23/04/2026
(اس کہانی میں نام تبدیل کیے گئے ہیں)یہ کہانی ہے حسنین کی… ایک بیچلرز کا طالب علم جو Islamabad میں تعلیم حاصل کر رہا تھا۔
کبھی اس کی آنکھوں میں بڑے خواب تھے… لیکن آہستہ آہستہ وہ خواب دھندلا گئے، اور ان کی جگہ ایک خاموش اندھیرا لے گیا۔
شروع میں سب کچھ “مزے” سے شروع ہوا…
چرس (cannabis) صرف دوستوں کے ساتھ ایک عادت بنی۔
محفلوں میں ہنسی، دوسروں کا مذاق، کبھی غصہ… اور پھر سب کچھ معمول لگنے لگا۔
وہ خود سے دور ہوتا گیا… اور اسے احساس بھی نہ ہوا۔
یہ تھا Pre-Contemplation (عدم شعور)
وہ کہتا تھا:
“یہ کوئی ڈرگ نہیں، بس relaxation ہے… میں بالکل ٹھیک ہوں (I’m super fine).”
اور کبھی کبھار 2-3 دن چھوڑ کر خود کو اور دوسروں کو یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا کہ
“میں کنٹرول میں ہوں”.
حالانکہ حقیقت میں وہ آہستہ آہستہ اپنی گرفت کھو رہا تھا۔
وقت گزرتا گیا…
دوست دور ہوتے گئے، پڑھائی متاثر ہوئی، پیسہ ضائع ہونے لگا…
اور ایک دن وہ خود کو مکمل تنہا محسوس کرنے لگا۔
خاموشی میں بیٹھے ہوئے پہلی بار اس نے خود سے پوچھا:
“کیا میں واقعی ٹھیک ہوں؟”
یہ تھا Contemplation (غور و فکر).
وہ بار بار چھوڑنے کی کوشش کرتا… کچھ دن ٹھیک رہتا…
پھر دوبارہ اسی طرف لوٹ آتا…
اور ہر بار پہلے سے زیادہ انحصار محسوس کرتا۔
دل اور دماغ کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ…
ایک طرف چھوڑنے کی خواہش، دوسری طرف عادت کی زنجیر۔
پھر ایک دن…
اس نے آئینے میں خود کو دیکھا.
آنکھوں میں تھکن، چہرے پر خالی پن… اور دل میں پچھتاوا۔
اور وہ رو پڑا…
شاید بہت عرصے بعد۔
اسی لمحے اس نے فیصلہ کیا:
“میں اس سے بہتر زندگی کا حق رکھتا ہوں۔”
یہ تھا Preparation اور Action (تیاری اور عمل) —
اس نے بری صحبت چھوڑ دی، مدد لی، اور ہر دن خود سے لڑنا شروع کیا۔
یہ آسان نہیں تھا… مگر وہ رکا نہیں۔
وقت کے ساتھ وہ پہنچا Maintenance (استقامت) کے مرحلے میں.
آج وہ مضبوط ہے، سنبھلا ہوا ہے…
اور سب سے بڑھ کر.اس نے خود کو دوبارہ پا لیا ہے۔
جو کبھی دوسروں کو تکلیف دیتا تھا،
آج وہی دوسروں کے لیے سہارا بن گیا ہے۔
🌱 پیغام:
منشیات وقتی سکون دیتی ہیں…
مگر خاموشی سے آپ کی زندگی، رشتے اور خودی چھین لیتی ہیں۔
لیکن اگر آپ ابھی بھی سانس لے رہے ہیں…
تو یاد رکھیں, واپسی ہمیشہ ممکن ہے۔