Desi Herbal Totkay

Desi Herbal Totkay This is an informative page. If any information is wrong please write to us.

(‏کس مرض میں کونسا جوس پئیں؟)بیماریوں میں جوس کے ذریعے علاج جوس تھیراپی کہلاتی ہے ۔ جوس کا استعمال جسم کے اعضاء کی صلاحی...
05/01/2026

(‏کس مرض میں کونسا جوس پئیں؟)
بیماریوں میں جوس کے ذریعے علاج جوس تھیراپی کہلاتی ہے ۔ جوس کا استعمال جسم کے اعضاء کی صلاحیت میں اضافہ کرتا ہے ۔خاص کر ایسے اعضاء جن کا کام فاضل مادوں کو خارج کرنا ہوتا ہے۔یعنی پھیپھڑے ، جگر،گردے اورجلد وغیرہ ۔ ان صلاحیتوں میں اضافہ کی وجہ سے میٹابولزم
‏کا عمل تیز ہوتا ہے اور اسکے فاضل مادے اور ٹوکسن زیادہ تیزی سے خارج ہوجاتے ہیں۔
آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ جب آپ ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو وہ آپ کو جوس ،تازہ پھل اور سبزیاں کھانے کا مشورہ دیتا ہے ۔ اس کی وجہ ان چیزوں کے صحت پر اچھے اثرات ہوتے ہیں ۔ لیکن اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ جب ہم
‏بیماری میں جوس پیتے ہیں تو یہ ہماری طبیعت کو اور خراب کردیتا ہے اس کی وجہ غلط جوس کا استعمال ہوتا ہے۔ کیونکہ ہر پھل اور سبزی ہر بیماری میں مفیدنہیں ہوتا ۔
بیماریوں کے لحاظ سے جوس کا استعمال کریں:
تیزابیت:
تیزابیت میں انگور ، موسمی ، میٹھے ، گاجر کا جوس استعمال کریں۔
الرجی:
‏الرجی کی صورت میں خوبانی، انگور ،چقندراور گاجر کا جوس پئیں۔
ایکنی:
کیل مہاسوں کے خاتمے کے لیے انگور ، آلوچہ ، ٹماٹر ،کھیرا اور ناشپاتی کا جوس لیں۔
انیمیا:
خون کی کمی دور کرنے کے لیے ، آلوچہ ، لال انگور ، چقندر ، اسٹرابیری ، گاجر اور پالک کا جوس پئیں۔
گٹھیا:
گٹھیا کے مرض میں
‏انناس ، کھٹے سیب ، کھٹی چیری ،لیموں ، گریپ فروٹ ،کھیرا ،چقندر ، پالک کا جوس پئیں۔
استھما:
جن لوگوں کو سانس کی تکلیف ہے۔ ان کے لیے خوبانی ،لیموں ،آڑو ، گاجر اور مولی مفید ہے۔
برونکائٹس:
سینے کے انفیکشن میں پیاز ،گاجر ،آڑو ،ٹماٹر،انناس ،لیموں کا رس فائدہ مند ہیں۔
نزلہ:
پالک،
‏گاجر ، پیاز ، گریپ فروٹ اور انناس کا رس مفید ہے۔
شوگر:
کینو، موسمی ، گریپ فروٹ ،سلاد ،گاجر، پالک استعمال کریں۔
ڈائریا:
ڈائریا میں پپیتا ،لیموں ،انناس اور گاجر کا استعمال فائدہ مند ہے۔
ایکزیما:
جلدی بیماری ہے اس کے لیے کھیرا ، چقندر ،لال انگور اور پالک مفید ہے۔
‏دل کی بیماریاں:
چقندر، لال انگور ،لیموں ، کھیرا ، گاجر اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں۔
سردرد:
انگور ، لیموں ، گاجر ، سلاد اور پالک سردرد میں مفید ہیں۔
ہائی بلڈپریشر:
ہائی بلڈپریشر میں انگور ، گاجر ، کینو اور چقندر کا جوس لیں۔
انفلوئنزا:
انفلوئنزا میں خوبانی ، پیاز ، گاجر
کینو،انناس اور گریپ فروٹ کا استعمال کریں
پیلیا:-
اس میں ناشپاتی،انگور،گاجر،پالک،کھیرا اور لیموں کا استعمال کریں
ماہواری کی بے ترتیبی کے لیے :-
ماہواری کو روٹین میں لانے کے لیے
چقندر،الوچہ،چیری،پالک اور انگور کا استعمال کریں

*ﷲ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو*

05/01/2026
❤️ صحت مند دل کے لیے غذا1️⃣ دلیہ (Oatmeal)فائدہ:فائبر سے بھرپورکولیسٹرول کم کرتا ہےدل کی شریانوں کو صاف رکھنے میں مدد دی...
05/01/2026

❤️ صحت مند دل کے لیے غذا
1️⃣ دلیہ (Oatmeal)

فائدہ:

فائبر سے بھرپور

کولیسٹرول کم کرتا ہے

دل کی شریانوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے

2️⃣ چکنائی والی مچھلی (Fatty Fish)

مثال: سالمن، ٹونا
فائدہ:

اومیگا 3 فیٹی ایسڈز

بلڈ پریشر کم کرتا ہے

دل کے دورے کے خطرے کو کم کرتا ہے

3️⃣ پالک (Spinach)

فائدہ:

وٹامنز اور منرلز سے بھرپور

بلڈ پریشر کنٹرول میں رکھتی ہے

خون کی روانی بہتر بناتی ہے

4️⃣ گری دار میوے (Nuts)

مثال: بادام، اخروٹ
فائدہ:

صحت بخش چکنائیاں

خراب کولیسٹرول کم کرتے ہیں

دل کو طاقت دیتے ہیں

5️⃣ بیرز (Berries)

مثال: اسٹرابیری، بلیوبیری
فائدہ:

اینٹی آکسیڈنٹس سے بھرپور

دل کی سوزش کم کرتے ہیں

دل کے خلیات کو نقصان سے بچاتے ہیں

6️⃣ لہسن (Garlic)

فائدہ:

سلفر مرکبات

بلڈ پریشر کم کرتا ہے

دل کی شریانوں کو کھلا رکھتا ہے

7️⃣ ایووکاڈو اور زیتون کا تیل

فائدہ:

صحت بخش فیٹس

دل کی شریانوں کو مضبوط بناتے ہیں

کولیسٹرول لیول متوازن رکھتے ہیں

8️⃣ ٹماٹر (Tomatoes)

فائدہ:

لائیکوپین

دل کی بیماریوں سے حفاظت

دل کے پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے

کھجور کو دودھ کے ساتھ کھانے کے نامعلوم فوائدآئیے ہم آپ کو دودھ کے ساتھ کھجور کھانے کے چند لیکن زیادہ تر نامعلوم فوائد کو...
01/01/2026

کھجور کو دودھ کے ساتھ کھانے کے نامعلوم فوائد
آئیے ہم آپ کو دودھ کے ساتھ کھجور کھانے کے چند لیکن زیادہ تر نامعلوم فوائد کو پوری طرح سمجھاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ دودھ اور کھجور کے آمیزے میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات ہوتی ہیں۔ یہ مرکب موسمی الرجی کے علاج کے لیے مثالی ہوتا ہے، الرجی پریشان کن اور تکلیف دہ ہو سکتی ہے۔

