15/03/2026
کندھوں میں درد ہے باسکٹ بال کھیلیں
فروزن شولڈر ہے تو باسکٹ بال کھیلیں
گردن میں اکڑاؤ ہے تو باسکٹ بال کھیلیں
کبھی کسی ماں کو دیکھا ہے کہ چند ماہ کے بچے
کو گود میں اٹھاتے ہی گردن اور کندھے میں درد شروع ہو جاتا ہے؟ کبھی کسی صاحب کو دیکھا ہے کہ قمیض پہننا مشکل ہو جاتا ہے، ہاتھ اوپر نہیں جاتا، یا ہاتھ جیب میں ڈالنے میں تکلیف ہوتی ہے؟ اکثر لوگ اسے فروزن شولڈر، گردن کا درد، بازو کی کمزوری یا کلائی اور کہنی کی تکلیف کہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جسم کو حرکت نہ ملے تو جوڑ آہستہ آہستہ اکڑنے لگتے ہیں۔ اس کا ایک نہایت سادہ اور دلچسپ حل ہے، اور وہ ہے باسکٹ بال کھیلنا۔ طریقہ بھی بہت آسان ہے۔ کسی سپورٹس کی دکان سے ایک باسکٹ اور ایک بال لے آئیے، یہ زیادہ مہنگی چیز نہیں۔ گھر کی کسی دیوار پر باسکٹ اس طرح لگائیے کہ شروع میں بہت اونچی نہ ہو، تقریباً چار یا پانچ فٹ کی بلندی پر۔ بہتر یہ ہے کہ دیوار میں پہلے ہی چند سوراخ مختلف اونچائیوں پر کر لیے جائیں تاکہ بعد میں باسکٹ آہستہ آہستہ اوپر کی جا سکے۔ شروع میں بس اتنا کیجیے کہ دن میں جب بھی فرصت ملے دو تین بال باسکٹ میں ڈال دیں۔ مثال کے طور پر چولہے پر ہنڈیا رکھی ہیں، ذرا سا وقفہ ملا تو جا کر دو بال پھینک دیں۔ کبھی صفائی کرتے ہوئے، کبھی بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، کبھی میاں بیوی دونوں مل کر۔ گھر میں ایک ایسی جگہ منتخب کر لیجیے جہاں بال اچھل کر کسی برتن یا قیمتی چیز کو نقصان نہ پہنچائے۔ یہی چھوٹی سی حرکت آہستہ آہستہ ہاتھوں، کندھوں اور گردن کو دوبارہ حرکت دینے لگتی ہے۔
ہمارے ایک گروپ میں ایک خاتون نے یہی سادہ
سا طریقہ اختیار کیا۔ شروع میں وہ مشکل سے دو تین بال پھینکتی تھیں کیونکہ بازو میں درد تھا۔ لیکن چند ہفتوں میں حیرت انگیز تبدیلی آئی۔ کندھے کی سختی کم ہونے لگی، بازو اوپر جانے لگا، اور گردن کا درد بھی کم ہو گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ایک اچھی عادت بھی لگ گئی۔ وہ کہتی تھیں کہ اب چلتے پھرتے بھی دو تین بال پھینک لیتی ہوں۔ اس چھوٹے سے کھیل کے فائدے صرف ایک نہیں بلکہ کئی ہیں۔ کندھے، گردن، بازو، کلائی اور کہنی کے جوڑ حرکت میں آتے ہیں، خون کی روانی بہتر ہوتی ہے، پٹھے مضبوط ہوتے ہیں، جسم کی لچک بڑھتی ہے، دماغ کا فوکس بہتر ہوتا ہے کیونکہ بال کو نشانے پر ڈالنے کے لیے توجہ درکار ہوتی ہے، ذہنی تھکن کم ہوتی ہے، جسمانی سستی ختم ہوتی ہے، اور گھر کے افراد کے درمیان ایک خوشگوار سرگرمی بھی بن جاتی ہے۔ اسی لیے اگر اسکولوں میں دیوار پر ایک باسکٹ لگا دی جائے تو بچے اور اساتذہ دونوں وقفے وقفے سے چند بال پھینک سکتے ہیں۔ دفاتر میں بھی ایک کمرے میں لگا دیا جائے تو وہ لوگ جو گھنٹوں کمپیوٹر کے سامنے بیٹھتے ہیں، ہر گھنٹے بعد اٹھ کر چند منٹ یہ کھیل کھیل لیں تو جسم میں جان آ جاتی ہے۔ اگر باسکٹ نہ مل سکے تو بچوں والی ہلکی ہوا بھری بال بھی استعمال کی جا سکتی ہے، اصل مقصد ہاتھوں کو حرکت دینا ہے۔
البتہ ایک بات اور سمجھ لینی چاہیے۔
اگر کسی کو بہت زیادہ درد ہو یا جسم کمزور ہو تو صرف ورزش کافی نہیں ہوتی۔ آج کل بہت سی ماؤں اور دفتری زندگی گزارنے والے لوگوں کے جسم میں بنیادی غذائی اجزاء کی کمی بھی ہوتی ہے۔ اس لیے اگر ممکن ہو تو کبھی کبھار ٹیسٹ کرا کے دیکھ لینا چاہیے کہ وٹامن اے، بی کمپلیکس، سی، ڈی، ای، کے، میگنیشیم، زنک، کاپر اور دیگر معدنیات کی کمی تو نہیں۔ مناسب غذا، دھوپ، پانی اور ہلکی ورزش مل کر ہی اصل فائدہ دیتی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ گھر کی ایک سادہ دیوار، ایک باسکٹ اور ایک بال صرف کھیل نہیں بلکہ ایک چھوٹی سی صحت مند عادت بن سکتی ہے۔ چند منٹ کی یہ سرگرمی آہستہ آہستہ کندھے، گردن اور بازو کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، جسم کو حرکت دیتی ہے اور ذہن کو تازگی بخشتی ہے۔
اللہ ، آپ کو آسانیاں عطا فرمائے۔