21/03/2022
!
چہرے کی خوبصورتی کے ساتھ ساتھ دلکش اور حسین مسکراہٹ خوبصورت دانتوں کی مرہون منت ہیں اس لیے دانتوں کی صفائی اور خوبصورتی کا خاص خیال رکھیں۔ دانت انسان کے چہرے پر نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ کیونکہ باتیں کرتے، مسکراتے وقت دکھائی دیتے ہیں اور اگر یہ گندے ہوں تو دیکھنے والوں کو گھن آتی ہے۔نیز دانتوں کی صفائی نہ کرنے سے معدے اور مسوڑھوں کی بہت سی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔
:
ہمارا دانت 3 تہوں پر مشتمل ہوتا ہے۔
1) بیرونی تہ کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔ یہ انتہائی سخت اور ہمارے دانت کی محافظ ہوتی ہے۔ دنیا میں سب سے مضبوط ہیرا ہوتا ہے اس کے بعد سب سے مضبوط چیز ہمارے دانت کی بیرونی تہ ہوتی ہے۔ اس تہ میں کیلشیم اور فاسفورس کے کرسٹلز ہوتے ہیں جو اسے جکڑ کر رکھتے ہیں۔ لیکن اگر ہم لاپرواہی کریں تو صفائی نا ہونے کی وجہ سے یہ تہہ خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔اس کو کیویٹی یا دانت کی سڑن یا دانت کا کیڑا کہتے ہیں۔ دانت کے اوپر کالا دھبّا نظر آتا ہے۔ اس سے دانت میں درد نہیں ہوتا۔ اس اسٹیج پر اگر مستند، قابل اور لائسنس یافتہ ڈینٹل سرجن سے اس کو صاف کروا کر اس میں بڑھیا میٹریل سے بھرائی کروا لیں تو مسٔلہ یہیں پر رک جاۓ گا۔ اور آنے والے وقت میں درد نہیں ہو گا۔
2) دانت کی دوسری تہ میں سختی کم ہوتی ہے اور دانت کی رنگت اس کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اگر پہلی اسٹیج پر دانت کی خرابی کو صاف کروا کر بھرائی نا کروائی جاۓ تو دانت کی خرابی دوسری تہہ تک پہنچ جاتی ہے۔ اب انسان کو کھانا چباتے ہوؤے درد ہوتا ہے۔ اور ٹھنڈا گرم محسوس ہوتا ہے۔ اب بھی اگر ہم کسی مستند، قابل اور لائسنس یافتہ ڈینٹل سرجن سے بڑھیا میٹیریل کی بھرائی کروا لیں تو مسٔلہ یہیں رک جاۓ گا اور خرچہ بھی کم ہو گا۔ اسمیں عمومی خرچہ 1000 سے 3000 تک ہوتا ہے۔ خرچہ کا تعین ڈاکٹر کی مہارت، میٹریل کی قسم اور کلینک کے آلات کے حساب سے ہوتا ہے۔
اگر ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے دوسری اسٹیج پر دانت کی بھرائی نہیں کرواتے اور دیسی ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں تو یا تو دانت کی نسیں خراب ہو جاتی ہیں اور دانت مردہ ہو جاتا ہے یا پھر دانت کی خرابی آخری تہہ تک پہنچ جاتی ہے اور دانت کے درد کی شدّت بھی بڑھ جاتی ہے۔
3) جب دانت کی خرابی تیسری تہہ تک پہنچتی ہے تو اس میں موجود دانت کی نسوں کا چیمبر پھٹ جاتا ہے۔ دانت کی نسیں پھول جاتی ہیں جس سے پریشر شروع ہوتا ہے اور کیونکہ ان نسوں کا تعلّق براہ راست دماغ کے ساتھ ہوتا ہے اس لیے اس سے دماغ میں درد محسوس ہوتا ہے اور اس کی شدّت بڑھ جاتی ہے۔ یہ درد کبھی پورے منہ میں، کبھی سر میں کبھی کان کے پیچھے اور کبھی گردن میں محسوس ہوتا ہے۔ کم علمی اور پیسوں کے لالچ یا حقیقت میں پیسوں کی کمی یا ڈینٹسٹ کے ڈر کی وجہ سے ہم میڈیکل اسٹور سے پین کلر گولیاں لے کر کھا لیتے ہیں،کچھ لوگ صلوات ركهوا لیتے ہیں،کچھ لوگ لونگ بھر لیتے ہیں، کچھ لوگ نسوار اور بیڑے کا استعمال شروع کر دیتے ہیں، کچھ لوگ لمبے سجدے اور نوافل پر بھروسہ کرتے ہیں، کچھ لوگ تیل اور ہلدی لگانا شروع کر دیتے ہیں اور کچھ لوگ پھٹکری کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیں یہ سب وقتی ٹوٹکے ہیں ان سے دانت کی اندرونی نسیں وقتی طور پر ٹھنڈی ہو جاتی ہیں مگر دانت کا مسٔلہ وہیں رہتا ہے جو بڑھتا رہتا ہے اور انفیکشن دانت سے نکل کر نیچے ہڈی کو گلانا شروع کر دیتا ہے۔
سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ اپنے وقت اور پیسے کا ضیاع کی بغیر کسی مستند، قابل اور لائسنس یافتہ ڈینٹل سرجن کے پاس جائیں وہ دانت کی نسوں کو کاٹ کر باہر نکال لے گا اور آپ کے دانت کا درد ختم ہو جاۓ گا۔ پھر کچھ دن بعد وہ دانت کی جڑوں میں الگ سے پکّی بھرائی کرے گا اور دانت کے اوپر الگ سے پکّی بھرائی کرے گا۔ اس عمل کو روٹ کنال یا دانت کا کنکشن کاٹنا یا دانت کو ڈیڈ کرنا کہتے ہیں۔ یہ لمبا اور مشکل پروسیجر ہوتا ہے اسلیے اس کے چارجز بھی ایک نس والے دانت کے 3000 سے 6000 اور 3 یا 3 سے زیادہ نسوں والے والے دانت کے 4000 سے 6000 ہوتے ہیں. اس پروسیجر میں آپ کے 3 سے 4 چکر لگ سکتے ہیں اور آپ کا ہر بار 45 منٹ سے 1 گھنٹہ لگے گا۔ اس۔ وجہ سے اس پروسیجر کی فیس زیادہ ہوتی ہے۔ خرچہ کا تعین ڈاکٹر کی مہارت، میٹریل کی قسم اور کلینک کے آلات کے حساب سے ہوتا ہے۔ اسکا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا ہیرے موتی سے بھی زیادہ قیمتی دانت بچ جاۓ گا اور کھانے پینے میں استعمال ہو گا ۔
اس اسٹیج پر آ کر اکثر لوگ اپنے محلے کے کسی میڈیکل کلینک پر چلے جاتے ہیں وہاں پر ایمرجنسی میں انکو پین کلر اور انٹی بائیوٹک کا ٹیکہ لگا دیا جاتا ہے۔ اسمیں مریض کو 200 سے 300 میں آرام آ جاتا ہے اور مریض کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ اسکا سستے میں کام ہو گیا ہے۔
اسکا نقصان یہ ہوتا ہے کہ مریض کا دماغ وقتی طور پر سن ہو جاتا ہے اور اسکو درد کا احساس ختم ہو جاتا ہے مگر اسکا اصّل مسٔلہ جوں کا توں رہتا ہے۔ اگر آپ بار بار گولیاں کھا کر یا انجکشن لگوا کر وقتی سکون لیتے رہیں گے تو ایک وقت ہے گا کہ آپکا دانت اپنی موت آپ مار جاۓ گا اور صرف ایک نیچے جڑ باقی رہ جاۓ گی اور آپ اپنے جسم ایک انتہائی قیمتی رکن سے محروم ہو جائیں گے۔
؟
1) پہلے تو دانت کے درد کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ سال میں ایک بار کسی مستند، قابل اور لائسنس یافتہ ڈینٹل سرجن سے جنرل چیک اپ کروا لیں اور اگر کسی دانت میں کوئی خرابی ہو رہی ہے تو اسکو صاف کروا کر اس میں اچھے میٹریل سے بھرائی کرا لیں۔
2) اگر آپ کو ٹھنڈا گرم لگ رہا ہے یا کھانا چباتے ہوؤے درد ہو رہا ہے یا ویسے اچانک درد شروع ہو گیا ہے تو اپنی بھلائی کے لیے کسی میڈیکل اسٹور یا میڈیکل کلینک پر جانے کی بجاۓ اپنے علاقے میں کسی اچھے ڈینٹل کلینک پر تشریف لے جائیں۔ آپ جتنا جلدی جائیں گے آپ کا خرچہ اتنا کم ہو گا۔
3) اگر آپ کا مسٔلہ کم ہو گا تو آپکا صرف بھرائی سے کام چل جاۓ گا۔ اگر مسٔلہ زیادہ ہوا تو روٹ کنال ہو گی۔ اگر مسٔلہ اس سے بھی زیادہ ہوا تو آپ کو دانت نکلوانا پڑ جاۓ گا۔
یاد رکھیں ڈینٹل کلینک ایک پروفیشنل جگہ ہے۔ اگر آپ اپنے طور پر درد کی دوا کھا لیتے ہیں تو آپ کو وقتی آرام مل جاۓ گا اور بعض اوقات دوبارہ کبھی درد نہیں ہو گا مگر آپ کے دانت کے اندر انفیکشن اور ہڈی کے خراب ہونے کا خطرہ ہمیشہ رہے گا۔ اس لیے مستقبل میں کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے اپنے اس دانت کا مسلہ کسی قابل، مستند اور لائسنس یافتہ ڈینٹل سرجن سے لازمی علاج کروا لیں تاکہ آپ کے منہ میں قیمتی دانت ہمیشہ سلامت رہیں اور آپ ہمیشہ ہنستے مسکراتے رہیں اور آپ کو کھانے پینے میں کوئی مشکل نا ہو کیونکہ صحت مند دانت ہی صحت مند زندگی کی ضمانت ہیں۔