Desi Herbal Totkay

Desi Herbal Totkay This is an informative page. If any information is wrong please write to us.

26/03/2026

Lahore Qalandars vs Hyderabad Kingsmen

17/03/2026
کندھوں میں درد ہے باسکٹ بال کھیلیںفروزن شولڈر ہے تو باسکٹ بال کھیلیںگردن میں اکڑاؤ ہے تو باسکٹ بال کھیلیںکبھی کسی ماں کو...
15/03/2026

کندھوں میں درد ہے باسکٹ بال کھیلیں
فروزن شولڈر ہے تو باسکٹ بال کھیلیں
گردن میں اکڑاؤ ہے تو باسکٹ بال کھیلیں

کبھی کسی ماں کو دیکھا ہے کہ چند ماہ کے بچے
کو گود میں اٹھاتے ہی گردن اور کندھے میں درد شروع ہو جاتا ہے؟ کبھی کسی صاحب کو دیکھا ہے کہ قمیض پہننا مشکل ہو جاتا ہے، ہاتھ اوپر نہیں جاتا، یا ہاتھ جیب میں ڈالنے میں تکلیف ہوتی ہے؟ اکثر لوگ اسے فروزن شولڈر، گردن کا درد، بازو کی کمزوری یا کلائی اور کہنی کی تکلیف کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کو حرکت نہ ملے تو جوڑ آہستہ آہستہ اکڑنے لگتے ہیں۔ اس کا ایک نہایت سادہ اور دلچسپ حل ہے، اور وہ ہے باسکٹ بال کھیلنا۔ طریقہ بھی بہت آسان ہے۔ کسی سپورٹس کی دکان سے ایک باسکٹ اور ایک بال لے آئیے، یہ زیادہ مہنگی چیز نہیں۔ گھر کی کسی دیوار پر باسکٹ اس طرح لگائیے کہ شروع میں بہت اونچی نہ ہو، تقریباً چار یا پانچ فٹ کی بلندی پر۔ بہتر یہ ہے کہ دیوار میں پہلے ہی چند سوراخ مختلف اونچائیوں پر کر لیے جائیں تاکہ بعد میں باسکٹ آہستہ آہستہ اوپر کی جا سکے۔ شروع میں بس اتنا کیجیے کہ دن میں جب بھی فرصت ملے دو تین بال باسکٹ میں ڈال دیں۔ مثال کے طور پر چولہے پر ہنڈیا رکھی ہیں، ذرا سا وقفہ ملا تو جا کر دو بال پھینک دیں۔ کبھی صفائی کرتے ہوئے، کبھی بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، کبھی میاں بیوی دونوں مل کر۔ گھر میں ایک ایسی جگہ منتخب کر لیجیے جہاں بال اچھل کر کسی برتن یا قیمتی چیز کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہی چھوٹی سی حرکت آہستہ آہستہ ہاتھوں، کندھوں اور گردن کو دوبارہ حرکت دینے لگتی ہے۔

ہمارے ایک گروپ میں ایک خاتون نے یہی سادہ
سا طریقہ اختیار کیا۔ شروع میں وہ مشکل سے دو تین بال پھینکتی تھیں کیونکہ بازو میں درد تھا۔ لیکن چند ہفتوں میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ کندھے کی سختی کم ہونے لگی، بازو اوپر جانے لگا، اور گردن کا درد بھی کم ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ایک اچھی عادت بھی لگ گئی۔ وہ کہتی تھیں کہ اب چلتے پھرتے بھی دو تین بال پھینک لیتی ہوں۔ اس چھوٹے سے کھیل کے فائدے صرف ایک نہیں بلکہ کئی ہیں۔ کندھے، گردن، بازو، کلائی اور کہنی کے جوڑ حرکت میں آتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، جسم کی لچک بڑھتی ہے، دماغ کا فوکس بہتر ہوتا ہے کیونکہ بال کو نشانے پر ڈالنے کے لیے توجہ درکار ہوتی ہے، ذہنی تھکن کم ہوتی ہے، جسمانی سستی ختم ہوتی ہے، اور گھر کے افراد کے درمیان ایک خوشگوار سرگرمی بھی بن جاتی ہے۔ اسی لیے اگر اسکولوں میں دیوار پر ایک باسکٹ لگا دی جائے تو بچے اور اساتذہ دونوں وقفے وقفے سے چند بال پھینک سکتے ہیں۔ دفاتر میں بھی ایک کمرے میں لگا دیا جائے تو وہ لوگ جو گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں، ہر گھنٹے بعد اٹھ کر چند منٹ یہ کھیل کھیل لیں تو جسم میں جان آ جاتی ہے۔ اگر باسکٹ نہ مل سکے تو بچوں والی ہلکی ہوا بھری بال بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اصل مقصد ہاتھوں کو حرکت دینا ہے۔

البتہ ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے۔
اگر کسی کو بہت زیادہ درد ہو یا جسم کمزور ہو تو صرف ورزش کافی نہیں ہوتی۔ آج کل بہت سی ماؤں اور دفتری زندگی گزارنے والے لوگوں کے جسم میں بنیادی غذائی اجزاء کی کمی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو کبھی کبھار ٹیسٹ کرا کے دیکھ لینا چاہیے کہ وٹامن اے، بی کمپلیکس، سی، ڈی، ای، کے، میگنیشیم، زنک، کاپر اور دیگر معدنیات کی کمی تو نہیں۔ مناسب غذا، دھوپ، پانی اور ہلکی ورزش مل کر ہی اصل فائدہ دیتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ گھر کی ایک سادہ دیوار، ایک باسکٹ اور ایک بال صرف کھیل نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی صحت مند عادت بن سکتی ہے۔ چند منٹ کی یہ سرگرمی آہستہ آہستہ کندھے، گردن اور بازو کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جسم کو حرکت دیتی ہے اور ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔

اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔

12/03/2026
🌿 میتھی کے پتوں کے فوائد1️⃣ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگارمیتھی کے پتے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ یہ خون م...
24/02/2026

🌿 میتھی کے پتوں کے فوائد
1️⃣ شوگر کنٹرول کرنے میں مددگار
میتھی کے پتے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت فائدہ مند ہیں۔ یہ خون میں شوگر کی سطح کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتے ہیں اور انسولین کی کارکردگی کو بہتر بناتے ہیں۔
2️⃣ نظامِ ہاضمہ بہتر بناتے ہیں
میتھی کے پتے فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں، جو قبض، بدہضمی اور گیس جیسے مسائل کو کم کرتے ہیں۔ یہ آنتوں کی صفائی میں بھی مددگار ہیں۔
3️⃣ کولیسٹرول کم کرنے میں مفید
میتھی کے پتے خراب کولیسٹرول (LDL) کو کم کرتے ہیں اور دل کی صحت کو بہتر بناتے ہیں، جس سے دل کے امراض کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔
4️⃣ وزن کم کرنے میں مدد
فائبر کی زیادہ مقدار کی وجہ سے پیٹ دیر تک بھرا رہتا ہے، جس سے بار بار بھوک نہیں لگتی اور وزن کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
5️⃣ خون کی کمی دور کرتے ہیں
میتھی کے پتے آئرن سے بھرپور ہوتے ہیں، جو ہیموگلوبن بڑھانے اور خون کی کمی (انیمیا) دور کرنے میں مددگار ہیں۔
6️⃣ خواتین کے لیے فائدہ مند
میتھی کے پتے ہارمونز کو متوازن رکھتے ہیں، ماہواری کے درد میں آرام دیتے ہیں اور دودھ پلانے والی ماؤں میں دودھ کی مقدار بڑھانے میں مدد دیتے ہیں۔
7️⃣ ہڈیوں کو مضبوط بناتے ہیں
ان میں کیلشیم، میگنیشیم اور فاسفورس موجود ہوتا ہے جو ہڈیوں اور دانتوں کو مضبوط بناتا ہے۔
8️⃣ جلد اور بالوں کے لیے مفید
میتھی کے پتوں کا استعمال جلد کو صاف، دانوں سے پاک اور بالوں کو مضبوط بنانے میں مدد دیتا ہے۔ بالوں کا گرنا کم ہوتا ہے اور خشکی دور ہوتی ہے۔
9️⃣ قوتِ مدافعت بڑھاتے ہیں
ان میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کو بیماریوں سے بچانے اور قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔
🔟 سوزش اور درد کم کرتے ہیں
میتھی کے پتوں میں اینٹی انفلامیٹری خصوصیات ہوتی ہیں جو جوڑوں کے درد اور سوزش میں آرام دیتی ہیں۔
🍃 استعمال کا طریقہ
میتھی کے پتے سبزی، دال یا پراٹھے میں استعمال کریں
ابال کر قہوہ بنا کر پی سکتے ہیں
سلاد میں شامل کر سکتے ہیں
⚠️ احتیاط:
زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے معدے میں جلن یا کمزوری ہو سکتی ہے، اس لیے اعتدال میں استعمال کریں
✍️

یہ پوسٹر آنتوں (Gut / Digestive System) کی صحت بہتر بنانے والی غذاؤں کے بارے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قبض، گیس، سوزش اور کم...
09/02/2026