۔کھجور اور دودھ کے حیرت انگیز فائدے

کھجور کو دودھ میں ملا کر پینے کے چند فوائد درج ذیل ہیں، اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے اپنی خوراک میں اپنانے کی عادت بنائیں۔

پٹھوں کی طاقت کو فروغ دینا۔

غذائی ماہرین پروٹین کھانے کا مشورہ دیتے ہیں، اور ہم سب اپنے جسم اور عام صحت کے لیے اس کے فوائد سے واقف ہیں۔ کھجور اور دودھ دونوں میں پروٹین کی اہم مقدار ہوتی ہے، اس لیے ان دونوں کو ملا کر ہڈیوں کی کثافت اور پٹھوں کی صحت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بہتر جنسی صحت۔

سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کی ذہنی اور جسمانی صحت کی طرح آپ کی جنسی صحت بھی متوازن ہو۔ آپ صرف اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ اپنی برداشت اور صحت کو بہتر بنا سکتے ہیں اگر آپ چند کھجوروں کو رات بھر دودھ میں بھگو دیں اور پھر صبح اس دودھ کو پی لیں۔

توانائی کی سطح بڑھاتا۔

گلوکوز اور فرکٹوز جیسے اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے۔ کھجور صبح کے وقت کھانے کے لیے ایک بہترین غذا ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو صحت بخش ناشتہ چھوڑتے ہیں، دودھ کے ساتھ کھجور کافی صحت بخش ہوتی ہے اور آپ کے پیٹ کو زیادہ دیر تک بھرا رکھتی ہے۔

انیمیا کا علاج۔

کھجور میں پہلے سے موجود بہت سے اجزاء میں سے ایک سب سے اہم آئرن ہے۔ اور جیسا کہ ہم جانتے ہیں، آئرن جسم میں خون کی سپلائی کو تیز کرنے میں مدد کرتا ہے، جو انیمیا کا شکار ہونے والے ہر فرد کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ایک گلاس گرم دودھ میں صرف 3 کھجوریں ملا کر پینا فائدہ مند ہوگا۔

جلد کی خوبصورتی۔

جیسے جیسے ہماری عمر بڑھتی جاتی ہے، جلد کی خرابی کے خدشات بڑھتے جاتے ہیں۔ لیکن کچھ گھریلو علاج آپ کو مہاسوں کے مسائل یا جلد کی جلن سے نمٹنے میں مدد کر سکتے ہیں – ان میں سے ایک، چار کھجوریں ایک گرم گلاس دودھ میں ملا کر پینا ہے۔ یہ آپ کے چہرے پر خون کی گردش کو بڑھاتا ہے، اس طرح آپ کی جلد قدرتی طور پر چمکتی ہے۔

ہاضمے کا آسان طریقہ۔

یہ فائدہ ان بزرگوں کے لیے زیادہ مددگار ہے جو ہاضمے کے مسائل میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ کھجور میں موجود فائبر ہاضمہ اور آنتوں کی اچھی حرکت کو آسان بناتا ہے جس سے ہاضمہ بہت زیادہ آرام دہ ہوجاتا ہے

مضبوط میموری پاور۔

دودھ کے ساتھ کھجور ان مشروبات میں سے ایک ہے جو آپ کی یادداشت کو بڑھانے میں بے حد مدد کر سکتی ہے۔ میں وٹامن بی6 ہوتا ہے، جو آپ کے دماغ کی مجموعی صحت کو بہتر بنانے میں مدد کرتا ہے۔

جوڑوں کے درد سے نجات دلاتا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ دودھ میں کیلشیم کی صحت بخش مقدار ہوتی ہے۔ جب دودھ میں کھجوریں شامل کی جاتی ہیں تو فوائد دو گنا بڑھ جاتے ہیں۔ ہڈیوں کی کثافت میں اضافہ کرکے، یہ مشروب جوڑوں کے درد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

وزن میں اضافہ۔

چھوٹے بچوں کے لیے ان کی عمر کے مطابق مناسب وزن حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے دودھ کے ساتھ کھجور لینا ایک فوری اور قدرتی طور پر ٹھیک ہے۔ اس مشروب کو ہدایت کے مطابق پینے سے آپ بلاشبہ وزن کی مطلوبہ مقدار حاصل کر لیں گے۔

مینوپاز کے بعد ہڈیوں کی صحت۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ مینوپاز کے بعد کی خواتین میں ہڈیوں کی کمزوری کو پوٹاشیم کی مقدار میں اضافہ کرکے کم کیا جاسکتا ہے۔ ایک خشک کھجور پوٹاشیم اور دیگر غذائی اجزاء کی زیادہ مقدار فراہم کرتی ہے۔ سائنس دانوں کا خیال ہے کہ پوٹاشیم کی زیادہ مقدار گردوں کے ذریعے خارج ہونے والے کیلشیم کی مقدار کو کم کرکے ہڈیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے

بار بار گرم پانی — معدہ کب کمزور ہوتا ہے؟کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جو چیز وقتی سکون دے، وہی آہستہ آہستہ کمزوری کی وجہ بھ...
01/01/2026

بار بار گرم پانی — معدہ کب کمزور ہوتا ہے؟
کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ جو چیز وقتی سکون دے، وہی آہستہ آہستہ کمزوری کی وجہ بھی بن سکتی ہے؟

بہت سے لوگ صبح خالی پیٹ، کھانے کے بعد، اور دن میں کئی بار گرم پانی پیتے ہیں۔ ابتدا میں معدہ ہلکا محسوس ہوتا ہے، مگر اصل کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

جب گرم پانی بار بار پیا جائے تو معدے کی قدرتی گرمی متاثر ہونے لگتی ہے۔ یہی قدرتی حرارت کھانے کو صحیح طرح ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس میں کمی آئے تو بدہضمی، گیس اور بھاری پن شروع ہو جاتا ہے۔

ایک وقت کے بعد معدہ خود کام کرنے کے بجائے بیرونی سہارے کا عادی ہو جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معمولی کھانا بھی دیر سے ہضم ہوتا ہے۔

درمیانی مقدار میں نیم گرم پانی فائدہ دے سکتا ہے، خاص طور پر صبح یا قبض کی صورت میں۔ مگر ہر وقت گرم پانی پینا معدے کی طاقت کو کمزور کر سکتا ہے۔

ایسے افراد جنہیں پہلے ہی تیزابیت، کم بھوک، یا معدے کی کمزوری ہو، ان کے لیے یہ عادت مزید مسئلہ بن سکتی ہے۔

بہتر یہ ہے کہ عام درجۂ حرارت کا پانی پیا جائے، اور گرم پانی صرف ضرورت کے وقت استعمال کیا جائے، نہ کہ عادت کے طور پر۔

یاد رکھیں، اعتدال ہی صحت کی اصل کنجی ہے۔ جو چیز حد سے بڑھ جائے، فائدے کے بجائے نقصان دینے لگتی ہے۔

🔴 جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کا قدرتی علاج💢💥 پیورائن والی غذائوں کے ہضم ہونے کے بعد بچنے والا فاضل مادہ یورک ایسڈ کہلات...
01/01/2026

🔴 جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی کا قدرتی علاج💢
💥 پیورائن والی غذائوں کے ہضم ہونے کے بعد بچنے والا فاضل مادہ یورک ایسڈ کہلاتا ہے۔بہت سی غذائوں میں پیورائن وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جیسے:

۔گوشت
۔سرڈائن
۔خشک پھلیاں.

