28/04/2026
"ہمارے ہاں کہا جاتا ہے :
'صبح کی روٹی، شام کی روٹی، بس!'
درمیان میں بھوک لگے تو چائے بسکٹ، یا کچھ بھی نہیں۔
سبزی؟ وہ تو جب سالن بنے تب ہی کھاتے ہیں۔
پھل؟ وہ تو مہمانوں کے لیے یا جب 'طبیعت ٹھیک' نا ہو تب۔
لیکن رُکیے!
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہی 'روٹی-روٹی' والی عادت آپ کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے؟
ہماری پلیٹ میں رنگ نہیں ہیں، اسی لیے ہماری زندگی میں بھی رنگ نہیں۔
نہ طاقت، نہ چمک، نہ ہمت۔ ہر وقت تھکن، بال گرنا، پیٹ کے مسائل، شوگر، بلڈ پریشر۔
حل مشکل نہیں، مہنگا بھی نہیں۔
1. ہر روٹی کے ساتھ 'کچی سبزی' لازمی: 1 کھیرا، ٹماٹر، پیاز،ہرا دھنیا،چقندر اور باقی کچی استعمال ہونے والی سبزیاں بہت سی بیماریوں سے بچائے۔
2. 'سستا پھل' روز کا:* کیلا ، امرود، تربوز ،خربوزہ اور کوئی بھی موسمی پھل جو اپ کے بجٹ میں آ تا ہو
3. درمیان میں بھوک لگے تو: بھنے چنے، گڑ والی مونگ پھلی، یا 1 کیلا۔ بسکٹ سے 100 گنا بہتر۔
یاد رکھیں:
دوا پر ہزاروں لگانے سے بہتر ہے، سبزی پر سو لگا لو۔
جو گھر 'روٹی-سالن' سے چلتے ہیں، وہی گھر 'ہسپتال-دوا' پر بھی چلتے ہیں۔
میں ہوں ڈائٹیشن عائشہ عثمان۔
میں آپ کو مہنگے ڈائٹ پلان نہیں دوں گی۔ میں آپ کے 'دال-روٹی' والے بجٹ میں ہی صحت ڈھونڈ کر دوں گی۔
کیونکہ نیوٹریشن امیروں کی چیز نہیں، ہر انسان کا حق ہے۔
آج سے کوشش کریں: 'پلیٹ میں رنگ، زندگی میں ڈھنگ'
ماہر غذائیت
عائشہ عثمان
03302565063