کی مضبوطی اس میں موجود اجزاء اور ان کی مقدار میں منحصر ہوتی ہے۔ ہڈیاں جزوی طور پر کیلشیم‘ فاسفورس اور دیگر معدنیات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جب ہڈیوں میں معدنیات کی مقدار کم ہوجاتی ہے تو ان کی مضبوطی بھی کم ہونے لگتی ہے اور وہ اپنی اندرونی گرفت کھونے لگتی ہیں۔ان معدنیات اور غیر معدنی اجزاء (جو بنیادی طور پر پروٹین ہوتی ہیں) میں کمی کے باعث آسٹیوپراسس کے مریض سامنے آتے ہیں۔
ہڈی کے صحت مندرہنے کے لئے دو درجن سے زائد اجزاء ہیں تاہم ہارمونز بھی اہم ہیں کہ ہڈیوں میں کیلشیم کی شمولیت ’’ اوسٹروجن‘‘ ہارمون پر منحصرہوتی ہے۔

کیلشیم کی کمی آسٹیو پراسس کا اہم سبب ہے ہڈیوں کی کمیت میں بتدریج کمی کے باعث ہڈیوں کا ٹوٹنا‘ قد میں کمی‘ کولہوں ،پشت ،پیروں اور ریڑھ کی ہڈی کا درد جنم لیتا ہے۔ کیلشیم کے جذب ہونے کے لئے آنتوں میں آیونائز (Ionize) ہونا ضروری ہے۔ سن یاس کے بعد 40 فیصد عورتیں معدے میں پائے جانیوالے تیزاب کی کمی کا شکار ہوجاتی ہے۔ کیلشیم کی سب سے زیادہ مفید صورت کیلشیم کاربونیٹ ہے جن مریضوں کے معدے میں مطلوبہ تیزاب کی مقدار کم ہوجاتی ہے انہیں کیلشیم کی حل پذیر اور آیونائز قسم درکار ہوتی ہے جیسے کیلشیم سٹریٹ‘ کیلشیم لیکٹیٹ (Calcium Lactate) یا کیلشیم گلوکونیٹ (Calcium Gluconate)۔

خاموش معذور کرنے والا عارضہ:

کیلشیم اور بون پروٹین کی کمی کی وجہ سے ہڈیوں کی کمیت (Mass) میں کمی کے باعث ہڈیوں کو کمزور کرنے والی بیماری آسٹیوپراسس بڑی خاموشی سے پروان چڑھتی ہے۔

علامات:

اگر یہ بیماری علم میں نہ آئے تو جسمانی ساخت میں تبدیلیاں ہوجاتی ہیں خصوصاً کبھ (Kyphosis, Hunchback) جیسے عموماً عمر رسیدگی کا کبھ یا جھکائو کہا جاتا ہے۔

٭ آسٹیو پراسس کو خاموش بیماری اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں ہڈیوں کی فرسودگی کا عمل کسی تکلیف کے محسوس ہوئے بغیر بڑی سست روی سے ہوتا ہے۔

٭یہ ممکن ہے کہ آسٹیوپراسس ہونے کے بعد مریض درد یا تکلیف محسوس کرنے لگے۔

٭ آسٹیو پراسس کی اولین علامت کمر میں بظاہر کسی سبب کے بغیر اچانک چبھتا ہوا درد ہوتی ہے ‘مگر بدقسمتی سے بہت سے کیسوں میں اس کی پہلی علامت ٹوٹی ہوئی ہڈی ہوتی ہے۔ آسٹیو پراسس کی باضابطہ تشخیص عموماً تاخیر سے اور کسی فریکچر کے بعد ہوتی ہے کیونکہ آسٹیو پراسس کی تشخیص نقصان پہنچنے کے بعد تاخیر سے ہوتی ہے اس لئے اسے خاموش تباہ کرنیوالا عارضہ بھی کہا جاتا ہے۔

٭اگرچہ امراض قلب اور کینسر کو انتہائی ہلاکت خیز بیماری سمجھا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پچاس برس سے زیادہ عمر کی خواتین‘ بریسٹ کینسر‘ ادوری کینسر یا حملہ قلب کی بہ نسبت آسٹیوپراسس کے باعث ہڈی ٹوٹنے کے امکانات زیادہ رکھتی ہے۔

