04/01/2026
جن طیار (یعنی وہ جن جو کسی جادوگر کے حکم پر کام کرتے ہیں)
کا علاج کرنے والے عامل (عاملین ) ایسے جادو کے مریضوں کے علاج سے کیوں منحرف ہو جاتے ہیں جس کے ساتھ جن الطیار کی موجودگی ہوتی ہے
اس کی کئی وجوہات ہیں۔
یہ جادوگر اپنے شیطانی ایجنڈے کے تحت کام کرتے ہیں اور جب کوئی عامل
اس ایجنڈے کو ناکام بنانے کے لیے ان کے بھیجے ہوئے جنات کا علاج شروع کرتا ہے، تو وہ عامل کے خلاف ہو جاتے ہیں۔
یہاں چند اہم وجوہات بیان کی گئی ہیں
1. جادوگر کے مفادات کو نقصان پہنچتا ہے
جادوگر اپنی طاقت کا زیادہ تر انحصار جنات اور شیطانی قوتوں پر کرتا ہے۔ جن طیار جادوگر کے لیے کام کرتے ہیں، اور جب کوئی راقی ان جنات کو کمزور کر لیتا یا ان کو شکست دے دیتا ہے، تو جادوگر کی طاقت کمزور ہو جاتی ہے۔ اس سے جادوگر کے مالی یا ذاتی مفادات کو نقصان پہنچتا ہے، کیونکہ وہ جنات کو کنٹرول میں رکھنے کے ذریعے لوگوں کو متاثر کرتا ہے۔
2. جنات کی اطاعت سے جادوگر محروم ہو جاتا ہے
جب ایک راقی جن طیار کا علاج کرتا ہے اور جنات کو اللہ کی راہ پر یا ان عاملین سے بچنے کی طرف مائل کرتا ہے، تو وہ جن جادوگر کی فرمانبرداری چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جادوگر کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے، جو اسے مزید کام کرنے کے قابل نہیں رہنے دیتا۔
3. راقی کے روحانی اثرات
ایک مضبوط ایمان رکھنے والے راقی کے ذریعے اللہ کی مدد سے شیطانی قوتیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ قرآن کی تلاوت، ذکر اور دعا کا روحانی اثر جنات اور جادو کے تمام اثرات کو ختم کر دیتا ہے۔ جادوگر اس حقیقت کو سمجھتا ہے اور اپنی شکست کا احساس کرتے ہوئے راقی کے خلاف ہو جاتا ہے۔
4. شیطانی ایجنڈے کی ناکامی
جادوگر کا اصل مقصد لوگوں کو اذیت پہنچانا اور ان کے معاملات میں خرابی ڈالنا ہوتا ہے۔ جب راقی اس جادو کو ختم کرنے کے لیے طاقتور اقدامات اٹھاتا ہے، تو جادوگر کا شیطانی منصوبہ ناکام ہو جاتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ وہ راقی کے خلاف نفرت پیدا کر لیتا ہے۔
راقی کو ایسے کیس لینے میں کوئی خوف کیوں نہیں ہوتا؟
اس کے برعکس، ایک راقی کو ایسے کیس لینے میں کوئی خوف نہیں ہوتا کیونکہ اس کی بنیاد اللہ پر کامل بھروسہ اور روحانی طاقت ہوتی ہے۔ راقی اپنے ایمان کی مضبوطی اور علم و تجربات کی بنیاد پر جادو اور جنات کا سامنا کرتا ہے۔ یہاں کچھ وجوہات ہیں جو راقی کے خوف سے بے نیاز ہونے کی وضاحت کرتی ہیں
1. اللہ پر بھروسہ
ایک راقی کو معلوم ہوتا ہے کہ جادو اور جنات کی طاقتیں اللہ کی اجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔ وہ یقین رکھتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرے اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل پیرا رہے، تو کوئی شیطانی قوت اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
2. قرآن کی طاقت
قرآن پاک کی تلاوت، خاص طور پر سورۃ البقرہ، سورۃ الفاتحہ اور دیگر آیات کا اثر جادو اور جنات پر بہت گہرا ہوتا ہے۔ راقی کو یقین ہوتا ہے کہ قرآن کی برکت سے ہر طرح کے شیطانی اثرات ختم ہو سکتے ہیں، اور وہ اپنی حفاظت کے لیے بھی ان آیات کا استعمال کرتا ہے۔
3. روحانی تربیت اور تجربہ
ایک تجربہ کار راقی کو اس بات کا علم ہوتا ہے کہ جنات اور جادو کے اثرات کیسے کام کرتے ہیں اور ان کا علاج کیسے کرنا ہے۔ اس کی روحانی تربیت اور ماضی کے کامیاب کیسز اسے مزید مضبوطی فراہم کرتے ہیں، اور وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر ایسے کیسز لینے میں خوف محسوس نہیں کرتا۔
4. اللہ کی مدد پر یقین
راقی کو یہ یقین ہوتا ہے کہ جب وہ اللہ کے نام پر جادو اور جنات کا مقابلہ کر رہا ہوتا ہے، تو اللہ اس کی مدد کرتا ہے۔ اس یقین کی بنا پر وہ کسی بھی شیطانی خطرے سے بے خوف ہو کر جادو کے کیسز کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
5. دعا اور حفاظت کے اذکار
ایک راقی روزمرہ کی دعائیں اور اذکار کرتا ہے، جیسے آیت الکرسی، دعائیں اور دیگر حفاظت کے اذکار۔ یہ دعائیں راقی کو ہر قسم کے شیطانی اثرات سے محفوظ رکھتی ہیں اور اسے طاقتور بنا دیتی ہیں۔
ایک جادوگر کا مریض کے علاج سے منحرف ہو جانا اور ایک راقی کا خوف سے بے نیاز ہونا، دونوں عوامل ان کی روحانی حالت اور ایمان کے فرق پر مبنی ہیں۔ جہاں جادوگر شیطان کی قوتوں پر بھروسہ کرتا ہے اور ان کے خاتمے یا کمی سے خوفزدہ ہو جاتا ہے، وہیں راقی اللہ کی مدد اور قرآن کی برکتوں پر یقین رکھتے ہوئے جادو اور جنات کا بے خوفی سے مقابلہ کرتا ہے۔
الرقیة الشرعیة النبویة