04/01/2026
الحمدللہ ۔ الحمدللہ
آزاد کشمیر میں صحت کے شعبے اور فالج کے علاج میں تاریخی سنگ میل عبور کر لیا گیا۔
فالج کے مریضوں کے لیے انتہائی خوشی کی خبر۔
آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی بار فالج کا مریض فوراً صحتیاب ۔
اللہ پاک کے کرم سے مظفرآباد کے فالج کے مریض کو عمر بھر کی معذوری سے بچا لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ایک مریض محمد زمان جن کی عمر 52 سال ہے کو دو دن پہلے اچانک جسم کے دائیں حصے میں کمزوری محسوس ہوئی ، حرکت کرنا مشکل محسوس ہوا اور جسم کے دائیں حصے میں فالج کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں ۔
مریض کو فوراً علی میڈیکل انسٹیٹیوٹ مظفرآباد شفٹ کیا گیا جہاں پر ڈاکٹر ابرار سلیم چوہدری کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ اور انکی ٹیم موجود تھی۔ مریض کا فوراً دماغ کا ڈی ٹی اسکین کروایا گیا۔ دائیں طرف کے فالج Ischemic stroke یعنی دماغ کی رگوں میں خون کا لوتھڑا جمنے کی تشخیص کی گئی۔ جس پر ڈاکٹر ابرار سلیم چوہدری کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ (ماہر امراض دماغ و فالج) نے فوراً فالج کے جدید ترین علاج
Thrombolytic therapy
شروع کیا اور فالج ہونے کے چار گھنٹے کے اندر کا (Tenecteplase)
انجکشن لگایا گیا۔
مریض کو انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں بھرپور عالج معالجے کی سہولیات دی گئیں ۔ چوبیس گھنٹے کے اندر مریض میں بہتری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں اور الحمدللہ مریض فالج کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا۔ دربارہ ڈی ٹی اسکین کیا گیا تو دماغ کی رگوں میں خون کی روانی میں نمایاں بہتری آ چکی ہے اور مریض کی دائیں طرف کی جسمانی کمزوری میں واضح کمی ہو چکی ہے
یاد رہے یہ انجکشن فالج کی علامات ظاہر ہونے کے ساڑھے چار 4.5 گھنٹے کے اندر لگایا جا سکتا ہے اور صرف پاکستان کے بڑے سرکاری اور پرائیوٹ اسپتالوں میں دستیاب ہے ۔ لیکن آزاد کشمیر کے کسی بھی اسپتال میں یہ پہلی بار انجیکشن لگایا گیا ہے ۔ سرکاری اسپتالوں میں تاحال یہ سہولت دستیاب نہیں ہے ۔
اس کارنامے پر ڈاکٹر ابرار سلیم اور انکی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اور یہ خبر فالج کے مریضوں کے لیے حوصلہ افزا ہے جو علاج معالجے کی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔۔
ڈاکٹر ابرار سلیم کا تعلق حویلی آزاد کشمیر سے ہے۔ اے جے کے میڈیکل کالج مظفرآباد سے ایم بی بی ایس کیا اور ملڑی اسپتال راولپنڈی سے نیورولوجی
FCPS Neurology
میں کی ڈگری مکمل کر کے مظفرآباد عثمان پلازہ میں نیورو کیئر کلینک میں بطور کنسلٹنٹ نیورولوجسٹ خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی علی میڈیکل انسٹیٹیوٹ میں بھی مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں ۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت آزاد کشمیر سپورٹ کرے تو سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کے لیے اس سہولت کو مہیا کیا جا سکتا ہے جس سے ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں اور مریضوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچایا جا سکتا ہے۔