Easy Marriage Bureau Multan

Easy Marriage Bureau Multan اندرون و بیرون ملک سنی رشتوں کا با اعتماد ادارہ صرف سنجیدہ اور رجسٹریشن کروانے والے خواتین و حضرات رابطہ کریں۔۔۔

05/01/2026

*✍🏻اب رشتے نہیں سودے ہوتے ہیں لڑکے والے دیکھتے ہیں کے لڑکی جہیز میں کیا لائے گی اور لڑکی والے دیکھتے ہیں لڑکے کی انکم کیا ہے۔انہیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ کمائی حلال ہے یا حرام“❤️💯*

05/01/2026

سیالکوٹ وی مال جنگلی سور گھس آیا
شکاری کتوں نے سور کی درگت بنا دی

04/01/2026

2026 میں دوسروں سے یہ چیزیں مانگنا بند کریں:
1. صرف عمر کی وجہ سے شادی کرنا۔
2. صرف شادی شدہ ہونے کی وجہ سے بچے پیدا کرنا۔
3. صرف “استحکام” کے لیے کسی نوکری میں رہنا۔
4. صرف اچھی تنخواہ کی وجہ سے خوش ہونا۔
5. خاندان کو ہر حال میں معاف کرنا۔
6. عمر کی وجہ سے دوبارہ شروع نہ کرنا۔
7. کمپنی کے ساتھ ہمیشہ وفادار رہنا۔
8. زندگی کو جیسا ہے ویسا ہی قبول کرنا۔
9. بچوں کے بغیر رہنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا۔
10. دوسروں کے ٹائم لائن کے مطابق اپنی زندگی طے کرنا۔
11. یہ وضاحت کرنا کہ آپ سنگل کیوں ہیں۔
12. ایماندار ہونے کے بجائے شکر گزار رہنا۔
اگر آپ 2026 میں اپنی زندگی اپنے اصولوں اور اپنی آزادی کے مطابق جینا چاہتے ہیں،
تو کمنٹ میں “FREEDOM” لکھیں

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہےامریکی بچہ الیگزینڈر فرٹز سن 1990ء میں عیسائی والدین کے ہاں پیدا ہوا۔اس کی ماں نے شروع ہی سے ...
04/01/2026

ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے
امریکی بچہ الیگزینڈر فرٹز سن 1990ء میں عیسائی والدین کے ہاں پیدا ہوا۔
اس کی ماں نے شروع ہی سے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو خود اپنا دین منتخب کرنے دے گی۔ اس نے اسے مختلف مذاہب کی دینی کتابیں لا کر دیں۔ گہرے مطالعے کے بعد اس بچے نے 8 سال کی عمر میں اسلام قبول کر لیا۔
اس نے اسلام کے بارے میں بہت کچھ سیکھ لیا: نماز، قرآن حفظ کرنا، اذان، اور بہت سے شرعی احکام — یہ سب اس نے کسی ایک مسلمان سے ملے بغیر سیکھا!
اس نے اپنے لیے نام رکھا “محمد عبداللہ”، نبی کریم ﷺ کے نام پر، جن سے وہ بے حد محبت کرتا تھا۔
ایک اسلامی چینل نے اسے اس کی والدہ کے ساتھ مدعو کیا۔ پروگرام کا میزبان سوالات کرنے والا تھا، مگر حیران رہ گیا جب بچہ خود سوال کرنے لگا:
میں حج اور عمرہ کیسے ادا کروں؟
کیا یہ سفر مہنگا ہے؟
میں احرام کے کپڑے کہاں سے خریدوں؟
وہ بچہ اپنی اسکول میں مشہور تھا۔
جب نماز کا وقت آتا تو وہ اکیلا کھڑا ہو کر اذان دیتا، پھر اقامت کہتا اور اکیلا ہی نماز پڑھ لیتا۔
میزبان نے پوچھا:
کیا تمہیں اس وجہ سے کسی مشکل یا پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟
اس نے افسوس سے جواب دیا:
کبھی کبھی نمازیں رہ جاتی ہیں کیونکہ مجھے اوقاتِ نماز کا صحیح علم نہیں ہوتا۔
پوچھا گیا:
اسلام میں تمہیں کیا چیز پسند آئی؟
اس نے جواب دیا:
جتنا زیادہ میں نے اسلام کو پڑھا، اتنا ہی زیادہ اس سے محبت ہوتی گئی۔
پوچھا گیا:
تمہاری خواہشات کیا ہیں؟
بچے نے شوق سے جواب دیا:
میری دو خواہشیں ہیں:
میں فوٹوگرافر بننا چاہتا ہوں تاکہ مسلمانوں کی صحیح تصویر دنیا کے سامنے لا سکوں۔
امریکی گندی فلمیں مجھے بہت دکھ دیتی ہیں جو میرے محبوب محمد ﷺ کی شبیہ خراب کرتی ہیں۔
میں مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہوں اور حجرِ اسود کو بوسہ دینا چاہتا ہوں۔
یہاں اس کی عیسائی ماں بولی:
ہمارے گھر میں اس کے کمرے میں کعبہ کی تصویریں بھری ہوئی ہیں، اور وہ مکہ جانے کے لیے اپنے ہفتہ وار خرچ میں سے 300 ڈالر بچاتا ہے۔
لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ سب ایک طرح کی مہم جوئی ہے،
لیکن محمد کے دل میں حقیقی ایمان ہے، جسے دوسرے لوگ محسوس نہیں کر سکتے۔
پوچھا گیا:
کیا تم نے رمضان کے روزے رکھے؟
اس نے جواب دیا:
ہاں، پچھلے سال رکھے تھے۔ میرے والد نے مجھے چیلنج کیا تھا کہ میں نہیں رکھ سکوں گا، لیکن وہ حیران رہ گیا جب میں نے پورے روزے رکھے۔
پوچھا گیا:
اور کوئی خواہش؟
اس نے جواب دیا:
میری خواہش ہے کہ فلسطین مسلمانوں کو واپس مل جائے، کیونکہ یہ ان کی زمین ہے، جسے اسرائیلیوں نے ان سے چھین لیا ہے۔
پوچھا گیا:
کیا تم اپنے والدین کے ساتھ سور کا گوشت کھاتے ہو؟
اس نے جواب دیا:
سور بہت گندا جانور ہے، میں اسے نہیں کھاتا، اور مجھے سمجھ نہیں آتی لوگ اسے کیسے کھا لیتے ہیں۔
پوچھا گیا:
کیا تم اسکول میں نماز پڑھتے ہو؟
اس نے جواب دیا:
ہاں، میں نے لائبریری میں ایک خفیہ جگہ دریافت کی ہے جہاں میں روز نماز پڑھتا ہوں۔
مغرب کا وقت ہوا تو اس نے میزبان سے کہا:
کیا آپ مجھے اذان دینے کی اجازت دیں گے؟
پھر اس نے وقت پر اذان دی، اور اس اذان نے میزبان کی آنکھوں میں آنسو بھر دیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُمْ}
(سورۃ محمد: 38)
ترجمہ:
“اور اگر تم منہ موڑ لو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا، پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔”

04/01/2026

میرا دوست رونتو شکل بنا کر بیٹھا ہوا تھا
پوچھا کیوں؟
تو کہتا یے ،بیوی کی شاپنگ وغیرہ پر ہر ماہ ہزاروں روپے خرچ کرتا ہوں لیکن خوش نہیں ہوتی
میں نے کہا دس ہزار روپے
اس نے مجھے دیکھا
دس ہزار روپے کا کیا مطلب؟
میں نے کہا اسے جاکر ابھی دس ہزار روپے دو اور پورا مہینہ الگ سے اسکی شاپنگ پر کچھ بھی خرچ مت کرو ،بس گھر کا خرچ چلاو
اس نے کہا
بابا ،تم میرا گھر توڑنا چاہتے ہو؟ جو ساٹھ ستر ہزار کی شاپنگ سے خوش نہیں ہوتی اس عورت کو دس ہزار دوں ؟
میں اسکے پاس سے اٹھا ،ایک لات اسکی تشریف پر مار کر اسے ہوٹل کے تخت نما ٹیبل سے گرایا اور اس سے پہلے کے وہ مجھے دو لاتیں رسید کرتا میں بھاگ گیا
آج ڈیڑھ ماہ بعد اس سے ملاقات ہوئی
تو آتے ہی گلے لگ گیا
تیرا نام جس نے بھی بابا رکھا ہے قسم سے بالکل ٹھیک رکھا یے
مجھے معلوم نہیں تھا کہ عورتیں اتنی بیوقوف ہوتی ہیں
میں نے دس ہزار روپے بیوی کو نگد دئیے اور بس گھر کا سودا سلف پورا کرتا رہا
پورا مہینہ وہ مجھے سالن کے ساتھ سلاد بھی اچھے سے سجا کر پیش کرتی رہی ہے جو کہ پہلے صرف ہمارے ہاں مہمانوں کے لئیے رواج تھا
میں نے کہا
بیوقوف عورتیں نہیں ہوتی بیٹا
بیوقوف مرد یوتے ہیں
منحوس ہزاروں روپے اپنی بیوی پر خرچ کریں گے لیکن تھوڑے نگد پیسے نہیں دینگے کہ لو بھئی ہماری بلا سے اپنی مرضی سے جو بھی جی چایے کرو
اور ان دس ہزار روپوں کا مطلب ہر کسی کے لئیے دس ہزار روپے نہیں ہیں ،اپنی حیثیت کے مطابق ہزار دیں یا پچاس ہزار دیں لیکن نگد خرچہ لازمی دیں
پھر مجھے بتائیں یہ پاپا کی پریاں لتا جی کی اواز میں کیسے
پنچھی بنوں اڑتی پھروں مست گگن میں
آج میں آزاد ہوں دنیا کے چمن میں
گاتے گھر میں چہچہاتی پھرتی ہیں
سکندر حیات بابا
is tehrer mein ik galti ha batain wo kia ha aur writer ny wo galti jan bhoj k ki ya uski urdu kamzor ha

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میںنئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے۔نئی تہذیب کے یہ انڈے واقعی گندے ہیں۔اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو ش...
04/01/2026

اُٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے۔
نئی تہذیب کے یہ انڈے واقعی گندے ہیں۔
اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو شاید آج کے انڈے دیکھ کر پچھلوں پر شکر ہی ادا کرتے۔
حال ہی میں چند شادی ہالز میں جانا پڑا۔ وہاں اس نووارد تہذیب کے نومولود انڈے مجھے تو کسی صورت ہضم نہیں ہو سکے۔ سوچتی رہی، کیا میں ہی اکیلی ہوں جو یہ سب دیکھ کر اندر سے کڑھ جاتی ہوں، یا اب بھی کہیں کچھ پرانی تہذیب کے نمائندے باقی ہیں؟
اور اگر واقعی ہیں تو پھر انہیں صرف آواز ہی بلند نہیں کرنی چاہیے، کچھ نہ کچھ تدارک بھی سوچنا ہوگا۔
ہم نے شادی جیسے پاکیزہ اور سادہ رشتے کا کیا حال بنا دیا ہے۔ کہاں تو مہندی کا ایک گھریلو فنکشن بھی "پڑوسیوں" کے ساتھ صدیوں رہنے کا شاخسانہ سمجھتے ہوئے معیوب سمجھا جاتا تھا، کہاں اب آزاد اسلامی ریاست میں برائیڈل شاور، قوالی نائٹ ( جس میں قوالی کے نام پر جو کچھ ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں), فوٹو سیشن، ڈانس پرفارمنسز سب کچھ باقاعدہ فخر کے ساتھ شامل کر لیا گیا ہے۔
اوپر سے مسجدوں میں اور اہم مقامات پر بے پردہ جوڑوں کے لچکتے، ٹھمکتے اور لپکتے فوٹو شوٹس، گویا اب تقدس بھی کیمرے کے سامنے بے بس ہے۔
یہیں بات ختم نہیں ہوتی۔ اب نکاح کے فوراً بعد دلہا کا اپنی تازہ منکوحہ کو بوسہ دینا اور گلے لگانا بھی رسم کا حصہ بن چکا ہے۔ اور اگر دلہا کچھ آنسو گرا لے تو کیا ہی کہنے۔
ناچ گانے پر تو کیا ہی کہا جائے۔ باقاعدہ ڈانس پرفارمنسز ہوتی ہیں جو انتہائی شریف زادے اور شریف زادیاں پبلک کو محضوض کرنے کے لئے سر عام کرتے ہیں پھر انٹر نیٹ پہ بھی چڑھا دیتے ہیں کہ جو آ نہیں سکے وہ محروم نا رہ جائیں۔
مانا کہ خوشی کے اظہار کے طور پر یہ چیزیں ہماری شادیوں میں پہلے بھی تھیں، مگر گھروں کے اندر، عورتیں آپس میں ڈھولک پر گیت گا لیتی تھیں۔ اور ہنس بول لیتی تھیں نا کیمروں میں قید ہونے کا شوق نا ساری دنیا کو دکھانے کی تمنا۔
اب یہ نیا رواج چل پڑا ہے کہ دلہن ناچتی ہوئی آئے گی، کہ جی "ٹھمک ٹھمک جانا ہے ماہیے دے نال" اس کے آگے پیچھے پورا خاندان ناچتا پھرے گا، اور ہر زاویے سے اس کی فلم بندی ہوگی۔ تو پھر دلہا کیوں پیچھے رہے، اس پر بھی ناچنا فرض ٹھہرا۔ سو وہ بھی ٹھمکتا ہوا ہی آئے گا بمع اہل وعیال۔
لباس کے نام پر "کرتا" کرتی کا سفر طر کرتے کرتے اب بس ایک پٹی تک آ پہنچا ہے۔ دل چاہتا ہے پوچھوں کہ بہن، اگر کپڑا کم تھا تو لہنگے کا اتنا گھیر بنانے میں سارا کپڑا کیوں لگا دیا؟ کچھ بچا کر کندھے، پیٹ اور بازو بھی ڈھانپ لینے تھے۔ آخر تم نے کون سا اس لہنگے کے طول و عرض میں پھیلے گھیر میں کوئی دیگ چھپا کے لے کے جانی تھی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ وہ گھیر دار لہنگا ہال کی صفائی ضرور کرتا پھرتا ہے۔
اور پھر مرے پر سو درّے، اسی نیم عریاں محفل کو قرآن کے سائے سے گزار کر برکت کی دعاؤں میں رخصت کر دیا جاتا ہے۔
سمجھ نہیں آتا کہ کس کس بات پر رویا جائے۔ یہ تو کہیں نہیں لکھا ( ان الفاظ کے لئے انتہائی معذرت) کہ جو کچھ سوشل میڈیا کی طوائفیں اور کنجر ہمیں دکھائیں گے، وہ سب اپنانا لازم ہو جائے گا۔
اگر اسی لباس اور اسی ناچ گانے میں ہی رہنا تھا تو پھر پڑوسی" ہی برے تھے کیا، ان کے ساتھ ہی گزارا کر لیتے۔" آج کم سے کم انکی پروڈکٹس ہمیں چار گنا مہنگی تو نا پڑتیں۔ یا پھر یہی وہ آزادی تھی جس کے لئے اتنی قربانیاں دی گئیں۔
"ایک آزاد اور خود مختار ریاست کا قیام جہاں ہم اپنے مذہب اور ثقافت کے ساتھ رہ سکیں" کیا ہماری نسل اس بات کو آگے منتقل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ آج تو نا مذہب ، نا ثقافت ، نا خودی نا تدبر بس سوکھے تنکے جنہیں ہوا جہاں چاہے اڑا کے لے جائے۔
یہ صرف تہذیب کا نہیں، سوچ کا زوال ہے۔ قوم کا زوال ہے، ہماری اقدار کا زوال یے۔
اور اس زوال پراب خاموش رہنا شاید سب سے بڑا جرم ہے۔کیونکہ میرے آپکے جیسے گنے چنے لوگ بھی اس پر خاموش رہتے ہوئے گزر گئے تو آنے والوں کو تو اس میں کوئی برائی دکھائی ہی نہیں دینی۔
Rakhshanda Syed
copied

*جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے*اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس...
03/01/2026

*جسٹس منصور کو 16 کروڑ اور جسٹس اطہر من اللّٰہ کو 15 کروڑ پنشن کی مد میں مل گئے*
اسلام آباد: جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ نے 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد مستعفی ہونے پر بالترتیب 16 کروڑ 10 لاکھ روپے اور 15 کروڑ 40 لاکھ روپے سے زائد کمیوٹڈ پنشن حاصل کر لی۔
ذرائع کے مطابق دونوں ریٹائرڈ ججز کو ماہانہ پنشن کے طور پر بالترتیب 11 لاکھ روپے اور 12 لاکھ روپے سے زائد رقم مل رہی ہے۔
وزارت قانون نے ہاؤس رینٹ ساڑھے 3لاکھ، سپیریئر جوڈیشل الاؤنس 11لاکھ سے زائد کردیا تھا، جسٹس منصور علی شاہ نے 16 سال جبکہ جسٹس اطہر من اللہ نے 11 سال سے زائد ملازمت کی، دونوں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مستعفی ہوئے، دونوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی میڈیکل، رہائش ودیگر سہولیات اور بیگمات کیلئے مراعات حاصل ہیں۔
معتبر ذرائع سے ملنے والی معلومات کے مطابق دونوں سابق جج صاحبان کی ماہانہ پنشن کی تفصیل کچھ یوں ہے:جسٹس اطہر من اللہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 12 لاکھ 20 ہزار 381 روپے ہے، جس میں ڈرائیور پنشن 91 ہزار 258 روپے، خصوصی اضافی پنشن 84 ہزار 885 روپے اور میڈیکل الاؤنس الاؤنسز شامل ہیں۔
جسٹس منصور علی شاہ کی مجموعی ماہانہ پنشن 11 لاکھ 35 ہزار 496 روپے ہے، جس میں ڈرائیور پنشن 91 ہزار 258 روپے اور میڈیکل الاؤنس 45,799 روپے اور 11,450 روپے شامل ہیں۔
copied

یہ پوسٹ میں اس لیے لکھ رہی ہوں کہ شاید کوئی بھابھی خود سمجھ جائے…کیونکہ میں اپنی بھابھی کو نہ سمجھا سکتی ہوں، نہ کھل کر ...
03/01/2026

یہ پوسٹ میں اس لیے لکھ رہی ہوں کہ شاید کوئی بھابھی خود سمجھ جائے…
کیونکہ میں اپنی بھابھی کو نہ سمجھا سکتی ہوں، نہ کھل کر کچھ کہہ سکتی ہوں 😐۔
میں سارا دن آن لائن کام بھی کرتی ہوں، گھر کے کام بھی،
اور بونس میں بھابھی کے بچے بھی سنبھالتی ہوں۔
مجھے واقعی کوئی مسئلہ نہیں…
مسئلہ تب بنتا ہے جب انصاف چھٹی پر چلا جائے۔
بھابھی کھانا بناتی ہیں،
لیکن آٹا گوندھنا میرا، سبزی کاٹنا میرا، چولہے کے آگے کھڑا رہنا میرا۔
وہ بس کسی شیف کی طرح آ کر چمچ ہلاتی ہیں
اور جاتے جاتے اتنے برتن چھوڑ جاتی ہیں
جیسے برتن دھونے کا کوئی عالمی مقابلہ ہو اور میں واحد 😂😂امیدوار ہوں
میں برتن دھو کر رکھوں،
تو وہ نیا برتن نکال لیتی ہیں…
اور پھر ایسے ہی چھوڑ کر چلی جاتی ہیں
جیسے برتن خود ہی دھل جائیں گے، صدقے میں 🙂۔
وہ نماز پڑھتی ہیں تو بچہ مجھے دے جاتی ہیں
کیونکہ “وہ تنگ کرتا ہے” — بالکل ٹھیک۔
لیکن جب میں نماز پڑھوں
تو وہی بچہ جائے نماز پر میرے ساتھ کھیلتا رہتا ہے۔
کیونکہ شاید عبادت صرف ایک طرف کی ہوتی ہے۔
میں دن بھر کام کر کے
دو منٹ آ کر بیٹھوں
تو فوراً بچہ میری گود میں:
“میں بہت تھک گئی ہوں، ذرا تم سنبھال لو”
اور شام کو بھائی کو رپورٹ:
“سارا دن ان دونوں نے مجھے آرام نہیں کرنے دیا۔
وہ ناشتہ کریں — بچہ مجھے
روٹیاں پکائیں — بچہ مجھے
کھانا پکائیں — بچہ مجھے
اور اگر میں کھانا پکاؤں، نماز پڑھوں، برتن دھوؤں یا صفائی کروں
تو جواب ایک ہی:
“تم نے بچے کو اپنا عادی بنا لیا ہے۔”
اللہ خوش رکھے ان کو،
میں کچھ کہہ نہیں سکتی…
لیکن اگر کوئی بھابھی یہ پڑھ رہی ہیں تو
بس اتنا سا خیال رکھ لیجیے گا:
آپ کی نند بھی انسان ہے،
کوئی آل راؤنڈر نوکر نہیں 😀😂۔
خوش رہیں
copy paste for public interest
anonymous participant in group

03/01/2026
حدیقہ کیانی کی اس تصویر کے ساتھ پاکستانیوں کا ایک ہی عنوان ہے کہ " مدد کرنے یا لاوارث بچے پالنے والوں کے چہرے پہ ایسا نو...
03/01/2026

حدیقہ کیانی کی اس تصویر کے ساتھ پاکستانیوں کا ایک ہی عنوان ہے کہ " مدد کرنے یا لاوارث بچے پالنے والوں کے چہرے پہ ایسا نور آتا ہے "
برصغیریوں کا ایک مسئلہ بلکہ خرابی ہے کہ وہ نہ صرف الٹ سوچتے ہیں بلکہ ان کی مثال بھیڑ بکریوں جیسی ہے جس طرف ایک ہو گئی سب اسی کے پیچھے ہو لیں۔
حدیقہ کیانی نے جو فلاحی کام کئے ہیں وہ بہت شاندار اور بلاشبہ قابل تعریف ہیں جس کا اجر اسے اللہ دے گا، رہی بات نور کی تو اگر نور ایسے آتے تو بل گیٹس اور مشل ابامہ کے چہرے پہ سب سے زیادہ نور ہوتا ، یہ نور نہیں بلکہ 40 ہزار کی ساڑھی لاکھوں کی جیولری اور ہزاروں کے میک اپ اور فلٹر ہیں اور اس سے کہیں زیادہ نور مریم صفدر کے چہرے پہ ہوتا ہے ۔
بلکہ ان دونوں سے زیادہ نور شفف شفف سرکار کے چہرے پہ ہوتا ہے۔
کسی کے اچھے اور مثبت کام کی تعریف کریں لیکن ساتھ یہ نور جیسی چولیں نہ مارا کریں۔
باخدا میں نے اپنی آنکھوں سے ایسے لوگ دیکھے جو بڑے بڑے سٹور اور سوپر مارکیٹ کے کاونٹر پہ رات کو پیسے دے جاتے ہیں کہ کل صبح جو پہلے دس یا بیس گاہک آئیں ان سے پیسے نہ لینا، ہسپتالوں کے باہر میڈیکل سٹور پہ دیکھا کہ جب مریض پیسے دینے لگتے تو انہیں بتایا جاتا کہ آپ کا بل ہو گیا یے ،دوکانوں میں دوسرے لوگوں کا ادھار چکاتے دیکھا جنہیں نہ کوئی دیکھتا ہے اور نہ ہی جانتا ہے کہ ہمیں پیسے کس نے دیئے یا کس نے ہمارا راشن بھیجا اور کس نے بل ادا کیا ، ان کی نہ تو کوئی تصویر آتی ہے نہ بیان ، نہ میڈیا پہ خبر چلتی نہ ان کا نام آتا اور نہ ہی کسی دوسرے فرد کو ان کا پتہ چلتا۔
سائیں واجد رفیق کے قلم سے

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 97 فیصد اضافے سے 82 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے82 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5 فیصد...
03/01/2026

پاکستانیوں کی اوسط آمدنی 97 فیصد اضافے سے 82 ہزار روپے ماہانہ ہوگئی، حکومتی سروے
82 فیصد لوگوں کے پاس اپنے گھر، 10.5 فیصد کرایہ دار ہیں، گھریلو اخراجات 79 ہزار روپے ہوگئے

سب سے گھٹیا حرکت جو سردیوں میں شاید نوے فیصد پاکستانی کرتے ہیں۔وہ ہے گرم پانی کے انتظار میں بہت سا پانی ضائع کرنا۔آپ نے ...
03/01/2026

سب سے گھٹیا حرکت جو سردیوں میں شاید نوے فیصد پاکستانی کرتے ہیں۔
وہ ہے گرم پانی کے انتظار میں بہت سا پانی ضائع کرنا۔
آپ نے ہاتھ دھونے ہیں، دن میں پانچ وقت وضو کرنا ہے، نہانا ہے۔ اس سب میں یومیہ 7 لیٹر سے 20 لیٹر تک پانی ضائع کرتے ہیں۔
سب سے ذیادہ غصہ تو ان لوگوں پر آتا ہے جو آدھ لیٹر پانی سے ہاتھ دھونے کی خاطر 4 لیٹر پانی، گرم پانی کے انتظار میں ضائع کرتے ہیں
جن ممالک میں پینے کا صاف پانی بہت کم رہ گیا ہے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں ٹاپ پر ہے۔
ممکنہ طور پر 2030 کے بعد پاکستان میں صاف پانی کی قلت ہوگی۔
تھوڑی سی زحمت کریں تو اس پانی کو بچایا جا سکتا ہے۔
کیسے؟
بہت آسان ہے واش روم میں بالٹی وغیرہ رکھی ہوتی ہے، تو بھائی اگر گرم پانی ہی مقصود ہے تو بالٹی کو ٹوٹی کے نیچے رکھیں اس میں ٹھنڈا پانی نکلتا جائے گا۔
اس طریقے سے آپ گرم پانی، بغیر ٹھنڈا پانی ضائع کیے استعمال کر سکتے ہیں
ٹھنڈے پانی کو واش روم میں استعمال یا فلش/کموڈ صاف کرنے کیلئے محفوظ رکھیں اور استعمال کریں۔
ایسے ہی سنک میں اگر گرم پانی چاہیے تو تین چار ڈبے بھر کر بالٹی میں ڈال دیں اور گرم پانی استعمال کریں۔
اور اگر بجٹ ہے تو کوشش کریں ایک ٹوٹی گیزر کے قریب لگوا لیں۔ ہاتھ دھونے یا وضو کرنے یا تھوڑا بہت گرم پانی چاہیے تو وہ ٹوٹی استعمال کریں۔
اخلاقیات اور معاشرتی فرائض بھی کسی چیز کا نام ہے۔ لازمی نہیں کہ حکومت کی طرف سے قوانین بنا کر ڈنڈا ہی دیا جائے تو ہی ہم نے عملدرآمد کرنا ہے۔
یورپ وغیرہ میں اس حوالے بالکل ٹھیک قوانین ہیں۔وہاں پانی کا بل آتا ہے باقاعدہ۔ مقصد پانی بچانا ہے، پیسہ کمانا نہیں۔ وہاں لوگوں نے سنک کے پائپس کو کموڈ کیساتھ اٹیچ کیا ہوتا ہے۔ تاکہ ہاتھ دھونے والا پانی بھی ضائع نا ہو وہ پانی ڈائریکٹ کموڈ میں جائے۔
تو گزارش ہے کہ ہمیں کچھ کام اخلاقی فرض سمحجھتے ہوئے بھی کرنے چاہیے، اور انسان بننا چاہیے۔
اپنی آئندہ نسلوں کیلئے پانی پچائیں
ازقلم: راؤ جواد خلیل
شکریہ

Address

Raheem Chowk Masoom Shah Road Near Chowk Kumharan
Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Easy Marriage Bureau Multan posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Easy Marriage Bureau Multan:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram