Dr Khurram Shahzad's Bismillah Clinic

Dr Khurram Shahzad's Bismillah Clinic Senior Family Physician 's Medical services

20/10/2025
تیز بخارجوڑوں میں درد متلی شدید سر دردجلد پر خارشکہیں آپ ڈینگی کا شکار تو نہیں ہو گئے ۔
26/09/2025

تیز بخار
جوڑوں میں درد
متلی
شدید سر درد
جلد پر خارش

کہیں آپ ڈینگی کا شکار تو نہیں ہو گئے ۔

انڈے کھانے کے بارے میں عام غلط فہمیاں اور حقائق  انڈے گرمی پیدا کرتے ہیں🥚ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ روزانہ ا...
07/09/2025

انڈے کھانے کے بارے میں عام غلط فہمیاں اور حقائق

انڈے گرمی پیدا کرتے ہیں🥚

ہمارے معاشرے میں یہ غلط فہمی عام ہے کہ روزانہ انڈہ کھانے سے "گرمی" ہوجاتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ انڈہ پروٹین سے بھرپور غذا ہے، اور ہر شخص کو اپنے وزن کے مطابق فی کلو 0.8 گرام پروٹین روزانہ چاہیے۔ ایک انڈہ اس ضرورت کا تقریباً آدھا حصہ پورا کر دیتا ہے، جو کہ بالکل نارمل اور صحت بخش عمل ہے۔
اس کے برعکس، لوگ شوق سے تیل میں تلا ہوا سموسہ کھاتے ہیں جو فیٹس سے بھرپور ہوتا ہے اور موٹاپے سمیت کئی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لیکن چونکہ "سموسے" کو صحت کے نقصان دہ اثرات کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا، لوگ اسے ترجیح دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک انڈہ، ایک سموسے سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہے۔

دیسی انڈہ، ولایتی انڈے سے بہتر ہے🥚

انڈے کے خ*ل کی رنگت (براؤن یا سفید) کا تعلق مرغی کی نسل اور رنگت سے ہے، نہ کہ غذائیت سے۔ تحقیق یہ ثابت کر چکی ہے کہ دیسی اور ولایتی انڈے غذائی اعتبار سے برابر ہیں۔ یہ صرف ایک نفسیاتی دھوکہ ہے کہ دیسی انڈہ زیادہ طاقتور ہے۔

انڈے کھانے سے کولیسٹرول بڑھتا ہے🥚

یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے۔ دراصل کولیسٹرول کا تعلق انڈے سے زیادہ فیٹس کی اقسام سے ہے۔ گھی یا تیل میں موجود ٹرانس اور سیچوریٹڈ فیٹس کولیسٹرول بڑھاتے ہیں، جبکہ انڈوں میں یہ نہ ہونے کے برابر ہیں۔
لہٰذا انڈے کا کولیسٹرول دل کی بیماریوں کا باعث نہیں بنتا۔

انڈے کی زردی نقصان دہ ہے🥚

اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ زردی فیٹس کی وجہ سے نقصان دہ ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زردی میں موجود اومیگا تھری فیٹی ایسڈز، وٹامن بی اور دیگر منرلز جلد کو چمکدار بناتے ہیں، سوزش سے بچاتے ہیں اور جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔
لہٰذا زردی کھانا بالکل فائدہ مند ہے۔

روزانہ انڈے کھانا نقصان دہ ہے🥚

جیسا کہ بتایا گیا، جسم کو روزانہ تقریباً 30 گرام پروٹین چاہیے۔ ایک انڈہ تقریباً 10 سے 15 گرام پروٹین فراہم کرتا ہے، جو بچوں اور بڑوں کی پروٹین کی بڑی ضرورت پوری کر دیتا ہے۔
انڈے میں موجود وٹامنز، منرلز اور اومیگا تھری ہمیں توانا اور صحت مند رکھتے ہیں۔ اس لیے ایک یا دو انڈے روزانہ کھانا بالکل محفوظ ہے۔

کچا انڈہ زیادہ طاقتور ہے🥚

یہ بالکل غلط ہے۔ کچے انڈے میں اکثر سالمونیلا بیکٹیریا موجود ہوتا ہے جو خطرناک بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔ لہٰذا کچے انڈے پینے سے طاقت نہیں ملتی بلکہ بیمار ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

یاد رکھیں

روزانہ ایک یا دو انڈے کھانا صحت کے لیے فائدہ مند ہے۔

انڈے نہ "گرمی" پیدا کرتے ہیں اور نہ ہی یرقان کا باعث بنتے ہیں۔

اصل انتخاب یہ ہے کہ آپ پرانی غلط فہمیوں کے ساتھ جیتے ہیں یا پھر سچائی کو اپنا کر ایک صحت مند زندگی گزارتے ہیں۔

انڈے دراصل قدرت کی طرف سے ایک مکمل اور سستی غذا ہیں جو بچوں اور بڑوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہیں۔

بے شک انسان خسارے میں ہےبچپن میں جب مجھے پہلی مرتبہ سائیکل ملی تھی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، مجھے یوں لگتا ت...
31/08/2025

بے شک انسان خسارے میں ہے

بچپن میں جب مجھے پہلی مرتبہ سائیکل ملی تھی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، مجھے یوں لگتا تھا کہ میں دنیا کے اُن چند خوش نصیبوں میں سے ایک ہوں جو اپنی ذاتی سواری کے مالک ہیں۔ اُن دنوں اسکول آنے جانے کے لیے میری ماں نے ہمارے لیے وین لگوائی ہوئی تھی، میں نے وین والے ’انکل‘ سے کہا کہ کاش مجھے سائیکل پر اسکول جانے کی اجازت مل جائے، اِس پر انکل نے جو جواب دیا وہ آج بھی مجھے یاد ہے: ’’جو بچے سائیکل پر اسکول جاتے ہیں اُن کی خواہش ہے کہ وہ وین پر جائیں اور تم کہہ رہے ہو کہ تم نے سائیکل پر جانا ہے!‘‘ اسکول کے بعد کالج شروع ہو گیا، میٹرک میں اتفاق سے اچھے نمبر آ گئے تو والد صاحب نے مجھے موٹر سائیکل لے دی اور وہ بھی 125، جو اُس زمانے میں عیاشی کی معراج سمجھی جاتی تھی، پھر تو مجھے یوں لگا جیسے کسی خزانے کی کُنجی میرے ہاتھ لگ گئی ہو، دن رات میں اُس موٹر سائیکل کو اڑاتا پھرتا تھا۔ اُس موٹر سائیکل کے بعد چھوٹی سی گاڑی ملی، پھر بڑی گاڑی، پھر گاڑی بمع ڈرائیور۔۔۔ہر مرحلے پر یوں لگتا تھا جیسے دنیا میں اِس سے بڑی خوشی پانا ممکن نہیں، مگر پھر کچھ عرصے بعد خوشی کی وہ سطح برقرار نہیں رہتی تھی اور میں ’نارمل‘ ہو جاتا تھا۔ جس بات کو میں نے سادہ الفاظ میں بیان کیا ہے، ماہرین نفسیات نے اِس کا ایک مشکل سا نام رکھا ہوا ہے، اسے وہ Hedonic Treadmill کہتے ہیں، اردو میں اِس کے لیے قریب ترین ترکیب لذت پرستی کی ٹریڈمل ہو سکتی ہے۔

ہیڈونک ٹریڈمل کا تصور بتاتا ہے کہ ہر انسان کی ایک ’’بیس لائن’‘ ہوتی ہے اور جلد یا بدیر ہر انسان اُسی بنیادی سطح پر واپس آجاتا ہے جس سطح سے وہ خوشی کے مارے اوپر اٹھا ہوتا ہے یا کسی غم کی وجہ سے نیچے گرا ہوتا ہے۔ آپ لاٹری جیت لیں یا برسوں پرانے تعلق کا یکایک بریک اپ ہو جائے، وقت کے ساتھ آپ کی کیفیت دوبارہ اسی بنیادی سطح پر واپس آ جائے گی۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آپ ٹریڈمل پر دوڑتے تو ہیں مگر اصل میں ایک بنیادی سطح پر ہی ٹھہرے رہتے ہیں۔ اصل میں ہم انسانوں کی خواہشات وقت کے ساتھ بڑھتی اور تبدیل ہوتی رہتی ہیں، جیسے ہی ایک خواہش پوری ہوتی ہے اُس کے ساتھ ہی دوسری جنم لے لیتی ہے بلکہ بعض اوقات تو اُس سے بھی پہلے۔ آپ ایک نیا مکان بنا لیں، اپنی مرضی کی نوکری حاصل کر لیں، اپنی پسند کی گاڑی خرید لیں، کچھ عرصے بعد آپ بہرحال نارمل ہو جائیں گے، بلکہ عین ممکن ہے کہ دوسروں کو دیکھ کر آپ کی خوشی کا گراف نیچے آ جائے کیونکہ ہم اپنا تقابل ہمعصروں کے ساتھ کرکے ناخوش ہوتے ہیں۔ آپ جیسا چاہے مکان بنا لیں، جیسی بھی گاڑی خرید لیں اور جتنی بھی اچھی نوکری تلاش کر لیں، دنیا میں اُس سے بھی اعلیٰ مکان، گاڑی اور نوکری رہے گی اور یوں یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہو گا۔ فاسٹ فیشن انڈسٹری بھی انسان کی اسی نفسیات کو مدنظر رکھ کر کام کرتی ہے، ہر ہفتے نئے ڈیزائن، رعایتی قیمتیں، نام نہاد سیل۔ آج دنیا تباہی کے دہانے پر اِس فاسٹ فیشن کی وجہ سے ہے، ہم شاپنگ کرکے وقتی خوشی محسوس کرتے ہیں، کپڑوں کی ایک گٹھڑی بھر کر خرید لاتے ہیں، چند دنوں کے لیے خوش ہوتے ہیں اور پھر انسٹاگرام پر کوئی اور ڈیزائن پسند آ جاتا ہے اور ہم اُس کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ ایک سوتی قمیض یا جینز بنانے میں ہزاروں گیلن پانی استعمال ہوتا ہے، فاسٹ فیشن کی وجہ سے کپڑے بہت جلد ضائع کر دیے جاتے ہیں، ہر سیکنڈ میں ٹیکسٹائل کا ایک ٹرک یا تو جلایا جاتا ہے یا لینڈ فِل میں پھینک دیا جاتا ہے۔

دنیا میں محبت سے زیادہ کسی موضوع پر نہیں لکھا گیا، شاعری، آرٹ، مصوری، ڈرامہ، موسیقی، سب کچھ محبت کے گرد ہی گھومتا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہیڈونک ٹریڈمل کا تصور محبت پر بھی لاگو ہوتا ہے؟ محبوب کو پا لینے کے بعد جو خوشی محسوس ہوتی ہے کیا وہ بھی وقتی ہوتی ہے اور کیا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عاشق واپس اپنی بیس لائن پر آ جاتا ہے؟ مجھے لگتا ہے کہ اِس سوال کا جواب تلاش کرنا مشکل ہے، اگر کوئی کہے کہ وصل کی پہلی رات والی کیفیت بیس برس بعد بھی برقرار رہے گی تو یہ قرین قیاس نہیں ہوگا البتہ محبوب کی قربت خوشی کا باعث ضرور بنے گی۔ اوائل محبت میں عاشق اور محبوب جو معیار قائم کر دیتے ہیں (انگریزی میں اسے to set the bar کہتے ہیں) لا محالہ وہ معیار کچھ عرصے بعد نارمل ہو جاتا ہے کیونکہ ہر کھانے میں ایک دوسرے کو نوالے توڑ کر دینا ممکن نہیں رہتا مگر اِس خوشی کا گھر یا گاڑی جیسی مادی خوشی سے موازنا کرنا بھی مناسب نہیں، گاڑی آپ نئی بھی خرید سکتے ہیں، محبوب نیا تلاش کرنا آسان نہیں۔ اور پھر محبت میں ایک پچھتاوے کا پہلو بھی ہمیشہ رہتا ہے، نوکری چلی جائے تو اُس سے بہتر نوکری مل سکتی ہے، لیکن اگر محبوب چھِن جائے تو وہ پچھتاوا تا دیر پیچھا کرتا ہے۔ زندگی میں پچھتاوے کم سے کم ہونے چاہئیں۔

کیا ہیڈونک ٹریڈمل کا کوئی علاج بھی ہے؟ یک لفظی جواب ہے، نہیں۔ یہ لطیف نکتہ مہاتما بدھ نے اڑھائی ہزار سال پہلے سمجھا دیا تھا کہ زندگی میں دکھ اور بےسکونی لازمی ہیں چاہے وہ بڑھاپا ہو، بیماری ہو، جدائی ہو یا ناآسودہ خواہشات۔ اِس دکھ کا سبب ’’تَرشْنَا‘‘ یعنی خواہش اور لالچ ہے، انسان زیادہ مال و دولت، طاقت، محبت یا شہرت چاہتا ہے، مگر جب یہ چھن جائے یا محض اِس کے کھو جانے کا خوف ہی پیدا ہو جائے تو انسان کی خوشی کافور ہو جاتی ہے۔ انسان کی خواہشیں لامحدود ہیں، ایک پوری ہو تو دوسری پیدا ہو جاتی ہے، مہاتما بدھ کا کہنا تھا کہ اگر خواہش اور لالچ کو چھوڑ دیا جائے تو دکھ کا خاتمہ ممکن ہے، اِس کیفیت کو نروان کہا جاتا ہے جہاں سکون اور حقیقی خوشی حاصل ہوتی ہے۔ مصیبت یہ ہے کہ ’چھُٹتی نہیں ہے منہ سے یہ کافر لگی ہوئی‘۔ مہاتما بدھ کا نروان کا تصور روحانیت سے کسی حد تک ملتا جلتا ہے، روحانیت میں بھی معرفت کا ایک مقام آتا ہے جہاں بندہ ہر مادی غیر مادی شے سے بیگانہ اور ماورا ہو جاتا ہے۔ جس طرح معرفت پانے کے طریقے ہیں اسی طرح نروان حاصل کرنے کے بھی اصول ہیں مگر یہ سفر بے حد کٹھن ہے اور عام انسانوں کے لیے یہ اِس قدر غیر متوقع ہو سکتا ہے کہ عین ممکن ہے کہ آخر میں سوائے ناامیدی اور مایوسی کے کچھ ہاتھ نہ آئے۔ بے شک انسان خسارے میں ہے۔

Yasir Peerzada

08/06/2025

چائے ۔۔۔

شوگر کے مریضوں کے لئے صحت افزا پھل ۔۔
28/03/2025

شوگر کے مریضوں کے لئے صحت افزا پھل ۔۔

شوگر ، انسولین ، ورزش ، خوراک                        ‐‐‐------------------ جو کھانا ہم کھاتے ہیں اس میں سے زیادہ تر ہمار...
24/03/2025

شوگر ، انسولین ، ورزش ، خوراک
‐‐‐------------------
جو کھانا ہم کھاتے ہیں اس میں سے زیادہ تر ہمارے نظام انہضام کی چھوٹی انت میں ہضم ہوتا ہے اور وہیں سے ہمارے خون میں جذب ہوتا ہے۔ ہماری چھوٹی انت سے منسلک ایک خاص خون کی نالی ہوتی ہے جو خون کو چھوٹی انت سے جگر میں لے کر جاتی ہے، یعنی ہماری چھوٹی انت سے خوراک ہضم ہونے کے بعد خون میں جذب ہوتی ہے اور یہ خون (بما خوراک) اس نالی کے ذریعے جگر میں آجاتا ہے، اس نالی کو ہم 'ہیپیٹک پورٹل وین" (hepatic portal vein ) کہتے ہیں۔

لیکن خوراک کے ساتھ ایک اور چیز جو اس پورٹل وین کے ذریعے ڈائریکٹ جگر میں آتی ہے وہ ہے "انسولین"۔ یعنی ہمارا لبلبہ جو انسولین خارج کرتا ہے وہ بھی اس پورٹل وین میں ہی کرتا ہے۔

اس وجہ سے جگر کو سب سے پہلے اور سب سے زیادہ انسولین ملتی ہے اور جگر تقریباً 50 سے 80 فیصد تک انسولین استعمال کرتا ہے۔ تو جگر اتنی انسولین کا کیا کرتا ہے ؟ دیکھیں جگر میں گلوکوز کے داخلے کے لئے انسولین کی ضرورت نہیں ہوتی، لیکن داخلے کے بعد اس گلوکوز کو سٹور کرنے کے لیے انسولین چاہیے ہوتی ہے۔ انسولین جگر سے کہتی ہے کہ اس گلوکوز کو سٹور کرو (گلائیکوجن کی صورت میں) اور اگر مزید گلوکوز آئے تو اسے "فیٹ" یعنی چربی میں بدل دو۔ انسولین جگر سے مزید کہتی ہے کہ ہمارے پاس گلوکوز موجود ہے، اس لیے گلوکوز کو بطور توانائی کا ذریعہ استعمال کرو ، نہ کہ فیٹ/چربی سے توانائی بنانے لگ جاؤ۔

تو جگر نے بڑی مقدار میں انسولین لے لی، اس کے بعد جو انسولین بچتی ہے وہ جگر سے ہوکر باقی جسم کے لیے خون میں آجاتی ہے۔ تو باقی جسم کو انسولین کی ضرورت کہاں ہے؟ ہمارے دو طرح کے جسمانی حصوں کو اس انسولین کی ضرورت ہے۔ جن میں سے پہلے ہیں ہمارے "پٹھے"۔ انسولین پٹھوں میں گلوکوز کو داخل کرواتی ہے تاکہ پٹھوں کو توانائی ملتی رہے اور وہ گلوکوز کو سٹور بھی کریں۔

دوسرا اہم جسمانی حصہ جہاں انسولین کام آتی ہے وہ ہے ہمارے "چربی/فیٹ سٹور کرنے والے خلیے یا ٹشو" جو ہماری جلد کے نیچے موجود ہوتے ہیں۔

ان چربی سٹور کرنے والے ٹشوز کو انسولین کہتی ہے کہ آپ نے تین کام کرنے ہیں؛ پہلا کام تو یہ کہ خوراک سے جو چربی/فیٹ آ رہی ہے، اسے سٹور کرو، اور دوسرا جو فیٹ جگر گلوکوز سے بنا رہا ہے اسے بھی سٹور کرو، اور تیسرا کام یہ کرو کہ جب تک میں (یعنی انسولین) خون میں موجود ہوں، تب تک تم نے اپنا سٹور کردہ فیٹ واپس خارج نہیں کرنا۔ فیٹ سٹور کرنے کے ان ٹشوز کو گلوکوز کی ضرورت ہوتی ہے سو انسولین ان ٹشوز میں گلوکوز بھی داخل کرواتی ہے۔

تو اس سب سے کیا ہوتا ہے ؟ فرض کریں آپ نے خوراک میں گلوکوز اور فیٹ لیا۔ جو آپکی پورٹل وین کے ذریعے جگر میں جا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی لبلبے سے انسولین بھی جا رہی ہے۔ جب سب چیزیں جگر میں پہنچ گئیں تو انسولین جگر سے کہتی ہے کہ اضافی گلوکوز کو پکڑو اور سٹور کرو، اور کیونکہ ابھی جسم میں گلوکوز کا اچھا لیول موجود ہے اس لیے ابھی اسے ہی بطور توانائی استعمال کرواؤ، نہ کہ کسی قسم کی چربی کو توڑو اور اس سے توانائی بناؤ۔

پھر جگر سے بچی ہوئی انسولین چربی سٹور کرنے والے ٹشوز کے پاس جاکر کہتی ہے کہ خوراک اور جگر کے ذریعے جو چربی آئی ہے، اسے سٹور کرو، اور اسے سٹور کرنے کے لیے بھی تمہیں گلوکوز کی ضرورت ہے تو یہ لو میں تمہارے اندر گلوکوز بھی داخل کروا دیتی ہوں۔ لیکن تم جو چربی بناؤ گے، اسے جسم میں خارج نہیں کرنا، یا جگر کو نہیں دینا کیونکہ ابھی جسم میں گلوکوز کا اچھا لیول موجود ہے اور ہم اسے توانائی کے لیے استعمال کریں گے۔

یہ نظام بھی صحیح ہے، اس سے گلوکوز اور چربی دونوں کا لیول خون میں کم ہوتا ہے۔ نیز عام صحت مند انسان میں اس نظام میں توازن ہوتا ہے، جیسے جب گلوکوز موجود ہے تو انسولین کا لیول بھی زیادہ ہوتا ہے سو گلوکوز کو استعمال کرلیا جاتا ہے اور کچھ کو سٹور کر لیا جاتا ہے، ساتھ ہی چربی کو بھی سٹور کرلیا جاتا ہے۔ مگر گلوکوز کی غیر موجودگی میں انسولین کا لیول کا بھی کم ہوجاتا ہے اور پھر سٹور شدہ گلوکوز اور چربی جسم کو توانائی دیتی ہے۔

