01/01/2026
سوال: کیا جِن کے ساتھ رابطہ کرنا، اور ان سے مدد لینا، علاج میں جائز ہے یا یہ استدراجِ ابلیس میں سے ہے؟
جواب: میرے پیارے بھائیو، کچھ لوگ جنات سے رابطہ کرتے ہیں یا رقیہ کے دوران جنات سے مدد حاصل کرنا جائز سمجھتے ہیں اور اس کے لیے وہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی فتاویٰ سے دلیل لاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا منہج اس معاملے میں بالکل مختلف ہے، اور وہ جنات سے رابطہ کرنے اور مدد لینے سے منع کرتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیک جنات کے ساتھ بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنا جائز ہے، جیسے کہ نیک انسانوں کے ساتھ تعاون کرنا جائز ہے۔ لیکن رقیہ کے دوران جنات کے ساتھ تعاون کے مختلف اور خطرناک طریقے ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں
1. کچھ لوگ جنات کو بلاتے ہیں کہ جادو کو ختم کریں یا قبر یا سمندر سے جادو کو نکالیں۔
2. بعض اوقات، جنات کو جسم سے نکالنے کے لیے کہا جاتا ہے یا انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب وہ نکلنے سے انکار کرتے ہیں
3. کبھی مریض کی بیماری کی تشخیص کے لیے جنات سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ مس، نظر بد، حسد یا جادو ہے۔
4. بعض اوقات، یہ کہاجاتا ہے کہ جن جسم میں موجود ہے اور جسم کے اندر مختلف حرکات کرتا ہے۔
جنات کے ساتھ رابطہ کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں
1. کبھی راقی مریض کے بجائے کسی "وسیط" یعنی بچے یا بیوی کے ذریعے جنات سے سوالات کرتا ہے اور جنات اس شخص کے بارے میں بتاتے ہیں۔
2. راقی اپنی آنکھیں بند کرتا ہے یا کھلی رکھ کر جن سے پوچھتا ہے کہ مریض کا مسئلہ کیا ہے، اور جن اسے اشارے دیتا ہے۔
3. راقی جنات سے ہاتھ یا انگلیوں کی حرکات کے ذریعے بات چیت کرتا ہے۔
4. راقی براہ راست مریض پر رقیہ کرتا ہے اور جنات مریض کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔
لیکن میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جنات کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہ کریں۔ یہ شیطان کے استدراج (پھسلانے) کے حربے ہیں۔ شیطان انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ جنات اس کی مدد کریں گے، لیکن یہ انسان کو شر میں ڈالنے کا ایک طریقہ ہے۔
اگر واقعی جنات ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں تو
1. وہ ہمیں دشمنانِ اسلام کے بینکوں سے رقم لا کر دیں تاکہ ہم غرباء کی مدد کریں۔
2. یا پھر ف ل س طی ن ہی چھوڑ آئیں تاکہ مظلوموں کی حمایت و مدد ہو سکے ۔
جس سے ہم دشمنانِ اسلام کو نقصان پہنچا سکیں۔
استدراجِ ابلیس کے ممکنہ راستے جن میں انسان کو شیطان مختلف طریقوں سے پھنساتا ہے تاکہ وہ اللہ پر توکل کی بجائے مخلوق سے مدد مانگنے لگے۔ یہ دس راستے مندرجہ ذیل ہیں
1. جنات کی مدد کا سہارا: شیطان انسان کو یقین دلاتا ہے کہ نیک جنات اس کی مدد کریں گے۔ اس طرح وہ غیر مرئی مخلوقات پر بھروسہ کر لیتا ہے، جس سے ایمان کی کمزوری بڑھتی ہے اور اللہ سے توکل کم ہو جاتا ہے۔
2. جادو ختم کرنے میں جنات کو شامل کرنا: بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ جنات اس کی مدد سے جادو یا کسی اور نقصان دہ چیز کو ختم کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ شیطان کے پھسلانے کا حربہ ہے تاکہ انسان جنات پر بھروسہ کرے اور اللہ سے دور ہو جائے۔
3. جنات سے معلومات حاصل کرنا: بعض رقیہ کرنے والے جنات سے مریض کی بیماری یا مسئلہ جاننے کے لیے پوچھتے ہیں۔ یہ عمل، غیر مرئی مخلوق کی طرف رجوع اور شرک کا دروازہ کھولنے کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔
4. وسیط کا استعمال: شیطان کی طرف سے انسان کو جنات سے معلومات لینے کے لیے وسائط (معدود یا وسائل) کا استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے، جیسے کہ بچے، بیوی یا کسی اور کے ذریعے رابطہ کیا جائے۔
5. جنات کے ذریعے تشخیص کرنا: بعض لوگ جنات کو مریض کی تشخیص کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ آیا مریض جادو، حسد یا نظر بد کا شکار ہے۔ یہ شیطان کا استدراج ہے جس میں انسان جنات پر بھروسہ کر لیتا ہے۔
6. جنات کی حرکات سے بات چیت: بعض رقیہ کرنے والے مریض کی جسمانی حرکات جیسے ہاتھ یا انگلیوں کے ذریعے جنات سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ شیطان کے استدراج کا ایک طریقہ ہے کہ انسان غیر مرئی قوتوں پر بھروسہ کرے۔
7. براہ راست جنات سے سوالات: رقیہ کے دوران براہ راست جنات سے سوال کرنا اور مریض کی تکلیف کے بارے میں ان سے معلومات لینا، شیطان کی طرف سے پھسلانے کا ایک طریقہ ہے۔
8. جنات کو طاقتور سمجھنا: شیطان انسان کو یقین دلاتا ہے کہ جنات طاقتور ہیں اور اس کی مدد کر سکتے ہیں، جس سے انسان کی اللہ پر ایمان اور توکل کمزور ہو جاتا ہے۔
9. جنات کی جانب سے مال یا دولت دینے کا لالچ: شیطان بعض اوقات انسان کو اس لالچ میں ڈالتا ہے کہ جنات دولت فراہم کریں گے یا دشمنوں کو نقصان پہنچانے میں مدد کریں گے، جو کہ شرک کی طرف لے جانے کا راستہ ہے۔
10. جنات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کو نقصان پہنچانے کی خواہش: شیطان انسان کو قائل کرتا ہے کہ جنات اس کے دشمنوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ شیطان کا ایک حربہ ہے تاکہ انسان اللہ کی نصرت اور دعا کی بجائے غیر مرئی مخلوق کی طرف متوجہ ہو جائے۔
یہ تمام راستے شیطان کی طرف سے استدراج (پھسلانے) کے حربے ہیں، جن کے ذریعے انسان کو اللہ سے دور اور مخلوق پر انحصار کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر قسم کی مدد اور توکل کے لیے اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر مرئی مخلوق سے رابطے سے بچنا چاہیے۔
میری اپنے راقی بھائیوں کے ساتھ تجربے میں شیطان مجھے بھی اس دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا، مگر اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے مجھے بچا لیا۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ میں نے محمد عیسیٰ داود کی کتاب "حوار صحفی مع جنی مسلم" پڑھی، جس میں جنات سے مدد لینے کا ذکر تھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے میں اس دلدل میں پھنسنے والا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس خطرناک راستے سے بچا لیا۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے اور ہمیں کسی سے مدد طلب کرنے کے بجائے صرف اسی واحد اور اکیلے اللہ پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