Dawakhana Hakeem Kishwar Khan

Dawakhana Hakeem Kishwar Khan Our Contacts : 0346570047 (Sawat) 03005725200 (Rustam) 03005737500 (Mardan)

رســول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا" تم پر کشمش کھانا لازم ہے کیونکہ یہ صفرا ( یرقان ) کا زور توڑتی ہے ،بلغم ...
07/10/2020

رســول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا" تم پر کشمش کھانا لازم ہے کیونکہ یہ صفرا ( یرقان ) کا زور توڑتی ہے ،
بلغم کو ختم کرتی ہے ،
رگ کو مضبوط کرتی ہے ،
خستگی دور کرتی ہے،
حسنِ اخلاق کا سبب بنتی ہے ،
نفس کو پاکیزہ بناتی ہے اور غم دور کرتی ہے"

{ خصــال شیخ الصــدوق، باب _٧، حدیث_٧، صفحہ_١٥ }

ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺻﺤﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﺬﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺮﺥ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﺸﮏ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﺋﯽ ﻣﺎﺩﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻋﻤﻞ ﺗﮑﺴﯿﺪ ﮐﮯ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﻦ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﺎ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺸﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺒﺎﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺠﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ 30 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﺸﻤﺶ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ 170 ﮔﺮﺍﻡ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔
ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﭩﻮ ﮐﯿﻤﯿﮑﻠﺰ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﻮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ، ﻓﺎﺋﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺸﮏ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﮨﻠﮑﮯ ﭘﮭﻠﮑﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﯾﭩﺲ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺸﻤﺶ، ﺧﻮﺑﺎﻧﯽ، ﺁﻟﻮ ﺑﺨﺎﺭﺍ، ﻣﻨﻘﮧ، ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻏﺒﺖ ﺩﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﻗﺒﺾ ﮐﺸﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔

امراض سے پاک زندگی کی کنجی، قبض سے نجات، فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔
کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لئے اہم ترین جز ہے۔ کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔
تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔ معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔
کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں۔
معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کشمش میں موجود اجزاء آنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں،
جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔
اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لئے بھی اچھا ذریعہ ہے۔
کشمش کا استعمال وٹامنز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔
کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے۔
اس میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔
اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
گردوں کی صحت کے لئے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔
یقیناً اتنی خوبیاں جاننے کے بعد آپ آج سے ہی کشمش کا باقاعدگی سے استعمال شروع کر دیں گے۔..
۔۔۔حکیم محمدابراھیم کشور۔۔

مردانہ نظام تولید۔Male Reproductive System........سرسری جائزہ۔۔۔۔۔۔۔۔مرد کا نظام تولید نطفے یا جنسی خلیئے بنانے والے اعض...
29/08/2020

مردانہ نظام تولید۔
Male Reproductive System........

سرسری جائزہ۔۔۔۔۔۔۔۔
مرد کا نظام تولید نطفے یا جنسی خلیئے بنانے والے اعضاء اور معاون ساختوں والے ان ضمنی راستوں پر مشتمل ہوتا ہے جو مرد کے جنسی خلیوں کو عورت کے تولیدی حلقہ اعضاء کے اندر داخل ہونے میں مددگار ہوتے ہیں۔ یہ اعضاء ہارمونز والی رطوبتیں پیدا کرتے ہیں۔ جن کی وجہ سے نمایاں ہونے والی بیشتر خصوصیات کو مردانہ خصوصیات سے منسوب کیا جاتا ہے۔

تعارف۔۔۔۔۔۔
مرد کے بیرونی جنسی اعضاء میں عضو مخصوص اور خصیوں کی تھیلی (سکروٹم) شامل ہیں۔ عضو مخصوص کے اگلے سرے پر ایک سوراخ ہوتا ہے۔ جس کے زریعے پیشاب اور منی کا اخراج ہوتا ہے۔ عضو مخصوص کی جڑ میں کاوپر (cowper) نامی دو چھوٹے چھوٹے غدود ہوتے ہیں۔ جو پیٹ کی نالی میں کھلتے ہیں۔ ان کے پیچھے ایک بڑا غدود ہوتا ہے جسے پراسٹیٹ گلینڈ کہتے ہیں۔ اس کے اوپر مثانہ (Gall blader) ہوتا ہے جو پیشاب زخیرہ کرنے کی تھیلی ہے۔ عضو مخصوص کے نیچے خصیوں کی تھیلی ہوتی ہے۔ جس میں دو عدد خصیئے ہر وقت جرثومے تیار کرتے ہیں۔ یہاں سے جرثومے تیار ہوکر اغدیدس (ایپی ڈیڈیمس) یا برخایہ میں چلے جاتے ہیں۔ اور مزید پختہ ہوکر منی کی تھیلی میں چلے جاتے ہیں۔
منی کی تھیلیاں پراسٹیٹ گلینڈ کے دائیں بائیں واقع ہوتی ہیں۔
مرد کے بیرونی اعضائے تناسل میں درج زیل اعضاء شامل ہیں۔

الف۔۔۔۔۔ قضیب۔۔۔۔ یہ مرد کا جنسی عضو ہے جو پیشاب کے علاوہ منی کے بھی اخراج کا زریعہ ہے۔ پیشاب کی نالی نائزہ (urethra) ک بہت سا حصہ قضیب کے اندر سے گزرتا ہے۔ یہی عضو عورت کے جسم میں منی پہنچاتا ہے۔ قضیب کے جسم (shaft body) میں بڑی بڑی خون کی رگیں ہوتی ہیں جو شہوت کے دوران خون سے پر ہوکر عضو کا سائز بڑھانے اور اسے سخت کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔

قضیب یعنی ذکر کے حصے۔ (parts of p***s)
اس کے تین حصے ہوتے ہیں۔
1۔ جڑ (Root) یہ دو مضبوط ریشے دار نالیوں کے زریعے پیڑو کی ہڈی اور چوتڑ کی ہڈی کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ یہ چوڑائی میں ہوتے ہیں اور عضو تناسل کی بنیاد ہیں۔

2۔ جسم قضیب۔ (Shaft body) یہ جڑ سے لے کر حشفہ تک قضیب کہلاتا ہے دونوں اطراف میں متوازی جوف دار اجسام ہوتے ہیں۔ اس کی بالائی سطح پر دو خاص قسم کی جھلیاں ہوتی ہیں۔ اوپر والی جھلی میں عضلاتی ریشوں کی بہتات ہوتی ہے اور نیچے والی جھلی نرم و ملائم خانہ دار ہوتی ہے۔ اس حصے پر باریک ڈھیلی لچکدار نرم اور سیاھی مائل جلد ہوتی ہے۔ ہاتھ کی حرکت سے یہ جلد آگے پیچھے سرک سکتی ہے۔

