الرقیة الشرعیة النبویة

الرقیة الشرعیة النبویة Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from الرقیة الشرعیة النبویة, Alternative & holistic health service, Muridke.

We Treat all type of Black Magics and Jins problem, Stopping Pregnancy, Marriage Break-up & Marriage Problem, Failure in Business with Quran-o-Sunnah
https://wa.me/923000426249
https://www.youtube.com/channel/UCstEhzVgJoD7pazUOtvnKxg https://islamicherbals.com/


صحیح راسخ العقیدہ روحانی معالجین (شرعی راقی) کی علامات

عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ چند الفاظ اور طریقے سیکھ لینے سے روحانی معالج بن بیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر وہی مثل صادق آتی ہے کہ ”نیم حکیم خطرۂجان اور نیم ملا خطرۂ ایمان”۔ یہ لوگ اپنا اور معاشرے کا نقصان کرتے ہیں۔ان کے پاس جانے سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہیے۔ تاہم ذیل میں ہم عمومی طور پر چند صفات کی طرف اشارہ کیے دیتے ہیں جو ایک روحانی معالج کے اندر پایا جانا ضروری ہے :

1. سلف صالحین کےمطابق صحیح عقیدہ رکھتا ہوجوتمام صحابہ وتابعین اورتبع تابعین کا عقیدہ تھا اورجو ہر طرح کے شک و شبہ سے محفوظ ہے۔

2. اس کے قول وفعل میں توحید خالص جھلکتی ہو۔

3. اطاعتِ الٰہی کو ہر وقت بجالانے والا ہو جس کی وجہ سے شیطان ذلیل ورسوا ہوتا ہے۔

4. عملیات کاکام صرف رضاے الٰہی کےحصول کےلیے شروع کیا ہو۔

5. عالم دین ہویاکم ازکم حافظ وقاری ہواور جادو گر،جنات اور شیاطین کی چالوں کو سمجھتا ہو۔ دینی مسائل پر عبور رکھتا ہو اور دینی کام سے وابستہ ہو۔

6. تمام حرام اشیا سےپوری طرح اجتناب کرتا ہو۔

7. ہرحال میں زبان سےامر بالمعروف اورنہی عن المنکر کرنے والا ہو۔ برائی کودیکھ کرخاموش بیٹھتا ہو اور نہ ہی کسی منکر پر خوش ہوتا ہو۔

8. اسلام کےبتائے ہوئےاخلاقیات پر عمل پیرا ہو اوررذائل اخلاق وعادات(جھوٹ، دھوکا، بخل، حرص، حسد اورکینہ وغیرہ) سے دور ہو۔

9. حلال وحرام کی تمیز کرنے اور ا س کے مطابق عمل کرنے والا ہو۔

10. کبائر سےمکمل اجتناب کرنےوالا اور صغائر سے حتی المقدور بچنےوالاہو۔

11. ظاہری وضع قطع میں شریعت کامکمل پابند ہو۔

12. مال کاحریص نہ ہو اوردوسروں کےمال پر نظر نہ رکھتاہو۔

13 . دینی حلقوں اورعلما سے محبت رکھتا ہو۔

14. جنات اورشیاطین کے احوال اور ان کی چالوں کو مکمل جانتا ہو۔

15. جادو ٹونہ اور شیاطین کو بھگانےکا تجربہ اورمہارت رکھتا ہو۔

16. قرآنی اور مسنون عملیات سیکھے اور ہر قسم کے غیر شرعی عملیات ووظائف اور چلہ کشی سے بچتا ہو۔

17 . لوگوں سےہمدردی رکھنےوالا ہو اور سائلین کی حالت سن کر اُنہیں فریبی دھوکا باز یا جعل ساز نہ سمجھتا ہو۔

18. انسانوں کی خوشی کےلیے شرعی احکام توڑنےپررضامند ہونے والا نہ ہو۔

19. یہ عقیدہ رکھتا ہوکہ اللّٰہ کاکلام جن و شیاطین پر اثر کرتاہے اور اس میں کسی تذبذب کا شکار نہ ہو۔

20. ثابت قدم اور پختہ مزاج ہو۔جلدباز، بےصبر اورمتلون مزاج نہ ہوکیوں کہ روحانی علاج ؍عملیات کوشروع کرنا توہر ایک کا اپنااختیار ہے لیکن اسےچھوڑنا نہایت خطرناک ہوتا ہے۔