جبکہ پیورائن جسم میں بھی بنتا اور ٹوٹتارہتا ہے۔آپ کا جسم گردوں کی مدد سے پیشاب کے ذریعے یورک ایسڈ کو خارج کرتا رہتا ہے اور اگر آپ پیورائن والی غذائیں زیادہ مقدار میں لیں اور یورک ایسڈ جسم سے تیزی سے خارج نہ ہو پائے تویہ خون میں جمع ہوتا رہتا ہے۔
جسم میں یورک ایسڈ کی زیادہ مقدار جوڑوںمیں درد اور پیشاب اور خون میں تیزابیت پیدا کر دیتی ہے۔

جسم میں یورک ایسڈ جمع ہونے کی کئی وجوہات ہیں جن میں سے چند یہ ہیں :

۔غذا
۔موروثیت
۔موٹاپا یا وزن زیادہ ہونا
۔ذہنی دبائو
صحت کے چند مسائل بھی یورک ایسڈ کا لیول بڑھا دیتے ہیں جیسے
۔گردوں کی بیماری
۔ذیابیطس
۔ہائپو تھائرائڈزم
۔کچھ کینسرز یا کیمو تھیراپی
۔سوریاسس

میٹھے مشروب کے کڑوے نقصانات کے بارے میں جانتے ہیں ؟
یورک ایسڈ کو قدرتی طور پر کس طرح کم کیا جاسکتا ہے:
پیورائن والی غذائوں کومحدود کیجئے:
یورک ایسڈ کی وجہ بننے والی غذائوں کو محدود کرکے جسم سے یورک ایسڈ کو کم کیا جاسکتا ہے۔گوشت ،سی فوڈ اور سبزیوں میں پیورائن ہوتا ہے جب یہ ہضم ہوتی ہیں تو جسم میں یورک ایسڈ کوچھوڑدیتی ہیں۔
ان غذائوں کا استعمال ترک یا ان میںکمی ضرور کریں ۔
۔گوشت
۔مچھلی
۔مٹن
۔گوبھی
۔مٹر
۔خشک پھلیاں
۔مشروم

شکر والی غذائیں اور مشروبات:
تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء میں موجود اضافی شکرخاص کر فرکٹوس کورن سیرپ جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے۔لہٰذا ڈبے میں پیک اشیاء کو خریدتے وقت ان کے اوپر لگا لیبل ضرور دیکھ لیں ۔اور ایسی غذائوں کا استعمال کم سے کم کریں ۔
اسی طر ح سوڈا ڈرنکس اورفروٹ جوس میں بھی فرکٹوس اور گلوکوز والی شکر موجود ہوتی ہے۔یہ شکر تیزی سے جذب ہوتی ہے اورخون میں شکر کی مقدار بڑھانے کے ساتھ یورک ایسڈکو بھی بڑھا دیتا ہے۔

زیادہ پانی پیئیں :
زیادہ پانی پینے سے گردوں کو یورک ایسڈ تیزی کے ساتھ خارج کرنے میں مدد ملے گی۔ پانی کی بوتل ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد پانی پیتے رہیں۔

وزن کم کریں :
غذا کے ساتھ اضافی وزن بھی یورک ایسڈ کی مقدار میں اضافہ کرتا ہے کیونکہ مسلز کے مقابلے میں فیٹس زیادہ یورک ایسڈ بناتے ہیں ۔اسی طرح زیادہ وزن کی وجہ سے بھی گردوں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے ۔جبکہ فوری طور پر وزن میں کمی یورک ایسڈ کے لیول پر مثبت اثر کرے گی۔
اس سلسلے میں غذا کے ماہر سے مشورہ کرکے اپنے لئے صحت بخش غذا کا انتخاب کریں۔

جسم میں انسولین کو متوازن کریں :
اگر آپ شوگرکے مریض نہیں بھی ہیں تواپنا بلڈ شوگر لیول ضرور چیک کرائیں ،انسولین استعمال کرنے والے شوگر کے مریضوں میں بھی انسولین کا لیول زیادہ ہوسکتا ہے۔جسم میں انسولین کی زیادہ مقدار جسم میں یورک ایسڈ کو بڑھاتی ہے۔

اپنی غذا میں زیادہ فائبر شامل کریں :
زیادہ فائبر کھانے سے بھی یورک ایسڈ کی زیادتی سے بچا جاسکتا ہے۔فائبر خون میں شکر اور انسولین کے لیول کو بھی کم کرتے ہیں۔فائبر کی وجہ سے زیادہ کھانے سے بچت رہتی ہے۔
اپنی روزانہ کی غذا میں 5 سے10 گرام فائبر ضرورشامل کریں۔
۔تازہ یا خشک پھل
۔تازہ سبزیاں
۔جوء
۔میوے

زیادہ چائے پینے کے مضر اثرات بھی جان لیں🔴❗💢.چائے کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور اس کی بے شمار اقسام ہیں جن میں سبز...
01/01/2026

زیادہ چائے پینے کے مضر اثرات بھی جان لیں🔴❗💢.
چائے کو دنیا بھر میں پسند کیا جاتا ہے اور اس کی بے شمار اقسام ہیں جن میں سبز چائے، دودھ والی چائے بے حد مقبول ہیں۔
اگرچہ چائے کے گرما گرم کپ کے بے شمار فوائد ہیں اور مختلف تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آ چکی ہے کہ سبز چائے کا استعمال انسان کو کینسر، موٹاپے، ذیابیطس اور امراضِ قلب جیسی جان لیوا بیماریوں سے بچاتا ہے۔

10 منٹ سے بھی کم وقت میں کچن صاف کریں
لیکن جہاں ہر چیز میں اعتدال انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے وہیں کسی بھی چیز کا ضرورت سے زیادہ استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔

روزانہ کتنے کپ چائے پی جا سکتی ہے؟

چائے کو اعتدال میں رہ کر پینا ہی صحت کے لیے فائدے مند ہے۔ دن میں 3 سے زائد کپ چائے پینا صحت کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
اگر آپ بھی ضرورت سے زیادہ چائے پیئں گے تو ایسا کرنے سے آپ کی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہوجائیں گے۔

1۔ بے آرامی اور نیند سے محرومی

زیادہ چائے پینے کا سب سے خطرناک نقصان یہ ہے کہ زیادہ چائے انسان کو بے آرامی اور نیند سے محرومی میں مبتلا کر دیتی ہے۔
ایک کپ چائے میں 14 سے 16 ملی گرام کیفین کی مقدار پائی جاتی ہے جو کہ زائد مقدار میں لینا صحت کے لیے مضر ثابت ہوتا ہے۔ زیادہ چائے پینے کی وجہ سے انسان بے چینی، بے آرامی اور نیند سے محرومی میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

2۔ چائے کی لت یا عادی ہوجانا

اگر آپ ایک دن میں 2 سے زائد کپ چائے پینا شروع کر دیتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ چائے کی عادت یا چائے کی لت میں مبتلا ہوجائیں گے۔
اس کیفیت کی بعد آپ کو روزانہ زیادہ سے زیادہ چائے کی طلب ہونا شروع ہوجاتی ہے جو ٹھیک نہیں ہے۔ کسی بھی چیز کی لت میں مبتلا ہونا انسانی صحت کے لیے مضر ہوسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ کو سر درد اور کسی چیز پر غوروفکر کرنے میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔

3۔ پانی کی کمی

ضرورت سے زیادہ چائے پینا انسانی جسم میں پانی کی کمی کا باعث بنتی ہے۔ چائے میں موجود کیفین کی مقدار جسم کی غذا سے پانی کوجذب کرنے کی صلاحیت کو کم کرتی ہے جس کی وجہ سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے۔