٭ یوں تو آسٹیو پراسس کے مختلف عوامل ہیں لیکن سن یاس کے بعد آسٹیو پراسس زیادہ عام ہے اس اعتبار سے 50 برس سے زائد عمر کی خواتین کو بون ڈینسٹی ٹیسٹ(Bone Densty Test) ضرور کرانا چاہیئے۔ اگرچہ آسٹیوپراسس کے باعث پورا ڈھانچہ متاثر ہوسکتا ہے لیکن اس میں ریڑھ کی ہڈی ‘ کولہے‘ پسلیاں زیادہ متاثر ہوتی ہیں عموماً ان ہڈیوں پر بیشتر بوجھ/ دبائو پڑتا ہے۔ لہٰذا ان کی ساخت خراب ہونے یا ان کے ٹوٹنے کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

پیچیدگیاں:

آسٹیو پراسس کے باعث ہونے والے تمام اقسام کے فریکچرز میں کولہے کا فریکچر زیادہ تباہ کن ہے ایسی صورت میں طویل علالت سہنی پڑھتی ہے جو عموماً 12 سے 20 فیصد مریضوں کی موت کا براہ راست یا غیر راست سبب بنتی ہے۔ جو بچ رہتے ہیں ان کی نصف تعداد کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہے۔

٭تقریباً ایک تہائی عورتیں اور بیس فیصد مرد اپنی زندگی میں کولہے کے فریکچر کا شکار ہوتے ہیں بعض صورتوں میں صرف ریڑھ کی ہڑی کے مہروں میں کمزور ہونے کے باعث ریڑھ کی ہڈی کا فریکچر ہوجاتا ہے جو سخت تکلیف کا باعث بنتا ہے اور جس سے نجات میں طویل مدت لگتی ہے۔ اس صورت میں ریڑھ کی ہڈی کے مہرے دبنا شروع ہوجاتے ہیں اور کمپریشن فریکچر ہونے پر نہ صرف آپ کی لمبائی میں کئی انچ کمی آجاتی ہے بلکہ اس کی ساخت میں بھی نمایاں تبدیلی آجاتی ہیں۔

اسکریننگ اور تشخیص:

ڈاکٹرز مختلف طریقوں سے آسٹیوپراسس کی ابتدائی مرحلے میں شناخت کرسکتے ہیں ان ٹیسٹوں میں بون ڈینسٹی ناپی جاتی ہے‘ اس کی تشخیص کا بہترین طریقہ Bone Densitomety کہلاتا ہے اس کی مختلف ٹیکنیکس ہیں جن میں سب سے زیادہ مروج اور مقبولDual energy X-Ray Absorbitiometry ہے۔ یہ ٹیسٹ آسان‘ موثر اور درست نتائج دیتا ہے اس سے ریڑھ کی ہڈی‘ کولہے‘ کلائی کی بون ڈینسٹی ناپی جاسکتی ہے جس سے ڈاکٹر کو ان ہڈیوں میں ہونے والی تبدیلیوں کا پتہ چل جاتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر ٹیسٹ بھی موجود ہیں جن میں الٹرا سائونڈ
غذائی عوامل:

آسٹیو پراسس کا سبب بننے والے مختلف غذائی عوامل مثلاً غذائوں میں کیلشیم کی کمی‘ فاسفورس کی زیادتی‘ زیادہ مقدار میں پروٹین اور نمک وغیرہ شامل ہیں۔سبزیوں پر مشتمل غذا کھانے والے آسٹیوپراسس کا کم خطرہ رکھتے ہیں جبکہ زیادہ پروٹین اور فاسفورس پر مشتمل غذائیں پیشاب کے ذریعے کیلشیم کے اخراج میں اضافے کا سبب سمجھی جاتی ہیں۔ صاف کی ہوئی شکر بھی جسم میں کیلشیم کی کمی بڑھاتی ہے۔

آسٹیوپراسس کے مریضوں کیلئے غذائی ہدایات:

عمر کے کسی حصے میں آسٹیوپراسس کے مریض اور اس کے خطرات کو روکا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے لوگوں کو روز مرہ کے معمولات میں چند تبدیلیاں لانا ہونگی۔ مناسب ورزش‘ ایسی غذا کا استعمال جس میں کیلشیم اور وٹامن ڈی کی مناسب مقدار شامل ہو اور ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق دوا کا باقاعدگی سے استعمال ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں مدگار ثابت ہوگا۔

٭ دودھ سے بنی ہوئی چیزیں کیلشیم سے بھرپور ہوتی ہیں۔ بالائی نکالے ہوئے اور کم چکنائی والے دودھ میں کیلشیم کی مقدار ایک برابر ہوتی ہے۔

٭ وٹامن ڈی ایک اہم وٹامن ہے یہ آنتوں سے کیلشیم کو جسم میں جذب کرنے کی رفتار کو بڑھاتا ہے۔ اس لئے ہڈیوںکی مضبوطی کیلئے نہایت ضروری ہے۔