البتہ شوگر (قسم 1) کے مریض میں انسولین کی کمی ہوجاتی ہے۔ تو شوگر کا مریض باہر سے انسولین لیتا ہے۔ لیکن یہاں پر مسلہ یہ ہوتا ہے کہ انسولین کا انجیکشن جلد سے ہوتے ہوئے خون میں انسولین شامل کرتا ہے، نہ کہ نظام انہضام اور جگر کے درمیان موجود پورٹل وین میں۔

تو اس سے کیا ہوتا ہے ؟ اس سے جگر کو انسولین اس سے کم مقدار میں ملتی ہے جتنی نارمل ملتی ہے، جبکہ چربی سٹور کرنے والے خلیوں کو زیادہ انسولین ملتی ہے۔

تو اب جگر بیچارہ گلوکوز کو کم سٹور کرے گا، بلکہ جگر چربی وغیرہ کو استعمال کرتے ہوئے اس سے بھی گلوکوز بنانے لگ جائے گا، کیونکہ اب جگر کو سمجھانا اور روکنے والی انسولین کی مقدار کم ہے۔

جبکہ چربی سٹور کرنے والے ٹشوز کو زیادہ انسولین مل رہی ہے تو وہ زیادہ چربی سٹور کرنے لگ جائیں گے، جس سے جلد کے نیچے چربی جمع ہونے لگ جائے گی، یعنی انسان موٹا ہو جائے گا۔ اسی لیے انسولین استعمال کرنے والے اکثر مریضوں میں موٹاپا سامنے آتا ہے۔

اب جگر تو پاگل ہوکر چربی سے گلوکوز بنانے لگا ہوا ہے، جس سے خون میں گلوکوز کا لیول بھی بڑھ جاتا ہے۔ لیکن اسے یہ چربی تو چربی سٹور کرنے والے ٹشوز سے ہی ملے گی۔ مگر وہ ٹشوز تو زیادہ انسولین کی وجہ سے چربی دینے سے انکار کریں گے، کیونکہ انسولین ان سے یہی کروائے گی۔

نتیجتاً جگر چربی کے لیے تڑپے گا، مگر جب چربی سٹور کرنے والے ٹشوز کافی زیادہ چربی سٹور کرلیتے ہیں تو یہ کچھ ایسے کیمکل خارج کرنے لگتے ہیں جو انسولین کی کارکردگی کو کم کردیتے ہیں، یعنی انسولین resistance پیدا کرتے ہیں۔ گویا کہ اب مریض کی انسولین کی ضرورت اور بڑھ گئی۔ یعنی نقصان در نقصان۔

تو اس سب سے بچا کیسے جائے ؟ کوئی بھی دوائی دیرپا طور پر فائدہ نہیں دے سکتی۔ بچنے کا راستہ ہے کہ خوراک میں پرہیز کی جائے، کم فیٹ اور کم چینی کھائی جائے، ورزش کرکے فیٹ اور گلوکوز کو سٹور کرنے کی بجائے استعمال کیا جائے۔

دمہ / پھیپھڑوں / نظام تنفس کے امراض میں مبتلا مریض جو کہ انہیلر اسپیسر کے ساتھ  استعمال کرتے ہیں ، کے لئے انہیلر اسپیسر ...
13/11/2024

دمہ / پھیپھڑوں / نظام تنفس کے امراض میں مبتلا مریض جو کہ انہیلر اسپیسر کے ساتھ استعمال کرتے ہیں ، کے لئے انہیلر اسپیسر کے ساتھ استعمال کرنے کا موزوں طریقہ ۔۔۔

Courtesy Chiesi

چکن گونیا بخار  ۔۔۔۔۔
13/10/2024

چکن گونیا بخار ۔۔۔۔۔

Address

Mianwali
42200

Opening Hours

Monday 16:00 - 20:00
Tuesday 16:00 - 20:00
Wednesday 16:00 - 20:00
Thursday 16:00 - 20:00
Friday 16:00 - 20:00
Saturday 16:00 - 20:00

Telephone

+923343959292

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dr Khurram Shahzad's Bismillah Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

Category