28/04/2026
اسلام میں رات کو جلدی سونا اور فجر کے وقت جلدی اٹھنا پسندیدہ عمل ہے، جبکہ بلاوجہ دیر تک جاگنے کو ناپسند کیا گیا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کے متعلق تفصیلی رہنمائی درج ذیل ہے:
1. قرآن کریم کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ نے رات کو آرام اور دن کو کام کے لیے بنایا ہے۔
سورت النبأ (آیت 9-10): "اور تمہاری نیند کو آرام کا ذریعہ بنایا، اور رات کو لباس (یعنی پردہ/سکون) بنایا۔"
سورت الفرقان (آیت 47): "اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو لباس اور نیند کو سکون بنایا اور دن کو اٹھ کھڑے ہونے کا وقت بنایا۔"
خلاصہ: قرآن کے مطابق رات آرام کے لیے ہے، اور رات کو جاگنا فطرت کے خلاف ہے۔
2. حدیث نبویﷺ کی روشنی میں
نبی کریم ﷺ عشاء کے بعد جلد سونے کو پسند فرماتے تھے۔
حدیث (صحیح بخاری 568): حضرت ابو برزہؓ سے روایت ہے کہ "رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد (بلاوجہ) باتیں کرنے کو ناپسند فرماتے تھے۔"
حدیث (سنن ابن ماجہ 702): حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ "رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے نہیں سوتے تھے اور نہ ہی عشاء کے بعد جاگتے تھے۔"
سنت طریقہ: نبی ﷺ عشاء کے بعد جلد سو جاتے اور رات کے آخری حصے میں تہجد کے لیے اٹھتے تھے۔
3. رات کو دیر تک جاگنے کے نقصانات
فجر کی نماز کا فوت ہونا: دیر تک جاگنے کی وجہ سے اکثر لوگ فجر کی نماز سے محروم ہو جاتے ہیں، جو کہ گناہِ کبیرہ کے برابر ہے۔
وقت کا ضیاع: بلاوجہ سوشل میڈیا یا فضول باتوں میں وقت برباد کرنا جو کہ اللہ کو ناپسند ہے۔
صحت کی خرابی: اسلام صحت کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ سائنسی اور طبی لحاظ سے بھی رات کو دیر تک جاگنا مضر صحت ہے۔
4. کن صورتوں میں دیر تک جاگنا جائز ہے؟
علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کوئی دینی یا جائز اور ضروری کام ہو تو دیر تک جاگنا جائز ہے:
نمازِ تہجد یا عبادت کے لیے جاگنا۔
علمِ دین حاصل کرنا یا پڑھائی کرنا۔
مہمان کی مہمان نوازی کرنا۔
میاں بیوی کا آپس میں بات چیت کرنا۔
ضروری کام یا سفر وغیرہ۔
خلاصہ:
اسلامی تعلیمات کے مطابق رات کو جلد سونا (عشاء کے فورا بعد) بہترین ہے تاکہ تہجد اور فجر کے لیے بیدار ہو سکیں اور دن بھر چاق و چوبند رہیں۔ فضول دیر تک جاگنا ناپسندیدہ عادت ہے