4۔ سینے میں جلن

ضرورت سے زیادہ چائے سینے میں جلن اور تیزابیت پیدا کر سکتی ہے۔ ماہرینِ طب کا کہنا ہے کہ چائے میں موجود کیفین معدے میں تیزاب بڑھانے کا کام بھی کرتی ہے یہی وجہ ہے کہ زیادہ چائے پینا تیزابیت کا باعث بن سکتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات مختلف انٹرنیشنل جرنلز میں شائع شدہ تحقیقات سے حاصل کی گئی ہیں۔ اگر آپ کسی الرجی یا بیماری میں مبتلا ہیں تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔

دیسی گڑ اور سفید تل ملا کر رات کو کھالیں فائدہ ایسا کہ ، زندگی بھر دعا کیا کریں گے...!گڑ اور تلوں کو ملا کر استعمال کرنے...
01/01/2026

دیسی گڑ اور سفید تل ملا کر رات کو کھالیں فائدہ ایسا کہ ، زندگی بھر دعا کیا کریں گے...!
گڑ اور تلوں کو ملا کر استعمال کرنے سے نہ صرف خطرناک بیماریاں فوری طور پر ٹھیک ہوجائیں گی بلکہ آپ کے جسم کو مچھلی ، مٹن ،گوشت اور دودھ سے زیادہ طاقت ملے گی۔

گڑ معجزاتی خوبیاں رکھتا ہے۔ گڑ ہمارے معدے کے لیے فائدہ مند خوبیاں رکھتا ہے۔ گڑ نہ صرف ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کی صفائی کرتا ہے بلکہ کھانا کھانے کے بعد گڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چوس لیاجائے تو کھایا پیا سب ہضم ہو جاتا ہے۔

جب کہ تلوں میں دودھ سے زیادہ کیلشیم ، گوشت سے زیادہ پروٹین موجود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن بی، منرلنز اور فیٹی ایسڈز بھی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے
کمزور نظر کو تیز کرنے ، حافظہ اور اعصاب کو مضبوط کرنے کے لیے یہ علاج اپنی مثال آپ ہے۔
اس کے علاوہ فالتو چربی ختم کرنے اور کولیسٹرول نارمل کرنے اور خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گڑ اور تلوں کا استعمال ضرور کریں۔ کیونکہ یہ علاج کیلشیم اور پروٹین سے مالا مال ہوتاہے۔
سردیوں میں گڑ اور تلوں کو اگر ایک خاص طریقے سے استعمال کیا جائے تو کمزور جسم مضبو ط اور تمام پوشیدہ کمزوریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ حمل کے بعد خواتین کو گڑ اور تل کے لڈو بنا کر ضرور کھلائیں ،
حمل کی تمام کمزوریاں ٹھیک ہوجائیں گی۔

آپ کو بتاتے ہیں گڑ اور تلوں کا خاص علاج۔
اس کو بنانے کے لیے ہمیں چاہیے ہوگا۔ پرانا دیسی گڑ، اس کو پیس کر باریک کرلیں۔ یہ گڑ اتنا ہو کہ ایک کپ بن جائے ۔ کالے یا سفید تل جو بھی مل جائیں لیں گے دو کپ۔ ایک کپ کے قریب باریک کیا ہوا ناریل گِری لیں گے۔ بادام دس سے پندرہ گریاں اور دو کھانے کے چمچ سونف لیں گے ۔ اب ان تمام چیزوں کو بلینڈر میں ڈال کر باریک پیس لیں۔ بلینڈر سے تیار سفوف کو ہوا بند جار میں محفوظ کرلیں۔

رات کا کھانا کھانے کے ایک گھنٹہ بعد اس سفوف کی دو چمچ نیم گرم دودھ کے ساتھ کھا لیں۔
معدے ، مثانے، دماغ اور نظر کے تمام امراض ٹھیک ہوجائیں گے۔ .
ایسے افراد جن کا مزاج گرم ہے یا وہ پھر جو شوگر کے مریض ہیں یا پروٹین سنسٹیو ہیں وہ اس کا استعمال نہ کریں۔ سردیوں میں اس علاج کا استعمال آپ کو بڑی بڑی بیماریوں سے بچا سکتا ہے۔
⭕ نوٹ
چینی سے ہر صورت پرہیز کریں یہ ہڈیوں کو کمزور کرتی ہے جتنا ممکن ہو سکے اپنی زندگی میں گڑ کو شامل کریں۔
اور صحت مند زندگی گزاریں

موٹاپے سے نجات پانے کے تیس (30) پراثر، درست اور مفید طریقےموٹاپا ایک عالمگیر مسئلہ ہے. پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا می...
31/12/2025

موٹاپے سے نجات پانے کے تیس (30) پراثر، درست اور مفید طریقے
موٹاپا ایک عالمگیر مسئلہ ہے. پاکستان کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں موٹاپے سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے. گزشتہ سال کی ایک رپورٹ کے مطابق موٹاپے سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں پاکستان نویں نمبر پر ہے.

انسان کتنا ہی خوش شکل کیوں نہ ہو لیکن اگر اس پر موٹاپاغالب آجائے تو اس کی شخصیت کو گرہن لگ جاتا ہے اور انسان کی شخصیت اور شکل نامکمل سی لگتی ہے۔ جس سے نہ صرف انسان کا جسم بھدا ہو جاتا ہے بلکہ دوست احباب بھی مذاق اڑانا شروع ہو جاتے ہیں۔

موٹاپا انسان کی ظاہری حالت کے ساتھ ساتھ اندرونی صحت کو بھی تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔انسان کے جسم پر چربی کی تہیں چڑھتی جاتی ہیں۔ جس سے اعضاء کی کارکردگی کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ اگر موٹاپے کو کم کرنے کے لئے بروقت اقدامات نہ کیے جائیں تو انسان کئی قسم کی خطرناک بیماریوں میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے۔

ہم میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ موٹاپا صرف دل کی بیماریوں اور ذیابیطس کا سبب بنتا ہے لیکن ہم یہ نہیں جانتے کہ موٹاپا کینسر سمیت اور بھی کئی جان لیوا بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق مثانے، گردے، جگر کی بیماریوں اور کینسر کی کئی اقسام کی افزائش میں موٹاپا 10 فیصد حصہ ادا کرتا ہے۔

موٹاپے سے نجات پانے کے متعدد طریقے مندرجہ ذیل ہیں. آپ ان میں سے اپنی سہولت کے مطابق کچھ طریقے بھی اختیار کر لیں تو ان شاء اللہ خاطر خواہ نتائج برآمد ہوں گے. بس اتنا یاد رکھیں کہ جس طرح پیٹ کی چربی راتوں رات نہیں بڑھتی اسی طرح فوری طور پر ختم بھی نہیں ہوسکتی. اسی لیے بہتر ہے کہ اسے ورزش اور دیگر قدرتی طریقوں سے کم کرنے کی کوشش کی جائے، جو بہت مشکل عمل ہے۔