یہ پوسٹر آنتوں (Gut / Digestive System) کی صحت بہتر بنانے والی غذاؤں کے بارے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قبض، گیس، سوزش اور کمزور ہاضمہ سے بچا جائے۔
🥣 بائیں طرف دی گئی غذائیں
دہی

پروبایوٹکس سے بھرپور

آنتوں میں اچھے بیکٹیریا بڑھاتا ہے

قبض اور بدہضمی میں مفید

پیاز

پری بایوٹک فائبر ہوتا ہے

آنتوں کے بیکٹیریا کو طاقت دیتا ہے

اوٹس

فائبر سے بھرپور

آنتوں کی صفائی اور قبض میں مدد

ادرک

ہاضمے کو بہتر کرتی ہے

گیس، متلی اور سوزش کم کرتی ہے

فرمنٹڈ غذائیں

(کِمچی، ساورکراوٹ، کیفر وغیرہ)

آنتوں کے لیے قدرتی پروبایوٹک

گٹ بیکٹیریا کو متوازن رکھتی ہیں

چیا اور السی کے بیج

فائبر + اومیگا 3

آنتوں کی حرکت بہتر کرتے ہیں

🍌 دائیں طرف دی گئی غذائیں
لہسن

پری بایوٹک طاقت

نقصان دہ بیکٹیریا کم کرتا ہے

کیلا

ہلکی اور آسانی سے ہضم ہونے والی غذا

قبض میں فائدہ مند

دالیں اور بینز

فائبر اور پروٹین سے بھرپور

آنتوں کے لیے بہترین خوراک

سبز پتوں والی سبزیاں

(پالک، ساگ وغیرہ)

فائبر اور غذائیت سے بھرپور

سیب

پیکٹن فائبر

آنتوں کی صفائی میں مدد

ناریل

آنتوں کو سکون دیتا ہے

اچھے فیٹس فراہم کرتا ہے

🚫 نیچے تنبیہ

کم استعمال کریں:

چینی

فرائیڈ فوڈ

مصنوعی میٹھے

یہ چیزیں آنتوں کے بیکٹیریا کو نقصان پہنچاتی ہیں۔

03/02/2026
کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی صبح کی پہلی غذا آپ کے پورے دن کے میٹابولزم کا فیصلہ کرتی ہے؟اکثر لوگ معدے کی تیزابیت، اور گیس ...
28/01/2026

کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کی صبح کی پہلی غذا آپ کے پورے دن کے میٹابولزم کا فیصلہ کرتی ہے؟
اکثر لوگ معدے کی تیزابیت، اور گیس کی شکایت کرتے ہیں۔

لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ان کی وجہ وہ غلط چیزیں ہیں جو وہ خالی پیٹ کھاتے ہیں۔

سیب ایک کم کیلوریز والا پھل ہے۔اس میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔فائبر بھوک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔سیب پیٹ کو ...
27/01/2026

سیب ایک کم کیلوریز والا پھل ہے۔
اس میں فائبر زیادہ مقدار میں موجود ہوتا ہے۔
فائبر بھوک کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔
سیب پیٹ کو دیر تک بھرا رکھتا ہے۔
بار بار کھانے کی عادت کم ہوتی ہے۔
یہ میٹابولزم بہتر کرتا ہے۔
جسم میں چربی جلانے میں مدد ملتی ہے۔
شوگر لیول کو متوازن رکھتا ہے۔
ہاضمہ بہتر بناتا ہے۔
ڈائٹ کے دوران توانائی دیتا ہے۔
روزانہ ایک سیب وزن کم کرنے کے لیے بہترین ہے۔
اگر آپ بھی موٹاپے سے تنگ ہے تو ہمارا 45 دن کا سیشن جوائن کرکے موٹاپے سے نجات حاصل کریں

روزانہ 2 سے 4 انڈے کیوں ضروری ہیں؟انڈا ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، صحت مند چکنائی، اور بہت کم کاربوہا...
24/01/2026