21. معالج کے لیے شادی شدہ ہونامستحب ہے۔

22. لوگوں میں سے بالخصوص مریضوں کے رازوں کا مکمل امین ہو۔

23. عامل ذہنی اعتبار سے مضبوط الحواس اور جسمانی اعتبار سے بارعب اور طاقتور ہو کیونکہ بسا اوقات مریض سے کشتی وہاتھا پائی بھی ہو جاتی ہے۔

24. عامل اس کام کو دعوت دین کا بہت بڑا ذریعہ سمجھے اور اس کو دینی خاص مشن کے طور پر لے نہ کہ ہوس پرستی اور خود غرضی کا ذریعہ بنائے۔

25. عامل باحیا ہو اور دینی ومعاشرتی اعلیٰ اقدار کا حامل ہو اور نظر بد کے استعمال سے پرہیز کرے جو ہر گناہ کا پیش خیمہ ہے۔

26. لوگوں کی شفا اور عقیدے کی اصطلاح کا بے حد حریص ہو اس طرح ان کو نماز، روزہ، زکوٰۃ اور ذکر واذکار کا پابند بنائے۔

27. اپنے اور لوگوں کے اعمال کا یومیہ بنیاد پر محاسبہ کرے۔

28 . جلوت اور خلوت میں ہمیشہ اپنے مریضوں کے لیے دعا گو ہو۔

29 . اپنا اور اس عظیم مشن کا خیال کرتے ہوئے ہر اس کام کو اختیار کرنے کی کوششیں کرے جو اس کے شایان شان اور لائق احترام ہے اسی طرح ہر اس کام سے اجتناب کرے جو خود اس کی عزت، احترام اور دین کے منافی ہے۔

28/03/2026
1- حسد بڑی آنت (قولون) میں اس طرح کام کرتا ہے جیسے کوئی کیڑا آنتوں کی دیوار کو اندر سے چاٹ رہا ہو۔ یہ صرف جسم کے گرد گھو...
28/03/2026

1- حسد بڑی آنت (قولون) میں اس طرح کام کرتا ہے جیسے کوئی کیڑا آنتوں کی دیوار کو اندر سے چاٹ رہا ہو۔ یہ صرف جسم کے گرد گھومتا نہیں بلکہ آنتوں کے اندر جا کر خاص طور پر اوپر والے اور درمیانی حصے میں ٹھہر جاتا ہے، جیسے اس نے وہاں اپنا ٹھکانہ بنا لیا ہو۔ پھر یہ عصبِ حائر (Vagus nerve) کے ذریعے زہریلے اثرات بھیجتا ہے جس سے انسان کو چکر آتے ہیں اور وہ سمجھ نہیں پاتا کہ اسے کیا ہو رہا ہے۔

2- عارض (شیطانی اثر) قولون کو منفی توانائی کی ایک تہہ میں لپیٹ دیتا ہے جس میں حسد اور نفرت شامل ہوتی ہے۔ یہ تہہ آنتوں کی حرکت کو سست کر دیتی ہے، جس سے یا تو شدید قبض ہو جاتا ہے یا اچانک اسہال، جبکہ تمام میڈیکل ٹیسٹ نارمل آتے ہیں۔

3- یہ قولون کی دیوار سے توانائی کھینچنا شروع کر دیتا ہے اور خون سے وٹامنز اور منرلز جیسے آئرن، میگنیشیم اور وٹامن B جذب کر لیتا ہے، جس سے انسان کی توانائی ختم ہونے لگتی ہے، بھوک ختم ہو جاتی ہے اور مسلسل آئی بی ایس (قولون عصبی) جیسی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔

4- عارض قولون اور دماغ کے درمیان ایک توانائی کا راستہ بناتا ہے (عصبِ حائر کے ذریعے) اور دماغ کو منفی اثرات بھیجتا ہے، جس سے بلا وجہ بے چینی، وسوسے، ڈپریشن اور تھکن پیدا ہوتی ہے۔

5- حسد آنتوں کی ریشوں (فائبرز) میں چھپ جاتا ہے۔ انسان صحت مند غذا کھاتا ہے مگر اس کے باوجود پیٹ پھول جاتا ہے کیونکہ مرض ان فائبرز میں بڑھتا ہے اور انہیں نقصان دہ بنا دیتا ہے۔

6- بغیر کسی واضح وجہ کے زیادہ گیس بننا بھی مرض کی علامت ہو سکتی ہے۔ عجیب آوازیں یا بدبو اس بات کی طرف اشارہ ہو سکتی ہیں کہ وہ قولون میں حرکت کر رہا ہے۔

