04/05/2023
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے گاؤں میں جہاں گاؤں والوں نے کبھی ہاتھی نہیں دیکھا تھا۔ ایک دن، ایک مسافر بادشاہ نے اپنے عظیم الشان ہاتھی کو گاؤں میں لے آیا۔ جگنو گاؤں والے محفل میں جمع ہو گئے تھے اور یہ حیران کن مخلوق دیکھنے کے لئے بے قرار تھے۔ ان میں سے چند اندھے لوگ بھی تھے جو کچھ کچھ سن کر ہاتھی کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔
اندھوں نے ہاتھی کے قریب جا کر چھوا تاکہ وہ سمجھ سکیں کہ ہاتھی کیسا ہے۔ ہر شخص نے ہاتھی کے جسم کے مختلف حصوں کو چھوا: ایک نے سونڈ کو چھوا، دوسرے نے کان کو چھوا اور پھر ایک نے ٹانگ کو چھوا۔
ہاتھی کو چھونے کے بعد، انھوں نے اپنے تجربات کے بارے میں بات کی۔ سونڈ کو چھونے والے شخص نے کہا کہ ہاتھی ایک موٹے سانپ کی طرح ہے۔ کان کو چھونے والے نے کہا کہ ہاتھی ایک بڑے پنکھ کی طرح ہے۔ ٹانگ کو چھونے والے نے کہا کہ ہاتھی ایک مضبوط ستون کی طرح ہے۔
اندھوں کے درمیان بحث شروع ہو گئی، اور ہر ایک کو یقین تھا کہ ان کی اپنی سمجھ درست ہے۔ ان کا اختلاف بڑھتا چلا گیا اور وہ تقریباً ایک دوسرے کو مارنے لگے۔
ایک دانا شخص، جو موقف کا مشاہدہ کر رہا تھا، آگے بڑھا اور ان اندھوں کے سامنے بولا۔ اس نے بتایا کہ وہ سب کچھ صحیح ہے، لیکن کسی کے پاس بھی مکمل تصویر نہیں ہے۔ ہر ایک نے صرف ہاتھی کا ایک حصہ محسوس کیا تھا، اور انھیں اپنے تجربات کو جمع کرنا ہوگا تاکہ وہ جانور کی حقیقت کو سمجھ سکیں۔
رومی نے اس کہانی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف نقطہ نظر کو سمجھنے کے اہمیت کو سمجھانے کی کوشش کی اور انسانی خیال کی حدوں کو پہچاننے کی کوشش کی۔ یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہمیں زندگی کو عاجزی کے ساتھ دیکھنا چاہئے اور دوسروں کے تجربات اور نظریات کو قبول کرنے کے لئے کھلے ہونا چاہئے، کیونکہ صرف اس جمع ادراک کے ذریعے ہم اپنے ارد گرد دنیا کے بارے میں ایک زیادہ درست اور مکمل تصویر حاصل کر سکتے ہیں۔