12/01/2026
جی ہاں، بالکل ممکن ہے کہ ECG نارمل ہو اور پھر بھی مریض کو دل کا دورہ (Heart Attack) ہو رہا ہو یا ہو چکا ہو۔
یہ بات عام لوگوں کے لیے اکثر حیران کن ہوتی ہے، اس لیے وضاحت ضروری ہے۔
🔹 کیوں ECG نارمل آ سکتا ہے؟
1️⃣ شروع کے ابتدائی گھنٹوں میں
دل کے دورے کے ابتدائی 1–3 گھنٹوں میں ECG بالکل نارمل آ سکتا ہے، خاص طور پر NSTEMI میں۔
2️⃣ دل کے پچھلے حصے (Posterior Wall) کا دورہ
اگر دل کے پچھلے حصے میں اٹیک ہو تو عام ECG لیڈز میں واضح تبدیلی نظر نہیں آتی۔
3️⃣ چھوٹا یا جزوی دل کا دورہ
اگر شریان مکمل بند نہ ہو بلکہ جزوی بندش ہو تو ECG نارمل رہ سکتا ہے۔
4️⃣ پرانی تبدیلیاں یا متبادل راستے (Collateral circulation)
کچھ مریضوں میں خون کے متبادل راستے بن جاتے ہیں، جس سے
ECG واضح اشارہ نہیں دیتا۔
🔹 ECG کے علاوہ کیا ضروری ہے؟
دل کے دورے کی تشخیص صرف ECG سے نہیں ہوتی:
✅ علامات
سینے میں دباؤ یا درد
بائیں بازو، گردن یا جبڑے میں درد
سانس کا پھولنا
پسینہ، متلی، بے چینی
✅ خون کے ٹیسٹ (Troponin I / T)
یہ ٹیسٹ دل کے پٹھوں کے نقصان کو ظاہر کرتا ہے
ECG نارمل ہو تب بھی Troponin بڑھا ہوا ہو سکتا ہے
✅ Echo / Angiography
دل کے پٹھوں کی حرکت اور شریانوں کی حالت جانچنے کے لیے
🔹 اہم پیغام (Take-home message)
⚠️ نارمل ECG کا مطلب یہ نہیں کہ دل کا دورہ نہیں ہو رہا
⚠️ اگر علامات دل کے دورے جیسی ہوں تو فوراً اسپتال جانا ضروری ہے
⚠️ ECG، علامات اور خون کے ٹیسٹ—تینوں کو ملا کر فیصلہ کیا جاتا ہے...