07/10/2020
رســول اللہ صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا" تم پر کشمش کھانا لازم ہے کیونکہ یہ صفرا ( یرقان ) کا زور توڑتی ہے ،
بلغم کو ختم کرتی ہے ،
رگ کو مضبوط کرتی ہے ،
خستگی دور کرتی ہے،
حسنِ اخلاق کا سبب بنتی ہے ،
نفس کو پاکیزہ بناتی ہے اور غم دور کرتی ہے"
{ خصــال شیخ الصــدوق، باب _٧، حدیث_٧، صفحہ_١٥ }
ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﻌﻨﯽ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﻧﺴﺒﺖ ﺻﺤﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺗﯿﻦ ﮔﻨﺎﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺟﺎﺋﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﺎﻡ ﻏﺬﺍﺅﮞ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﻧﭩﯽ ﺁﮐﺴﯿﮉﻧﭩﺲ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﺋﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺮﺥ ﺍﻭﺭ ﺳﺒﺰ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﯽ ﺧﺸﮏ ﺷﮑﻞ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﯿﻤﯿﺎﺋﯽ ﻣﺎﺩﮮ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻋﻤﻞ ﺗﮑﺴﯿﺪ ﮐﮯ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﻦ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻤﺎﻧﯽ ﺧﻠﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺗﺤﻔﻆ ﻓﺮﺍﮨﻢ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺗﺎﺯﮦ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﯾﺎ ﮐﺸﻤﺶ ﻣﯿﮟ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﺗﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﺑﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،
ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺟﺐ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺸﮏ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﮐﺒﺎﺕ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﯾﮑﺠﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺩﻥ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ 30 ﮔﺮﺍﻡ ﮐﺸﻤﺶ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ 170 ﮔﺮﺍﻡ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﺮﺍﺑﺮ ﮨﮯ۔
ﺗﺎﮨﻢ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﻮﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﭨﺎﻣﻦ ﺳﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺎﺋﭩﻮ ﮐﯿﻤﯿﮑﻠﺰ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺧﺸﮏ ﻣﯿﻮﮮ ﮐﯽ ﺷﮑﻞ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻥ ﻏﺬﺍﺋﯿﺖ ﺑﺨﺶ ﺍﺟﺰﺍﺀ ﮐﯽ ﺑﮍﯼ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﺳﮯ ﮨﻤﯿﮟ ﭘﻮﭨﺎﺷﯿﻢ، ﻓﺎﺋﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻣﻨﺮﻟﺰ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺧﺸﮏ ﭘﮭﻠﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺮ ﮐﯽ ﻣﻘﺪﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﺭﮮ ﺑﮭﯽ ﺑﮍﮪ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﮨﻠﮑﮯ ﭘﮭﻠﮑﮯ ﻧﺎﺷﺘﮯ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ۔
ﯾﮩﯽ ﻭﺟﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻃﺒﯽ ﻣﺎﮨﺮﯾﻦ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﯾﭩﺲ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﻓﯽ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮐﺸﻤﺶ، ﺧﻮﺑﺎﻧﯽ، ﺁﻟﻮ ﺑﺨﺎﺭﺍ، ﻣﻨﻘﮧ، ﺍﻭﺭ ﮐﮭﺠﻮﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﻏﺒﺖ ﺩﻻﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﮐﺸﻤﺶ ﻗﺒﺾ ﮐﺸﺎ ﮨﮯ ﮐﻤﺰﻭﺭ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﺯﻥ ﺑﮍﮬﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮐﻮﻟﯿﺴﭩﺮﻭﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ۔
ﺗﯿﺰﺍﺑﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﮔﯿﺲ ﻣﯿﮟ ﻣﻔﯿﺪ ﮨﮯ۔
ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﮐﻤﯽ ﺩﻭﺭ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺍﻭﺭ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺳﮯ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺨﺎﺭ ﮐﻮ ﮐﻢ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﺑﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔
امراض سے پاک زندگی کی کنجی، قبض سے نجات، فائبر سے بھرپور ہونے کے ساتھ ساتھ کشمش میں ٹارٹارک ایسڈ بھی پایا جاتا ہے جو ہلکے جلاب جیسا اثر دکھاتا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق آدھا اونس کشمش روزانہ استعمال کرنے والے افراد کا ہاضمہ دگنا تیزی سے کام کرتا ہے۔
کشمش آئرن سے بھرپور میوہ ہے، جو خون کی کمی دور کرنے کے لئے اہم ترین جز ہے۔ کشمش کو آسانی سے دلیہ، دہی یا کسی بھی میٹھی چیز میں شامل کرکے کھایا جاسکتا ہے بلکہ ویسے کھانا بھی منہ کا ذائقہ ہی بہتر کرتا ہے۔
تاہم ذیابیطس کے شکار افراد کو یہ میوہ زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہئے یا ڈاکٹر کے مشورے سے ہی استعمال کریں۔
کشمش بخار سے بھی تحفظ دیتا ہے کشمش میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس وائرل اور بیکٹریا سے ہونے والے انفیکشن کے نتیجے میں بخار کے عارضے کا علاج بھی فراہم کرتے ہیں۔ معدے کی تیزابیت ختم کرتا ہے۔
کشمش میں پوٹاشیم اور میگنیشم ہوتا ہے جو کہ معدے کی تیزابیت میں کمی لاتے ہیں۔
معدے میں تیزابیت کی شدت بڑھنے سے جلدی امراض، جوڑوں کے امراض، بالوں کا گرنا، امراض قلب اور کینسر تک کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کشمش میں موجود اجزاء آنکھوں کو مضر فری ریڈیکلز سے ہونے والے نقصان سے تحفظ دیتے ہیں،
جبکہ عمر بڑھنے کے ساتھ پٹھوں کی کمزوری، موتیا اور بینائی کی کمزوری سے بھی تحفظ ملتا ہے۔
اس میوے میں موجود بیٹا کیروٹین، وٹامن اے اور کیروٹین بھی بینائی کو بہتر بنانے میں مدد دیتے ہیں۔جسمانی توانائی بڑھائے کاربوہائیڈریٹس اور قدرتی چینی کی بدولت یہ میوہ جسمانی توانائی کے لئے بھی اچھا ذریعہ ہے۔
کشمش کا استعمال وٹامنز، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو جسم میں موثر طریقے سے جذب ہونے میں بھی مدد دیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ باڈی بلڈرز اور ایتھلیٹس کشمش کا استعمال عام کرتے ہیں۔
کشمش کا استعمال بے خوابی سے بھی نجات دلاتا ہے۔
اس میوے میں موجود آئرن بے خوابی یا نیند نہ آنے کے عارضے سے نجات دلانے میں مدد دیتا ہے جبکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔
بلڈ پریشر آئرن، پوٹاشیم، بی وٹامنز اور اینٹی آکسائیڈنٹس بلڈ پریشر کو معمول پر رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
خاص طور پر پوٹاشیم خون کی شریانوں کے تناؤ کو کم کرتا ہےاور بلڈ پریشر کو قدرتی طور پر کم کرتا ہے اسی طرح قدرتی فائبر شریانوں کی اکڑن کو کم کرتا ہے جس سے بھی بلڈ پریشر کی سطح میں کمی آتی ہے۔
اس میں موجود کیلشیئم ہڈیوں کی صحت کے لئے فائدہ مند ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
گردوں کی صحت کے لئے بہتر پوٹاشیم سے بھرپور ہونے کی وجہ سے ان کا استعمال معمول بنانا گردوں میں پتھری کا خطرہ کم کرتا ہے۔
یقیناً اتنی خوبیاں جاننے کے بعد آپ آج سے ہی کشمش کا باقاعدگی سے استعمال شروع کر دیں گے۔..
۔۔۔حکیم محمدابراھیم کشور۔۔