7- قولون بعض اوقات وراثتی حسد کا ذخیرہ بن جاتا ہے، خاص طور پر اگر یہ والدین سے منتقل ہوا ہو۔ ذہنی دباؤ کے وقت اچانک درد، مروڑ، کپکپی اور گھٹن محسوس ہوتی ہے۔

8- عارض قولون کو جسم کے باقی حصوں سے جوڑنے کے لیے ایک مرکز بناتا ہے، جس سے قولون کے درد کے بعد سر درد، گردن کا درد یا ٹانگوں میں گرمی محسوس ہوتی ہے۔

9- شدید نظر بد
("بڑا خوش لگ رہا ہے")🔴
سب سے پہلے قولون پر اثر انداز ہوتی ہے، اور چند دنوں بعد پیٹ پھولنا، پاخانے کا رنگ بدلنا اور کھانے کے بعد شدید تھکن محسوس ہوتی ہے۔

10- عارض جھوٹے علامات پیدا کرتا ہے، جس سے انسان کو لگتا ہے کہ اسے قولون کی بیماری ہے، لیکن تمام ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں کیونکہ مسئلہ جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہوتا ہے۔

11- جب حسد قولون میں مضبوط ہو جائے تو یہ تلی اور جگر پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، جس سے مسلسل تھکن اور کمزوری محسوس ہوتی ہے۔

12- بعض اوقات عارض قولون کی دیوار پر دباؤ ڈال کر سینے میں گھٹن اور سانس لینے میں مشکل پیدا کرتا ہے، جبکہ میڈیکل رپورٹ ٹھیک ہوتی ہے۔

13- قولون جذبات کا ذخیرہ بن جاتا ہے، غصہ اور غم وہاں جمع ہوتا ہے،
جس سے ذہنی دباؤ کے بعد فوراً واش روم جانے کی حاجت ہوتی ہے۔

14- رقیہ کے بعد قولون میں شدید مروڑ، پسینہ اور کپکپی آنا اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ مرض متاثر ہو رہا ہے یا نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

15- اگر مرض لمبے عرصے تک رہنا چاہے تو وہ قولون میں پناہ لیتا ہے کیونکہ یہ مدافعتی نظام کا اہم حصہ ہے، اور انسان میں خوف پیدا کرتا ہے۔

16- رقیہ کے بعد اسہال، بدبو دار پاخانہ اور رنگ کی تبدیلی اس بات کی نشانی ہو سکتی ہے کہ جسم سے اثرات خارج ہو رہے ہیں۔

17- بعض اوقات عارض قولون کے آخری حصے (سگموئیڈ) میں چھپ جاتا ہے، جس سے واش روم کے بعد چکر، کمزوری یا ٹانگوں میں سن ہونا محسوس ہوتا ہے۔

18- بعض کیسز میں یہ اثرات رحم یا پروسٹیٹ تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے درد یا سوزش محسوس ہوتی ہے حالانکہ ٹیسٹ نارمل ہوتے ہیں۔

19- عارض قولون کو سست اور کمزور بنا دیتا ہے، جس سے مسلسل تھکن اور سستی رہتی ہے۔
20- فجر سے پہلے یا مغرب کے بعد قولون کی علامات بڑھ جانا بھی ایک نشانی سمجھی جاتی ہے، جیسے درد، گیس یا بے چینی۔
اس بیماری میں مبتلا مریض کے متعلق میں یہ کہوں گا کہ ایک مقولہ مشہور ہے کہ قبر کا حال مردہ جانتا ہے بالکل اسی طرح اس تکلیف میں مبتلا مریض ہی اس تکلیف کو سمجھ سکتا ہے جو اس سے گزر رہا ہوتا ہے لہذا اگر اپ کے رشتہ داروں میں قرابت داروں میں بیوی بچوں میں سے بہن بھائیوں میں سے کوئی بھی ان علامات کا سامنا کر رہا ہے تو خدارا اس کے حال پر رحم کریں اس کے لیے اسانی پیدا کریں اور قران کریم کے ذریعے اس کے علاج کے لیے راستہ ہموار کریں تاکہ وہ اس تکلیف سے نجات حاصل کر سکے اور ایک نارمل لائف کی طرف ا جائے جس میں وہ اولاد شوہر بچوں کی خوشیوں میں شریک ہو سکے اور عبادات میں خشوع حاصل کر سکے۔
✍️اخوکم راقی عثمان ظفر
الرقیة الشرعیة النبویة

27/03/2026

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وہ تمام احباب جو واٹس ایپ پر ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ان سب سے التماس ہے کہ عید کی مصروفیات کے بعد اج باقاعدہ ہم اپ کی خدمت میں موجود ہوں گے جنہیں سوالات کے جواب نہیں ملے یا فالو اپ نہیں مل سکا ان سب سے التماس ہے کہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں سب سے رابطہ کیا جائے گا اپ کے تعاون کے مشکور ہیں والسلام اخوکم راقی عثمان ظفر
الرقیة الشرعیة النبویة

27/03/2026

شادی کی بندش والا ہر مرد یا عورت اس ایت کریمہ کو 10 منٹ تک سینے پر دایاں ہاتھ رکھ کر تکرار کے ساتھ تلاوت کریں
«وإذا النفوس زوجت»
سورۃ التکویر — آیت 7
💞 اپ کے جسم میں موجود شیطان جو شادی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے پابند ہے اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ باذن الله☝
کمنٹس میں جو بھی کیفیات اس کی تلاوت کے دوران محسوس کریں اس کیفیت کو بیان کریں۔
اخوکم✍️ راقی عثمان ظفر
الرقیة الشرعیة النبویة

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا"عنقریب فتنے آئیں گے۔ اس وقت بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے و...
23/03/2026

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
"عنقریب فتنے آئیں گے۔ اس وقت بیٹھا رہنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا، کھڑا ہونے والا چلنے والے سے بہتر ہوگا، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو شخص ان فتنوں کی طرف جھانکے گا وہ اسے اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔ لہٰذا جو شخص ان سے بچنے کے لیے کوئی پناہ یا جائے امن پا لے تو وہ اس میں پناہ لے لے۔"
📚 (صحیح البخاری: 3601)
وضاحت
یہ حدیث رسول اللہ ﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے، کیونکہ اس میں آنے والے زمانوں میں فتنوں کے وقوع کی خبر دی گئی ہے۔
اس حدیث میں چند اہم ہدایات دی گئی ہیں
نبی ﷺ نے فتنوں کے آنے کی پیشگی خبر دے کر امت کو خبردار فرمایا۔
مقصد یہ ہے کہ مسلمان فتنوں میں کودنے سے بچیں۔
ایسے حالات میں خاموشی، احتیاط اور کنارہ کشی زیادہ بہتر ہوتی ہے۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ سے صبر اور فتنوں سے حفاظت کی دعا کرتا رہے۔
اگر کسی جگہ یا طریقے سے فتنوں سے بچنے کی پناہ مل جائے تو اسے اختیار کرنا چاہیے۔
جب معاشرے میں فتنوں کا دور ہو تو بے جا بحث، لڑائی اور اشتعال میں شامل ہونے کے بجائے ایمان، صبر اور حکمت کو اختیار کرنا ہی نجات کا راستہ ہے۔
الرقیة الشرعیة النبویة

“وہ مسکرا رہی تھی… مگر اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔روحانی اذیت کی ایک دردناک مگر امید بھری کہانیوہ ایک عام لڑکی نہیں تھی…اس کے چ...
23/03/2026

“وہ مسکرا رہی تھی… مگر اندر سے ٹوٹ چکی تھی۔
روحانی اذیت کی ایک دردناک مگر امید بھری کہانی
وہ ایک عام لڑکی نہیں تھی…
اس کے چہرے پر ایک عجیب سا نور تھا… باتوں میں مٹھاس، لہجے میں نرمی، اور دل ایسا کہ کسی کا دکھ دیکھ کر خود رو پڑے۔
گھر والے کہتے تھے
"یہ بچی تو ہمارے گھر کی رحمت ہے"
مگر شاید یہی خوبیاں کسی کی آنکھوں میں کھٹک گئیں…
حسد کی پہلی چوٹ
جو نظر نہ آئی
شروع میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا…
پھر آہستہ آہستہ تبدیلیاں آنے لگیں
وہ تھکنے لگی… بغیر کسی وجہ کے
دل گھبرانے لگا… بلاوجہ
نیند روٹھ گئی
وزن کبھی بڑھتا، کبھی کم ہوتا
ڈاکٹر نے کہا
"تھایرایڈ کا مسئلہ ہے"
دوائیں شروع ہو گئیں…
مگر ایک سوال دل میں چبھتا رہا
"یہ سب اچانک کیوں ہوا؟"
بیماری یا کوئی اور کہانی؟
وقت گزرتا گیا… مگر حالت بہتر نہ ہوئی بلکہ بگڑتی گئی۔
اب صرف جسم نہیں… روح بھی تھکنے لگی
قرآن سننے میں بے چینی
نماز میں دل نہ لگنا
اچانک رونا آ جانا
ڈراؤنے خواب
دل کا ہر وقت بوجھل رہنا
وہ اکثر کہتی
"مجھے لگتا ہے میں خود نہیں رہی…
کوئی اور بن گئی ہوں…"
یہ وہ مقام تھا جہاں حسد صرف احساس نہیں رہا… بلکہ شیطانی اثر میں ڈھلنے لگا
شوہر نے شروع میں ساتھ دیا…
پھر آہستہ آہستہ اس کا لہجہ بدلنے لگا
"تم ہر وقت بیمار کیوں رہتی ہو؟"
"یہ سب تمہارے وہم ہیں"
"ہر وقت رونا بند کرو"
ماں باپ پریشان…
مگر بے بس…😢
گھر میں محبت کی جگہ چڑچڑاپن، غلط فہمیاں اور دوریاں بڑھنے لگیں۔
ایسا لگتا تھا جیسے کوئی نظر نہ آنے والی طاقت اس گھر کو توڑ رہی ہو۔
وہ راتوں کو جاگتی…
چھت کو دیکھتی… اور آنکھوں سے آنسو بہتے رہتے…
اس کے دل میں عجیب سی کیفیت تھی
جیسے کوئی سینے پر بوجھ رکھے ہوئے ہے
جیسے سانس مکمل نہیں آ رہی
جیسے دل میں اندھیرا بھر گیا ہو
وہ دعا کرتی
"یا اللہ! اگر یہ آزمائش ہے تو آسان کر دے… اور اگر یہ کسی کے حسد کا اثر ہے تو مجھے شفا دے دے…"
جب رقیہ کا دروازہ کھلا تو
ایک دن کسی نے حالت جان کر
مشورہ دیا
"رقیہ شرعیہ کرو"
شروع میں وہ خود بھی تذبذب میں تھی…
مگر جب کوئی راستہ نہ بچا تو اس نے قرآن کا سہارا لیا۔
رقیہ کا سفر
آسان نہیں تھا
یہ کوئی ایک دن کا عمل نہیں تھا…
بلکہ ایک محنت طلب، صبر آزما سفر تھا۔
ابتدا میں کیا ہوا؟
جب اس نے رقیہ شروع کیا
جسم میں کپکپی
بے چینی میں اضافہ
زیادہ رونا
عجیب خواب
وہ ڈر گئی…
مگر اسے سمجھایا گیا
"یہ شفا کے آثار ہیں… ڈرو نہیں"
اس نے ہمت نہیں ہاری…
روزانہ
سورۃ البقرہ سننا
آیت الکرسی پڑھنا
سورۃ الفلق اور الناس
صبح و شام کے اذکار
آہستہ آہستہ
دل ہلکا ہونے لگا
نیند بہتر ہونے لگی
گھبراہٹ کم ہونے لگی
اور سب سے بڑی بات…
اس کا دل دوبارہ اللہ کی طرف جڑنے لگا
ایک نئی زندگی کا آغازہوا
کچھ مہینوں بعد…
وہی لڑکی جو ٹوٹ چکی تھی… اب سنبھلنے لگی۔
چہرے پر سکون واپس آ گیا
گھر میں محبت لوٹنے لگی
شوہر کا رویہ بھی بدلنے لگا
اس نے ایک دن کہا
"مجھے اب سمجھ آیا… شفا صرف دوا میں نہیں… اللہ کے کلام میں ہے"
ہر تھایرایڈ مریض کا تعلق حسد سے ہو… یہ ضروری نہیں۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ
بعض کیسز میں حسد، نظر بد اور شیطانی اثرات بیماری کو بڑھا دیتے ہیں یا اس کی شدت کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔
اسی لیے
صرف جسمانی علاج کافی نہیں
روحانی پہلو کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
اگر آپ کے گھر میں کوئی
بلا وجہ بیمار ہے
مسلسل ذہنی و روحانی اذیت میں ہے
اور علاج کے باوجود بہتری نہیں آ رہی
تو اسے صرف "وہم" کہہ کر رد نہ کریں…
کیونکہ کبھی کبھی
زخم نظر نہیں آتے… مگر روح کو لہولہان کر دیتے ہیں۔😢
امید کا دروازہ ہمیشہ کھلا ہے
یاد رکھیں
اللہ شفا دینے والا ہے
قرآن شفا ہے
اور رقیہ ایک ذریعہ ہے
مگر شرط صرف ایک ہے
صبر… یقین… اور مسلسل محنت
✍️اخوکم راقی عثمان ظفر
الرقیة الشرعیة النبویة

22/03/2026

I got over 1,000 reactions on my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

حسد کرنے والے کو اس کے حسد کا نقصان سب سے پہلے خود پہنچتا ہے۔حسد کرنے والے تک پانچ سزائیں پہنچتی ہیں اس سے پہلے کہ اس کا...
22/03/2026

حسد کرنے والے کو اس کے حسد کا نقصان سب سے پہلے خود پہنچتا ہے۔حسد کرنے والے تک پانچ سزائیں پہنچتی ہیں اس سے پہلے کہ اس کا حسد محسود تک پہنچے۔
یہ قول اکثر ابو لیث السمرقندی کی نصیحت آموز کتاب Tanbih al-Ghafilin اور دیگر اخلاقی کتب میں نقل کیا جاتا ہے۔
✍️اخوکم راقی عثمان ظفر
آئیے ان پانچوں باتوں کو تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
1️⃣ پہلا عذاب
ایسا غم جو کبھی ختم نہیں ہوتا
(أولها غم لاينقطع)
حسد کرنے والا شخص ہمیشہ اندر سے جلتا رہتا ہے۔
جب بھی وہ کسی کو نعمت میں دیکھتا ہے تو اس کا دل بے چین ہو جاتا ہے۔
اگر دوسرے کو عزت ملے → وہ غمگین
اگر دوسرے کو رزق ملے → وہ پریشان
اگر دوسرے کو کامیابی ملے → اس کا دل جلتا ہے
اس طرح اس کی زندگی دوسروں کی نعمتوں کا ماتم بن جاتی ہے۔
امام ابن قیمؒ نے بھی اسی حقیقت کو بیان کیا ہے کہ حسد
"حاسد ہمیشہ غم اور تنگی میں رہتا ہے کیونکہ وہ اللہ کی تقسیم سے ناراض ہوتا ہے۔"
قرآن میں بھی حسد کی اصل کو بیان کیا گیا ہے
"أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ"
(کیا وہ لوگوں سے اس پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا؟)
یہ آیت Quran کی سورہ النساء (4:54) میں ہے۔
2️⃣ دوسرا عذاب
ایسی مصیبت جس پر کوئی اجر نہیں
(وثانيها مصيبة لايؤجر عليها)
عام طور پر جب انسان کسی مصیبت میں صبر کرتا ہے تو اللہ اسے اجر دیتا ہے۔
لیکن حسد کرنے والے کی تکلیف اس کے اپنے گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔
لہٰذا
وہ تکلیف میں بھی ہے
مگر اس تکلیف پر کوئی اجر نہیں
یعنی وہ دوہرا نقصان اٹھاتا ہے۔
3️⃣ تیسرا عذاب
ایسی مذمت جس پر کوئی تعریف نہیں
(وثالثها مذمة لايحمد عليها)
حسد کرنے والا انسان آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے پہچانا جانے لگتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں
یہ شخص دوسروں کی خوشی برداشت نہیں کرتا
یہ دوسروں کی برائی کرتا ہے
یہ ہمیشہ دل میں کینہ رکھتا ہے
نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرے میں اس کی عزت ختم ہونے لگتی ہے۔
4️⃣ چوتھا عذاب
اللہ کی ناراضی
(ورابعها سخط الرب)
حسد دراصل اللہ کے فیصلے پر اعتراض ہے۔
کیونکہ حسد کرنے والا گویا یہ کہہ رہا ہوتا ہے
"یہ نعمت اس کو کیوں ملی؟"
حالانکہ نعمتیں تقسیم کرنے والا اللہ ہے۔
اسی لیے نبی ﷺ نے حسد سے سختی سے منع فرمایا
"حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔"
یہ حدیث Sunan Abi Dawood میں نقل ہوئی ہے۔
5️⃣ پانچواں عذاب
توفیق کے دروازے بند ہو جانا
(وخامسها يغلق عنه باب التوفيق)
یہ سب سے خطرناک سزا ہے۔😥
جب انسان حسد میں مبتلا رہتا ہے تو
اس کے دل سے اخلاص ختم ہونے لگتا ہے
عبادت میں لذت نہیں رہتی
نیکیوں کی توفیق کم ہو جاتی ہے
گناہوں سے بچنا مشکل ہو جاتا ہے
یعنی اللہ اس سے نیکی کی توفیق چھین لیتا ہے۔علماء کہتے ہیں
حسد کی تعریف یہ ہے
کسی کی نعمت کے ختم ہونے کی تمنا کرنا۔
اس کے مقابلے میں ایک اچھی چیز ہے جسے غبطہ کہتے ہیں۔
غبطہ کا مطلب ہے
کسی کی نعمت دیکھ کر
اس کے ختم ہونے کی خواہش نہ کرنا
بلکہ اللہ سے ویسی نعمت مانگنا
یہ جائز ہے۔
حسد سے بچنے کے چند روحانی اصول
1. اللہ کی تقسیم پر رضا پیدا کریں
2. جس سے حسد ہو اس کے لیے دعا کریں
3. اپنی نعمتوں پر شکر ادا کریں
4. سورۃ الفلق کی تلاوت کریں
"وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
یہ آیت Quran کی سورۃ الفلق (113:5) میں ہے۔
حسد ایک ایسا باطنی مرض ہے جو خاموشی سے دل میں پیدا ہوتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ انسان کی روح، اخلاق اور ایمان کو متاثر کر دیتا ہے۔ اسی لیے سلف صالحین نے حسد کو دل کی خطرناک بیماریوں میں شمار کیا ہے۔
جلیل القدر عالم Abu al-Layth al-Samarqandi اور دیگر علماء نے اس کے روحانی اثرات کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ذیل میں ہم تین اہم پہلوؤں کو سمجھتے ہیں۔
1️⃣ حسد کرنے والے کی 10 خفیہ نشانیاں
حاسد ہمیشہ کھلے طور پر ظاہر نہیں ہوتا۔ اکثر وہ دوستی اور خیر خواہی کا نقاب پہنے ہوتا ہے، لیکن اس کے رویوں میں کچھ علامتیں ظاہر ہو جاتی ہیں۔
1. نعمت سن کر خاموش ہو جانا
جب آپ اپنی کسی خوشی یا کامیابی کا ذکر کریں تو وہ خوشی کا اظہار نہیں کرتا بلکہ خاموش ہو جاتا ہے۔
2. تعریف سے گریز
وہ آپ کی کامیابی کو تسلیم کرنے سے گریز کرتا ہے یا تعریف کرنے میں بخیلی کرتا ہے۔
3. دوسروں کے سامنے آپ کی کمیوں کا ذکر
وہ آپ کی خوبیوں کو چھپاتا اور کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔
4. آپ کی مصیبت پر دل کی خوشی
اگر آپ پر مشکل آئے تو وہ بظاہر افسوس کرے گا مگر دل میں اطمینان محسوس کرے گا۔
5. بار بار موازنہ کرنا
حاسد اکثر کہتا ہے
"اس میں ایسی کون سی بات ہے؟"
6. نعمت کو معمولی بنا کر دکھانا
وہ آپ کی کامیابی کو کم اہم ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
7. آپ کی کامیابی کو قسمت قرار دینا
وہ محنت کو تسلیم کرنے کے بجائے کہتا ہے
"بس قسمت اچھی تھی۔"
8. تعلق میں سرد مہری
جب آپ ترقی کریں تو وہ آہستہ آہستہ دوری اختیار کرنے لگتا ہے۔
9. آپ کی تعریف سن کر موضوع بدل دینا
جب لوگ آپ کی تعریف کریں تو وہ فوراً گفتگو کا رخ بدل دیتا ہے۔
10. دل میں مقابلہ اور جلنا
وہ ہر حال میں آپ سے آگے نکلنے کی خواہش رکھتا ہے چاہے اس کے لیے غلط راستہ اختیار کرنا پڑے۔
2️⃣ حسد انسان کو جادو (سحر) تک کیسے لے جاتا ہے
یہ ایک خطرناک حقیقت ہے جسے علماء نے واضح کیا ہے کہ بہت سے جادو کی ابتدا حسد سے ہوتی ہے۔
حسد کا سفر اکثر اس طرح ہوتا ہے
پہلا مرحلہ 🔴
دل میں جلن
کسی کی نعمت دیکھ کر دل میں تکلیف پیدا ہوتی ہے۔
دوسرا مرحلہ🔴
بددعا
حاسد دل میں کہتا ہے
"یہ نعمت اس سے چھن جائے۔"
تیسرا مرحلہ🔴
نفرت اور کینہ
یہ جلن کینہ اور دشمنی میں بدل جاتی ہے۔
چوتھا مرحلہ🔴
نقصان پہنچانے کی کوشش
وہ غیبت، سازش یا کردار کشی شروع کر دیتا ہے۔
پانچواں مرحلہ🔴
جادو کی طرف جانا
جب اس کی نفرت حد سے بڑھ جاتی ہے تو وہ بعض اوقات جادوگروں کے پاس چلا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے قرآن نے حسد کے شر سے پناہ مانگنے کا حکم دیا
"وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ"
یہ آیت Quran کی سورۃ الفلق میں ہے۔
3️⃣ سلف صالحین کے نزدیک حاسد کی روحانی حالت
سلف صالحین نے حاسد کی روحانی حالت کو بہت گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔
1. حاسد دراصل اللہ کی تقسیم سے ناراض ہوتا ہے
کیونکہ وہ اللہ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتا۔
2. اس کا دل ہمیشہ بے سکون رہتا ہے
حاسد کا دل سکون سے محروم رہتا ہے۔
3. حسد ایمان کو کمزور کرتا ہے
امام Ibn Qayyim al-Jawziyya لکھتے ہیں کہ حسد دل کو زہر کی طرح خراب کر دیتا ہے۔
4. حسد نیکیوں کو ضائع کر دیتا ہے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
حسد سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے۔
یہ حدیث Sunan Abi Dawood میں ذکر ہوئی ہے۔
5. حاسد اپنے آپ کو سب سے زیادہ نقصان دیتا ہے
سلف کہتے تھے "حاسد اپنے دشمن سے زیادہ خود کو نقصان پہنچاتا ہے۔"
لماء کہتے ہیں
حاسد دراصل تین لوگوں سے جنگ کر رہا ہوتا ہے
1. اللہ سے (کیونکہ وہ اللہ کی تقسیم سے ناراض ہے)
2. محسود سے (کیونکہ وہ اس کی نعمت دیکھ نہیں سکتا)
3. خود اپنے نفس سے (کیونکہ اس کا دل جلتا رہتا ہے)
اسی لیے حسد کو دل کی آگ کہا جاتا ہے۔