٭ سورج کی روشنی وٹامن ڈی حاصل کرنے کا ایک قدرتی ذریعہ ہے۔ ہماری جلد سورج کی روشنی میں وٹامن ڈی بناتی ہے۔

٭ وٹامن ڈی مچھلی کے جگر کے تیل (Fish Liver Oil) میں بھی پایا بھی پایا جاتا ہے اور گولیوں (Tablet) کی شکل میں بھی لیا جاسکتا ہے۔

٭ہمارے جس کو روزانہ 800 سے 1000 انٹرنیشنل یونٹس یا 20 سے 25 مائیکرو گرام ٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔

آسٹیو پراسس کے علاج میں مطلوبہ ہدف ہڈیوں کی خرابی روک کر ان کی دبازت اور مضبوطی میں اضافہ کرکے ہڈیوں کی ٹوٹ پھوٹ کو روکنا ہے۔ آسٹیو پراسس سے بچائو اس کے علاج سے کہیں زیادہ آسان ہے مندرجہ ذیل اقدام آسٹیو پراسس کے امکانات کو نہ صرف کم کرتے ہیں بلکہ آسٹیو پراسس ہونے کی صورت میں ہڈیوں کو کمزور ہونے سے روکنے میں مدد دیتے ہیں۔

درد نظر انداز مت کیجئے:

مسائل درد کو نظر ا نداز مت کیجئے اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ آپ کی نقل و حرکت محدود کرسکتا ہے اور زیادہ شدت کے درد کا سبب بن سکتا ہے۔
غذاء احتیاط:

کیفین آمیز غذائیںاور مشروبات::اس بات کے ثبوت موجود ہیں کہ دن میں چار یا زیادہ کپ کافی پینے سے ہڈیوں کے ٹوٹنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے کیونکہ کیفین کی جسم میں موجودگی سے پیشاب کے ذریعے کیلشیم کا اخراج بڑھ جاتا ہے۔

نمک کی مقدار میں کمی:

آسٹیو پراسس سے بچائو پر کتاب لکھنے والے مورس نوٹر یوٹنر کا کہنا ہے کہ غذا میں سوڈیم کی مقدار جس قدر زیادہ ہوگی جسم سے سوڈیم کا اخراج بھی اسی قدر ہوگا جسم سے جس قدر زیادہ سوڈیم خارج ہوگا‘ کیلشیم بھی اس قدر زیادہ خارج ہوگا۔
پروٹین کی زیادتی سے گریز:

زیادہ مقدار میں حیوانی پروٹین کھانے سے ہڈیو ں سے کیلشیم خارج ہوسکتا ہے۔

فاسفورس کی مقدار پر نگاہ رکھیئے:

پروفیسر آف میڈیسن ڈاکٹر پال ملر کا کہنا ہے یہ عمومی خیال ہے کہ کولا مشروب میں شامل فاسفورس نہ صرف کیلشیم کی موجودہ مقدار پر اثر انداز ہوتا ہے بلکہ اس کے جسم میں جذب ہونے کو بھی روکتا ہے۔جانوروں پر کی جانے والی تحقیق کے مطابق فاسفورس کی زیادتی ہڈیوں کی خرابی میں کردار رکھتی ہے۔ انڈیا نایونیورسٹی آف میڈیسن (انڈیا ناپولس) کے جونیئر پروفیسر کونرڈ جوبنسٹن کا کہنا ہے‘ سافٹ ڈرنکس کے حوالے سے پریشان کن مسئلہ یہ ہے کہ لوگ سارا دن یہ پیتے رہتے ہیں مگر وہ دودھ پینا پسند نہیں کرتے ہیں لہذا وہ ضرورت کے مطابق کیلشیم حاصل نہیں کررہے ہیں۔

سافٹ مشروبات اور آسٹیو پراسس:

سافٹ مشروبات خون میں کیلشیم کی کمی اور فاسفورس کی زیادتی کا سبب بنتے ہیں‘ ان مشروبات میں فاسفورس کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جبکہ کیلشیم نہیں ہوتا ہے‘ سافٹ مشروبات میں فاسفورس شکر حل کر نے اور ذائقے کے لئے ملایا جاتا ہے امریکہ میں سافٹ مشروبات کا استعمال سب سے زیادہ ہوتا ہے‘ یہاں ہونے والی تحقیق اس بات کی تصدیق کرتی ہے‘ مثلاً 228 بچوں پر ہونے والی ایک تحقیق (حوالہ انسائیکلو پیڈیا آف نیچرل میڈیسن مائیکل میورے جوزف) نے سافٹ مشروبات کے استعمال کی مناسبت سے ا ن بچوں کے خون میں کیلشیم کی مقدار میں کمی کی تصدیق کی ہے۔ نتائج اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سافٹ مشروبات کا استعمال بچوں میں کیلشیم کی کمی اور ہڈیوں کی کم زوری کا باعث بن رہا ہے۔

