22/10/2025
عرق النساء کی وجوہات اور علاج
عرق النساء کو عام الفاظ میں لنگڑی کا درد بھی کہا جاتا ہے عام طور پر عورتیں اس مسئلے کاشکار ہوتیں تو اس لیے اس کا نام بھی عرق النساء پڑھ گیا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے بلکہ مرد و خواتین دونوں اس کا شکار ہوکر رہ گئے۔
میڈیکل کی اصطلاح میں اسے شیاٹیکا(Sciatica) کہا جاتا ہے جو کہ اس کے عصب (Nerve) کے نام سے منسوب ہے یعنی یہ (Sciatic nerve) ہی ہوتا ہے جو کہ کمر یا ریڑھ کی ہڈی کے مہروں میں دب جاتا ہے یعنی کہ کمر یا ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوتے ہیں اور اس کی اطراف میں اعصابی نظام موجود ہوتا ہے جب ان مہروں کے اندر بگاڑ پیدا ہوجائے مطلب جو مہرے ہیں (Disks) جب یہ اپنی جگہ سے ہٹ جائے، باہر نکل آئے یا پھر یہ مہرے کمزور ہوکر پتلے ہوجائے (Stenosis) تو ان مسائل کی وجہ سے یہاں موجود اعصاب دب جاتے ہیں یعنی کہ یہاں موجود (Sciatic nerve)جو کہ ٹانگ تک جاتا ہے اس کے دبنے سے عرق النساء کا مرض پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے پوری ٹانگ میں درد پھیل جاتا ہے۔
عرق النساء کی علامات کافی شدت سے پیدا ہوتی ہیں یعنی درد کمر سے شروع ہوکرکولہے سے ہوتے ہوئے پوری ٹانگ میں پھیل جاتا ہے۔
درد کی شدت اس قدر ہوتی ہے کہ مریض نہ بیٹھ سکتا ہے نہ چل سکتا ہے بلکہ مسلسل اذیت کا شکار ہوتا ہے۔ اس کا درد عموماً ایک ٹانگ میں ہوتا ہے لیکن بعض اوقات دونوں میں بھی ہوسکتا ہے اس کے ساتھ بے چینی، ٹانگ کی کمزوری، سن ہوجانا یا بھاری پن پیدا ہونا یعنی متاثرہ ٹانگ مفلوج ہوکر رہ جاتی ہے۔
اس کی وجوہات میں عام طور پرکسی جگہ سے گرجانا، ٹکر لگ جانا، زیادہ بیٹھنے کی وجہ سے مہروں کی خرابی، موٹاپہ یا شدید قبض کی وجہ سے مہروں پر دباؤ، عورتوں میں بچہ جننے کے بعد مہروں کا ڈھیلا پن یا دیگر مسائل جن کی وجہ سے مہروں کے درمیان کا وقفہ ختم ہوجائے، اپنی جگہ سے ہل جانا یا پھر مہروں کی خرابی (Degeneration) وغیرہ پیدا ہوجائے۔ جس کی وجہ سے (Sciatic nerve)ان مہروں کے درمیان عصب دب جاتا ہے یا پھنس جاتا ہے اور اس طرح سے پوری ٹانگ میں درد پھیل جاتا ہے کیونکہ یہ عصب ٹانگ تک پھیلا ہوا ہوتا ہے جو کہ جسم میں سب سے بڑا عصب مانا جاتا
عرق النساء کی تشخیص عام طور پر طبعی معائنے کے دوران ہی علامات کی مدد سے ممکن ہے بعض اوقات جب مہروں میں بگاڑ زیادہ ہو تو تب ایکسرے، سی۔ ٹی۔ سکین۔، ایم۔ آر۔ آئی۔ وغیرہ کا سہارہ لیا جاتا ہے۔
ایلوپیتھک ادویات میں دردکش ادویات کے ساتھ ساتھ پٹھوں اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے کے لیے کیلشیم اور دیگر ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے ۔جن میں سوزشی ادویات (Anti Inflammatory)، پٹھوں کو آرام دینے والی ادویات، ٹرائیکلک اینٹی ڈیپریسنٹس(Tricyclic Antidepressants) اور درد کش وغیرہ جیسی ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جب شدت زیادہ ہو تو کمر میں سٹیرائیڈ (Steroids)کا ٹیکہ لگایا جاتا ہے اس کے علاوہ آج کل عام طور پر سرجری تجویز کی جاتی ہے لیکن ان مریضوں کو سرجری کے بعد مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کی وجہ سے عام طور پر لوگ اس سے کتراتے ہیں۔اس کے علاوہ فیزیوتھراپی کا سہارہ لیا جاتا ہے جس میں مختلف قسم کی ورزشوں کے ذریعے مہروں کے بگاڑ کو درست کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس میں کوئی شک نہیں کہ یہ طریقہ کسی حد تک فائدہ مند ہے لیکن ہونا یہ چاہیے کہ جس وجہ سے مہروں کے اندر بگاڑ پیدا ہوا ہے اس وجہ کو دور کیا جائے۔
متبادل ادویات میں ہومیوپیتھک ادویات کا استعمال بھی کیا جاتا ہے جس میں مختلف ادویات کا حسب ضرورت استعمال کیا جاتا ہے یعنی کہ عرق النساء یا مہروں کی خرابی کی وجوہات کو دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جس میں عام طور پر جو ادویات استعمال کی جاتی ہیں وہ یہ ہیں Rhus tox, Colocynthis, Mag phos, Gnaphalium, Syphlinium, Amm mur, Bryonia, Ruta, Arnica, Belladonna وغیرہ، یعنی ایسی بے شمار ادویات موجود ہیں جو کہ مختلف وجوہات اور علامات کو مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کی جاتی ہیں جس سے نہ صرف عرق النساء کو ٹھیک کیا جاتا ہے بلکہ مزید مہروں کی خرابی کو بھی روکا جاتا ہے۔
WhatsApp 03708500084