Zinda Molvi

Zinda Molvi A spiritual man revealing nature in its most authentic form
(1)

10/05/2026

کھنیاں کاغان کے لاجواب آبشار زندہ مولوی کے سنگ
KHANIAN KAGHAN WATERFALL
Kaghan journey episode 01

10/05/2026

زندہ مولوی ایک برینڈ ہے ۔۔۔ ماشاءاللہ یہ پیارا بچہ سید محمد شیرازی ہے ایبٹ آباد سے تعلق ہے ۔۔

10/05/2026

سبحان اللہ ۔۔۔ وادی کاغان ۔۔۔

انشاء اللہ عنقریب ۔۔۔ بس آپ سے ایک عرض ہے کہ ویڈیوز شیئر کریں کمنٹ کریں لائک کریں اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملتا ہے شکریہ
10/05/2026

انشاء اللہ عنقریب ۔۔۔ بس آپ سے ایک عرض ہے کہ ویڈیوز شیئر کریں کمنٹ کریں لائک کریں اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملتا ہے شکریہ

09/05/2026

کوئی ایک کمنٹ اپنے بھائی کیلئے ۔۔۔ اور ہاں انشاء اللہ بہت کچھ آنے والا ہے ۔۔۔ کاغان کی خوبصورتی میں ۔۔۔

Naseeb Khan

08/05/2026

ایک کمنٹ کیا کرینگے آپ ؟


Hafeez Ur Rehman

07/05/2026

خاکی مانسہرہ افغان مہاجرین کیمپ ۔۔۔ مئی 2026 زندہ مولوی کے سنگ ۔۔۔پشتو زبان میں ۔۔۔
KHAKI MANSEHRA AFGHAN CAMP

07/05/2026

سفر میں جب تھک جاتا ہو پھر یہ انداز ہوتا ہے اللہ اکبر سبحان اللہ

06/05/2026

ہاں جی کہاں کا سفر ہو جائے ؟ تیاری جاری ہے انشاء اللہ...

06/05/2026

تناول کی شان تربوڑی واٹرفال ۔۔۔ تربوڑی آبشار کی لاجواب خوبصورتی زندہ مولوی کے سنگ ۔۔۔
Tarbori waterfall Tanawal Mansehra

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی فضا جنم لے چکی ہے، جہاں علم، شعور اور سوال اٹھانے کی صلاحیت بعض اوقات باعثِ فخر نہیں بلکہ ب...
05/05/2026

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی فضا جنم لے چکی ہے، جہاں علم، شعور اور سوال اٹھانے کی صلاحیت بعض اوقات باعثِ فخر نہیں بلکہ باعثِ خطر بن جاتی ہے۔ آئے دن ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن میں اہلِ علم، دانشور، اور وہ لوگ جو دلیل اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، نشانہ بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں بعض لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ شاید اس ملک میں جاہل ہونا ہی ایک طرح کی نعمت ہے۔
جہالت یہاں محض لاعلمی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت بن چکی ہے جس میں انسان سوال نہیں کرتا، اختلاف نہیں کرتا، اور ہجوم کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ یہ کیفیت بظاہر انسان کو تنازعات اور خطرات سے بچا لیتی ہے۔ جو شخص سوچتا نہیں، وہ ٹکراتا بھی نہیں؛ اور جو ٹکراتا نہیں، وہ اکثر محفوظ رہتا ہے۔
اس کے برعکس، جو لوگ علم رکھتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، یا معاشرے میں بہتری کی بات کرتے ہیں، انہیں بعض اوقات مخالفت، تنقید، حتیٰ کہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مکالمہ، برداشت اور اختلافِ رائے جیسی قدریں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب جہالت ایک “محفوظ پناہ” کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جہالت نعمت ہے؟ بظاہر یہ انسان کو وقتی سکون اور تحفظ دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہی جہالت معاشرے کو جمود، پسماندگی اور اندھیرے کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کو اپناتی ہیں، سوال کرتی ہیں، اور اختلاف کو برداشت کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ علم یا شعور میں نہیں، بلکہ اس ماحول میں ہے جہاں علم کو خطرہ سمجھا جانے لگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، جہاں سوال اٹھانا جرم نہ ہو، اور جہاں علم رکھنے والے افراد خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔
آخرکار، جہالت نعمت نہیں بلکہ ایک عارضی ڈھال ہے—ایسی ڈھال جو وقتی طور پر بچا تو سکتی ہے، مگر آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔ اصل نعمت وہ معاشرہ ہے جہاں علم، برداشت اور مکالمہ زندہ ہوں۔

Address

Mansehra
21350

Telephone

+923474086669

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zinda Molvi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share