الرقية الشرعية من القرآن والسنة

الرقية الشرعية من القرآن والسنة Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from الرقية الشرعية من القرآن والسنة, Alternative & holistic health service, STREET NO 1 HOME NO 2 AKAB JINAZGA HADOKE MURIDKE, Muridke.

سوال: کیا جِن کے ساتھ رابطہ کرنا، اور ان سے مدد لینا، علاج میں جائز ہے یا یہ استدراجِ ابلیس میں سے ہے؟جواب: میرے پیارے ب...
01/01/2026

سوال: کیا جِن کے ساتھ رابطہ کرنا، اور ان سے مدد لینا، علاج میں جائز ہے یا یہ استدراجِ ابلیس میں سے ہے؟

جواب: میرے پیارے بھائیو، کچھ لوگ جنات سے رابطہ کرتے ہیں یا رقیہ کے دوران جنات سے مدد حاصل کرنا جائز سمجھتے ہیں اور اس کے لیے وہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی فتاویٰ سے دلیل لاتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا منہج اس معاملے میں بالکل مختلف ہے، اور وہ جنات سے رابطہ کرنے اور مدد لینے سے منع کرتے ہیں۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ نیک جنات کے ساتھ بھلائی کے کاموں میں تعاون کرنا جائز ہے، جیسے کہ نیک انسانوں کے ساتھ تعاون کرنا جائز ہے۔ لیکن رقیہ کے دوران جنات کے ساتھ تعاون کے مختلف اور خطرناک طریقے ہوتے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں
1. کچھ لوگ جنات کو بلاتے ہیں کہ جادو کو ختم کریں یا قبر یا سمندر سے جادو کو نکالیں۔
2. بعض اوقات، جنات کو جسم سے نکالنے کے لیے کہا جاتا ہے یا انہیں قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جب وہ نکلنے سے انکار کرتے ہیں
3. کبھی مریض کی بیماری کی تشخیص کے لیے جنات سے پوچھا جاتا ہے کہ آیا یہ مس، نظر بد، حسد یا جادو ہے۔
4. بعض اوقات، یہ کہاجاتا ہے کہ جن جسم میں موجود ہے اور جسم کے اندر مختلف حرکات کرتا ہے۔
جنات کے ساتھ رابطہ کرنے کے طریقے درج ذیل ہیں
1. کبھی راقی مریض کے بجائے کسی "وسیط" یعنی بچے یا بیوی کے ذریعے جنات سے سوالات کرتا ہے اور جنات اس شخص کے بارے میں بتاتے ہیں۔
2. راقی اپنی آنکھیں بند کرتا ہے یا کھلی رکھ کر جن سے پوچھتا ہے کہ مریض کا مسئلہ کیا ہے، اور جن اسے اشارے دیتا ہے۔
3. راقی جنات سے ہاتھ یا انگلیوں کی حرکات کے ذریعے بات چیت کرتا ہے۔
4. راقی براہ راست مریض پر رقیہ کرتا ہے اور جنات مریض کے متعلق معلومات فراہم کرتے ہیں۔
لیکن میں اپنے بھائیوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ جنات کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون نہ کریں۔ یہ شیطان کے استدراج (پھسلانے) کے حربے ہیں۔ شیطان انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ جنات اس کی مدد کریں گے، لیکن یہ انسان کو شر میں ڈالنے کا ایک طریقہ ہے۔
اگر واقعی جنات ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہتے ہیں تو
1. وہ ہمیں دشمنانِ اسلام کے بینکوں سے رقم لا کر دیں تاکہ ہم غرباء کی مدد کریں۔
2. یا پھر ف ل س طی ن ہی چھوڑ آئیں تاکہ مظلوموں کی حمایت و مدد ہو سکے ۔
جس سے ہم دشمنانِ اسلام کو نقصان پہنچا سکیں۔
استدراجِ ابلیس کے ممکنہ راستے جن میں انسان کو شیطان مختلف طریقوں سے پھنساتا ہے تاکہ وہ اللہ پر توکل کی بجائے مخلوق سے مدد مانگنے لگے۔ یہ دس راستے مندرجہ ذیل ہیں
1. جنات کی مدد کا سہارا: شیطان انسان کو یقین دلاتا ہے کہ نیک جنات اس کی مدد کریں گے۔ اس طرح وہ غیر مرئی مخلوقات پر بھروسہ کر لیتا ہے، جس سے ایمان کی کمزوری بڑھتی ہے اور اللہ سے توکل کم ہو جاتا ہے۔
2. جادو ختم کرنے میں جنات کو شامل کرنا: بعض اوقات انسان سمجھتا ہے کہ جنات اس کی مدد سے جادو یا کسی اور نقصان دہ چیز کو ختم کر سکتے ہیں۔ یہ طریقہ شیطان کے پھسلانے کا حربہ ہے تاکہ انسان جنات پر بھروسہ کرے اور اللہ سے دور ہو جائے۔
3. جنات سے معلومات حاصل کرنا: بعض رقیہ کرنے والے جنات سے مریض کی بیماری یا مسئلہ جاننے کے لیے پوچھتے ہیں۔ یہ عمل، غیر مرئی مخلوق کی طرف رجوع اور شرک کا دروازہ کھولنے کا ایک طریقہ بن سکتا ہے۔
4. وسیط کا استعمال: شیطان کی طرف سے انسان کو جنات سے معلومات لینے کے لیے وسائط (معدود یا وسائل) کا استعمال کرنا سکھایا جاتا ہے، جیسے کہ بچے، بیوی یا کسی اور کے ذریعے رابطہ کیا جائے۔
5. جنات کے ذریعے تشخیص کرنا: بعض لوگ جنات کو مریض کی تشخیص کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ آیا مریض جادو، حسد یا نظر بد کا شکار ہے۔ یہ شیطان کا استدراج ہے جس میں انسان جنات پر بھروسہ کر لیتا ہے۔
6. جنات کی حرکات سے بات چیت: بعض رقیہ کرنے والے مریض کی جسمانی حرکات جیسے ہاتھ یا انگلیوں کے ذریعے جنات سے بات چیت کرتے ہیں۔ یہ شیطان کے استدراج کا ایک طریقہ ہے کہ انسان غیر مرئی قوتوں پر بھروسہ کرے۔
7. براہ راست جنات سے سوالات: رقیہ کے دوران براہ راست جنات سے سوال کرنا اور مریض کی تکلیف کے بارے میں ان سے معلومات لینا، شیطان کی طرف سے پھسلانے کا ایک طریقہ ہے۔
8. جنات کو طاقتور سمجھنا: شیطان انسان کو یقین دلاتا ہے کہ جنات طاقتور ہیں اور اس کی مدد کر سکتے ہیں، جس سے انسان کی اللہ پر ایمان اور توکل کمزور ہو جاتا ہے۔
9. جنات کی جانب سے مال یا دولت دینے کا لالچ: شیطان بعض اوقات انسان کو اس لالچ میں ڈالتا ہے کہ جنات دولت فراہم کریں گے یا دشمنوں کو نقصان پہنچانے میں مدد کریں گے، جو کہ شرک کی طرف لے جانے کا راستہ ہے۔
10. جنات کے ذریعے دشمنانِ اسلام کو نقصان پہنچانے کی خواہش: شیطان انسان کو قائل کرتا ہے کہ جنات اس کے دشمنوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہ شیطان کا ایک حربہ ہے تاکہ انسان اللہ کی نصرت اور دعا کی بجائے غیر مرئی مخلوق کی طرف متوجہ ہو جائے۔
یہ تمام راستے شیطان کی طرف سے استدراج (پھسلانے) کے حربے ہیں، جن کے ذریعے انسان کو اللہ سے دور اور مخلوق پر انحصار کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر قسم کی مدد اور توکل کے لیے اللہ کی طرف ہی رجوع کرنا چاہیے اور کسی بھی غیر مرئی مخلوق سے رابطے سے بچنا چاہیے۔
میری اپنے راقی بھائیوں کے ساتھ تجربے میں شیطان مجھے بھی اس دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا، مگر اللہ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے مجھے بچا لیا۔ یہ سب اس وجہ سے ہوا کہ میں نے محمد عیسیٰ داود کی کتاب "حوار صحفی مع جنی مسلم" پڑھی، جس میں جنات سے مدد لینے کا ذکر تھا اور اس غلط فہمی کی وجہ سے میں اس دلدل میں پھنسنے والا تھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے اس خطرناک راستے سے بچا لیا۔
ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سچی توبہ کی توفیق دے اور ہمیں کسی سے مدد طلب کرنے کے بجائے صرف اسی واحد اور اکیلے اللہ پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

جادوگروں (السَّحَرَة) کے خلاف سخت عذاب اور ہلاکت کی دعا
31/12/2025

جادوگروں (السَّحَرَة) کے خلاف سخت عذاب اور ہلاکت کی دعا

اسلام میں رقیہ شرعیہ (قرآن اور اذکار کے ذریعے علاج) کا مقام اور جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔ اس ک...
28/12/2025

اسلام میں رقیہ شرعیہ (قرآن اور اذکار کے ذریعے علاج) کا مقام اور جواز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے ثابت ہے۔ اس کے لیے ایک معروف حدیث "لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا" (رقیہ میں کوئی حرج نہیں جب تک وہ شرک نہ ہو) خاص اہمیت رکھتی ہے۔
حدیث کا حوالہ
یہ حدیث صحیح مسلم اور صحیح بخاری دونوں میں موجود ہے
1. صحیح مسلم (حدیث نمبر: 2200)
2. صحیح بخاری (حدیث نمبر: 5705)
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ رقیہ (دم یا جھاڑ پھونک) جائز ہے، بشرطیکہ اس میں شرک کا کوئی عنصر شامل نہ ہو۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ اگر کوئی رقیہ اللہ کے کلام یعنی قرآن مجید، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول دعاؤں یا اذکار پر مبنی ہو، اور اس میں کسی مخلوق کو مدد کے لیے نہ پکارا جائے، تو یہ شرعی اعتبار سے جائز ہے۔
رقیہ کے اصول
1. رقیہ میں قرآن اور دعائیں: قرآن کی کوئی بھی آیت یا سورہ رقیہ کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ" (سورہ الاسراء 17:82)
اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ پورا قرآن شفاء ہے اور کسی بھی آیت یا سورہ کو رقیہ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
2. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اذکار نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی اذکار اور دعائیں بتائی ہیں جو رقیہ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، صحیح مسلم میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دم منقول ہے:
"أَذْهِبِ البَاسَ رَبَّ النَّاسِ، اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، لاَ شِفَاءَ إِلاَّ شِفَاؤُكَ، شِفَاءً لاَ يُغَادِرُ سَقَمًا"
(اے لوگوں کے رب! تکلیف کو دور فرما، تو ہی شفا دینے والا ہے، تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں، ایسی شفا دے جو بیماری کو ختم کر دے۔)
3. شرک سے بچاؤ: رقیہ کے جواز کی اصل شرط یہی ہے کہ اس میں شرک شامل نہ ہو، جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا"
(رقیہ میں کوئی حرج نہیں جب تک وہ شرک نہ ہو) لہذا، جو رقیہ اللہ کی مدد اور اس کے کلام پر مبنی ہو اور شرکیہ عقائد و اعمال سے پاک ہو، وہ جائز ہے۔
راقی کے تجربات اور شرعی حدود
رقیہ کے ضمن میں ایک اور اصول یہ ہے کہ اگر کسی راقی کے تجربات یا تخصص سے یہ ثابت ہو کہ قرآن کی کوئی خاص سورہ یا آیت کسی مخصوص مرض میں زیادہ مؤثر ہے، تو یہ بھی درست ہو سکتا ہے، بشرطیکہ:
اس عمل میں شریعت کی پابندی ہو۔
اس میں شرک یا بدعت شامل نہ ہو۔
یہ یقین نہ ہو کہ مخصوص تعداد یا آیت بذات خود شفاء دے گی، بلکہ یہ صرف ایک ذریعہ یا سبب سمجھا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بھی اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آپ نے مختلف دعاؤں کو مخصوص مواقع پر بار بار دہرایا، اور یہی وجہ ہے کہ قرآن یا مسنون دعاؤں کو رقیہ میں بار بار پڑھنا جائز ہے، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ الفاتحہ کو بطور رقیہ استعمال کیا اور صحابہ کو اس کے فوائد بتائے۔
1. ابن حجر العسقلانی نے اپنی کتاب فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ رقیہ جائز ہے بشرطیکہ وہ شرک سے پاک ہو اور شریعت کے دائرے میں ہو۔
2. ابن قیم الجوزیہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں بھی رقیہ کو ایک جائز علاج کے طور پر پیش کیا ہے، اور فرمایا کہ قرآن مجید کی آیات کو مختلف امراض کے علاج کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
لہٰذا، اگر کسی راقی کے تجربات سے یہ ثابت ہو کہ کوئی خاص سورہ یا آیت کسی خاص روحانی مرض میں مؤثر ہے، تو اسے قبول کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ وہ شرک اور بدعت سے پاک ہو اور شریعت کی روشنی میں ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی روشنی میں: "لَا بَأْسَ بِالرُّقَى مَا لَمْ تَكُنْ شِرْكًا"، ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ ایسی رقیہ جائز اور مستند ہے۔

قرآن کے ذریعے بالوں کے جھڑنے کا علاج طریقہ: زیتون کے تیل یا کسی بھی بالوں کے تیل کی بوتل کھولیں۔اس پر سورۃ الفاتحہ پڑھیں...
23/12/2025

قرآن کے ذریعے بالوں کے جھڑنے کا علاج

طریقہ:

زیتون کے تیل یا کسی بھی بالوں کے تیل کی بوتل کھولیں۔
اس پر سورۃ الفاتحہ پڑھیں۔
پھر یہ آیت پڑھیں:

﴿وَتَرَى الْأَرْضَ هَامِدَةً فَإِذَا أَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ وَأَنْبَتَتْ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ بَهِيجٍ﴾
(سورۃ الحج: 5)

"اور تم زمین کو مردہ (بنجر) دیکھتے ہو، پھر جب ہم اس پر پانی برساتے ہیں تو وہ جنبش میں آ جاتی ہے، ابھر پڑتی ہے اور ہر قسم کی خوش نما چیزیں اگانے لگتی ہے۔"

اس تیل کو بالوں کی جڑوں میں نرمی سے لگائیں،
اللہ تعالیٰ سے شفا، برکت اور بالوں کی مضبوطی کی دعا کریں۔

یاد رکھیں!
اصل شفا صرف اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، قرآن ہدایت اور شفا ہے، اور اس پر یقین ہی سب سے بڑی دوا ہے۔

رُقیہ شرعیہ دراصل اللہ کے کلام اور نبی ﷺ کی دعاؤں کے ذریعے شفا طلب کرنے کا نام ہے۔ رقیہ میں اثر نہ کسی خاص طاقت سے آتا ہ...
19/12/2025

رُقیہ شرعیہ دراصل اللہ کے کلام اور نبی ﷺ کی دعاؤں کے ذریعے شفا طلب کرنے کا نام ہے۔ رقیہ میں اثر نہ کسی خاص طاقت سے آتا ہے اور نہ کسی مخفی انرجی سے، بلکہ شفا صرف اللہ کے حکم سے ملتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے رقیہ کو جائز قرار دیا، بشرطیکہ اس میں شرک یا غیر شرعی الفاظ شامل نہ ہوں۔ قرآن ہمیں یہ حقیقت بتاتا ہے کہ اس میں شفا ہے، اور یہی رقیہ کی اصل بنیاد ہے۔ رقیہ عبادت ہے؛
یہ کسی ڈرامے، دھمالوں ،شور، چیخوں، یا طاقت کے مظاہرے کا نام نہیں۔ نبی ﷺ کا طریقہ نہایت سکون، وقار پر مشتمل تھا۔

بدقسمتی سے رقیہ کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں، جیسے یہ خیال کہ رقیہ کرنے والے کے جسم سے کوئی انرجی نکلتی ہے یا یہ کہ رقیہ کے لیے کسی خاص علم، گنتی، خفیہ نقشوں یا غیر واضح الفاظ کی ضرورت ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے تمام طریقے جادو کے ہیں، اور علماء نے واضح طور پر کہا ہے کہ ہر وہ رقیہ جس کے الفاظ سمجھے نہ جائیں وہ شیطانی عمل ہے۔ اسی طرح یہ سوچ بھی غلط ہے کہ ہر بیماری جن یا جادو کی وجہ سے ہوتی ہے، یا یہ کہ رقیہ صرف کسی خاص "پروفیشنل راقی" ہی کے ذریعے مؤثر ہو سکتا ہے۔
اصل یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے لیے، اپنے بچوں اور اپنے گھر والوں کے لیے خود رقیہ کر سکتا ہے، اور مریض کا اپنا یقین اور اپنی دعا سب سے زیادہ اثر رکھتی ہے، جیسا کہ ابن قیمؒ نے لکھا کہ مریض کا اپنا نفس رقیہ میں سب سے قوی ہوتا ہے۔
رقیہ شرعیہ کے اصول بہت آسان ہیں
قرآن پڑھنا، مسنون دعائیں کرنا، یقین کے ساتھ اللہ سے مدد مانگنا، اور غیر شرعی چیزوں سے مکمل پرہیز کرنا۔ سورہ فاتحہ، آیت الکرسی، سورہ بقرہ کی آخری آیات، اور سورہ اخلاص، فلق اور ناس رقیہ کی اصل اساس ہیں۔ اس کے علاوہ نبی ﷺ کی مسنون دعائیں سب سے زیادہ مؤثر اور مبارک ہیں۔ اس کے مقابلے میں نمک مرچ جلانا، کالے کپڑے باندھنا، نقش یا دھاگے لٹکانا، یا عملیات والے پیر کے پاس جانا سب باطل اور گمراہ کن طریقے ہیں۔

آج کے دور میں رقیہ پر بھی تین بہت بڑے فتنے مسلط ہو چکے ہیں
ایک رقیہ کو کاروبار بنا دینا، دوسرا اسے ڈرامہ اور تشدد کے ذریعہ شہرت کا ذریعہ بنا لینا، اور تیسرا رقیہ میں جادو کو ملا دینا، یعنی اوپر سے قرآن پڑھنا مگر اندر سے شیطانی طریقوں (استعانہ بالجن)کا استعمال کرنا۔
اصل رقیہ ان تمام فتنوں کے برعکس عاجزی، خشوع، توکل اور اخلاص کا نام ہے۔
سچی بات یہ ہے کہ رقیہ طاقت کا نام نہیں بلکہ اللہ کے سامنے فقر و عاجزی کا اظہار ہے۔ یہ علاج سے زیادہ عبادت ہے، اور شفا قرآن کے ذریعے دلوں میں اترنے والے یقین سے جنم لیتی ہے۔ جب رقیہ خالص اللہ کے لیے ہوتا ہے تو رحمتیں کھلتی ہیں، اور جب رقیہ تجارت یا شہرت بن جاتا ہے تو شیاطین راستہ پا لیتے ہیں۔ یہی رقیہ شرعیہ کی اصل روح اور سیدھی راہ ہے۔
روحانی علاج دراصل اللہ سے شفا مانگنے کا نام ہے، نہ کہ کسی طاقت، انرجی یا خفیہ عملیات کا۔ قرآن شفا ہے، اور اس کی برکت انسان کے جسم، دل اور روح پر اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب بندہ اخلاص، یقین، اور توکل کے ساتھ اللہ کی طرف جھکتا ہے۔ رُقیہ شرعیہ کی اصل بنیاد یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے سامنے عاجزی اختیار کرے اور اس کے کلام سے شفا مانگے۔ آج کے دور میں رُقیہ کے نام پر بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ رقیہ کسی خاص توانائی کا نام ہے، کچھ اسے چیخوں، ڈراموں اور تشدد سے جوڑ دیتے ہیں، اور کچھ اسے خفیہ علوم، اعداد، نقوش اور عملیات کے ساتھ ملا دیتے ہیں۔ حقیقت اس سب سے بالکل مختلف ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رقیہ جائز ہے، جب تک اس میں شرک نہ ہو۔ یعنی رقیہ قرآن اور دعاؤں کے ذریعے اللہ سے شفا طلب کرنے کا نام ہے۔ یہ کوئی ایسا عمل نہیں جس کے لیے خاص طاقت، مخصوص ”علم“ یا کوئی مافوق الفطرت قابلیت درکار ہو۔ قرآن دلوں کی شفا ہے، اور اس کا اثر سب سے زیادہ اس وقت ہوتا ہے جب مریض خود اپنے لیے پڑھتا ہے اور اپنے عمل میں یقین کے ساتھ ثابت قدم رہتا ہے۔ اسی اصول پر روحانی علاج کا اصل راستہ عبادت، دعا، قرآن، ذکر، اور ہر اس چیز سے دوری جو شرک، بدعات، یا جادو کی صورت میں اللہ کی ناراضی کا سبب بنتی ہے۔

اسی مقصد کے لیے روحانی امراض میں مریض کو خود اپنا علاج کرنے کی بہترین اور بااثر ہدایات دی جاتی ہیں۔
یہ طریقہ علاج نہ جادو سے ملتا جلتا ہے، نہ عملیات سے، نہ کسی غیر شرعی ذریعے سےبلکہ خالص قرآن، سنت اور نبوی رہنمائی پر قائم ہے۔ جب مریض یہ اقدامات اخلاص کے ساتھ شروع کرتا ہے تو اس کے اثرات واضح طور پر ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں، کیونکہ وہ شفا کو راقی یا کسی طریقے سے نہیں بلکہ اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔

علاج کا پہلا مرحلہ پانی کو قرآن سے دم کرنے کا ہے۔ فجر کے بعد ایک گلاس پانی لے کر اس پر آیاتِ قرآنی کی تلاوت کی جاتی ہے اور ہلکا سا لعاب ڈال کر اسے دم کیا جاتا ہے۔ فجر کے وقت کا انتخاب رحمت کے نزول کا وقت اور فجر کی نماز کی ادائیگی کے ساتھ جڑا ہے
یہ پانی پورے دن کے لیے شفا بن جاتا ہے۔ اس کے بعد سات بیری کے پتے کوٹ کر اسی دم شدہ پانی میں ملا کر آدھے گھنٹے کے لیے چھوڑ دیے جاتے ہیں، پھر چھان کر اور بڑھا لیا جاتا ہے تاکہ اسے پورا دن پینے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ بیری کے پتے نبی ﷺ کی سنت میں بھی آئے ہیں، اور جنات و سحر کے اثرات کو توڑنے میں آزمودہ ہیں۔

تیسرا مرحلہ غسل کا ہے۔ دم شدہ پانی کے ساتھ ظہر کے وقت غسل کیا جاتا ہےاور موسمِ سرد میں سات غسل 14 دنوں میں پورے کیے جاسکتے ہیں۔ غسل پورے جسم کی صفائی اور روح کی طہارت کو مضبوط کرتا ہے، اور جن اثرات کو جسم سے چپکنے کی طاقت دی جاتی ہے وہ کمزور ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ خواتین ایامِ ماہواری میں غسل نہیں کرتیں۔

چوتھا مرحلہ زیتون اور کلونجی کے مکس دم شدہ تیل کا استعمال ہے۔ اس تیل کو رات کو سونے سے پہلے ماتھے، سینے اور پیٹ پر لگایا جاتا ہے۔ یہ عمل مسلسل تیس دن جاری رہتا ہے۔ زیتون اور کلونجی دونوں نبی ﷺ نے شفا کا ذریعہ بتایا ہے، اور دم شدہ تیل جسم پر اثر انداز ہونے والے شیطانی اثرات کو کمزور کرتا ہے۔

پانچواں مرحلہ رقیہ سننے کا ہے۔ صبح اور شام رقیہ کی تلاوت سننا ضروری ہے۔ یہ سنتے وقت مریض کے دل میں خوف نہیں بلکہ یقین ہونا چاہیے کہ اللہ شفا دے گا اور قرآن شیطان کے وار کو توڑ دے گا۔ کبھی کبھی علاج کے دوران مریض کو خواب، الٹی، موشن، بخار یا جسمانی تھکن محسوس ہوتی ہے، جو اکثر جسم سے اثرات کے ٹوٹنے اور باہر نکلنے کی علامت ہوتی ہے۔ ایسی صورت میں مریض فوراً معالج سے رابطہ کرتا ہے تاکہ رہنمائی مل سکے۔ مریض کے خواب اس کی روحانی حالت پر دلالت کرتے ہیں، اور صحیح رہنمائی علاج کا تیز ترین ذریعہ بن جاتی ہے۔

اس دوران مریض کے لیے ضروری ہے کہ نماز کی پابندی کرے، ذکر و دعا میں اضافہ کرے، غیر شرعی تعویذات اور جادوئی نقوش کو اپنے گھر سے نکال دے، دیواروں سے تصویریں اتار دے، میوزک، بے حیائی اور گناہ سے بچ جائے، اور صدقہ کا اہتمام کرے۔ کیونکہ جس گھر میں تصویریں، جادو کی چیزیں، یا نافرمانی کا ماحول ہو، وہاں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے، اور علاج کے اثرات کمزور ہو جاتے ہیں۔

روحانی علاج کا سب سے اہم حصہ یہی ہے کہ مریض اپنی زندگی کو شریعت کے مطابق بنا لے، کیونکہ شفا محض ان اعمال میں نہیں بلکہ اللہ کے قرب میں ہے۔ جب انسان کا دل پاک ہو جاتا ہے، گھر پاک ہو جاتا ہے، اور زندگی قرآن کی روشنی کی طرف لوٹتی ہے، تب رقیہ عبادت بنتا ہے، اور عبادت ہی دلوں کی شفا کا دروازہ کھولتی ہے۔ یہی اصل رقیہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جس سے اللہ کے حکم سے سو فیصد نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

رُقْيَہُ العَيْنِ وَالسِّحْر (عمل برائے نظرِ بد، حسد، اور جادو) ہدایاتِ عمل1. وضو کی حالت میں کسی پرسکون جگہ بیٹھ جائیں۔...
17/12/2025

رُقْيَہُ العَيْنِ وَالسِّحْر (عمل برائے نظرِ بد، حسد، اور جادو)

ہدایاتِ عمل

1. وضو کی حالت میں کسی پرسکون جگہ بیٹھ جائیں۔

2. اپنا دایاں ہاتھ اپنے سر یا پیشانی پر رکھیں۔

3. نیچے دی گئی تمام دعائیں ہر ایک کو سات (۷) مرتبہ باوضو حالت میں، یقین اور تدبر کے ساتھ پڑھیں۔
4. دورانِ تلاوت اگر کسی قسم کا جسمانی یا روحانی ردِ عمل محسوس ہو، تو عمل روکنے کے بجائے صبر سے مکمل کریں۔

5. عمل کے اختتام پر اپنے جسم پر دم کریں (یعنی ہاتھوں پر تھتکار مار کر جسم پر پھیر لیں)۔
6. بعد از عمل جو کچھ محسوس ہوا مثلاً گرمی، کپکپی، رونا، دل گھبرانا، یا سکون اُس کو نوٹ کریں تاکہ روحانی تشخیص میں مدد ملے۔

دعائیں (ہر ایک سات مرتبہ)

بِسْمِ اللهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ، وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ الْعَيْنِ وَحَرِّهَا۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ الْعَيْنِ وَبَرْدِهَا۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ الْعَيْنِ وَوَصَبِهَا۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ نَفْسٍ۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ سِحْرٍ۔

أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللهِ وَقُدْرَتِهِ مِنْ شَرِّ كُلِّ عَيْنٍ حَاسِدَةٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ شَيْطَانٍ عَاشِقٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ خَادِمِ سِحْرٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ سِحْرٍ مَأْكُولٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ سِحْرٍ مَشْرُوبٍ۔

بِسْمِ اللهِ الْعَظِيمِ الْأَعْظَمِ يُحْرَقُ كُلُّ سِحْرٍ صُنِعَ لِلتَّفْرِيقِ بَيْنَ الْأَزْوَاجِ وَتَعْطِيلِ الْعُقُولِ۔

ممکنہ جسمانی و روحانی ردِ عمل

عمل کے دوران یا بعد میں مختلف قسم کے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں، جو عموماً روحانی صفائی اور باطنی مزاحمت کی علامت ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں

جسمانی احساسات

سر یا پیشانی میں بھاری پن یا دباؤ

جسم میں کپکپی، پسینہ یا سردی کی لہر

جسم کے کسی حصے میں شدید یا ہلکا درد

سینے میں جلن یا گھٹن کا احساس

دل کی دھڑکن تیز ہونا

جمائی آنا، آنسو آنا، یا قے کا احساس

آنکھوں میں سرخی، یا اچانک تھکن

روحانی علامات
غصہ یا بےچینی کا بڑھ جانا
ذہن میں وسوسے یا خوف پیدا ہونا
بوجھ محسوس ہونا یا دل گھبرانا

بعض اوقات سکون، راحت اور ہلکا پن محسوس ہونا جو شفاء کی نشانی ہے

نوٹ
اگر علامات شدید یا ناقابلِ برداشت ہوں، تو فوراً عمل روک کر کسی ماہر راقي شرعي (قرآنی معالج) سے رجوع کریں۔ تاکہ باقاعدہ تشخیص کا پروسیجر اختیار کیا جائے ۔
الرقیة الشرعیة النبویة
یہ عمل صرف دعائیہ الفاظ اور مسنون اذکار پر مشتمل ہے،

اور وہ لوگ جو فجر کو چھوڑ کر سوئے رہتے ہیں…کاش اُن لوگوں کے دل جاگ جائیںجو فجر کی اذانیں سن کر بھی بستر میں پڑے رہتے ہیں...
13/12/2025

اور وہ لوگ جو فجر کو چھوڑ کر سوئے رہتے ہیں…
کاش اُن لوگوں کے دل جاگ جائیں
جو فجر کی اذانیں سن کر بھی بستر میں پڑے رہتے ہیں…
وہ جو رات رات بھر
فضول ڈراموں، سیریلز اور سکرینوں کے سامنے جاگتے ہیں…
مصنوعی درد دیکھ کر روتے ہیں…
جھوٹی کہانیوں پر آنسو بہاتے ہیں…
کپکپاتی آوازوں پر دکھی ہو جاتے ہیں…
مگر افسوس!
وہ اس لذت سے ناواقف ہیں…
اس سرور سے بے خبر ہیں…
اس رحمت سے محروم ہیں…
جو سجدے میں بہا دیا گیا ایک آنسو
ان کے پورے وجود میں پھیلا دیتا ہے۔
یہ وہ آنسو ہوتا ہے
جو گناہوں کو دھو دیتا ہے،
دل کے غبار کو ختم کر دیتا ہے،
روح میں نئی زندگی ڈال دیتا ہے۔
اور وہ لوگ جو سکرینوں کے آگے روتے روتے سوتے ہیں
وہ نہیں جانتے کہ
اللہ کے سامنے بہایا گیا آنسو
قسم ہے رب کی
زندگی بدل دیتا ہے۔
دنیا کی ہر ڈرامائی کہانی ختم ہو جاتی ہے،
مگر سجدے کا لمحہ…
وہ ہمیشہ انسان کے مقدر میں روشنی بن کر رہتا ہے۔
فجر کی جگہ اگر نیند لے لے
تو سمجھ لو
دن سے برکت چلی گئی،
روح سے روشنی کم ہو گئی،
اور دل سے وہ سکون چھن گیا
جو صرف اللہ کے قرب میں ملتا ہے۔
اسکے برعکس
جو شخص باقاعدگی سے فجر کی نماز پڑھتا ہے اس کے جسم اور روح میں کیا ہوتا ہے؟
1 ـ اللہ اس پر ایک ایسا نور اتارتا ہے جو اس کے چہرے کو بدل دیتا ہے
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
"جو لوگ اندھیری راتوں میں مسجد کی طرف چل کر جائیں، انہیں قیامت کے دن کامل نور کی بشارت دو۔"
(صحیح ابن ماجہ)
فجر کی نماز میں اٹھنے والا شخص دنیا میں بھی نور سے بھر جاتا ہے۔
اس کے چہرے سے سکون جھلکتا ہے…
آنکھوں میں اطمینان…
اور دل میں عجب ٹھہراؤ…
گویا کوئی رحمت کی چادر اس کے اوپر تان دی گئی ہو۔
2 ـ اس کے جسم کی رگیں کھلتی ہیں اور پورا بدن تازہ توانائی سے بھر جاتا ہے
ماہرین کے مطابق
وقتِ فجر میں فضا میں خالص آکسیجن سب سے زیادہ ہوتی ہے۔
اس لیے فجر پڑھنے والا شخص
✓ دماغی طور پر تیز
✓ دل کے لحاظ سے مضبوط
✓ ذہنی طور پر پرسکون
✓ جسمانی طور پر طاقتور
ہو جاتا ہے۔
اسی لیے اہلِ فجر ہمیشہ مطمئن اور پرسکون نظر آتے ہیں۔
3 ـ فجر کا سجدہ جسم سے ٹینشن ۔ بےچینی ختم کر دیتا ہے
صبحِ صادق کے وقت جسم میں کورٹی سول (تناؤ کا ہارمون) سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن…
فجر کی نماز کا سجدہ اس ہارمون کو حیرت انگیز طور پر کم کر دیتا ہے!
✓ ذہنی سکون
✓ پریشانی کا خاتمہ
✓ خیالات میں صفائی
✓ دل میں نور
اسی لیے کہتے ہیں
"فجر کی دو رکعتیں ایک مکمل نفسیاتی تھراپی جیسی ہیں!"
4 ـ اسے پوری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے
حدیثِ مبارکہ
"جس نے فجر کی نماز باجماعت پڑھی وہ اللہ کی ذمہ داری میں ہے۔"
(صحیح مسلم)
اور دوسری روایت
"جس نے صبح کی نماز پڑھی، گویا اس نے پوری رات قیام کیا۔"
یہ اللہ کا کتنا بڑا انعام ہے!
5 ـ فرشتے اس کے بارے میں اللہ کے سامنے گواہی دیتے ہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"فجر کی نماز میں رات اور دن کے فرشتے جمع ہوتے ہیں۔"
(بخاری)
یعنی فجر کا نمازی وہ خوش نصیب ہے جس کے بارے میں فرشتے روزانہ اللہ کے سامنے رپورٹ دیتے ہیں۔
6 ـ اس کے رزق میں برکت ہو جاتی ہے
نبی کریم ﷺ کی دعا
"یا اللہ! میری امت کے صبح کے وقت میں برکت عطا فرما۔"
(ترمذی)
اسی لیے جن کی زندگی میں فجر شامل ہو
✓ کاموں میں برکت
✓ رزق میں وسعت
✓ ہر کام میں آسانی
✓ دن بھر کامیابی
نظر آتی ہے۔
7 ـ فجر کا نمازی شیطان، جنات اور حسد سے اللہ کی حفاظت میں ہوتا ہے

جو شخص دن کا آغاز سجدے سے کرے، قرآن کی تلاوت سے کرے
تو شیاطین بھاگ جاتے ہیں، حسد دفع ہو جاتا ہے، اور پورا دن اللہ کی حفاظت میں گزر جاتا ہے۔
8 ـ اس کے دل میں ایسی خوشی اُترتی ہے جس کی کوئی دنیاوی وجہ نہیں ہوتی
فجر کی نماز پڑھنے والا جانتا ہے کہ فجر کے بعد دل میں ایک سکون، نرمی اور خوشی آجاتی ہے۔
یہ خوشی دراصل روح کی غذا ہے…
جسے صرف وہی سمجھ سکتا ہے جس نے اسے چکھا ہو۔
کیوں دل بھر آتا ہے یہ باتیں سن کر؟
کیونکہ ہر انسان کے دل میں دکھ بھی ہیں…
پریشانیاں بھی…
تنہائیاں بھی…
اور فجر کی نماز وہ لمحہ ہے جب اللہ کہتا ہے
"میرے بندے! آجا… میں تیرے ساتھ ہوں۔"
یہ نماز روح کو زندگی دیتی ہے، دل کو شفا دیتی ہے، اور انسان کو نئی زندگی عطا کرتی ہے۔
جو شخص فجر کی نماز کا پابند ہو جاتا ہے
✔ اس کے جسم میں طاقت
✔ اس کی روح میں نور
✔ اس کے رزق میں برکت
✔ اس کی زندگی میں آسانی
✔ اس کے دل میں سکون
✔ اس کے چہرے میں ایمان کی روشنی
پیدا ہو جاتی ہے۔
فجر صرف نماز نہیں…
فجر زندگی ہے۔
تہجد والوں کے تو کیا ہی کہنے ۔

اطعامِ منامی (خواب میں کھلایا جانا)یہ ایک قسم کا جادو ہے جس میں متاثرہ شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ کوئی چیز کھا رہا ہے ...
07/12/2025

اطعامِ منامی (خواب میں کھلایا جانا)
یہ ایک قسم کا جادو ہے جس میں متاثرہ شخص خواب میں دیکھتا ہے کہ وہ کوئی چیز کھا رہا ہے یا اس کے جسم میں زبردستی کوئی چیز داخل کی جا رہی ہے۔
یہ جادو جنات کی طرف سے کیا جاتا ہے، جو کہ کسی جادوگر، خادم السحر (جادو کے خادم)، یا کسی ایسے مسحور جن کی طرف سے ہوتا ہے جو حسد، تسلط، عشق، یا خوف وغیرہ کی وجہ سے جسم میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ اطعام (کھلانا) مختلف شکلوں میں ہوتا ہے جیسے کھانا، مشروب، پھل، مٹھائی، گوشت، دھاگے، بال، نجاست یا اس جیسی کوئی اور چیز۔ اکثر اس کا ذائقہ بہت برا ہوتا ہے، لیکن بعض اوقات اس کا ذائقہ خوشگوار بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم خواب میں کھانے کے اس جادوانہ عمل اور عام کھانے کے خواب میں کیسے فرق کریں؟
عام خواب میں کھانے کے بعد انسان خوش و خرم بیدار ہوتا ہے، طبیعت ہلکی پھلکی ہوتی ہے اور اکثر یہ خواب کسی خوشخبری کی علامت ہوتے ہیں۔
جبکہ اطعامِ منامی کے بعد انسان جب بیدار ہوتا ہے تو وہ شدید تھکاوٹ، بے چینی، متلی، قے، پیٹ بھرا ہوا محسوس کرتا ہے، منہ میں عجیب سا ذائقہ ہوتا ہے، اور کبھی ایسا لگتا ہے جیسے کوئی بھاری چیز پیٹ میں ہے۔
اس جادوانہ کھانے کا مقصد جادو کو طاقت دینا اور جسم میں موجود جن یا شیطان کو توانائی فراہم کرنا ہوتا ہے۔
یہ سحر کی ایک قسم ہے، لیکن یہ اس جادو کی طرح شدید نہیں ہوتا جو باقاعدہ جادوگر کی طرف سے عقد (گرہ) کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔
علاج
مرقی (قرآنی پانی) کا کثرت سے پینا
شہد اور زیتون کے تیل کا استعمال (جو دم شدہ ہو) متھے پر سینے پر اور پیٹ پر مساج کریں سونے سے پہلے اور ایک چائے کا چمچ تیل پئیں بھی 20 دن متواتر
حجامہ (پچھنے لگوانا)
قے کے ذریعے صفائی
اور مسلسل رُقیہ شرعیہ پروگرام پر عمل
اخوکم راقی عثمان ظفر
"اطعامِ منامی (خواب میں کھلایا جانے والا جادو) اور خواب میں جنات کے حملوں سے حفاظت کے لیے مکمل آیات"
آیت الکرسی
- اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
7 بار
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ 3 بار
وَجَعَلْنَا مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ سَدًّا وَمِنْ خَلْفِهِمْ سَدًّا فَأَغْشَيْنَاهُمْ فَهُمْ لَا يُبْصِرُونَ 3 بار
وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ 3 بار
وَيَنصُرْكُمْ عَلَيْهِمْ وَيَشْفِ صُدُورَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِينَ . 3 بار
فَاللّهُ خَيْرٌ حَافِظاً وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِيـنَ . 3 بار
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِّن بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللّـهِ . 3 مرات
وَحِفْظاً مِّن كُلِّ شَيْطَانٍ مَّارِدٍ . 3 بار
إِن كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌ . 3 بار
سورة الزلزلة 7بار
ان آیات کو پانی پر پڑھا جائے،
پھر اس پانی کو پیا جائے،
اور اس سے منہ، رحم (خواتین کے لیے)، سر، اور وضو کے اعضاء کو دھویا جائے یا مسح کیا جائے۔
















لڑکی کے رشتے میں رکاوٹ ڈالنے کا سب سے خطرناک ہتھیارنہ بیماری ہے… نہ کسی مرد سے نفرت…بلکہ جنسی وہم و خیالات!تعطیلِ نکاح پ...
05/12/2025

لڑکی کے رشتے میں رکاوٹ ڈالنے کا سب سے خطرناک ہتھیار
نہ بیماری ہے… نہ کسی مرد سے نفرت…
بلکہ جنسی وہم و خیالات!

تعطیلِ نکاح پر مامور شیطان بعض لڑکیوں کو ایسے شرمناک خواب دکھاتا ہے جن میں
تحرش… جنسی تعلق… یا بار بار حملہ آور ہونے جیسے مناظر شامل ہوتے ہیں!

پھر وہ سب سے خطرناک مرحلہ شروع کرتا ہے
اسے یہ وسوسہ ڈالتا ہے کہ ان خوابوں کی وجہ سے تمہاری بکارت ختم ہو چکی ہے!

کبھی یہ وساوس ایسے وقت میں آتے ہیں جب لڑکی کو معمول کے ایام کے علاوہ استحاضہ کا تھوڑا خون نظر آ جائے،
تو شیطان کہتا ہے
بات ختم! اب تمہارا پردہ فاش ہو جائے گا… تم شادی کے قابل نہیں رہیں!

لڑکی شرم کے باعث کسی سے بات نہیں کرتی،
پھر وہ ڈر جاتی ہے…
اور انجام یہ کہ رشتوں سے انکار شروع کر دیتی ہے!

جبکہ سچ یہ ہے کہ

شیطان چاہے خواب میں ہو یا حقیقت میں وہ کسی لڑکی کی بکارت ختم نہیں کر سکتا۔

🔍 اور اگر کوئی لڑکی شکوک و شبہات میں مبتلا ہو تو حل نہایت آسان ہے
کسی ماہر لیڈی ڈاکٹر سے چیک کروائے
وہ دیکھے گی کہ سب کچھ 100٪ محفوظ اور صحیح ہے۔
اور یوں معلوم ہو جائے گا کہ یہ سب نکاح میں رکاوٹ ڈالنے والے شیطانی وساوس تھے!

لہٰذا دیر نہ کریں…
رُقیہ شرعیہ سے علاج کریں،
تاکہ رشتے کی نعمت محض وہم کی وجہ سے ضائع نہ ہو جائے۔

رحم پر جادو  ایسا زخم جو نظر نہیں اتا لیکن زندگی کو تباہ کر دیتا ہےجس کے اثر سےعورت کی زندگی اجڑ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے...
30/11/2025

رحم پر جادو
ایسا زخم جو نظر نہیں اتا لیکن زندگی کو تباہ کر دیتا ہے
جس کے اثر سےعورت کی زندگی اجڑ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عورت کو رحم (بچہ دانی) جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی
ایک ایسی جگہ جہاں زندگی کی ابتدا ہوتی ہے،
جہاں اللہ اپنے “کن” کے حکم سے ایک نئی روح تخلیق فرماتا ہے۔
(اج ہم نے اپ کے سامنے اسی پیج پر اس مرض کے متعلق ایک سچا واقعہ رکھا جس پر طرح طرح کے کمنٹس میں نے دیکھے جس میں لوگوں نے سرے سے جادو کا انکار ہی کیا اور بعض نے اس کو نفسیاتی مسئلہ کہا اور بعض نے تنقید برائے تنقید کا رویہ اپنایا میں ان تمام لوگوں کے علاوہ صرف ان لوگوں سے مخاطب ہوں کہ جو اس تکلیف سے گزر رہے ہیں وہ اس سے نجات کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھیں رابطہ کریں تاکہ ہم اپ کو علاج مہیا کر سکیں)

یہی وجہ ہے کہ شیطان اور اس کے چیلے (جادوگر) اسی مقام کو نشانہ بناتے ہیں،
کیونکہ رحم دراصل زندگی کے ابتدا کی پہلی سیڑھی ہے۔
اور جس پر جادوگر وار کرتا ہے، وہ زندگی کے دروازے کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے۔لیکن یاد رکھیں قران کریم میں اللہ تعالیٰ نے بارہا کہا ہے کہ جادوگر کبھی بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔
رحم پر جادو کے اہداف
جادوگر جب کسی عورت پر جادو کرتا ہے تو اکثر اس کا مقصد ہوتا ہے
1. حمل کا رک جانا یا بار بار ضائع ہونا۔
2. ماں بننے کی صلاحیت ختم کرنا (بانجھ پن یا رحم کا زخم پیدا کرنا)۔
3. ازدواجی تعلقات میں نفرت یا درد پیدا کرنا تاکہ شوہر بیوی سے دور ہو جائے۔
4. حیض میں شدید بے ترتیبی یا خون کا نہ رکنا تاکہ عورت ہمیشہ کمزور اور مایوس رہے۔
5. نفسیاتی دباؤ اور ڈپریشن پیدا کرنا تاکہ وہ روحانی و جسمانی طور پر ٹوٹ جائے۔
جادو میں استعمال ہونے والے ذرائع
جادوگر رحم پر اثر ڈالنے کے لیے عورت کی ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے جو جسم سے منسلک ہوں۔
یہ عام طور پر مندرجہ ذیل ذرائع ہوتے ہیں
غسل خانے سے غائب ہونے والا زیرِ جامہ یا حیض کا کپڑا
بال، ناخن، یا جسم سے جدا ہونے والے ذرات
تصویر یا نام مع ماں کا نام
کبھی کبھی کپڑوں کی تہوں میں لپٹا خون یا ناپاک مواد
یا پھر گھر کے کسی کونے، باغ، یا باتھ روم میں دفن شدہ عمل
یہ تمام اشیاء رحم سے منسلک جادو کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ ان کے ذریعے خادم جنّات جسم کے اس حصے پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔
رحم پر جادو کی نمایاں علامات
ایسی خواتین جو اس قسم کے جادو کا شکار ہوں، ان میں درج ذیل علامات عام طور پر دیکھی جاتی ہیں
1. حیض میں شدید بے ترتیبی کبھی نہ آنا، کبھی نہ رکنا۔
2. سیاہ یا بدبودار خون کا اخراج۔
3. حمل کا ضائع ہونا خاص طور پر ڈھائی سے ساڑھے تین ماہ کا حمل
بغیر کسی طبّی وجہ کے، بار بار۔
4. پیٹ یا رحم میں دھڑکن، جھٹکے یا درد محسوس ہونا۔
5. ازدواجی تعلق کے دوران شدید تکلیف یا گریز۔
6. شوہر سے بغیر وجہ کے نفرت یا خوف محسوس ہونا۔
7. ڈپریشن، رونا، چڑچڑاپن، یا شدید تھکن۔
8. خواب میں کالے سانپ، بلیاں، یا اندھیری جگہیں (حمام) دیکھنا
یہ تمام علامات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جسم کے نچلے حصے خصوصاً رحم پر خبیث جنّ یا جادو کا اثر موجود ہے۔
طبّی اور روحانی حقیقت میں فرق
اکثر خواتین جب ان علامات کا ذکر کرتی ہیں تو ڈاکٹرز کہتے ہیں
“سب نارمل ہے، کوئی وجہ نہیں ملی۔”
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں روحانی بیماری کو طبی بیماری سمجھ لیا جاتا ہے،
اور اصل مسئلہ مزید گہرا ہو جاتا ہے۔شیطانی اثرات جسم میں خون کے بہاؤ کے ذریعے کام کرتے ہیں،
یہ جنّی تسلط کے تحت رحم کے نظام کو بگاڑ دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
“وَيَتَعَلَّمُونَ مَا يُضِرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ”
(سورہ البقرہ: 102)
“وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو نقصان پہنچاتی تھی اور کوئی فائدہ نہ دیتی تھی۔”
یہ نقصان کبھی جسم میں، کبھی ذہن میں، اور کبھی تعلقات میں ظاہر ہوتا ہے۔
روحانی حفاظت اور علاج کے اصول
اگر عورت میں یہ علامات ظاہر ہوں، تو سب سے پہلا قدم روحانی پناہ ہے، نہ کہ خوف۔
اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کی شفا رکھی ہے، اور جادو سے حفاظت کے لیے واضح ہدایات دی ہیں
1. سورۃ البقرہ روزانہ گھر میں چلانا یا پڑھنا
رسول ﷺ نے فرمایا
“جس گھر میں سورۃ البقرہ پڑھی جاتی ہے، وہاں شیطان داخل نہیں ہوتا۔”
(صحیح مسلم)
2. سورۃ الفلق، سورۃ الناس، آیت الکرسی اور آخری دو آیاتِ البقرہ صبح و شام پڑھنا۔
3. بسم اللہ
کے بغیر کوئی چیز کپڑا، زیر جامہ، یا ذاتی چیز کسی کے ہاتھ میں نہ دینا۔
4. غسل خانہ میں ذاتی اشیاء غیر محفوظ نہ چھوڑیں۔
5. روحانی صفائی کے لیے روزانہ
"اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن، وأعوذ بك من العجز والكسل..."
کی دعا ضرور پڑھیں۔
6. اگر جادو کا عمل دریافت ہو جائے، تو اسے فوراً قرآنی طریقے سے ختم کیا جائے
نہ جلایا جائے، نہ نالی میں بہایا جائے بلکہ کسی ماہر راقی کے مشورے سے باطل کیا جائے۔
ایک تلخ حقیقت
آج کے دور میں سب سے زیادہ جادو خواتین پر کیا جاتا ہے،
کیونکہ دشمن جانتا ہے
جب عورت کمزور ہو جائے، تو گھر، نسل، اور سکون سب برباد ہو جاتے ہیں۔
لہٰذا اے بیٹیو، بہنو اور ماؤں!
اپنے رحم کی حفاظت کرو
یہ وہ مقام ہے جہاں زندگی کا چراغ جلتا ہے،
اور شیطان چاہتا ہے کہ وہ چراغ بجھا دے۔
اپنے گھروں کو اذکار کا قلعہ بنا دو،
اور اپنے دل کو قرآن کی پناہ میں لے آؤ۔
کیونکہ جب عورت قرآن سے جڑ جاتی ہے،
تو کوئی جادو، کوئی حسد، کوئی شیطان اسے ٹوٹنے نہیں دے سکتا۔
“فاللَّهُ خَيْرُ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ”
(اللہ بہترین محافظ ہے، اور وہی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔)

اگر آپ یا آپ کی کوئی عزیزہ رحم سے متعلق جادو یا اس کی علامات کا سامنا کر رہی ہیں،
تو خاموشی اختیار نہ کریں بروقت روحانی رہنمائی ہی شفا کی پہلی سیڑھی ہے۔
قرآن وسنت کے مطابق روحانی علاج فراہم کیا جاتا ہے۔(یہ علاج اپ کو آن لائن فراہم کیا جائے گا ۔ واٹس ایپ کے ذریعے رابطہ کریں) 03008885182
رابطہ اور رہنمائی کے لیے اسی پیج کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں . میسنجر پر ۔
اللہ شفا دینے والا ہے۔

Address

STREET NO 1 HOME NO 2 AKAB JINAZGA HADOKE MURIDKE
Muridke
45000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الرقية الشرعية من القرآن والسنة posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram