Urology Wellness Clinic

Urology Wellness Clinic Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Urology Wellness Clinic, Urologist, Mianwali.

خدیجہ ہسپتال جرنیلی روڈ چشمہ میانوالی سابق رجسٹرار یورالوجی اینڈ رینل ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ،سروسزہسپتال،لاہورڈاکٹر بلال ...
21/04/2026

خدیجہ ہسپتال جرنیلی روڈ چشمہ میانوالی
سابق رجسٹرار یورالوجی اینڈ رینل ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ،سروسزہسپتال،لاہور
ڈاکٹر بلال اکرام خان
ایم-بی-بی-ایس، (ایم-ایس یورالوجی)
کنسلٹنٹ یورالوجسٹ ڈی-ایچ-کیو ہسپتال میانوالی

- گردہ
- مثانہ
- گردہ،مثانہ کی رسولی
- گردہ،مثانہ کی پتھری
- ڈائیلاسسز کے لیے اے وی فسٹیولا
- پیشاب کی انفیکشن
ـ وریکوسیل
- بانچھ پن / مردانہ کمزوری
- غدود
امراض کی تشخیص ،علاج و آپریشن کیلئے تشریف لائیں
اتوار شام 3:00 بجے سے شام 6:00 تک OPDکریں گے

خدیجہ ہسپتال جرنیلی روڈ چشمہ میانوالی
0312 2744490
0306 8657531








#میانوالی transplant

20/04/2026
لیزر، کیمرہ اور کٹ والے آپریشنسائنسی ترقی کا دور ہے ۔ مغربی ممالک نے انسانیت کی فلاح اور فائدے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوج...
18/04/2026

لیزر، کیمرہ اور کٹ والے آپریشن

سائنسی ترقی کا دور ہے ۔ مغربی ممالک نے انسانیت کی فلاح اور فائدے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی اور طریقہ علاج متعارف کروایا ہے۔ کلینک میں آ نے والے مریض عموماً اس غلط فہمی کا شکار ہوتے ہیں کہ کیمرہ اور لیزر کا طریقہ علاج مریض کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔

کیمرہ اور لیزر طریقہ علاج کے مندرجہ ذیل فوائد ہیں:-

1) آ پریشن کے بعد درد میں کمی۔
2) آ پریشن کے دوران خون کم سے کم ضائع ہوتا ہے۔
3) چوبیس گھنٹوں میں مریض اپنے روزمرہ کے معاملات سر انجام دے سکتا ہے۔
4) کم سے کم ٹانکے ، انفیکشن میں کمی ، اور زخم کی خرابی سے مریض محفوظ رہتا ہے۔

اپنے مرض کے علاج کے لیے اسپیشلسٹ ڈاکٹر سے رجوع کریں ۔ غیر مستند افراد اور عطائی معالج سے دور رہیں۔ اپنی قیمتی صحت کی حفاظت کریں اور سنی سنائی باتوں پر کان نہ دھریں۔

ویریکوسیل کا علاج کیسے ممکن ہے؟مرد میں بانجھ پنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ویریکوسیل (Varicocele)بھی ایک عام وج...
16/04/2026

ویریکوسیل کا علاج کیسے ممکن ہے؟

مرد میں بانجھ پنے کی مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں ویریکوسیل (Varicocele)بھی ایک عام وجہ ہے جسے سمجھنے کے لیے پہلے مردانہ نظامِ تولید (Male Reproductive System)کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سکروٹم (Scrotum)یہ ایک تھیلی نما شکل کی ساخت ہے جو کہ ٹانگوں کے درمیان عضو تناسل (Pen*s)کے بالکل نیچے لگی ہوتی ہے جس میں دو بیضوی شکل کے غدود جسے خصیے (Te**es)کہتے ہیں پڑے ہوتے ہیں اور جن کا کام مادہ تولید کی پیدوار میں اضافہ اور ذخیرہ کرنا ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ تھیلی خصیوں کی حفاظت بھی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک اور نالی نما ساخت قابل ذکر ہے جس کا نام (Spermatic Cord)ہے جو کہ خصیوں میں جانے والی نالیوں، اعصاب، پٹھوں اور دوران خون وغیرہ کا مجموعہ ہے یعنی کہ یہ سب پتلی پتلی نالیاں جن میں ہر ایک کا کام مختلف ہوتا ہے اس بڑی نالی میں موجود ہوتی ہیں جن میں دوران خون کی نالیاں بھی شامل ہیں جس کے ذریعے خصیوں تک خون کے ساتھ ساتھ آکسیجن کی ترسیل بھی ہوتی رہتی ہے اور یوں خصیوں کی نشوونما سمیت مادہ تولید کی افزائش ہوتی رہتی ہے۔