1. تیز قدموں سے واک

جن افراد کی زندگی میں جسمانی مشقت کا عنصر کم ہے وہ اس کے ازالے کےلیے صبح یا شام 40 منٹ تیز قدموں سے واک کو اپنا معمول بنالیں۔ تیز قدموں سے چلنا فوری طور پر نتائج لاتا ہے۔ دوسری جانب وہ دفتر یا کام کی جگہ پر چلنے پھرنے کی کوشش کریں تاکہ زندگی میں حرکت پیدا ہوا۔ ایک اور تشویش ناک بات یاد رکھیں کہ مسلسل بیٹھے رہنا زندگی کو کم کرتا ہے اور یہ بات کئی حوالوں سے ثابت ہوچکی ہے۔

2. ورزش

ورزش سے جہاں صحت پر دیگر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں وہیں یہ موٹاپے کو کم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہے۔ ورزش کرنے سے انسان چست و توانا ہوتا ہے اور اس کا وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے کوشش کریں کہ روزانہ کی بنیاد پر ورزش کی جائے۔

3. کھیلنا کودنا

اگر آپ کا موٹاپا آپ کو ورزش نہیں کرنے دیتا تو اپنے آپ کو کھیلوں میں مشغول کر لیں۔ اس سے بھی آپ کے وزن میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گی۔موٹاپا کم کرنے کے لیے آپ تیراکی، فٹ بال، کرکٹ، ہاکی، والی بال وغیرہ کھیل سکتےہیں۔

4. سائیکل چلانا

صبح کی وقت واک کرنا یا روزانہ کم از کم پانچ کلومیٹر تک سائیکل چلانے سے بھی موٹاپے میں خاطر خواہ کمی واقع ہوتی ہے۔اس کے علاوہ ایسی تمام مصروفیات جن میں تھکاوٹ اور جسم سے پیسنے کا اخراج ہو موٹاپے کو کم کرتی ہیں۔

5. سفید شکر سے دور رہیں

شکر کے مضر اثرات پر بہت تحقیق ہوچکی ہے۔ اب بھی اسے موٹاپے کی ایک بڑی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ چینی میں موجود گلوکوز اور فرکٹوز سادہ کاربوہائڈریٹس ہی ہیں۔ ان کی زیادتی گلائیکوجن میں تبدیل ہوکر چربی میں جمع ہونا شروع ہوجاتی ہے اور مزید چکنائی بڑھاتی ہے۔ اس کے بجائے گڑُ کا استعمال کیجیے یا ہوسکے تو شکر کو پہلے مرحلے پر کم سے کم کردیجیے۔

6. غذا میں پروٹین کا استعمال

پروٹین ہماری غذا کا اہم جزو ہے اور اس کے بہت سے فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہ آسانی سے جان نہ چھوڑنے والی چربی کو کم کرتی ہے۔ پروٹین سے ہمیشہ پیٹ بھرنے کا احساس ہوتا ہے اور باربار کھانا نہیں کھانا پڑتا۔ اس کےلیے آپ دہی، انڈہ، پنیر اور سفید گوشت (مرغی اور مچھلی) استعمال کرسکتے ہیں۔

7. سبز چائے

سبز چائے کے فوائد آئے دن دریافت ہوتے رہتے ہیں۔ سبز چائے چربی کو ختم کرنے میں بہت مددگار ثابت ہوتی ہے۔ اس میں موجود ایک قسم کے اینٹی آکسیڈنٹس اور قدرتی فینول کا نام کیٹے چن ہے جو میٹابولزم کو تیز کرتے ہیں، جس سے جسم کے اندر کی چکنائیاں تیزی سے گھلتی ہیں۔ اگر سبز چائے استعمال کرکے ورزش کی جائے تو اس کا دوہرا فائدہ ہوگا۔

8. جلد سوئیں اور موٹاپے کو دور بھگائیں

بچوں کو جلد سلانے کی عادت انہیں موٹاپے سے بچانے کا سب سے آسان اور سستا طریقہ ہے۔ فلاڈلفیا کی ٹمپل یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بچپن میں موٹاپے کا سبب صرف فاسٹ فوڈ، میٹھے مشروبات اور کم ورزش نہیں بلکہ نیند کی کمی بھی اس کا ایک اہم عنصر ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ بہتر اور زیادہ نیند سے بچوں میں کیلوریز لینے کی مقدار کم ہوتی ہے اور جسمانی وزن قابو میں رہتا ہے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ اسکول جانے کی عمر کے بچوں کی رات کی نیند میں اضافہ موٹاپے پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

9. ریشے دار غذا

ریشے یا فائبر کو اپنے معمولات میں شامل کیجیے۔ یہ نظامِ ہاضمہ کو اچھا کرتے ہیں، غذا کو جسم کا جزو بناتے ہیں، کولیسٹرول گھٹاتےہیں اور بدن میں چربی کی افزائش روکتے ہیں۔ فائبر مکمل اناج (whole grain) میں پایا جاتا ہے اور دلیہ بھی ایک طرح کا فائبر ہے، اس لیے اس کا استعمال پوری زندگی جاری رکھنا چاہیے۔

10. نیم گرم پانی

ان دنوں نیم گرم پانی کا بہت چرچا ہے جب کہ چینی اور جاپانی تہذیبوں میں صدیوں سے گرم پانی نوش کرنا ایک معمول ہے۔ گرم پانی خون کی رگوں کو صاف کرتا ہے اور فاسد مواد کو بدن سے دھو ڈالتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ گرم پانی جسم میں چربی کو گھلانے میں بہت مدد کرتا ہے جس کے ڈرامائی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

11. آہستگی سے کھانا

خوراک کو مناسب طریقے سے چبا کر نگلنا جسمانی وزن میں کمی کا آسان ترین نسخہ ہے۔ یہ بات ایک امریکی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ ٹیکساس کرسٹین یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق آہستگی سے کھانے اور چھوٹے لقمے لینے سے لوگوں کو کھانے کے کچھ دیر بعد بھوک کا احساس کم ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ سست روی سے کھاتے ہیں وہ زیادہ پانی بھی پیتے ہیں جس سے انہیں طبیعت سیر ہونے کا احساس زیادہ ہوتا ہے۔ محقق پروفیسر مینا شاہ کے مطابق کھانے کی رفتار میں کمی سے زیادہ کیلوریز جسم کا حصہ نہیں بنتیں، جس سے موٹاپے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

12. بادام

کیا آپ اپنے موٹاپے سے تنگ ہیں؟ اگر ہاں تو باداموں کو کھانا اپنی عادت بنالیں۔ پینسلوانیا اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق باداموں کو روزانہ کی خوراک کا حصہ بنانے سے توند میں کمی لانے میں مدد ملتی ہے جو کہ امراض قلب کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ روزانہ 42 گرام باداموں کا استعمال موٹاپے سے تحفظ دے کر امراض قلب کا خطرہ کافی حد تک کم کردیتا ہے۔

13. ایک سیب روزانہ موٹاپے کو رکھے دور

روزانہ ایک سیب کھانا ڈاکٹر کو دور رکھتا ہی ہے مگر یہ موٹاپے سے بچاﺅ کے لیے بھی اہم ثابت ہوتا ہے۔ واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سبز رنگ کے سیبوں کا روزانہ استعمال نہ صرف پیٹ بھرنے کے احساس کو زیادہ دیر تک برقرار رکھتا ہے بلکہ یہ معدے میں موجود صحت کے لیے فائدہ مند بیکٹریا کی تعداد بھی بڑھاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ان سیبوں کے روزانہ استعمال سے صحت مند بیکٹریا کی تعداد بڑھتی ہے جو موٹاپے کے خلاف جنگ میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

14. کھانے کے مخصوص اوقات

اگر آپ موٹاپے سے پریشان ہیں اور جسمانی وزن میں کمی چاہتے ہیں تو کھانے کے اوقات اس حوالے سے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک سروے نما تحقیق میں سامنے آئی ہے۔

فورزہ سپلیمنٹس کی اس تحقیق کے مطابق کھانے کی مقدار نہیں اس کا وقت جسمانی وزن کیلئے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر لوگ اپنے جسمانی وزن میں کمی چاہتے ہیں ناشتے کیلئے بہترین وقت صبح 7 بج کر 11 منٹ، دوپہر میں 12 بج کر 38 منٹ جبکہ رات کو 6 بج کر 14 منٹ کھانے کے بہترین اوقات ہیں۔ تحقیق کے مطابق اس حوالے سے 84 فیصد افراد کی رائے یہ تھی کہ کھانے کے مخصوص اوقات موٹاپے سے نجات کیلئے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ 76 فیصد کے خیال میں دن بھر میں سب سے اہم خوراک صبح کے وقت ناشتہ ہوتی ہے کیونکہ اس سے بعد میں پورے دن کیلیوریز کم کرنے میں مدد ملتی ہے

15. دہی کا استعمال

لاوال یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق دہی میں شامل بیکٹریا پروبائیوٹکس خواتین کے جسمانی وزن میں کمی لاتا ہے۔ تحقیق کے دوران موٹاپے کے شکار مرد و خواتین کوپانچ ماہ تک اس بیکٹریا سے تیار کردہ گولیاں کھلائی گئیں، جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ خواتین کے وزن میں اوسطاًنو سے گیارہ پونڈز تک کمی ہوئی۔

16. پانی کا زیادہ استعمال

اگر آپ موٹاپے کا شکار ہیں اور موٹاپا کم کرنا چاہتے ہیں تو اپنا پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔ روزانہ کم از کم دو سے تین لیٹر پانی پئیں۔ پانی انسان کی صحت کے لئے بہت مفیدہوتا ہے۔ یہ ہمارے جسم سے فاسد مادوں کے اخراج میں مدد دیتا ہے۔ انسانی جسم کے خلیوں کو بھی بہترین کارکردگی کے لئے پانی کی بہت ضرورت ہوتی ہے۔

17. تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال

سبزیاں نہ صرف انسانی صحت کی بہتری میں اہم کردار ادا کرتی ہیں بلکہ یہ انسان کو موٹاپے سے بھی بچاتی ہیں۔ اسی لیے ہر موسم کی سبزی اور پھل کو اپنی خوراک کا حصہ بنایئے، ان میں موجود وٹامن ، معدنیات اور اینٹی آکسیڈنٹس آپ کو تروتازہ رکھتے ہوئے غذا کی کمی کو پورا کرتی ہے سبزیوں اور پھلوں کا استعمال بڑھانے سے پورے جسم کو فائدہ ہوتاہے۔

اپنی کھانے کی پلیٹ میں آدھی مقدار سبزیوں کی رکھیں۔ سبزیوں کو اتنا مت پکائیں کہ وہ اپنی غذائیت ہی کھو بیٹھیں۔ سبزیوں کو کچا یا گِرل کر کے کھانا زیادہ مفید ہے۔ سبزیوں کے ساتھ ساتھ پھلوں کا استعمال بھی ضرور کریں۔ صبح کے ناشتے میں انڈے اور دودھ کے ساتھ پھل بھی استعمال کریں۔ اور دن میں ایک آدھ بار کوئی نہ کوئی پھل ضرور کھائیں۔

18. مرچوں کا استعمال

لال مرچ کا استعمال موٹاپے کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ کیونکہ یہ حراروں کے علاوہ چکنائی کو بھی جلانے میں کام آتی ہے۔ مرچیں جسم میں جاکر معدے کو بھر دیتی ہیں اور ایسے اعصاب کو سرگرم کردیتی ہیں جو جسم کو کہتے ہیں کہ بہت کھالیا اور زیادہ کھانا ممکن نہیں ہے۔

19. بیکری کی مصنوعات سےپرہیز

موٹاپا ہونے کی ایک اہم وجہ بیکری کی مصنوعات اور میٹھی اشیاء کا استعمال ہے۔ یہ تمام اشیا کھانے میں جتنی مزیدار ہوتی ہیں، صحت کے لئے اتنی ہی نقصان دہ ہوتی ہیں۔ میٹھی اشیا جگر پر چکنائی ذخیرہ کرتی ہیں اور بیکری مصنوعات کے استعمال سے کولیسٹرول لیول بڑھتا ہے۔

اس لئے اگر موٹاپے کو بھگانا ہے تو سب سے پہلے ان چیزوں کا استعمال ختم کرنا ہو گا ، یاد رکھیں احتیاط علاج سے بہتر ہوتی ہے۔

20. سردی میں کپکپانا

سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق سردی میں کپکپانا اتنا ہی موثر ہے جتنا ورزش کرکے انسان وزن کم کرتا ہے، کیونکہ دونوں سے توانائی کے حرارے (کیلوریز) جلتے ہیں۔ تحقیق میں سب سے اہم بات یہ سامنے آئی کہ صرف دس سے پندرہ منٹ تک کپکپانا اتنا ہی فائدہ مند ہے جتنا ایک گھنٹے تک ورزش کرنا۔

اگر آپ موٹاپے سے پریشان ہیں تو یہ اب کوئی مسئلہ ہی نہیں بس سرد موسم میں چہل قدمی سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ کچھ دیر کپکپائیں اور وزن میں کمی لائیں۔

21. دن کی ابتدا لیموں کے رس سے کریں

اپنے دن کی شروعات لیموں کے رس سے کیجئے، ایک گلاس نیم گرم پانی میں لیموں کا رس شامل کرکے چٹکی بھر نمک ڈالیے اور پی جائیے، اس کا روزانہ استعمال نہ صرف آپ کے جسمانی افعال کو بہتر رکھتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ بڑھے پیٹ کو کم کرتا ہے۔

22. سفید چاول سے اجتناب

سفید چاول کا استعمال کم کردیجئے اور اس کی جگہ بھورا چاول ذیادہ مفید رہے گا۔ اس کے علاوہ براؤن بریڈ، جو، اور دلیے وغیرہ کو اپنی غذا کا حصہ بنائیے جس سے فائبر کی کمی دور ہوگی اور دوسری جانب جرپی گھلانے میں بھی مدد ملے گی۔

23. مٹھاس کو خدا حافظ

شکر اور اس سے بنی اشیا کا استعمال بند کرنا اگرچہ مشکل ہے لیکن اس سے پرہیز بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ سافٹ ڈرنکس بھی انہی میں شامل ہیں جو اپنے اندر بہت چینی رکھتی ہیں۔ دوسری جانب شکر والے مشروبات میں تیل موجود ہوتا ہے جو پیٹ اور رانوں سمیت جسم میں کئی مقامات پر چربی بڑھاتا ہے۔

24. نہار منہ لہسن کا استعمال

ہر صبح دیسی لہسن کا ایک یا دو جو کھانا بہت مفید ہوتا ہے ۔ اگر لہسن کا جو چھیل کر اسے چمچے سے پیس کر کھایا جائے اورساتھ ہی اس پر لیموں کا پانی پی لیا جائے تو ایک جانب تو خون کی روانی بہتر ہوتی ہے اور دوسری جانب پیٹ کی چربی کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

25. بڑی پلیٹ میں کھانے سے پرہیز

جو لوگ بڑی پلیٹوں میں کھانا پسند کرتے ہیں ان کا، چھوٹی پلیٹ میں کھانے والوں کی نسبت وزن بڑھے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے، کیونکہ جب آپ بڑی پلیٹ میں کھانا چاہتے ہیں تو اس میں کھانا بھی زیادہ نکالتے ہیں اور یوں چھوٹی پلیٹ میں کھانے والوں کی نسبت آپ جانے انجانے میں زیادہ کھالیتے ہیں۔

26. بڑے لقمے لینے سے احتیاط

مانا جاتا ہے کہ جو لوگ کھاتے وقت بڑے لقمے لیتے ہیں، وہ چھوٹے لقمے لینے والوں کی نسبت زیادہ کیلوریز حاصل کرتے ہیں کیونکہ بڑے لقمے کھانے والے افراد کھانا ٹھیک سے نہیں چباتے جو موٹاپے کا باعث بن سکتا، لہٰذا کھانا ٹھیک سے چبانے کی عادت اپنائی جانی چاہیے تاکہ کھانے کا اچھی طرح احساس ہو۔

27. غیر صحت مند دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا

انسانی صحت اور موٹاپے کے حوالے سے ایک مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ جو لوگ ایسے افراد کے ساتھ وقت گزارتے ہیں جو غیر صحت مند غذا کھانے پینے کے شوقین ہو جو آپ نہ چاہتے ہوئے اپنے لیے وہی کھانا آرڈر کرلیتے ہیں اور غیر صحت مند کھانا موٹاپے کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔

28. سستی اور کاہلی والے مزاج سے پرہیز کریں اور چاک و چوبند رہیں.

29. نماز کی کثرت

نماز خالصتًا اللہ کی رضا کے لیے ادا کریں. پابندی سے نماز اور دیگر نوافل ادا کرنے کا سینکڑوں فائدوں میں سے ایک ثانوی فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ موٹاپے میں کمی کرتی ہے.

30. دعا

مندرجہ بالا تمام ہدایات پر عمل کرکے بھی ہم اس وقت تک موٹاپے سے نجات نہیں پا سکتے جب تک اللہ کی مرضی شامل حال نہ ہو. لہذا اللہ سے سچے دل سے موٹاپے سے نجات کی دعا مانگتے رہیں.

(نوٹ: یہ تمام ڈیٹا بیسیوں مستند اردو اور انگلش ویب سائٹس اور مضامین سے کافی تحقیق کے بعد لیا گیا ہے.)

آخر میں دو بہنوں کے ایک ماہ میں "دس کلو" اور "بیس کلو" وزن کم کرنے کے آزمودہ پیکجز بھی شامل کیے دیتے ہیں.

* ایک ماہ میں دس کلو وزن کم کریں!

"The key to achieving and maintaining a healthy weight isn't about short-term dietary changes. It's about a *lifestyle* that includes healthy eating, regular physical activity, and balancing the number of calories you consume with the number of calories your body uses."

یہ کہنا ہے ان تمام لوگوں سے جو دوسروں کو ایک ماہ اور دو ماہ میں دس دس کلو وزن کم کرنے کے مشورے دے رہے ہیں اور وہ بھی قہوے، ابلے انڈے، ابلی سبزیاں اور ابلے چنے کھلا کھلا کے. کچھ خدا کا خوف کریں. صرف وزن کم نہیں کرنا، صحتمند بھی رہنا ہے. کل کو کمر میں درد، آنکھوں کے نیچے حلقے، چکر آ رہے ہیں، خون کی کمی اور باقی ضروری وٹامنز کی کمی ہوئی ہے۔۔

ڈائٹنگ یہ نہیں کہ چند دن دیوانوں کی طرح بس قہوہ پیے چلے جا رہے ہیں، خشک روٹی اور ابلا انڈا کھا رہے ہیں۔ دو ماہ کچھ اچھا کھانے کو انسان ایسا ترسے کہ ادھر دس کلو وزن کم کیا، ادھر یہ جی چاہے کہ جو سامنے آئے کھا پی لیں. یہی وجہ ہے کہ کریش ڈائٹنگ والوں کی اکثریت کا وزن پہلے سے زیادہ واپس آ جاتا ہے۔

بہتر ہے اعتدال کی روش رکھیں. سب کچھ کھائیں لیکن ابھی بھوک رہتی ہو تو کھانے سے ہاتھ کھینچ لیں. کھجور کھا کر اوپر سے ایک کپ قہوہ پی لیں تا کہ معدہ کو تسلی ہو جائے کہ فل سٹاپ لگ گیا ہے. گھی، مکھن، فل کریم دودھ، میوہ جات، زردی سمیت انڈا، پھل (کیلے سمیت)، سبزیاں (آلو سمیت)، فریش جوسز، گرین سمودیز، چیا سیڈز، اوٹس، جو۔۔۔۔ سب شامل رکھیں اعتدال کے ساتھ. کبھی بھی 'fat free' الا بلا مت خریدیں. یاد رہے کہ کیلوریز کا کم ہونا کسی چیز کے ہیلتھی ہونے کی ضمانت نہیں. ڈائٹ کوک میں زیرو کیلوریز ہیں، جبکہ کھجور بادام میں زیادہ۔ فیصلہ آپ خود کر لیں!

اللہ نے آپ کے لیے بہترین،خوش ذائقہ، فائدہ مند چیزیں بنائی ہیں، میانہ روی سے وہ سب استعمال کریں. جو چھوڑنا ہے وہ ہے چینی، بیکری ائٹمز، سوڈا ڈرنکس، اور بازار کی بنی سبھی چیزیں. اور گندم کی بجائے جئی یا جو کا آٹا استعمال کریں۔

اور بس واک واک واک! کھلی ہوا میں نکل کر واک کریں تو بہتر. اگر ممکن نہ ہو تو یو ٹیوب پر
Walk 3 miles at home with Leslie Sansone
سرچ کریں. ایک میل سے شروع کریں اور دورانیہ بڑھاتے جائیں۔

اپنے لیے ایک ماہ کا گول سیٹ کریں کہ ہیلتھی کھانا ہے، پورشن سائز چھوٹا رکھنا ہے، اور ایکٹو رہنا ہے۔ ایک ماہ کا ٹارگٹ پورا کرنے پر اپنے آپکو شاباش دینے کے لیے اپنی پسند کی چاکلیٹ، کولڈ کافی، گاجر حلوہ، جو بھی جی چاہے کھائیں اور اگلے ماہ کا ٹارگٹ سیٹ کر لیں. ایک دو ماہ میں دس بارہ کلو وزن کم کرنے والی ڈائٹنگ والے 'متشدد' مشوروں کو فوراً رد کر دیں. وزن کا ٹارگٹ رکھیں ہی نہیں، بس یہ ٹارگٹ رکھیں کہ ہیلتھی کھانا ہے اور ایکٹو رہنا ہے۔

You can do it! If I can do it, anybody can.