روزانہ 2 سے 4 انڈے کیوں ضروری ہیں؟
انڈا ایک مکمل غذا ہے۔ اس میں اعلیٰ معیار کا پروٹین، صحت مند چکنائی، اور بہت کم کاربوہائیڈریٹس ہوتے ہیں۔ انڈے کا پروٹین اپنی بایولوجیکل ویلیو کے لحاظ سے تقریباً 100 کے قریب ہوتا ہے، یعنی جسم اسے آسانی سے ہضم کر کے مکمل طور پر استعمال کر لیتا ہے۔ اسی لیے انڈے کا پروٹین مچھلی، چکن اور گوشت کے مقابلے میں بہتر سمجھا جاتا ہے۔
انڈے کا پروٹین کم فضلہ پیدا کرتا ہے۔ دوسرے پروٹین ذرائع میٹابولزم کے دوران یوریا اور امونیا جیسے مادے بناتے ہیں جو بلڈ شوگر کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں انڈا جسم کے لیے ہلکا اور مؤثر ہے۔
انڈے میں تمام ضروری امائنو ایسڈز موجود ہوتے ہیں جو جلد اور بالوں کے لیے اہم ہیں۔ پروٹین صرف سفیدی میں نہیں بلکہ زردی میں بھی ہوتا ہے، اس لیے اگر آپ صرف سفیدی کھاتے ہیں تو آپ قیمتی غذائیت سے محروم رہ جاتے ہیں۔
زردی میں چکنائی کے ساتھ چکنائی میں حل ہونے والی وٹامنز بھی ہوتی ہیں، جیسے وٹامن A، D، E اور K۔ اکثر لوگ بیٹا کیروٹین کو وٹامن A سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ یہ صرف اس کا پیش خیمہ ہے اور جسم میں صرف تقریباً 30 فیصد ہی وٹامن A میں تبدیل ہوتا ہے۔ انڈے کی زردی ہمیں وٹامن A کی فعال شکل یعنی ریٹینول دیتی ہے، جو جلد، آنکھوں، سائنَس اور مدافعتی نظام کے لیے بہت ضروری ہے۔
انڈے وٹامن D کا بہترین ذریعہ ہیں۔ وٹامن D کی کمی سے جلد کی حساسیت بڑھتی ہے، دانے، ریشز، سن برن، سوزش اور یہاں تک کہ سورائسِس بھی ہو سکتا ہے۔ وٹامن E جلد کو سورج کی شعاعوں سے بچاتا ہے، زخموں کے نشان کم کرتا ہے اور ایک طاقتور اینٹی آکسیڈنٹ ہے۔ وٹامن K اور خاص طور پر K2 بھی انڈے میں موجود ہوتی ہے۔
انڈے میں کولین ہوتا ہے جو فیٹی لیور سے بچاتا ہے، دماغ اور اعصاب کی صحت بہتر کرتا ہے، موڈ اور یادداشت کو بہتر بناتا ہے۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈز سوزش کم کرتے ہیں اور جلد کے لیے فائدہ مند ہیں۔ لیسیتھن کو کولیسٹرول کا اینٹی ڈوٹ کہا جاتا ہے۔ یہ اچھا کولیسٹرول HDL بڑھاتا ہے اور خراب کولیسٹرول کو متوازن کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس لیے صرف کولیسٹرول کے ڈر سے انڈا چھوڑنا درست نہیں۔
انڈے ہمیں بی وٹامنز بھی دیتے ہیں، جیسے B2، B3، B12 اور بایوٹن، جو بالوں کی صحت کے لیے بہت اہم ہے۔ بہتر ہے کہ مقامی دیسی انڈے استعمال کریں۔ یہ مرغیاں کھلے ماحول میں رہتی ہیں اور قدرتی خوراک لیتی ہیں، اس لیے ان کی غذائی کوالٹی بہتر ہوتی ہے۔
انڈے کی الرجی عام طور پر سفیدی کے پروٹین سے ہوتی ہے، زردی سے نہیں۔ اگر کسی کو مسئلہ ہو تو وہ زردی استعمال کر سکتا ہے تاکہ تمام وٹامنز اور معدنیات حاصل ہو سکیں۔
انڈے معدنیات سے بھرپور ہوتے ہیں، جیسے پوٹاشیم، میگنیشیم، آیوڈین اور سیلینیم۔ سیلینیم خاص طور پر تھائرائیڈ کے مریضوں کے لیے مفید ہے، کیونکہ یہ T4 کو فعال ہارمون T3 میں بدلنے میں مدد دیتا ہے۔
انڈے میں دو اہم کیروٹینوئیڈز ہوتے ہیں، لیوٹین اور زیگزینتھن۔ یہ آنکھوں اور جلد کی حفاظت کرتے ہیں، موتیا، میکیولر ڈی جنریشن اور جلد کے نقصان سے بچاتے ہیں۔ سبزیوں کے مقابلے میں انڈے سے ملنے والے یہ اجزاء زیادہ بہتر طریقے سے جذب ہوتے ہیں۔
اسی لیے روزانہ دو سے چار انڈے اپنی خوراک میں ضرور شامل کریں۔ یہ ایک سادہ، سستی اور مکمل غذا ہے جو صحت، جلد، بالوں اور دماغ سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desi Herbal Totkay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Desi Herbal Totkay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram