Easy Marriage Bureau Multan

Easy Marriage Bureau Multan اندرون و بیرون ملک سنی رشتوں کا با اعتماد ادارہ صرف سنجیدہ اور رجسٹریشن کروانے والے خواتین و حضرات رابطہ کریں۔۔۔

23/05/2026
23/05/2026

Online and home tutors required any subject Fresh can also apply

کیا آپ کسی ایسی چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں جس پر آپ واقعی یقین رکھتے ہوں؟اس وقت ہزاروں لوگ ...
22/05/2026

کیا آپ کسی ایسی چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں جس پر آپ واقعی یقین رکھتے ہوں؟
اس وقت ہزاروں لوگ یہی کر رہے ہیں۔
میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
مکہ مکرمہ میں جمعہ کی صبح ہے۔
درجہ حرارت 45 تک پہنچ رہا ہے، مگر محسوس ہونے والا درجہ حرارت 48 ڈگری تک ہوگا۔
15 ذوالحجہ تک حرم جانے والی تمام بس اور شٹل سروسز بند کر دی گئی ہیں۔
ٹیکسی والے ایک ایسے راستے کے 200 ریال سے زیادہ مانگ رہے ہیں جو عام دنوں میں 20 یا 25 ریال میں 10 منٹ میں طے ہو جاتا ہے۔
تو حجاج کیا کر رہے ہیں؟
پیدل چل رہے ہیں، ہزاروں لوگ، تپتی ہوئی گرمی میں۔
عصا کے سہارے چلتے عمر رسیدہ افراد۔
مکمل پردے میں خواتین۔
نوجوان جن کی پانی کی بوتلیں آدھے راستے سے پہلے ہی ختم ہو جائیں گی۔
سب ایک ہی سمت میں جا رہے ہیں۔
نہ کوئی شکایت کررہا ہے۔
نہ کوئی واپس مڑ رہا ہے۔
ہر طرف پولیس موجود ہے، ہر گلی، ہر نکڑ پر نسک کارڈ چیک کیے جارہے ہیں۔
انتظامیہ مسلسل ہدایات دے رہی ہے:
پانی پئیں۔ سائے میں رہیں۔
شدید گرمی کے اوقات سے بچیں۔
مگر بہت کم لوگ سن رہے ہیں۔
کیونکہ حرم کی کشش گرمی کی شدت سے زیادہ طاقتور ہے۔
یہ منظر بتاتا ہے کہ جب انسان کسی چیز سے سچی محبت کرتا ہے، اور اس کے مقصد میں کلیرٹی ہوتی ہے، تو اس کا رویہ بدل جاتا ہے۔
وہ خوشی سے قربانی دیتا ہے۔
وہ تکلیف سے سودے بازی نہیں کرتا۔
وہ 48 ڈگری میں 10 کلومیٹر چلنے کا “کاسٹ بینیفٹ اینالیسس” نہیں کرتا۔
وہ صرف چلتا ہے، یہ سوچے بغیر کہ اس کا کیا حال ہونے والا ہے۔
اب اس کا موازنہ اپنی باقی پچاس ہفتوں کی زندگی سے کیجیے۔
ہم فجر کے لیے 30 منٹ پہلے نہیں اٹھتے کیونکہ ہم “تھکے ہوئے” ہوتے ہیں۔
ہم تین دن کسی زندگی بدل دینے والی ورکشاپ میں نہیں دیتے کیونکہ ہم “بہت مصروف” ہوتے ہیں۔
ہم ایک کتاب نہیں پڑھ پاتے کیونکہ ہمارے پاس “وقت نہیں” ہوتا۔
ہم اپنے قریبی لوگوں سے ایک ضروری اور مشکل گفتگو نہیں کرتے کیونکہ “ابھی صحیح وقت نہیں ہے۔”
مکہ کی گرمی نہیں بدلی۔
لیکن حرم کی محبت نے انسانی رویے کو بدل دیا۔
ہمارے امیر (گروپ لیڈر) نے ایک بہت دانشمندانہ فیصلہ کیا۔
انہوں نے تمام بزرگ افراد سے کہا کہ قریب کی مسجد میں جمعہ پڑھیں یا قصر نماز ادا کریں، حرم نہ جائیں۔
اپنی صحت اور توانائی اصل حج کے دنوں کے لیے بچا کر رکھیں۔
یہی ترجیحات کی درستگی ہے۔
یہ بات سمجھنا کہ اصل امتحان ابھی آگے ہے، اور آپ اس سے پہلے خود کو نہ تھکائیں اور اپنی صحت خراب کرنے کا رسک نہ لیں۔
ہمارے گروپ میں ایک بڑی عمر کے ڈاکٹر صاحب ہیں جو حج قران کررہے ہیں، مستقل احرام کی حالت میں ہیں اور کئی روز سے روزانہ حرم آنا جانا کررہے ہیں، طواف بھی کررہے تھے۔
اب پچھلے دو روز سے ان کی کمر میں شدید تکلیف ہوگئی ہے، کرسی کے بغیر نماز نہیں پڑھ پارہے، چلنے پھرنے میں تکلیف ہورہی ہے، اور آنے والے ایام حج کے لیے پریشان اور فکر مند ہیں۔
اب روزانہ تین چار بار ان کی کمر کی مالش جاری ہے، درد کم کرنے والی دوائیں بھی لے رہے ہیں، ہیٹنگ پیڈ بھی خرید لائے ہیں اور سب ان کے لیے دعا بھی کررہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب سے بات کرتے ہوئے کل میں یہی کہہ رہا تھا کہ اکثر لوگ زندگی میں یہ بات کبھی نہیں سیکھتے۔
وہ اپنی ساری توانائی اور وسائل اُن چیزوں پر خرچ کر دیتے ہیں جو صرف فوری نظر آتی ہیں، پھر جب اصل اہم مرحلہ آتا ہے تو ان کے پاس کچھ باقی نہیں ہوتا۔
وہ فوری کاموں میں خود کو جلا دیتے ہیں، اور اہم ذمہ داریوں کا مرحلہ آنے سے پہلے ہی تھک جاتے ہیں یا گر جاتے ہیں۔
اس وقت حرم کی طرف چلتے یہ حجاج ایک ایسی حقیقت سمجھتے ہیں جو بہت سے پروفیشنلز اور بزنس اونرز نہیں سمجھتے:
“جب منزل واضح ہو جائے، تو تکلیف غیر اہم ہو جاتی ہے۔"
ہمارا مسئلہ کبھی گرمی نہیں تھا۔کبھی رش نہیں تھا۔ کبھی خرچہ نہیں تھا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی عام زندگی میں کوئی چیز آپ کو اُس شدت سے اپنی طرف نہیں کھینچتی، جس شدت سے کعبہ ان لوگوں کو کھینچ رہا ہے۔
سوچیے…
آپ کس چیز کے لیے 48 ڈگری گرمی میں 10 کلومیٹر پیدل چل سکتے ہیں؟
اگر فوراً کوئی جواب ذہن میں نہیں آیا… تو یہی ہمارا اصل مسئلہ ہے۔
یمین الدین احمد
22 مئی 2026ء
بمطابق 5 ذوالحجہ 1447ھ
مکہ مکرمہ سے انسانی رویّوں، مقصد اور زندگی کے سبق شیئر کرتے ہوئے
copied

22/05/2026

اگر آپکا بچہ نوکرانی نے اٹھایا ہوا ہے ،🤱
کتا آپ نے اپنے ساتھ لگایا ہوا ہے 🐶
بلی آپکے میاں کی گود میں ہے 🐱
تو مبارک ہو 💃💃
آپ پاکستان کے امیر ترین افراد میں شامل ہیں💪💪
کوئ مائ کا لال آپکا کچھ نہیں بگاڑ سکتا جیسے چاہیں جئیں 🥰🥰

21/05/2026

کون سا کاروبار 🏪💰 پاکستان میں اس ٹائم ⏰ خوشحال چل رہا ہے 📈
جو دوسرے لوگوں کے لیے بھی 🤝 منافع بخش ہو؟ 💵✨

20/05/2026

پاکستان میں سفید پوش طبقہ صرف دو چیزوں پر زندہ ہے
ایک امید
دوسری بجلی کے بلوں میں سبسڈی
اور حکومت نے فیصلہ کر لیا ہے کہ دونوں ختم کرنی ہیں۔
یہاں ایک بندہ پچیس ہزار کماتا ہے
دوسرا تیس ہزار
تیسرا بیس ہزار
تین بھائی ایک ہی گھر میں رہتے ہیں کیونکہ الگ گھر لینا اب خواب نہیں لطیفہ بن چکا ہے۔
ایک ہی چھت کے نیچے تین خاندان پل رہے ہیں۔
بچے بھی انہی کمروں میں بڑے ہو رہے ہیں جہاں کبھی ان کے باپ بڑے ہوئے تھے۔
لیکن حکومت کو مسئلہ کیا نظر آیا؟
یہ کہ ان غریبوں نے دو تین میٹر کیوں لگوا رکھے ہیں۔
واہ ریاست واہ۔
جو لوگ اپنی عزت بچانے کے لیے الگ الگ میٹر لگا کر کسی طرح بل کنٹرول کر رہے تھے اب ان پر بھی شک ہونے لگا ہے جیسے یہ دبئی کے شہزادے ہوں اور حکومت کا خزانہ لوٹ رہے ہوں۔
ادھر کروڑوں کی گاڑیاں رکھنے والے
بڑے بڑے فارم ہاؤس والے
سفارشوں سے سکیموں میں گھسے ہوئے لوگ
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے “مستحق” بنے بیٹھے ہیں۔
ہمارے علاقوں میں ایسے ایسے لوگ اس پروگرام سے پیسے لے رہے ہیں جن کے گھر میں اے سی چلتے ہیں۔
جن کی عورتیں سونے کے سیٹ پہن کر راشن لینے جاتی ہیں۔
جن کے بچے بیرون ملک پڑھ رہے ہیں۔
لیکن فارم میں وہ غریب ہیں۔
اور دوسری طرف وہ سفید پوش لوگ ہیں جو واقعی مستحق ہیں مگر صرف اس لیے رجسٹر نہیں کیونکہ ان کے پاس نہ سفارش ہے نہ سیاسی تعلق نہ کسی ایم این اے کے ساتھ تصویر۔
اب نئی عقل یہ نکالی گئی ہے کہ بجلی کی سبسڈی بھی انہی لوگوں کو دی جائے گی جن کا نام بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ہے۔
یعنی جن لوگوں نے پہلے ہی سفارشوں اور جھوٹ کے ذریعے سرکاری امداد پر قبضہ کیا ہوا ہے اب بجلی کی رعایت بھی انہی کے نام۔
کمال ہے۔
جو زمیندار لاکھوں کی فصل بیچ رہا ہے
جو گاڑیوں میں گھوم رہا ہے
جو سیاسی جلسوں میں پہلی کرسی پر بیٹھتا ہے
وہ “غریب” بھی ہے
وہ “مستحق” بھی ہے
اور اب بجلی کی سبسڈی کا حقدار بھی۔
اور جو سفید پوش آدمی غیرت کی وجہ سے حکومتی زکوٰۃ تک لینے سے انکار کرتا ہے
جو محنت مزدوری کر کے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے
جو کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا
اسے کہا جا رہا ہے
بھائی تم لسٹ میں نہیں ہو اس لیے بجلی کی پوری قیمت دو۔
یعنی اس ملک میں غیرت مند ہونا بھی اب جرم بنتا جا رہا ہے۔
اصل مسئلہ حل کرنا کسی نے نہیں۔
نہ جعلی مستحقین کو لسٹ سے نکالنا ہے
نہ نظام صاف کرنا ہے
نہ دھاندلی روکنی ہے۔
کیونکہ اگر اصل مستحقین آگئے تو سفارشیں کہاں جائیں گی؟
سیاست کہاں جائے گی؟
ووٹ بینک کہاں جائے گا؟
اس لیے حکومت کا نیا فارمولا یہ ہے کہ
جو پہلے غلط طریقے سے فائدہ لے رہا ہے اسے مزید سہولتیں دو
اور جو عزت سے زندہ ہے اسے بلوں میں دفن کر دو۔
یہاں حکومت کو ہر مسئلے کا ایک ہی حل ملتا ہے
بجلی مہنگی کر دو
پٹرول پر لیوی لگا دو
گیس بڑھا دو
ٹیکس لگا دو
اور پھر ٹی وی پر بیٹھ کر قوم کو قربانیوں کا درس دے دو۔
ایسے لگتا ہے جیسے معیشت نہیں بلکہ کوئی پرانا رکشہ دھکا لگا لگا کر چلایا جا رہا ہے اور ہر دفعہ دھکا غریب سے لگوایا جاتا ہے۔
سب سے بڑا مذاق یہ ہے کہ جس بندے کی تنخواہ پچاس ہزار ہے وہ پہلے ہی ہر چیز پر جی ایس ٹی دے رہا ہے۔
آٹا خریدو ٹیکس
چینی خریدو ٹیکس
دودھ خریدو ٹیکس
موبائل لوڈ کراؤ ٹیکس
پیٹرول ڈلواؤ ٹیکس
دوائی لو ٹیکس
یعنی غریب سانس لے تو شاید اس پر بھی فکس ٹیکس لگ جائے۔
لیکن اصل چور کون ہے؟
وہ دکاندار جو رسید نہیں دیتا۔
وہ تاجر جو اربوں کا کاروبار کر کے غریب ظاہر ہوتا ہے۔
وہ بڑے لوگ جو ٹرسٹ اور فاؤنڈیشن کے نام پر ٹیکس بچاتے ہیں۔
وہ مافیا جو ہر حکومت کے ساتھ تصویر کھنچوا لیتا ہے۔
ان پر ہاتھ ڈالنے کی ہمت نہیں۔
کیونکہ وہاں سے فنڈنگ آتی ہے
وہاں سے الیکشن چلتے ہیں
وہاں سے سیاست زندہ رہتی ہے۔
اس لیے آسان راستہ یہی ہے کہ غریب کے میٹر پر حملہ کرو۔
حکومت کو اگر واقعی ٹیکس اکٹھا کرنا ہے تو ہر کمپنی پر نگرانی بٹھائے۔
جتنا مال فیکٹری سے نکلے اس کا مکمل ریکارڈ ہو۔
ہر دکاندار کمپیوٹرائز رسید دے۔
ہر خرید و فروخت ڈیجیٹل ہو۔
لیکن نہیں۔
وہاں محنت کرنی پڑتی ہے۔
یہاں تو بس ایک نوٹیفکیشن نکالو اور غریب کی جیب میں ہاتھ ڈال دو۔
پھر کہتے ہیں عوام ٹیکس نہیں دیتی۔
عوام کیا دے؟
بدلے میں ملا کیا ہے؟
تعلیم؟
سرکاری سکولوں کی حالت سب کے سامنے ہے۔
صحت؟
ہسپتالوں میں دوائی تک نہیں۔
امن؟
لوگ اپنے بچوں کو باہر بھیجنے سے ڈرتے ہیں۔
روزگار؟
ڈگریاں لے کر نوجوان فوڈ ڈیلیوری کر رہے ہیں۔
بجلی؟
وہ بھی اب امیروں کی سہولت بنتی جا رہی ہے۔
اوپر سے سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے مزے الگ ہیں۔
سرکاری گاڑیاں
مفت پٹرول
مفت بجلی
مفت پروٹوکول
مفت نوکر
مفت گھر
اور قوم سے کہا جا رہا ہے
بھائی حالات مشکل ہیں قربانی دو۔
یعنی جس نے ملک لوٹا وہ وی آئی پی
اور جو بل بھر رہا ہے وہ قصوروار۔
یہ ملک غریب نے نہیں کھایا۔
یہ ملک ان لوگوں نے کھایا ہے جو ہر حکومت میں نظریہ بدل لیتے ہیں مگر گاڑی نہیں بدلتے کیونکہ وہ پہلے ہی نئی ہوتی ہے۔
آج پاکستان کا سب سے بڑا المیہ غربت نہیں
احساس محرومی ہے۔
غریب آدمی یہ دیکھ کر ٹوٹ رہا ہے کہ قانون صرف اس کے لیے ہے۔
قربانی صرف اس کے لیے ہے۔
مہنگائی صرف اس کے لیے ہے۔
اور سزا بھی صرف اسی کے لیے ہے۔
باقی سب کے لیے صرف سہولت ہے۔
اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ عوام غصے میں کیوں ہے۔
بھائی عوام غصے میں نہیں
عوام اب تھک چکی ہے۔
۔۔۔۔
عبدالرحمن
copied

20/05/2026

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
جو مولوی صاحب دوسروں کو 11 ہزار کا تعویذ دے کر کہتے تھے: “بیوی قدموں میں رہے گی!” 😭
آج خود مولوی صاحب کی بیوی تعویذ، عملیات اور دم درود سمیت کسی عاشق کے ساتھ فرار ہوگئی! 😂
اب مولوی صاحب مسجد سے زیادہ تھانے کے چکر لگا رہے ہیں! 🤣

Address

Raheem Chowk Masoom Shah Road Near Chowk Kumharan
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Easy Marriage Bureau Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Easy Marriage Bureau Multan:

Share