* ایک ماہ میں بیس کلو وزن کم کریں

Main ne 20kg km kia pr healthy way main
45 mints morning walk
15mints exercise
Lemon mix honey in hot water
A glass of milk dates and half desi ghee lgi chapati
Lunch mix bowl of vegies
Eat lot of fruits
1hour exercise in evening
No sugar
No fry items
No junk food kbi kbi cheating

🏠 ہوم » صحت مند زندگی (Copy)میری والدہ گھٹنوں اور ہڈیوں کے درد سے بمشکل چل پاتی تھیں — پھر انہوں نے یہ 3 اجزاء والا اسمو...
30/12/2025

🏠 ہوم » صحت مند زندگی (Copy)
میری والدہ گھٹنوں اور ہڈیوں کے درد سے بمشکل چل پاتی تھیں — پھر انہوں نے یہ 3 اجزاء والا اسموتھی شروع کیا
(فائدہ نمبر 7 آپ کو خوشی سے رُلا دے گا)
کیا آپ جانتے ہیں کہ امریکہ میں اس وقت 5 کروڑ 40 لاکھ بالغ افراد آرتھرائٹس کا شکار ہیں؟
اور 70 سال سے زائد عمر کے ہر دو میں سے ایک فرد گھٹنوں اور ہڈیوں کے درد کی وجہ سے روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔
حالیہ 2025 کی ابھرتی ہوئی کلینیکل ریسرچ کے مطابق، ایک سادہ سا صبح کا اسموتھی:
✅ جوڑوں کی سوزش 59٪ تک کم کر سکتا ہے
✅ ہڈیوں کی مضبوطی میں مدد دے سکتا ہے
✅ اور صرف 7 دن میں درد میں نمایاں کمی لا سکتا ہے
ذرا تصور کریں…
آپ کی عمر 68 سال ہے۔
آپ کئی سالوں بعد پہلی بار بغیر تکلیف کے کھڑے ہوتے ہیں۔
سیڑھیاں اترتے ہوئے گھٹنوں میں درد نہیں۔
بچوں یا نواسوں کے ساتھ کھیلنا آسان۔
باغبانی یا سجدہ — سب کچھ بغیر درد کے۔
اور ڈاکٹر کہتا ہے:
“سوزش کم ہو گئی ہے… جوڑ پہلے سے زیادہ مضبوط لگ رہے ہیں۔”
اور یہ سب ممکن ہوا صرف تین سادہ اجزاء سے — جو شاید آپ کی والدہ کے کچن میں بھی موجود ہوں۔
🔢 خود سے ایک سوال کریں:
1 سے 10 کے پیمانے پر بتائیں:
اس وقت آپ کے گھٹنے اور ہڈیاں حرکت، جھکنے یا کھڑے ہونے میں کتنی آزاد اور درد سے پاک ہیں؟
اس نمبر کو ذہن میں رکھیں —
ہم ابھی اسے بہتر بنانے جا رہے ہیں۔
میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی ماں کو شدید گھٹنوں اور ہڈیوں کے درد میں مبتلا دیکھا۔
سیڑھیاں چڑھنا ناممکن،
سادہ کام تھکا دینے والے،
اور ڈاکٹر بس درد کش ادویات یا “آپریشن کا انتظار” کہتے رہے۔
کیا آپ نے بھی کبھی کسی اپنے کو اس حالت میں دیکھا ہے؟
اگر میں کہوں کہ ہلدی، پیاز اور کیلا
جب اسموتھی کی شکل میں لیے جائیں تو:
🌿 کرکومن
🌿 کوئرسیٹن
🌿 پوٹاشیئم
🌿 طاقتور اینٹی انفلامیٹری مرکبات
کے ذریعے جوڑوں کی جلن کم،
کارٹلیج کو سہارا
اور ہڈیوں کو مضبوط کر سکتے ہیں؟
آخر تک پڑھیں —
ہم آپ کو مکمل اسموتھی پروٹوکول، 11 سائنسی فوائد، اور حقیقی بزرگوں کی کہانیاں بتائیں گے
جو دوبارہ آزادانہ چلنے لگے۔
فائدہ نمبر 7 واقعی آنکھیں نم کر دے گا…
خاموش جوڑوں اور ہڈیوں کا بحران — 5 کروڑ 40 لاکھ افراد متاثر
65 سال کی عمر کے بعد:
گھٹنوں میں چرچراہٹ
ہڈیوں میں درد
رات کی بے چینی
سب کو “عمر کا تقاضا” کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے
حالانکہ اندر ہی اندر سوزش کارٹلیج کو تباہ اور ہڈیوں کو کمزور کر رہی ہوتی ہے۔
2025 کی Arthritis Foundation رپورٹ کے مطابق
لاکھوں افراد اپنی آزادی کھو رہے ہیں۔
کیا آپ کو بھی وہ احساس یاد ہے
جب ہر قدم بجلی کے جھٹکے جیسا لگتا ہے؟
اکثر لوگ:
گلوکوسامین
ہلدی کی کیپسول
فزیوتھراپی
سب کچھ آزما لیتے ہیں
مگر فائدہ نہیں ہوتا — کیوں؟
کیونکہ الگ الگ سپلیمنٹس میں وہ قدرتی ہم آہنگی نہیں ہوتی
جو جذب ہونے اور اثر دکھانے کے لیے ضروری ہے۔
اگر تین قدرتی غذائیں مل کر کام کریں تو؟
ہلدی + پیاز + کیلا
جب ایک ساتھ بلینڈ ہوں تو:
✔️ سوزش کم
✔️ کارٹلیج کا تحفظ
✔️ ہڈیوں کو غذائیت

اور جسم کی قدرتی مرمت کو سہارا دیتے ہیں۔
🥤 30 سیکنڈ میں تیار ہونے والا اسموتھی
روزانہ خرچ: صرف 89 سینٹ
اجزاء (7 دن کے لیے):
1 چائے کا چمچ تازہ ہلدی (یا ½ چمچ پاؤڈر)
½ چھوٹا سرخ پیاز
1 پکا ہوا کیلا
1 کپ بادام کا دودھ یا پانی
(اختیاری) کالی مرچ چٹکی بھر + شہد
طریقہ:
ہلدی اور پیاز باریک کاٹ لیں
کیلے اور مائع کے ساتھ بلینڈر میں 60 سیکنڈ بلینڈ کریں
آخر میں کالی مرچ (کرکومن جذب 2000٪ بڑھاتی ہے) اور شہد شامل کریں
روزانہ صبح تازہ پی لیں
مختلف انداز:
سادہ: روزمرہ سپورٹ
کالی مرچ + شہد: زیادہ جذب
ادرک شامل کریں: مزید سوزش میں کمی
فائدہ نمبر 1:
جوڑوں کی سوزش میں 59٪ کمی — صبح کی اکڑن ختم
72 سالہ رابرٹ
صبح کھڑا نہیں ہو پاتا تھا۔
3 ہفتے اسموتھی پینے کے بعد:
❌ اکڑن ختم

✅ آزادانہ حرکت
2025 کی تحقیق:
کرکومن + کوئرسیٹن
سوزش والے کیمیکلز کو 59٪ کم کرتے ہیں
(NF-kB اور COX-2 بلاک)
فائدہ نمبر 2:
ہڈیوں کی مضبوطی — اندر سے طاقت
67 سالہ لنڈا
ابتدائی آسٹیوپوروسس + گھٹنوں کا درد
ایک سال بعد: 📈 ہڈیوں کی کثافت میں 4.8٪ اضافہ

😌 درد میں نمایاں کمی

📌 نوٹ: یہ مواد صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے

⚠️ ڈسکلیمر: یہ کسی بھی قسم کے طبی مشورے، تشخیص یا علاج کا متبادل نہیں۔ اپنی صحت سے متعلق فیصلہ کرنے سے پہلے مستند معالج سے رجوع ضرور کریں۔

Address

Multan
60000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Desi Herbal Totkay posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Desi Herbal Totkay:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram