05/05/2026
ہمارے معاشرے میں ایک عجیب سی فضا جنم لے چکی ہے، جہاں علم، شعور اور سوال اٹھانے کی صلاحیت بعض اوقات باعثِ فخر نہیں بلکہ باعثِ خطر بن جاتی ہے۔ آئے دن ایسی خبریں سننے کو ملتی ہیں جن میں اہلِ علم، دانشور، اور وہ لوگ جو دلیل اور مکالمے پر یقین رکھتے ہیں، نشانہ بنتے ہیں۔ ایسے حالات میں بعض لوگ یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ شاید اس ملک میں جاہل ہونا ہی ایک طرح کی نعمت ہے۔
جہالت یہاں محض لاعلمی کا نام نہیں، بلکہ ایک ایسی کیفیت بن چکی ہے جس میں انسان سوال نہیں کرتا، اختلاف نہیں کرتا، اور ہجوم کے ساتھ بہہ جاتا ہے۔ یہ کیفیت بظاہر انسان کو تنازعات اور خطرات سے بچا لیتی ہے۔ جو شخص سوچتا نہیں، وہ ٹکراتا بھی نہیں؛ اور جو ٹکراتا نہیں، وہ اکثر محفوظ رہتا ہے۔
اس کے برعکس، جو لوگ علم رکھتے ہیں، سوال اٹھاتے ہیں، یا معاشرے میں بہتری کی بات کرتے ہیں، انہیں بعض اوقات مخالفت، تنقید، حتیٰ کہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مکالمہ، برداشت اور اختلافِ رائے جیسی قدریں کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہیں، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب جہالت ایک “محفوظ پناہ” کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی جہالت نعمت ہے؟ بظاہر یہ انسان کو وقتی سکون اور تحفظ دے سکتی ہے، مگر طویل مدت میں یہی جہالت معاشرے کو جمود، پسماندگی اور اندھیرے کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جو علم کو اپناتی ہیں، سوال کرتی ہیں، اور اختلاف کو برداشت کرتی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مسئلہ علم یا شعور میں نہیں، بلکہ اس ماحول میں ہے جہاں علم کو خطرہ سمجھا جانے لگے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایسا معاشرہ تشکیل دیں جہاں اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے، جہاں سوال اٹھانا جرم نہ ہو، اور جہاں علم رکھنے والے افراد خود کو غیر محفوظ محسوس نہ کریں۔
آخرکار، جہالت نعمت نہیں بلکہ ایک عارضی ڈھال ہے—ایسی ڈھال جو وقتی طور پر بچا تو سکتی ہے، مگر آگے بڑھنے سے روک دیتی ہے۔ اصل نعمت وہ معاشرہ ہے جہاں علم، برداشت اور مکالمہ زندہ ہوں۔