جب اسی بڑی نالی میں موجودہ خون کی پتلی نالیوں میں سوجن واقع ہوجائے یعنی پھول جائیں (Vein Enlargement) ہوجائے تو اس وجہ سے یہاں کا خون واپس دوران خون میں شامل نہیں ہوپاتا ۔پس اس صورتحال کو ویریکوسیل (Varicocele)کہا جاتا ہے جو کہ دونوں خصیوں میں ہوسکتا ہے لیکن زیادہ تر یہ بائیں طرف ہی ہوتا ہے۔اب جب ان خون کی نالیوں میں سوجن پیدا ہوگئی تو ظاہری بات ہے کہ ان میں دوران خون کی رفتار سست پڑ جاتی ہے جو کہ خصیوں (Te**es) کی نشوونما سمیت مادہ تولید(Sperm) کی افزائش میں رکاوٹ یا افزائش کی خرابی کا سبب بنتی ہے جس کی وجہ سے بانجھ پن پیدا ہوجاتا ہے۔
ویریکوسیل زیادہ تر بائیں طرف پیدا ہوتا ہے اور عموماً کچھ خاص علامات موجود نہیں ہوتی لیکن بعض اوقات یا کچھ لوگوں میں علامات سامنے آسکتی ہیں جن میں ہلکا یا شدید درد کا احساس جو کہ اُٹھنے بیٹھنے پر زیادہ محسوس ہوتا ہے، خصیوں کی تھیلی (Scrotum)میں بائیں طرف سوجن محسوس کی جاسکے یا خصیوں کی موٹائی میں فرق یعنی متاثرہ خصیہ چھوٹا نظر آناجیسی علامات کاسامنا ہوتا ہے۔

ویریکوسیل کی کوئی خاص وجہ تو تاحال معلوم نہ ہوسکی لیکن میڈیکل میں خیال کیا جاتا ہے کہ خصیوں کی تھیلی(Scrotum) میں موجود خون کی نالیوں میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے یہاں نظام دوران خون ٹھیک نہیں رہتا مطلب خصیوں میں سے خون واپس ہوکر خونی بہاؤ میں شامل نہیں ہوسکتا جس کی وجہ سے خصیوں کی تھیلی (Scrotum)میں واقع خون کی پتلی نالیاں سوج جاتی ہیں یعنی کہ بڑھ جاتی ہیں

(Vein Enlargement).اس کے علاوہ مریضوں میں مختلف وجوہات جن میں موروثیت، رہن سہن، موٹاپا سمیت دیگر وجوہات شامل ہوسکتی ہیں۔

عام طور پر روایتی ادویات میں اس کے علاج کے لیے کوئی دواء موجود نہیں ہے بلکہ اس کا واحد حل سرجری کو سمجھا جاتا ہے اور اس سے اس بیماری کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن سرجری کی کامیابی کی شرح بھی سو فیصد نہیں بلکہ یہ خدشہ ہوتا ہے کہ دیگر مسائل کے ساتھ (Varicocele)دوبارہ ہوجائے۔ البتہ خوردبینی سرجری (Microscopic Surgery)قابل تعریف ہے اور اس کی کامیابی کی شرح قدرے بہتر بھی ہے۔
رابطہ نمبر 03068657531

13/04/2026

ویریکوسیل کا علاج
سرجری کے اختیارات
1. خوردبینی سرجری (Microsurgical Varicocelectomy)
یہ سب سے بہتر طریقہ ہے۔ کامیابی کی شرح 90-95% تک ہے اور دوبارہ ہونے کا خطرہ بہت کم ہے۔
2. لیپروسکوپک سرجری
کم چیرا لگتا ہے، صحت یابی جلدی ہوتی ہے، لیکن خوردبینی سرجری سے قدرے کم بہتر۔
3. Percutaneous Embolization
یہ سرجری نہیں بلکہ ایک طریقہ کار ہے جس میں سوجی ہوئی نالی کو بند کیا جاتا ہے — بے ہوشی کی ضرورت نہیں۔
معاون علاج (Supportive Treatment)
سرجری کے ساتھ یا ہلکے درجے میں یہ چیزیں مددگار ہیں:
اینٹی آکسیڈنٹس — وٹامن C، E اور Coenzyme Q10 سپرم کے معیار کو بہتر کرتے ہیں
سکروٹل سپورٹ — خاص انڈرویئر پہننا درد کم کرتا ہے
وزن کم کرنا — موٹاپا علامات کو بڑھاتا ہے
گرمی سے بچاؤ — زیادہ گرم پانی سے غسل، تنگ کپڑوں سے پرہیز
کب سرجری ضروری ہے؟
بانجھ پن کی شکایت ہو
سپرم کا معیار خراب ہو
مسلسل درد ہو
خصیہ چھوٹا ہو رہا ہو
اہم بات
ہر مریض کی صورتحال مختلف ہوتی ہے، اس لیے یورولوجسٹ یا اینڈرولوجسٹ سے مشورہ ضروری ہے جو الٹراساؤنڈ اور سپرم ٹیسٹ کے بعد بہترین علاج تجویز کریں۔

عبید نور ہسپتال میانوالی سابق رجسٹرار یورالوجی اینڈ رینل ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ،سروسزہسپتال،لاہورڈاکٹر بلال اکرام خانایم-...
12/04/2026

عبید نور ہسپتال میانوالی
سابق رجسٹرار یورالوجی اینڈ رینل ٹرانسپلانٹ ڈیپارٹمنٹ ،سروسزہسپتال،لاہور
ڈاکٹر بلال اکرام خان
ایم-بی-بی-ایس، (ایم-ایس یورالوجی)
کنسلٹنٹ یورالوجسٹ ڈی-ایچ-کیو ہسپتال میانوالی

- گردہ
- مثانہ
- گردہ،مثانہ کی رسولی
- گردہ،مثانہ کی پتھری
- ڈائیلاسسز کے لیے اے وی فسٹیولا
- پیشاب کی انفیکشن
ـ وریکوسیل
- بانچھ پن / مردانہ کمزوری
- غدود
امراض کی تشخیص ،علاج و آپریشن کیلئے تشریف لائیں
روزانہ 3:00 بجے سے شام7:00 تک OPDکریں گے

عبید نور ہسپتال عبید نور روڈ میانوالی
0312 2744490
0306 8657531








#میانوالی transplant

سوموار تا جمعرات عبید نور ہسپتال  نزدگلبرگ چوک میانوالی۔ شام 3تا7بجے تکجمعہ مظہر ہسپتال ( ڈاکٹر یاسمین کلینک) لیاقت آباد...
15/06/2025

سوموار تا جمعرات عبید نور ہسپتال نزدگلبرگ چوک میانوالی۔ شام 3تا7بجے تک
جمعہ مظہر ہسپتال ( ڈاکٹر یاسمین کلینک) لیاقت آباد پپلاں۔ شام 3تا7بجے تک
ہفتہ مظہر ہسپتال سیٹلائٹ ٹاؤن نزد سول اسپتال قائد آباد۔ شام 3تا7بجے تک
اتوار مریم ہسپتال اسکندر آباد گلن خیل۔ صبح 11بجے سے 2 بجے تک

گردوں کے مختلف امراض میں سے ایک پتھری بن جانا ہے جو کافی عام ہے اور دنیا بھر میں ہر 11 میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں ...
14/06/2025

گردوں کے مختلف امراض میں سے ایک پتھری بن جانا ہے جو کافی عام ہے اور دنیا بھر میں ہر 11 میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں گردوں کی پتھری کا سامنا ہوتا ہے اور اگر آپ بھی ان میں سے ایک ہیں تو 50 فیصد امکانات اس بات کے ہیں کہ آپ کو ایک بار پھر اس عارضے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

گردوں میں پتھری ایک تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کا علاج بھی آسان نہیں ہوتا کیونکہ وہ دوبارہ بھی بن سکتی ہے۔

گردوں میں پتھری کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں جیسا پانی کم پینا، خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی، مخصوص غذائیں خاص طور پر زیادہ نمک اور کیلشیئم والے کھانے، موٹاپا، ذیابیطس، پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ۔

گردے کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور وہاں سے ان کا نکلنا کافی تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔

عام طور پر اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا، درد کش ادویات اور بہت زیادہ پانی پینا معمولی پتھری کو نکانے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیشاب کی نالی میں پھنس جائے یا پیچیدگیوں کا باعث بنے تو پھر سرجری کروانا پڑتی ہے۔

تاہم اس سے بچاﺅ کے لیے اگر لوگ غذائی عادات کا خیال رکھیں تو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔

برطانیہ کے محکمہ صحت این ایچ سی کی سفارشات کے مطابق صحت مند وزن کو برقرار رکھنا، غذا میں بہت زیادہ نمک سے گریز، پھلوں اور سبزیوں کا زیادہ استعمال اور دیگر مشروبات پر پانی کو ترجیح دینا پتھری سے بچاﺅ میں مدد دیتا ہے۔

Copied ”غلط انجکشن“پچھلے ہفتے جب میں اپنے ہسپتال کے وارڈ میں صبح راٶنڈ کر رہا تھا تو مجھے  پیچھے سےایک آواز آئی ”ڈاکٹر ص...
14/06/2025

Copied
”غلط انجکشن“
پچھلے ہفتے جب میں اپنے ہسپتال کے وارڈ میں صبح راٶنڈ کر رہا تھا تو مجھے پیچھے سےایک آواز آئی ”ڈاکٹر صاحب میرے بچے کو دیکھیں، نرس نے اسے انجکشن لگا دیا ہے“
یہ آواز ہمارے لیے ایمرجینسی کا پیغام ہوتی ہے۔
میں فورأاس بچے کے پاس پہنچا تو اس کی سانسیں رک رہی تھی،ہونٹ سیاہ ہورہے تھے اور ہاتھ پاؤں پیلے پڑ گئے تھے۔
فاٸل دیکھی توپتا چلا کہ اس مریض کو ابھی او پی ڈی سے ڈاٸریا کے مسلے سےداخل کیا گیا تھا۔
بچےکی ماں اور دادی کا فوری ردعمل یہ تھا کہ جناب ہمارا بچہ تو بالکل ٹھیک تھا، نرس نے ہمارے بچے کو غلط انجکشن لگا دیا ہے۔
انھوں نے چیخنا رونا اور پورے خاندان کو فون ملانا شروع کردیا ... مختلف کمروں سے مریض بھی وہاں جمع ہونا شروع ہو گئے اور ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔
الحمدللہ صورتحال فوری طور پر نمٹائی گئی، بچے کو تھوڑی دیر مصنوعی سانس دی گٸ کی گئی اور بچے کی حالت کے مطابق انجیکچشن لگاۓ گئے .. بچہ ٹھیک ہو گیا تو سب نے سکون کی سانس لی .

یہ وہ کہانی ہے جو زیادہ تر وقت غلط انجیکشن کی صورت میں ہوتی ہےجس کی ہم خبریں سنتے ہیں۔
اب عوام کے لیے تھوڑی سی تفصیل کہ یہ انجیکشن آخر کار غلط کیوں ہو جاتا ہے ؟؟
انسانی جسم کے اندر جب بھی باہر کی کوٸ چیز داخل ہوتی ہے تو جسم اسکو رد کر سکتا ہے۔اس ردعمل کوالرجی کہتے ہیں۔ یہ چیز کچھ بھی ہو سکتی ہے جیسے خوراک (انڈا,مچھلی)، دھواں گرد، ادویات جیسے شربت گولی یا انجیکشن۔
الرجی کسی بھی دواٸ کے انجیکشن سے ہو سکتی ہے اور زیادہ تر وقت اس کا پہلے سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ کچھ دوائیوں سے الرجی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے جیسے پینسلن اینٹی بائیوٹک یا سانپ کی ویکسین وغیرہ اس لیے انکو لگانے سے پہلے تھوڑی مقدار میں ٹیسٹ خوراک لگاٸ جاتی ہے اور پھر اسے شروع کرتے ہیں، لیکن زیادہ تر دوائیوں میں چونکہ الرجی کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے تو بغیر ٹیسٹ کے لگاٸ جاتی ہیں۔ بہرحال الرجی کا خطرہ پھر بھی رہتا ہے ۔
انجیکشن سے ہونے اولی الرجی کی نوعیت ہلکی خارش,بخار سے لے کر شدید رد عمل تک سکتی ہے جس میں سے دل کا رکنا، سانس کا بند ہونا اور موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔
عوام کے سمجھنے کے لیے اہم بات یہ ہے کہ عام طور پر ایمرجنسی یا وارڈ میں آنے والے زیادہ تر مریضوں کو وہی روٹین دوا دی جاتی ہے۔اب سب کو تو اس سے مسلہ نہیں ہورہا ہوتا ۔جسکو الرجی ہو گی اسکو مسلہ ہوگا ۔وہاں کام کرنے والے عملے کی کسی آنے والے مریض سے کوئی ذاتی دشمنی تونہیں ہوتی کہ وہ اسے غلط ٹیکہ لگا دے گا ۔ اگر وہی دوا دوسروں کے لیے ٹھیک کام کر رہی ہو اور الرجی ہو جائے تو یہ جسم کا ردعمل ہے جس کا اندازہ لگانا بہت مشکل ہے اور اس میں ڈاکٹر یا نرس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔
اب اگر خدانخواستہ یہ صورتحال آپ کے بچے کے ساتھ پیش آتی ہے تو کبھی بھی ہسپتال میں ہنگامہ آرائی شروع نہ کریں۔ اگر آپ براہ راست طبی عملے کو مورد الزام ٹھہرانا اور ہنگامہ شروع کر دیتے ہیں تو اس کا آپکے بچے کی جان پر اسکا اثر پڑے گا ۔ پہلے چند منٹ جو آپ کے بچے کی زندگی بچانے والے ہیں ضائع ہو جائیں گے۔ آپ اس ہنگامے سے کچھ نہیں حاصل کر پائیں گے بلکہ آپ کے بچے کا نقصان ہوگا۔
ہمیشہ اس صورت حال میں فوری طور پر اپنے ڈاکٹر کو بلاٸیں، انہیں اپنے بچے کی ابتدائی طبی امداد کرنے دیں۔
اگر آپ کو پھر بھی لگتا ہے کہ طبی عملے کی طرف سے کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو آپ مناسب چینل کے ذریعے درخواست دائر کر سکتے ہیں اور اس کا پیروی کر سکتے ہیں، لیکن اس زندگی بچانے والے ٹاٸم کے دوران وارڈ میں ہنگامہ آرائی کرنے سے مریض کی زندگی بچانے والے منٹ ہی ضائع ہوں گے جسکے دوران اس کی جان بچائی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹرارشد محمود (MBBS.FCPS)
چلڈرن ہسپتال لاہور ( copied)

آج بات کریں گے سب سے زیادہ ہونے والے انفیکشن    کی UTI - Urinary Tract Infection یورینری ٹریکٹ انفیکشن یا یو-ٹی-آئی کا م...
12/06/2025

آج بات کریں گے سب سے زیادہ ہونے والے انفیکشن کی
UTI - Urinary Tract Infection

یورینری ٹریکٹ انفیکشن یا یو-ٹی-آئی کا مطلب ہے مثانے اور پیشاب کی نالیوں سے گردوں تک کسی بھی حصے کا انفیکشن ۔

علامات:
- اچانک یا بار بار پیشاب آنا
- پیشاب کرتے وقت جلن یا درد محسود ہونا
- پیشاب کا گدلا یا بدبودار ہونا
- پیٹ کے نچلے حصے میں درد ہونا
- بیمار اور تھکا ہوا محسوس کرنا
- بڑی عمر کے افراد میں کنفیوژن یا الجھن محسوس کرنا
- ڈیمینشیا کے مریضوں میں یو-ٹی-آئی کی علامات پہچاننے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔

- کمر کے پیچھے اور سائیڈ
پر درد، تیز بخار ، کپکپی طاری ہونا، الٹی متلی یا ڈائیریا ہونا گردے کے انفیکشن کی علامات ہو سکتے ہیں ، جو گردے میں پتھری کے ساتھ یا پتھری کے بغیر بھی ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رابطہ کیا جائے؟

اگر آپ کو یا گھر میں کسی کو یو-ٹی-آئی کی علامات ہوں تو برائے مہربانی ڈاکٹر سے رابطہ کریں ۔
وہ آپ کو اینٹی بائوٹکس دیں گے اور ضرورت پڑنے پر ٹیسٹ بھی کریں گے، جن میں urine complete examination اور urine culture and sensitivity شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ اگر گردے مثانے کا الٹراساونڈ شامل ہیں۔

Address

Mianwali

Telephone

+923122744490

Website

Services

Specialties

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urology Wellness Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Urology Wellness Clinic:

Share

Category