سگریٹ نوشی بالکل نہیں: :سگریٹ نوشی ہڈیوں کو پہنچنے والے نقصان کو بڑھاتی ہے کیونکہ اس سے کیلشیم کے جسم میں جذب ہونے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔

ورزش:
آسٹیو پراسس کے مریضوں کیلئے ورزش کی ہدایات اور اس سے بچائو کیلئے باقاعدگی سے جسمانی ورزش پٹھوں کو مضبوط اور اعضاء کو فعال بناتی ہے‘ جس سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں۔

روزانہ باقاعدگی سے جسمانی ورزش ضرور کریں‘ مثلاً چہل قدمی‘ عمر کے کسی بھی حصہ میں چہل قدمی شروع کی جاسکتی ہے‘ جس قدر ممکن ہوچہل قدمی تیز رفتاری سے کریں۔

ہڈیوں کو مضبوط کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیں‘ مثلاً دوڑنا‘ سیڑھیاں چڑھنا‘ جسمانی کھیل‘ وزن کے ساتھ ورزش اور ا یروبکس۔

کوئی بھی ورزش شروع کر نے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کریں۔
آسٹیوپراسس کے مریضوں کیلئے احتیاطی تدابیر:

ریڑھ کی ہڈی پر اچانک دبائو ڈالنے سے گریز کریں‘ خصوصاً آگے جھک کر وزن اٹھانے سے احتیاط کریں۔

جب زمین سے کچھ اٹھانا ہوتو اپنی کمر کو سیدھا رکھتے ہوئے گھٹنوں کے بل جھک کر ٹھائیں اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر آرام سے بستر بچھائیں۔

اچانک پہلو بدلتے وقت احتیاط کریں خصوصاً جب بستر سے اٹھیں‘ اپنی استطاعت کے مطابق پہلو بدلنا سیکھیں۔

بھاری اشیاء مثلاً شوٹ کیس یا وزنی سامان اٹھانے سے گریز کریں۔

اپنے گرنے یا پھسلنے کے خطرے کو کم کیجئے ان تمام باتوں کا خیال رکھئیے جو گرنے یا پھسلنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

اپنی نظر کا معائنہ پابندی سے کرائیں‘چلنے پھرنے کے راستے کو صاف رکھیئے تاکہ کسی چیز سے ٹکرا کر گرنے کا خدشہ نہ ہو۔

آمدورفت کے راستے میں روشنی کا مناسب انتظام رکھیں اور ان کے سوئچ آپ کی ضرورت کے مطابق لگے ہوں۔
ایسے پائیدان یا چھوٹے قالین ہٹا دیں جن سے پھسلنے کا خطرہ ہو۔

ایسے جوتے پہنیں جو آپ کے پیروں کی حفاظت کریں اور پھسلنے سے بچیں۔

ڈھلوان والے راستوں پر چلنے سے احتراز کریں۔

گیلے فرش پر احتیاط سے چلیں خصوصاً باتھ روم میں خاص خیال رکھیں۔
بستر اور کرسی کی اونچائی اپنی ضرورت کے مطابق رکھیں۔

اگر چلنے پھرنے میں مشکل درپیش ہوتو فیز یوتھراپسٹ سے رجوع کریں اور ضرورت کے مطابق سہارے کیلئے چھڑی کا استعمال کریں۔

باتھ روم میں ہینڈل اور نہانے کیلئے سیٹ کا استعمال کر یں۔

لیٹ کر اٹھتے ہوئے اگر چکر محسوس کریں توا پنے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
اپنے ڈ اکٹر کے مشورے کے بغیر کوئی بھی دوا استعمال نہ کریں۔

16/12/2022

الشفاء ہسپتال شعبہ آرتھوپیڈک سرجری اینڈ فزیوتھراپی

کمر درد۔۔
تقریباً ہر چار میں سے تین افراد عمر کے کسی نہ کسی حصے میں کمر درد کا شکار ہوجاتے ہیں۔
وجوہات۔۔
۱۔موٹاپا
۲۔بڑھتی عمر
۳۔کھنچاؤ
۴۔وزنی کام
۵۔غیر متوازن طریقے سے بیٹھنا
۶۔بہت زیادہ وزش
احتیاطی تدابیر۔۔۔
۱۔جلدی میں وزن نا اٹھائیں
۲۔پٹھوں کو کچھ دیر پہلے حرکت دیں
۳۔دونوں پاؤں کا درمیان فاصلے کندھوں کے برابر رکھیں
۴۔کمر کو خم دینے سے پرہیز کریں
۵۔فاصلے سے چیز کو مت اٹھائیں
۶۔وزنی چیزوں کو اکیلے اٹھانے کے کوشش نا کریں
ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔۔۔۔

درج ذیل علامات ظاہر ہونے کی صورت میں مستند آرتھوپیڈک سرجن سے رابطہ کریں
۱۔وقت کے ساتھ درد کی شدت میں اضافہ ہونا
۲۔درد کی وجہ سے روز مرہ کے کام میں رکاوٹ آنا
۳۔کمزوری محسوس ہونا
۵۔ٹانگوں میں درد کا آنا
۶۔پیشاب پاخانہ میں خرابی

Videos (show all)

عطائیت  ایک ناسور ہے ۔۔۔۔۔ عطائی ڈاکٹروں ،جعلی دیسی ہڈی جوڑ سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بچائیں اور عمر بھر کی معذوری سے...
الشفاء ہسپتال شعبہ آرتھوپیڈک سرجری ۔۔۔۔آپکی خدمت میں ہمہ وقت کوشاں ۔۔۔۔24 گھنٹے ایمرجنسی کی سہولت موجود   ۔۔۔۔آرتھوپیڈک ...
#alshifa_hospital
عطائیت

Location

Category

Telephone

Website

Address

Thana Road
Mandi Bahauddin
5400

Other Hospitals in Mandi Bahauddin (show all)
Al Kauser Hospital Al Kauser Hospital
Opposite City (Old DHQ) Hospital, Thana Road Mandi Bahauddin
Mandi Bahauddin, 50400

Healthcare Facility

Govt Children Hospital Mandi Bahauddin Govt Children Hospital Mandi Bahauddin
Thana Road
Mandi Bahauddin

A Public Govt. Institute established in 2012 by Govt. of Punjab, Pakistan.

Animal Health Clinic, Mandi Bahauddin. Animal Health Clinic, Mandi Bahauddin.
Mandi Bahauddin

Animal health clinic provides the quality services regarding health of your animals in premises of M

Zia Fatima Hospital, Mandi Baha Ud Din Zia Fatima Hospital, Mandi Baha Ud Din
Opposite Crystal Marriage Hall , Phalia Road
Mandi Bahauddin, 50400

Zia Fatima is State of Art Health Care Facility at Prime Location in Mandi Baha Ud Din Offering Serv

Ishtiaq Hospital Ishtiaq Hospital
New Rasool Road
Mandi Bahauddin, 50400

All sorts of general surgical patients are attended and managed by Surgeon Dr. Ishtiaq Ahmad Ranjha

Tehsil Head Quarter Hospital Phalia Tehsil Head Quarter Hospital Phalia
Phalia
Mandi Bahauddin

Government Hospital

Dr. Faisal Majeed Jam Dr. Faisal Majeed Jam
Rahat Hospital Near Dar E Arqam School Phalia Road
Mandi Bahauddin, MANDIBAHUDDIN

All joints and Muscular Pain are treating here.. Backache, Frozen Shoulder, CP Child And Paralysis e

DR Tayyab Medical Specialist DR Tayyab Medical Specialist
Mandi Bahauddin, 50400

Medical Specialist M.B.B.S and F.C.P.S. (Medicine)Cardiology Medicine (General), Diabetes Management, Epilepsy Treatment, Asthma Treatment, Stroke Treatment, T.B, Gastric ulcer Treatment, Hepatitis , Hypertension

Hashmi Heart Care Mandi Bahauddin Hashmi Heart Care Mandi Bahauddin
Opp. DHQ Hospital
Mandi Bahauddin, 50400

Special Treatment Of Heart Patients

Alghani Hospital and Sugar Centre Alghani Hospital and Sugar Centre
Thana Road Al Ghani Hospital
Mandi Bahauddin, 50400

Health facility

Al-Karam Hospital Al-Karam Hospital
Phalia Road Near Cheema Chowk
Mandi Bahauddin

A wel established hospital which have maximum no. of experienced consultants .

Ghias Hospital Ghias Hospital
Phalia Near Ptcl Office
Mandi Bahauddin, 0321