الرقیة الشرعیة النبویة

اہلیانِ پاکستان 🇵🇰 کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر مبارک!تقبل الله منا ومنکم صالح الاعمال۔ عید الفطر خوشیوں، محبتوں اور ش...
20/03/2026

اہلیانِ پاکستان 🇵🇰 کو دل کی گہرائیوں سے عید الفطر مبارک!
تقبل الله منا ومنکم صالح الاعمال۔
عید الفطر خوشیوں، محبتوں اور شکرگزاری کا دن ہے۔ یہ وہ مبارک موقع ہے جب ہم ایک ماہ کی عبادت، صبر اور تقویٰ کے بعد اللہ تعالیٰ کے حضور سجدۂ شکر ادا کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے روزوں، نمازوں اور تمام عبادات کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمارے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کر دے۔

آئیے اس عید پر ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مندوں، یتیموں اور محروم لوگوں کو بھی اپنی خوشیوں میں شریک کریں۔ یہی عید کا اصل پیغام ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے آسانی کا سبب بنیں، دلوں کو جوڑیں اور محبت و اخوت کو فروغ دیں۔

اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے، ہمارے وطن کو ہر قسم کی آزمائشوں سے محفوظ رکھے اور ہمیں ایک دوسرے کے لیے رحمت اور خیر کا ذریعہ بنائے۔

تمام پاکستانیوں کو عید کی خوشیاں بہت بہت مبارک ہوں۔
عید مبارک! 🌙
الرقیة الشرعیة النبویة

20/03/2026

رقیہ الشریعہ النبویہ جادو کو اور نظر بد کو باطل کرنے کا دمراقی عثمان ظفر +923000426249

Address

Muridke

Opening Hours

Saturday 11:00 - 17:00
Sunday 11:00 - 17:00

Telephone

923000426249

Website

https://youtube.com/@raqiusmanzafar8107?si=3yZTGdY4sMdX6mCA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when الرقیة الشرعیة النبویة posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to الرقیة الشرعیة النبویة:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram

کالا جادو، جنات، نظربد کا علاج

ہم باذن اللہ تعالی کالے جادو، جنات، نظربد، حسد، شادی میں رکاوٹ، جدائی کا جادو، حمل کا نہ ہونا، امراض کا جادو، محبت کا جادو، پاگل پن کا جادو نیز اور بہت قسم کے جادو کا علاج صرف اور صرف قرآن کریم اور مسنون دعاوں سے شرعی طریقے سے کرتے ہیں