3۔ سر یا حشفہ (گلینڈز)
یہ قدرے گول اور مخروطی ٹوپی نما حصہ ہوتا ہے۔ اس کے سرے پر پیشاب کا سوراخ ہوتا ہے۔ اسی سوراخ کے زریعے منی کا بھی اخراج ہوتا ہے۔ حشفہ کے ابھرے ہوئے گول کنارے پر ننھی ننھی گلٹیاں یا غدود پائے جاتے ہیں۔ یہ عضو کا سب سے حساس حصہ ہوتا ہے۔ اس میں ایک سطحی اور ایک گہری ورید گزرتی ہے۔ حشفے کے اوپر جلد کا غلاف ہوتا ہے جسے مسلمان مذہبی شعار کے مطابق ختنہ کرکے الگ کروا دیتے ہیں۔

ب۔۔۔۔۔ خصیئے۔ (Testicles)
خصیئے مردانہ جسم میں نہایت کارآمد اور قیمتی اعضاء ہیں۔ ہر مرد میں دو خصیئے پائے جاتے ہیں جو عمل تولید کیلیئے لازم حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ ہموار۔ بیضوی اور لچکدار اعضاء ہوتے ہیں۔ ہر خصیہ جسامت میں مرغی کے چھوٹے انڈے کے برابر ہوتا ہے۔ دایاں خصیہ چھوٹا جبکہ بایاں سائز میں زرا بڑا ہوتا ہے۔ یہ عام طور پر خصیہ دانی Sc***um میں پڑے رہتے ہیں۔ ان کی لمبائی تقریبا ایک سے پانچ انچ اور چوڑائی ایک انچ کے لگ بھگ ہوتی ہے۔ ان کا وزن تقریبا 15 گرام ہوتا ہے۔ ان میں منی تیار کرنے والی نالیاں (epididymis) موجود ہوتی ہیں۔ جو وقت شہوت منی کو قضیب میں پہنچاتی ہیں۔
خصیئوں میں درخ ذیل تہیں ہوتی ہیں۔۔۔
1۔ خون کی نالیوں والی تہہ۔(Tunica vasculosa)....
یہ تہہ کنکٹو ٹشوز پر مشتمل ایک اندرونی تہہ ہے۔ اس کے اندر خون کی باریک نالیوں یعنی عروق شعریہ کا جال بچھا ہوتا ہے۔
2۔ خصیئوں کو تقسیم کرنے والی تہہ۔ (Tunica albuginea)....
یہ تہہ خصیے کو بیشمار لوتھڑوں lobules میں تقسیم کرتی ہے۔ یہ تقریبا 300 لوبیولز پر مشتمل ہوتی ہے۔

3۔ منی پیدا کرنے والی تہہ۔ (Seminiferous)...
اس مقام پر تولیدی خلیات سپرماٹوزوا (spermatozoa) کی پیدائش ہوتی ہے۔ ہر ایک لیوبیول میں یہ تین کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ان نالیوں کے اندر مخصوص سیل ہوتے ہیں جو ایک رطوبتی ہارمون ٹیسٹوسٹیرون خارج کرتے ہیں۔ یہ نالیاں ایک خاص ترتیب سے برخائیہ epididymis سے مل کر اس نظام کا حصہ بنتی ہیں۔

جیم۔ رطوبت منویہ (semen)
تعارف۔۔۔
بلوغت کے بعد خصیئوں میں مسلسل بننے والی رطوبت کو منی یا سیمن کہتے ہیں۔ یہ سیمینل ویسلز seminal vessels میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ اور بوقت انزال خارج ہوجاتی ہے۔ یہ ایک سفیدی مائل گاڑھا مایع ہے۔ اس میں مخصوص بو پائی جاتی ہے۔ جسے سیمینل اوڈر seminal odour کہتے ہیں۔ یہ رطوبت ہلکی الکلائین ہوتی ہے۔ اس رطوبت کے دو حصے ہیں۔۔
1۔ سیال مواد (Liqour seminal) یہ انڈے کی سفیدی جیسی شفاف رطوبت ہوتی ہے۔

2۔ دانے دار مواد۔ (seminal granules) یہ چھوٹے چھوٹے گول زرات یا دانے ہوتے ہیں۔ ان کے اندر کرم منی spermatozoa پائے جاتے ہیں۔

انزال کے وقت ایک تندرست مرد کی منی کی مقدار دو سے پانچ ملی لیٹر ہوتی ہے۔ اس تولیدی مادے میں درجہ زیل اجزاء پائے جاتے ہیں۔
1۔ سیرم
2۔ البیومن
3۔ البیومینیٹ
4۔ لیسی تھن
5۔ کولیسٹرین۔
6۔ روغنی اجزاء۔

منی کی اقسام۔
1۔ ناقص منی۔۔۔ منی کی اس قسم میں گاڑھا پن کم ہوتا ہے ایسی منی کپڑے پر خشک ہوکر اکڑاو پیدا نہیں کرتی۔ اس منی میں پس سیلز پائے جاتے ہیں۔
2۔ خون آمیز منی۔
منی میں خون کی زیادہ آمیزش ہوجائے تو منی کا رنگ سرخی مائل ہوجاتا ہے۔ جس کا سبب کثرت احتلام۔ جلق۔ اغلام بازی یا کثرت مباشرت ہوتا ہے۔
منی کی تھیلی منی سے خالی ہوجاتی ہے۔ اور خصیئوں خو دوبارہ منی بنانے میں مناسب وقت نہیں مل پاتا اور وہ کچی پکی حالت میں خون ملی خارج ہونے لگتی ہے۔

3۔ بیکار منی۔۔۔۔
ایسی منی جو بالکل پتلی اور پانی جیسی ہو اس میں حونیات منی نہیں پائے جاتے۔ یہ مرد کو کمزور کرتی ہے۔

4۔ بہترین منی۔ ۔۔۔
منی کی اس قسم میں تندرست انسان کے عضو سے ایسی منی خارج ہوتی ہے جو کپڑے پر لگنے سے اکڑاو پیدا کرتی ہے۔ دیر سے خشک ہوتی ہے اور گاڑھی ہوتی ہے۔ اور حونیات منی سے لبریز ہوتی ہے۔...

دل کی بند رگوں کو کھولنے کیلئے بس ان عام قدرتی چیزوں کو استعمال کریں ، حیران کن نتائج پاکر یقین نہیں کر پائیں گے🍃لہسن تح...
26/08/2020

دل کی بند رگوں کو کھولنے کیلئے بس ان عام قدرتی چیزوں کو استعمال کریں ،
حیران کن نتائج پاکر یقین نہیں کر پائیں گے

🍃لہسن
تحقیق کے مطابق لہسن امراضِ قلب ، لوئر بلڈ پریشرسے بچاتا ہے اور ایتھرو سلیروسس کو کم کردیتا ہے۔
شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق لہسن خون کی رگوں میں جمنے والے مواد کو جمنے سے روکتا ہے۔

🍃 ہلدی
ہلدی کولیسٹرول کو کم کرتا ہے اور رگوں میں جمنے والے پلیک کو ختم کرتا ہے۔

🍃 ادرک
ادرک کا استعمال قدرتی طور پر رگوں کو صاف کرنے کیلئے کیا جاسکتا ہے۔ ادرک میں زبردست انسداد سوزش اور اینٹی آکسیڈیٹو اثرات ہوتے ہیں۔ ادرک میں ایسے مرکبات ہوتے ہیں جو دل کی حفاظت کیلئے بہترین ہوتے ہیں، جو کولیسٹرول کم کرنے میں مؤثر ہوتے ہیں۔

🍃 لیموں
صبح پانی پیتے ہوئے اس میں لیموں کا رس ملا لینا آپ کے دل کی صحت کیلئے ایک اچھی عادت ہے۔ لیموں بلڈ کولیسٹرول کی سطح کم کرنے کیلئے جانا جاتا ہے۔ وٹامن سے بھرپور لیموں رگوں کو مضبوط کرتا ہے۔

🍃 دارچینی
دارچینی ایتھروسلیروسس اور امراضِ قلب سے تعلق رکھنے والے کئی عوامل ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق دار چینی امراضِ قلب کولاحق خطرات کو کم کرتی ہے۔ تِل تل بند رگوں کو کھولنے میں مدد گار ثابت ہو سکتے ہیں۔

مرچ سیاہ(کالی مرچ)
مرچ سیاہ سے ہر انسان واقف ہے یہ گھروں میں بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے بطور مصالحہ سالن میں استعمال کے ساتھ اور بھی بہت جگہ اس کا استعمال ہوتا ہے۔
یہ دیکھنے میں چھوٹی سی چیز بہت سے کمال رکھتی ہے۔

مرچ سیاہ کی تاثیر گرم ہوتی ہے یہ جگر،معدہ ،اور اعصاب کو طاقت دیتی ہے،نظامِ انہظام کو طاقت دیتی اور خوب بھوک لگواتی ہے۔معدہ اور آنتوں کی ریاح کو خارج کرتی ہے،پھیپھڑوں کو طاقت بخشتی اوررُکے ہوئے پیشاب اور حیض کو جاری کرتی ہے۔مردانہ طاقت کو بحال کرتی ہے۔حلق کے ورم اور سوزش کے لیے اسکے جوشاندہ سے غرارے کروائے جاتے ہیں۔۔
بلغمی کھانسی میں شہد کے ساتھ ملا کر چٹایا جاتا ہے۔

تخم خربوزہ :
۔ہارٹ اٹیک سے بچاﺅ:
خربوزہ میں شامل ایک خاص جزو (اڈینوسائن) خون کے خلیوں کو جمنے نہیں دیتا اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ چیز بعدازاں ہارٹ اٹیک کے امکانات بڑھا دیتی ہے۔ خربوزہ جسم میں خون کی گردش کو معمول پر رکھتا ہے، جس سے ہارٹ اٹیک یا سٹروک جیسی بیماریوں کے امکانات نہایت کم ہو جاتے ہیں۔
خربوزہ پٹھوں اور رگوں کو لچکدار بناتا ہے۔ دل کی صحت کے لیے مفید ہے۔
ہائی بلڈپریشر کو کنٹرول کرتا ہے۔

۔گردے کے امراض میں مفید:
خربوزہ کا استعمال گردوں کو صاف کرتا ہے اور گردے میں جمی ہوئی کثافتوں کو بھی دور کر دیتا ہے۔ اور اگر خربوزہ کو لیموں کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے تو یہ یورک ایسڈ جیسی تکلیف میں بھی آرام پہنچاتا ہے۔

السی کے استعمال کے فوائد کیا ہیں ؟

نظام ہاضمہ، کولیسٹرل لیول متوازن رکھتی ہے جبکہ میٹابالزم کو تیز کرتی ہے ، السی کے آٹے کی روٹی یا اس کا آٹا نیم گرم پانی میں ملا کر پینے سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں اور دنوں میں وزن میں کمی بھی آتی ہے ۔

دل کے امراض میں مفید
٭السی کے بیج دل کی مہلک بیماریوں سے ہمیں بچاتے ہیں
السی کے بیج بلڈ پریشر کی سطح کو نارمل رکھتے ہیں-
٭السی کے تیل سے جگر پر کسی قسم کا دباؤ نہیں پڑتا-
٭السی کے استعمال سے شریانوں اور وریدوں میں خون کی گردش بہتر رہتی ہے-
٭السی کا مسلسل استعمال کرنے سے انسان ڈپریشن سے محفوظ رہتا ہے-
السی میں بھاری مقدار میں اومیگا تھری، فائبر لیگنانس پایا جاتا ہے جس سے دل کی صحت میں اضافہ ہوتا ہے اور شریانیں کھلی رہتی ہیں جس کے سبب ہارٹ اٹیک کے خطرات میں کمی آتی ہے ، السی کا استعمال خون کو پتلا کرتاہے۔
٭السی کا بیج سانس کی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے

وزن میں کمی:
السی کے بیج موٹاپے کے خلاف مددگار ثابت ہوتے ہیں اور انسان کے وزن کو متوازن بناتے ہیں- السی کے بیجوں میں پایا جانے والا فائبر اور صحت مند چکنائی جسم کے لیے انتہائی فائدہ مند ہے- یہ بیج آپ کو سوزش سے بچاتے ہیں- اس کا استعمال آپ کو پرسکون اور مطمئین بناتا ہے-

کولیسٹرول میں کمی:
السی کے بیجوں کا روزانہ استعمال آپ کے جسم میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے کے حوالے سے مدد فراہم کرتا ہے- یہ اس کولیسٹرول سے محفوظ بناتے ہیں جو آپ کا جسم جذب کرتا ہے- اور کولیسٹرول کی کمی کی وجہ سے آپ کو دل کے مسائل اور وزن میں اضافے کا سامنا نہیں کرنا پڑتا-

تیز پتہ یا تیز پات
ذیابیطس کا علاج بھی تیز پات کے ذریعے ممکن ہے- تیز پات خون میں موجود گلوکوز کی سطح میں کمی واقع کرتا ہے- اس کے علاوہ برے کولیسٹرول اور چربی میں بھی کمی لاتا ہے- ذیابطیس کے مریض اسے 30 روز تک پاؤڈر کی شکل میں استعمال کریں-

تیز پات کا استعمال نہ صرف نظامِ ہضم کو بہتر بناتا ہے بلکہ بھوک بھی بڑھاتا ہے- تیز پات غذا کو انتہائی چھوٹے چھوٹے حصوں میں تقسیم کردیتا ہے جس سے قبض کی شکایت پیدا نہیں ہوتی- ان بیماریوں سے بچاؤ کے لیے روزانہ 2 تیز پتے ابلے ہوئے پانی میں شامل کر کے چھان کر پیجیے- یہ عمل دن میں دو مرتبہ کرنا ہے اور ذائقہ کے لیے اس میں شہد ملا لیں۔

یرقان جانڈس میں آپ کا جگر دباؤ کا شکار ہوتا ہے- لیکن تیز پات کا استعمال جگر کو اس دباؤ سے بچاتا ہے- تاہم اس کے لیے آپ کو روزانہ 2 تیز پات کے تازہ پتے کھانے ہوں گے-
Cardiovascular Benefits of Tez paat

تیز پات میں متعدد معدنیات پائے جاتے ہیں جن میں کوپر٬ پوٹاشیم٬ کیلشیم٬ میگںیز٬ آئرن٬ زنک اور میگنیشیم شامل ہیں- پوٹاشیم انسان کے بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن کو قابو میں رکھتا ہے- آئرن آپ کے خون میں لال خلیے بناتا ہے- باقی معدنیات جسم میں موجود زہریلے مادوں کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں-

٭اخروٹ:۔
اخروٹ کو سب ہی پسند کرتے ہیں اور سردیوں میں اس کا استعمال بھی زیادہ کیا جاتا ہے،بہت سے لوگ ان میوہ جات کو صرف اس لئے استعمال کرتے ہیں کہ ان کی تاثیر گرم ہے اور یہ سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔لیکن آج ہم آپکو ان کے طبعی فوائد کے بارے بھی معلومات بہم پہنچائیں گے۔اخروٹ میں فولاد،کیلشیم،پوٹاشیم،پروٹین،زنک،فائبر،سوڈیم،سلینیم اور میگنیشیم پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وٹامنز بھی پائے جاتے ہیں۔اب ذرا دیکھتے ہیں کہ اخروٹ کن بیماریوں میں ہماری مدد کرتا ہے۔
٭ایک تحقیق کے مطابق روزانہ چار سے پانچ اخروٹ کھانے والے شوگر کی ٹائپ ۲ سے محفوظ رہتے ہیں۔
٭دوران حمل اس کا استعمال ماں کے بلڈ پریشر کو نارمل رکھتا ہے۔اور پیدا ہونے والے بچے کی آنکھوں اور دناغ کے لئے مفید ہے۔
٭سردیوں میں اکثر جوڑوں کے درد زیادہ ہوتے ہیں اس لئے اخروٹ کے تیل کی مالش کریں ۔دردوں میں افاقہ ہوتا ہے۔
٭مغز اخروٹ گلے کی خراش ،کھانسی اور دمہ میں فائدہ مند ہے۔
٭اخروٹ کھانے سے کولیسٹرول نارمل رہتا ہے۔
٭دل کے لئے مفید ہے
٭اخروٹ پیٹ کی چربی کم کرنے میں بھی مددگار ہے۔

ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ کے ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ۔ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﻧﺴﺨﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻼ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﮯ ﺑﮯ ﺩﮬﮍﮎﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ...
22/07/2020

ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ
کے ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ۔

ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ
ﻧﺴﺨﮧ ﻣﻠﺘﺎ ﮨﮯ ﺑﻼ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﺳﻮﭼﮯ ﺑﮯ ﺩﮬﮍﮎ
ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ۔ﺍﻭﺭ
ﻣﺮﯾﺾ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﮔﻠﮧ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻧﮯ
ﻧﺴﺨﮧ ﺍﭼﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﺎ ۔ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺗﻮ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﻓﺎﺋﺪﮮ ﮐﮯ
ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ
ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﻥ ﮨﺪﺍﯾﺎﺕ ﭘﺮ
ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺁﭖ ﺍﻧﺸﺎﺀﺍﻟﻠﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﻧﺘﺎﺋﺞ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﯾﮟ
ﮔﮯ
ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ
ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﻋﻼﺝ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮیں
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺀ ﻣﻌﺪﮮ ﺳﮯ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ
ﮐﯽ ﺟﮍ ﻣﻌﺪﮦ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ﻗﺒﺾ۔
ﺑﺪﮨﻀﻤﯽ۔ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ۔ﮐﮭﺎﻧﺎ ﮐﺎ ﮨﻀﻢ ﻧﮧ ﮨﻮﻧﺎ۔ﺑﮭﻮﮎ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ۔
ﻭﻗﺖ ﺑﮯﻭﻗﺖ ﮐﮭﺎﻧﺎ۔ﺑﺴﯿﺎﺭ ﺧﻮﺭﯼ ﺍﻥ ﺳﺐ ﻋﻼﻣﺎﺕ ﮐﯽ
ﻣﻮﺟﻮﺩﮔﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻭ ﻋﺎﺩﺍﺕ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ
ﮐﺮﯾﮟ ﺁﭖ ﮐﺎ ﻣﻌﺪﮦ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺩﻭﺳﺮﮮ
ﺳﭩﯿﭗ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺑﮍﮨﯿﮟ
ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ
ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﻣﻌﺪﮮ ﮐﯽ ﺩﺭﺳﺘﮕﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ
ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﮨﮯ ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﻮ ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﭘﺘﮧ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔
ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﺍﺱ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺳﯿﮑﺲ ﮐﺎ ﺧﯿﺎﻝ
ﺫﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﮨﯽ ﻋﻀﻮ ﺧﺎﺹ ﺳﮯ ﻣﺬﯼ ﯾﺎ ﻣﻨﯽ ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﭘﺎﻧﯽ
ﺟﯿﺴﯽ ﺭﻃﻮﺑﺖ ﮐﺎ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﮨﻮﻧﺎ۔ﺍﮐﺜﺮ ﺁﭖ ﻣﯿﮟ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ
ﯾﺎ ﺷﺎﺩﯼ ﺷﺪﮦ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﺍﺱ ﻣﺮﺽ ﮐﺎ ﻻﺯﻣﯽ ﺷﮑﺎﺭ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ
ﺍﮔﺮ ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺣﻞ ﮐﯿﺌﮯ
ﺑﻐﯿﺮ ﺩﯾﮕﺮ ﻃﺎﻗﺖ ﯾﺎ ﭨﺎﺋﻤﻨﮓ ﮐﯽ ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﮭﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ
ﻭﮦ ﺑﮯ ﮐﺎﺭ ﮨﮯ۔ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮨﮯ
ﺟﯿﺴﮯ ﮐﺲ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ
ﺑﻨﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ۔
ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ
ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﺫﮐﺎﻭﺕ ﺣﺲ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺟﺐ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﻣﻐﻠﻆ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ
ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺍﺏ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻣﻐﻠﻆ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ
ﮨﻮﮞ ﻣﻐﻠﻆ ﯾﻌﻨﯽ ﻣﺎﺩﮦ ﻣﻨﻮﯾﮧ ﯾﺎ ﻣﻨﯽ ﮐﻮ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ
ﺩﻭﺍﺋﯽ ﮐﻮ ﻣﻐﻠﻆ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﻔﻮﻑ ﻣﻌﺠﻮﻥ ﮔﻮﻟﯽ
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﭙﺴﻮﻝ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﻣﯿﮟ ﻣﺎﺩﮮ ﮐﻮ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﮐﺮﻧﺎ
ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﻣﺎﺩﮦ ﮔﺎﮌﮬﺎ ﮨﻮﮔﺎ ﺗﻮ
ﮨﯽ ﺟﺴﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺧﺮﺍﺝ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﻟﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ
ﺣﻤﻞ ﮐﮯ ﻟﯿﺌﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﯾﺮ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺍﻧﺪﺍﻡ ﻧﮩﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ
ﮔﺎ۔ﺍﺱ ﻟﯿﺌﮯ ﺁﭖ ﺍﺱ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﮐﯿﻄﺮﻑ ﺧﺼﻮﺻﯽ
ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﮟ ۔

ﻣﺮﺩﺍﻧﮧ
ﮐﻤﺰﻭﺭﯼ ﮐﮯ ﻋﻼﺝ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ
ﻣﺎﺩﮦ ﮐﺎ ﭘﺘﻼ ﭘﻦ ﮐﺎ ﻋﻼﺝ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﮔﻼ ﻗﺪﻡ ﻋﻀﻮ ﺧﺎﺹ
ﮐﻮ ﻃﺎﻗﺖ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﮯ۔

30/06/2020

ذیابیطس شوگر

ذیابیطس کیا ہے اور آپ اس سے کیسے بچ سکتے ہیں؟

ٹائپ ون ذیابیطس پچپن یا نوجوانی میں ہو جاتی ہے
ذیابیطس تاحیات ساتھ رہنے والے ایسی طبی حالت ہے جو ہر سال لاکھوں افراد کو ہلاک کرتی ہے اور یہ کسی کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔
یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم اپنے اندر موجود شکر (گلوکوز) کو حل کر کے خون میں شامل نہیں کر پاتا اس کی پیچیدگی کی وجہ سے دل کے دورے، فالج، نابینا پن، گردے ناکارہ ہونے اور پاؤں اور ٹانگیں کٹنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

ذیابیطس کی وجہ کیا ہے؟

جب ہم کھانا کھاتے ہیں تو ہمارا جسم نشاستے (کاربوہائیڈریٹس) کو شکر (گلوکوز) میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے بعد لبلبے (پینکریاز) میں پیدا ہونے والا ہارمون انسولین ہمارے جسم کے خلیوں کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ توانائی کے حصول کے لیے اس شکر کو جذب کریں۔

ریفائنڈ چینی خون مں گلوکوز کو جمع کرتی ہے
ذیابیطس تب لاحق ہوتا ہے جب انسولین مناسب مقدار میں پیدا نہیں ہوتی یا کام نہیں کرتی، اس کی وجہ سے شکر ہمارے خون میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

’ذیابیطس کی علامات مرض سے برسوں پہلے ظاہر ہو جاتی ہیں‘

ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟
ذیابیطس شوگر کی کئی اقسام ہیں۔ یہاں 2 کا ذکر کریں گے۔

ذیابیطس ٹائپ ون 1
ذیابیطس میں لبلبہ انسولین بنانا بند کر دیتا ہے جس کی وجہ سے شکر خون کے بہاؤ میں جمع ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
سائنسدان یہ تو نہیں جانتے کہ اس کی اصل وجہ کیا ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ شاید ایسا جینیاتی اثر کی وجہ سے ہوتا ہے یا کسی وائرل انفیکشن کی وجہ سے کہ لبلبے میں انسولین بنانے والے خلیے خراب ہو جاتے ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کا دس فیصد ٹائپ ون کا شکار ہیں۔

ذیابیطس ٹائپ 2
ذیابیطس میں لبلبہ یا تو ضرورت کے مطابق انسولین نہیں بناتا یا جو بناتا ہے وہ ٹھیک طریقے سے کام نہیں کرتی۔

انسولین ہمارے جسم میں شکر کو توانائی میں منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے
ایسا عموماً درمیانی اور بڑی عمر کے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ تاہم یہ مرض کم عمر کے زیادہ وزن والے افراد، سست طرزِ زندگی اپنانے والے اور کسی خاص نسل سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً جنوبی ایشیائی افراد کو بھی لاحق بھی ہو سکتا ہے۔
کچھ حاملہ خواتین کو دورانِ زچگی ذیابیطس ہو جاتا ہے جب ان کا جسم ان کے اور بچے کے لیے کافی انسولین نہیں بنا پاتا۔
مختلف مطالعوں کے مختلف اندازوں کے مطابق چھ سے 16 فیصد خواتین کو دورانِ حمل ذیابیطس ہو جاتا ہے۔ انھیں ایسے میں غذا اور ورزش کے ذریعے شوگر لیول کو کنٹرول کرنا ہوتا ہے، تاکہ اسے ٹائپ ٹو انسولین میں بدلنے سے روکا جا سکے۔
اب لوگوں کو خون میں گلوکوز کی بڑھی ہوئی سطح کے بارے میں تشخیص کر کے انھیں ذیابیطس ہونے کے خطرے سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔

ذیابیطس کی علامات کیا ہیں؟
عمومی علامات
سستی اور پیاس ذیابیطس کی علامات ہو سکتی ہیں
بہت زیادہ پیاس لگنا
معمول سے زیادہ پیشاب آنا، خصوصاً رات کے وقت
تھکاوٹ محسوس کرنا
وزن کا کم ہونا
دھندلی نظر
زخموں کا نہ بھرنا

ماہرین طب کے مطابق ذیابیطس ٹائپ ون 1 کی علامات بچپن یا جوانی میں ہی ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور یہ زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔

ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرے کا شکار افراد 40 سال سے زائد عمر کے ہوتے ہیں (جنوبی ایشائی افراد 25 سال کی عمر تک)۔ ان کے والدین یا بہن بھائیوں میں سے کسی کو ذیابیطس ہوتا ہے، ان کا وزن زیادہ ہوتا ہے یا وہ موٹاپے کا شکار ہوتے ہیں، ان میں زیادہ تعداد جنوبی ایشیائی مالک کے لوگوں کی،
’ہر چوتھا پاکستانی ذیابیطس کا شکار ہے‘

ذیابیطس کا زیادہ تر انحصار جینیاتی اور ماحولیاتی عوامل پر ہوتا ہے لیکن آپ صحت مند غذا اور چست طرزِ زندگی سے اپنے خون میں شکر کو مناسب سطح پر رکھ سکتے ہیں۔

صحت مند خوراک کا رجحان اپنانا پہلے شرط ہے
پروسیس کیے گئے میٹھے کھانوں اور مشروبات سے پرہیز اور سفید روٹی اور پاستا کی جگہ خالص آٹے کا استعمال پہلا مرحلہ ہے۔
ریفائنڈ چینی اور اناج غذائیت کے اعتبار سے کم ہوتے ہیں کیونکہ ان میں سے وٹامن سے بھرپور حصہ نکال دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سفید آٹا، سفید روٹی، سفید چاول، سفید پاستا، بیکری کی اشیا، سوڈا والے مشروبات، مٹھائیاں اور ناشتے کے میٹھے سیریل۔
صحت مند غذاؤں میں سبزیاں، پھل، بیج، اناج شامل ہیں۔ اس میں صحت مند تیل، میوے اور اومیگا تھری والے مچھلی کے تیل بھی شامل ہیں۔
یہ ضروری ہے کہ وقفے وقفے سے کھایا جائے اور بھوک مٹنے پر ہاتھ روک لیا جائے۔
جسمانی ورزش بھی خون میں شوگر کے تناسب کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ برطانیہ میں این ایچ ایس تجویز کرتا ہے کہ ہفتے مںی کم از کم ڈھائی گھنے ایروبکس کرنا یا تیز چہل قدمی یا سیڑھیاں چڑھنا مفید ہے۔

سست روی چھوڑ کر ہفتے میں کم از کم اڑھائی گھنٹے ورزش ضروری ہے
جسم کا صحت مند حد تک وزن شوگر لیول کو کم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اگر آپ وزن کم کرنا چاہتے ہی تو اسے آہستہ آہستہ کریں یعنی آدھا یا ایک کلو ایک ہفتے میں۔
یہ بھی اہم ہے کہ آپ تمباکو نوشی نہ کریں اور اپنے کولیسٹرول لیول کو کم رکھیں تاکہ دل کے عارضے کا خطرہ کم ہو۔

ذیابیطس میں پیچیدگیاں کیا ہیں؟

خون میں شوگر کی زیادہ مقدار خون کی شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
اگر خون کا جسم میں بہاؤ ٹھیک نہ ہو تو یہ ان اعضا تک نہیں پہنچ پاتا جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے اس کی وجہ سے اعصاب کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے درد اور احساس ختم ہو جاتا ہے، بینائی جا سکتی ہے اور پیروں میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کی بڑی وجہ ذیابیطس ہی ہے۔

ذیابیطس کا مرض نابینا پن، گردوں کی ناکارہ ہونے، دل کے دورے، فالج اور پاؤں کٹنے کا باعث بن سکتا ہے

24/03/2020

احتیاطی تدابیر برائے حفاظت کرونا وائرس(یونانی طریقہ علاج کے مطابق)

1.ٹھنڈی و کھٹی تمام اغذیہ، ٹھنڈے مشروبات،ٹھنڈا پانی،آئسکریم، برف، ترش پھل ،دیرہضم غذاؤں اور بازاری کھانوں سےمکمل پرہیز کریں.

2. نیم گرم پانی، چائے، قہوہ، دیسی مرغی کی یخنی کا استعمال زیادہ کریں.

3. میٹھےپھل،سیب، چیکو ،انجیر، کھجور، خوبانی اور خصوصاً امرود (وٹامن سی سے بھرپور ہونے کی وجہ سے) کا استعمال زیادہ کریں.

4. قوت مدافعت کو بڑھانے کے لئے خمیرہ مروارید 3 سے 6 گرام روزانہ استعمال کریں اور اس قہوے کا ایک کپ صبح وشام لازمی استعمال کریں.

قہوہ:
دارچینی 3 گرام
لونگ3 سے 5 عدد
عناب 3 سے 5 دانے
گل بنفشہ 3گرام
سپستان 3 سے 5 دانے
خوب کلاں 3 گرام
بہی دانہ 1 گرام

ان تمام اجزاء کو 2 کپ پانی میں ڈال کر ہلکی آنچ پر پکائیں کہ 1 کپ باقی رہے تو چھان کر شہد سے میٹھا کر کے نوش کریں.

نوٹ:
شوگر کے مریض قہوے کو بغیر شہد کے استعمال کریں، ہائی بلڈ پریشر اور دیگر امراض میں مبتلا اشخاص اس قہوے کو بلا خوف استعمال کر سکتے ہیں
ہر عمر کے افراد بچے،بوڑھے، خواتین اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس کے کوئی مابعد مضر اثرات نہیں ہیں.
اگر کسی شخص کو اس قہوے میں موجود کسی جز سے الرجی ہو تو اس جز کے بغیر استعمال کرے.

طالب دعا
دواخانہ حکیم کشور خان رستم۔۔ مردان۔۔ سوات

19/03/2020

کرونا وائرس ایک عالمی وبائی مرض

کرونا وائرس نے پوری دنیا میں خوف پیدا کر دیا ہے۔

اے مسلمانوں شکر ادا کرو آللہ تعالی کا جس نے ہم سب کو نبی کریم صلی اللہ کی امت میں پیدا کیا اور حلال اور حرام میں فرق واضح کیا۔
اس کی وجہ سے چائنہ میں کافی اموات ہوئی ہیں، یہ وائرس چائنہ کے شہر wuhan میں دریافت ہو ہے جس کی آبادی 11 million ہے۔ جہاں پر گھروں سے باہر نکلنے پر بھی پابندی ہے اور اس شہر کا کوئی فرد کسی دوسرے شہر میں بالکل نہیں جا سکتا۔کرونا وائرس کی یہ پانچویں قسم ہے پہلی بار یہ 1960 میں پھیلا تھا اور یہ وائرس فوڈ مارکیٹ سے جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔
سب کو یہ ماننے پر مجبور کیا کہ واقعی اسلام راہ نجات ہے ۔ دورد شریف پڑھیں اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ پوری دنیا اس جان لیوا وائرس سے محفوظ رہے۔ آمین

گھبرائیں مت، کرونا وائرس سے ڈرنے کی قطعاً ضرورت نہیں کیونکہ
وائرس خطرناک ضرور ہے لیکن اس سے بچاؤ انتہائی آسان اور تھوڑی سی احتیاط سے ممکن ہے۔
*کرونا کے تشخیص کے لئے ایک سادہ ٹیسٹ !*
کرونا 7، کی علامات اتنی جلدی ظاہر نہیں ہوتے تو پھر کیسے جانا جائے کہ اس بیماری میں ہم مبتلا ہیں یا نہیں ؟

جدید ترین معلومات کے مطابق کرونا وائرس (COVID19)
متاثرہ مریض سے ڈائریکٹ رابطے یا اس کی کھانسنے چھینکنے اور ناک منہ سے خارج ہونے والی رطوبتوں کا ڈائریکٹ ٹچ کرنے سے پھیلتا ہے۔
زخم یا میوکس ممبرین کے ذریعے جسم میں داخل ہو کر بیماری کا باعث بن سکتا ہے۔ یہ وائرس 28 دن تک منہ کے ذریعہ پھیپڑوں میں منتقل ہو کر اندر رہتا ہے اور اپنے ظاہری علامات ظاہر نہیں کرتا !
اور جب تک بیمار کو کھانسی اور بخار کی شکایت لاحق نہ ہووہ ہسپتال نہیں جا پاتے!
علامات
ابتدائی زکام چھینکیں، نزلہ، گلے کی خراش، کھانسی، بخار سر درد، فلو نمونیا بخار کی علامتیں، سانس میں دشواری

ماہرین امراض، کرونا کے مرض کی تشخیص کے لئے ایک سادہ ٹیسٹ بتاتے ہیں ،
کہ جسے ہم ہر روز صبح انجام دے سکتے ہیں !
گہری سانس لیکر اور سانس کو دس سیکنڈ روکے رکھیں
اگر آپ کا سانس بغیر تکلیف کے دس سیکنڈ تک روکا رہے
اور اس دوران نہ کھانسی ہو اور بغیر کسی مسئلے اور مشقت کے ہے
تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے پھیپھڑوں میں کوئی مسئلہ نہیں !

“احتیاط اور بچاؤ”

کرونا وائرس نمونیا بھری ناک کے بنا ایک سوکھین کھانسی ہے۔ یہ اسے پہچاننے کا سب سے آسان طریقہ ہے،
وائرس گرمی میں نہیں بڑھ سکتا اور 26۔27 ڈگری کے موسم میں مارا جائیگا۔
اس لیئے وائرس سے بچنے کے لیئے خوب گرم پانی پیئیں،
جب تک شدید گرمی بنائے نہ رکھتا ہے،
تب تک زیادہ ادرک، پیاز، لہسن کھائیں،
زیادہ ورزش کریں، ایسے کرنے سے آپ محفوظ رہ سکتے ہیں ۔
زیادہ ادرک لہسن کالی مرچ کھانے سے اسے حل کیا جا سکتا ہے۔
میٹھا ۔ کھٹا۔ نمکین کم کھائیں۔
اور ٹھنڈی موسم والے کھیتوں میں نہ جائیں۔
سورج کے گرمی میں آنے پر وائرس پوری طرح سے غائب ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔!!!

*انسانی زندگی بچانے کیلئے ان معلومات کو فورا شیئر کریں*

19/03/2020

کھانسی اور گلے کی سوزش سے نجات دلانے میں مددگار گھریلو ٹوٹکے: حکیم محمدابراھیم خان
نزلہ زکام ہر موسم میں بیشتر افراد کو لاحق ہونے والے امراض ہیں مگر بہتی ناک ہی بڑا مسئلہ نہیں بلکہ اس کو زیادہ تکلیف دہ بنانے والا عنصر گلے کی سوزش بنتی ہے جو کھانا نگلنا مشکل جبکہ بستر پر کروٹیں بدلنے پر مجبور کردیتی ہے۔
صبح گلے میں کانٹے چبھنے کے احساس کے ساتھ اٹھنا اس بات کا عندیہ ہے کہ وائرس آپ کے جسمانی مدافعتی نظام میں داخل ہوچکا ہے۔
اور اس وجہ سے ہی لگتا ہے کہ جیسے بہت زیادہ مرچوں والی کوئی چیز کھالی ہے کیونکہ یہ وائرس جسمانی ورم کا باعث بنتا ہے خصوصاً ٹانسلز یا گلے میں۔
یہ جلن کا احساس کئی روز تک برقرار رہ سکتا ہے مگر اچھی بات یہ ہے کہ اس سے نجات کا نسخہ آپ کے گھر میں ہی موجود ہے جو کہ مسلسل کھانسی سے نجات میں بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
دار چینی
دار چینی ایسا مصالحہ ہے جس میں اینٹی آکسائیڈنٹس کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے اور جب گلے سوج رہا ہوں تو یہ بلغم بننے کی مقدار کم کرکے سانس لینا آسان بناتا ہے۔ ایک سے ڈیڑھ کپ پانی کو ابال لیں، جب پانی ابلنے لگے تو اس میں ایک سے 2 دار چینی کی اسٹکس کا اضافہ کرکے تین منٹ تک مزید ابالیں، اس کے بعد دارچینی کو نکال کر اس میں سبز چائے کو شامل کردیں اور پھر نیم گرم ہونے پر پی لیں۔
ادرک کا پانی
ادرک نظام تنفص کے لیے مددگار بوٹی ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتی ہے جبکہ بیکٹریا سے مقابلہ کرتی ہے۔ اسے استعمال کرنے کے لیے ایک ادرک کو چھیل کر چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں اوراسے پیس کر مومی پیپر میں لپیٹ دیں، اس کے بعد 3 کپ پانی کو درمیانی آنچ میں ابالیں اور ابلنے پر ادرک کا اضافہ کردیں، اس کے بعد مزید پانچ منٹ تک ابالیں اور پھر چولہا بند کرکے کچھ مقدار میں شہد کا اضافہ کردیں، اسے نیم گرم ہی پی لیں۔
ایک چمچ شہد
شہد کی جراثیم کش خصوصیات گلے کی تکلیف کو تیزی سے ختم کرنے میں مدد دیتی ہیں، بس ایک چمچ شہد کو کھالیں اور بس۔ یہ طریقہ کار بہت کم عرصے میں گلے کی سوزش اور خراش پر قابو پانے میں مدد دے سکتا ہے۔
گل بابونہ کی چائے
گل بابونہ یا chamomile کی چائے نہ صرف ہاضمے کے لیے بہترین ہے بلکہ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے کہ یہ ورم کش اور اینٹی آکسائیڈنٹس سے بھرپور ہوتی ہے جو کہ گلے کی سوزش یا خراش سے آرام پہنچانے میں مدد دیتے ہیں، یہ چائے کیفین سے پاک ہوتی ہے تو اسے سونے سے پہلے پینا نیند کو متاثر نہیں کرتا، اس میں کچھ مقدار میں شہد ملاکر پینا گلے کی سوزش سے نجات کا عمل زیادہ تیز کردیتا ہے۔
لیموں اور گرم پانی
کچھ لوگ لیموں کا عرق گرم پانی میں اس وقت توقع کے ساتھ ملا کر پتے ہیں کہ اس سے جسمانی وزن میں کمی اور جلد شفاف ہوگی، مگر یہ مشروب تکلیف دہ گلے کی سوزش سے تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ جراثیم کش اور جسمانی مدافعتی نظام مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھنے والا یہ مشروب گلے کے لیے ایسا تیزابی ماحول بناتا ہے جو کہ وائرس اور بیکٹریا کی نشوونما کو بہت مشکل بنادیتا ہے۔ لیموں میں وٹامن سی کی مقدار کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ موسمی نزلہ زکام کے خلاف لڑنے میں مدد دیتا ہے۔
شہد اور کلونجی
شہد کے متعدد طبی فوائد ہیں، ایک چائے کا چمچ شہد چائے میں ملانا یا ایسے ہی کھالینا بھی گلے کی سوزش میں کمی لاسکتا ہے، مگر اس کے اثرات کو بہتر بنانے کے لیے اس میں 2 سے 3 قطرے کلونجی کے تیل کے شامل کرلیں، یہ تیل ورم کش ہوتا ہے اور گلے کی تکلیف میں فوری سکون پہنچانے میں مدد دے سکتا ہے۔
نمک ملے پانی سے غرارے
یہ بہت ٹوٹکا ہے اور انتہائی موثر بھی، نمک ملے پانی سے غرارے کرنے سے تکلیف دہ سوجن میں کمی آتی ہے جبکہ بیکٹریا بھی مرتے ہیں، اس مقصد کے لیے آدھا چائے کا چمچ ایک گلاس گرم پانی میں ملائیں اور پھر ایک سے 2 منٹ غرارے ہیں، یہ پانی نگلنے سے گریز کریں۔
سیب کا سرکہ اور شہد
سیب کے سرکے میں تیزابیت کی سطح کافی زیادہ ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا کو ختم کرنے میں مدد دتی ہے، اس سرکے کو شہد سے ملا کر سوزش کے شکار گلے کی تکلیف میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ ایک کھانے کے چمچ سیب کے سرکے، ایک کھانے کے چمچ شہد کو ایک کپ گرم پانی میں مکس کریں، اور پھر اسے پی لیں۔
بھاپ سے مدد لیں
بھاپ بھی گلے کی سوزش میں کمی لانے کے لیے مدد فراہم کرتی ہے، اس مقصد کے لیے ایک بڑا باﺅل لیں، اسے گرم پانی سے آدھا بھر لیں، اس کے بعد ایک تولیہ لیں اور اسے سر پر اوڑھ کر اپنا سر باﺅل کے اوپر ایسے رکھ لیں کہ ایک خیمہ بن جائیں۔ بس پھر پانی سے نکلنے والی بھاپ میں سانس لیں اور بس۔
لونگ بھی فائدہ مند
لونگ کا استعمال تو صدیوں سے ہورہا ہے بلکہ چینی ادویات میں تو انہیں عام استعمال کیا جاتا ہے جو کہ دانتوں کے درد میں کمی بھی لاتی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ گلے کی تکلیف کے بھی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود اجزا قدرتی طور پر دردکش ہوتے ہیں جبکہ یہ مصالحہ جراثیم کش بھی ہے جو گلے کی تکلیف کو سن کرکے اس میں کمی لاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے ایک یا 2 لونگیں لیں اور منہ میں ڈال کر چوسنا شروع کردیں، جب وہ نرم ہوجائے تو چبا کر نگل لیں۔
میتھی کے پتے
میتھی کے پتوں کو کسی بھی تیل میں ملاکر گلے کے باہر اور گردن کے ارد گرد مالش کی جائے، یا پھر انہیں چائے کے ساتھ ملاکر استعمال کیا جائے تو اس سے بھی خراش یا سوزش کا باعث بننے والے بیکیٹیریاز کا خاتمہ ہوگا۔ میتھی کے پتوں کو گرم پانی میں ابال کر اس کے غرارے بھی کیے جاسکتے ہیں۔
لہسن
تھوڑے سے لہسن کو نیم گرم پانی میں ابال کر غرارے کرنے سے منہ میں موجود خراب بیکٹیریا کا خاتمo ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں اگر لہسن کی مدد سے ٹوتھ برش کو معمول بنایا جائے تو اس سے نہ صرف دانت مضبوط ہوں گے، بلکہ سانس کی بدبو کا بھی خاتمہ ہوگا۔

09/12/2019

10 DEC Say 10 JAN 2020 Tak

Address

Main Branch Rustam, Mardan
Mardan
23200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dawakhana Hakeem Kishwar Khan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram