12/01/2026
مسیار اور متعہ: حقیقت کیا ہے؟
بھئی، سیدھی سی بات ہے، یہ دونوں چیزیں نکاح کے روایتی تصور سے تھوڑی ہٹ کر ہیں، اسی لیے ان پر بحث ہوتی ہے۔
1. نکاحِ متعہ (Temporary Marriage)
یہ وہ نکاح ہے جو ایک خاص ٹائم (مثلاً 2 گھنٹے، 2 دن یا 2 مہینے) کے لیے کیا جاتا ہے۔
اہلِ تشیع کا موقف: وہ اسے جائز سمجھتے ہیں اور سورہ النساء کی آیت 24 سے استدلال کرتے ہیں۔ ان کے ہاں یہ زنا سے بچنے کا ایک شرعی طریقہ ہے۔
اہلِ سنت کا موقف: وہ اسے حرام مانتے ہیں۔ ریفرنس کے طور پر صحیح بخاری (حدیث: 5115) اور صحیح مسلم (حدیث: 1406) پیش کی جاتی ہے، جس کے مطابق نبی ﷺ نے جنگِ خیبر یا فتح مکہ کے موقع پر اسے ہمیشہ کے لیے منع کر دیا تھا۔
آج کل کی شکل: یہ زیادہ تر ایران یا عراق جیسے ممالک میں یا مخصوص کمیونٹیز میں پایا جاتا ہے۔ اسے "وقتی سکون" کا راستہ کہا جاتا ہے۔
2. نکاحِ مسیار (Misyar Marriage)
یہ اہل سنت (خاص کر عرب ملکوں) میں پایا جاتا ہے۔ یہ متعہ سے مختلف ہے کیونکہ اس میں وقت طے نہیں ہوتا (یہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے)۔
فرق کیا ہے؟ اس میں عورت اپنے کچھ حقوق جیسے "نان و نفقہ" (خرچہ) یا "رات گزارنے کی باری" سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ مرد اپنی پہلی فیملی کے ساتھ رہتا ہے اور دوسری بیوی کے پاس کبھی کبھار جاتا ہے۔
فقہی حیثیت: سعودی عرب کے بڑے علماء (شیخ بن باز وغیرہ) نے اسے جائز کہا ہے کیونکہ نکاح کی بنیادی شرائط (گواہ، مہر، ایجاب و قبول) پوری ہوتی ہیں۔
آج کل کی شکل: یہ "خفیہ شادی" کی ایک جدید شکل بن چکی ہے۔ وہ لوگ جو دوسری شادی افورڈ نہیں کر سکتے یا گھر والوں سے چھپانا چاہتے ہیں، وہ اس کا سہارا لیتے ہیں۔
کیا یہ بے حیائی کا راستہ ہے؟ (The Real Talk)
اگر ہم اسے "سوشل اینگل" سے دیکھیں تو اس میں دو آراء ہیں:
پیشہ ورانہ استعمال: آج کل انٹرنیٹ اور ایپس کے ذریعے ان دونوں چیزوں کو "جسمانی تعلق" کے لائسنس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگ اسے "حلال ڈیٹینگ" یا "شارٹ ٹرم ریلیشن شپ" کا نام دے کر اصل نکاح کے مقصد (خاندان بنانا) کو ختم کر رہے ہیں۔
مجبوری کا راستہ: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ ان بیواؤں یا طلاق یافتہ خواتین کے لیے بہتر ہے جنہیں کوئی مستقل نہیں اپناتا، یا ان مردوں کے لیے جو گناہ (زنا) میں پڑنے کے بجائے کسی قانونی فریم ورک میں رہنا چاہتے ہیں۔
متحہ ایک "ٹائم لمیٹڈ" کانٹریکٹ ہے (جو سنیوں کے ہاں حرام ہے)، جبکہ مسیار ایک "کم سہولیات والا" دائمی نکاح ہے (جو فقہی طور پر جائز مگر اخلاقی طور پر متنازع ہے)۔
سچی بات تو یہ ہے کہ بہت سے اہل علم اسے "جسمانی تعلقات کا ایک خفیہ راستہ" ہی سمجھتے ہیں کیونکہ اس میں وہ ذمہ داری اور کمٹمنٹ نہیں ہوتی جو ایک عام گھر بسانے میں ہوتی ہے۔ اسے "قانونی زنا" کا نام بھی دیا جاتا ہے کیونکہ اس کا مقصد صرف نفسانی خواہش ہوتی ہے۔