22/05/2026
یہ گھر کے واش روم کے دروازے سے برآمد ہوے۔ تعویذ ہیں۔ اس جگہ کا انتخاب کیوں کیا جاتا ہے
چلیں جان لیتے ہیں ۔
✍️اخوکم راقی عثمان ظفر
خادم الحمام کی علامات اور اس سے شرعی طریقے سے نجات حاصل کرنے کا طریقہ
خادم الحمام وہ جن ہے جو باتھروم یا بیت الخلاء میں رہتا ہے، اور اس کو "خادم بیت الخلاء" یا "عامر بیت الخلاء" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جن گندگی اور ناپاک جگہوں کا مکین ہوتا ہے۔ اس قسم کا جن بہت شرارتی اور ناپاک ہوتا ہے اور انسان کو نقصان پہنچانے کے لیے تیار رہتا ہے۔
یہ جادو سے بھی بھیجا جاتا ہے۔ عام طور پر تو انکی حمام میں موجودگی شرعاً ثابت ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بیت الخلاء میں داخل ہوتے وقت "بسم اللہ،
اللہم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث" پڑھنے کا حکم دیا تاکہ ہم ان جنوں کے شر سے محفوظ رہیں۔ (صحیح بخاری)
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء سے نکلتے تو فرماتے
"الحمدللہ الذی اذھب عنی الاذی وعافانی"۔ (سنن نسائی، ابن ماجہ)
خادم الحمام کے تسلط کی وجوہات
بعض اوقات لوگ باتھروم میں زیادہ وقت گزارتے ہیں یا دعائیں نہیں پڑھتے، جس کی وجہ سے یہ جن ان پر تسلط حاصل کر لیتا ہے۔ خادم الحمام کے تسلط کی اہم وجوہات درج ذیل ہیں
1. باتھروم میں زور سے بات کرنا یا بچوں کا چیخنا۔
2. باتھروم میں گانے گانا یا ناچنا۔
3. باتھروم کی زمین پر گرم پانی پھینکنا بغیر "بسم اللہ" کہے۔
4. باتھروم میں رونا، خاص طور پر خواتین۔
خادم الحمام کی علامات
خادم الحمام کے تسلط کی علامات درج ذیل ہیں
1. مریض کا بغیر وجہ باتھروم میں زیادہ وقت گزارنا۔
2. مریض کو صاف ستھری جگہوں سے نفرت اور گندی جگہوں میں رغبت محسوس ہونا۔
3. قرآن یا اذان سن کر دل کی دھڑکن تیز ہو جانا اور خوف و گھبراہٹ کا شکار ہونا۔
4. جسم پر سرخ یا نیلے نشان ظاہر ہونا۔
5. کمر اور جوڑوں میں درد ہونا۔
خادم الحمام کا علاج
اگر خادم الحمام کی علامات ظاہر ہوں تو اس سے نجات کے لیے درج ذیل رقیہ شرعیہ پڑھنی چاہیے
1. سورۃ الفاتحہ
2. سورۃ البقرہ
3. سورۃ القلم (خاص طور پر اس قسم کے جن کے لیے مؤثر) پانی دم کر کے پینا اور نہانا دم والے پانی سے
4. شیطان مردود سے سو مرتبہ پناہ مانگنا۔
یہ عمل تب تک جاری رکھیں جب تک نتائج نا مل جائیں
ذاتی احتیاطی تدابیر
علاج کے ساتھ ساتھ مریض کو کچھ ذاتی احتیاطی تدابیر بھی اختیار کرنی چاہئیں، جیسے
1. روزانہ غسل کرنا اور صاف کپڑے پہننا۔
2. اپنے اردگرد کی جگہ کو صاف رکھنا تاکہ جن اس جگہ کو ناپسند کرے اور باہر نکل جائے۔
3. مرد خوشبو استعمال کریں اور خواتین گھر میں خوشبو لگائیں۔
4. بیت الخلاء کے آداب کا خیال رکھیں۔
بیت الخلاء کے آداب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت الخلاء کے آداب بیان فرمائے تاکہ مسلمان خادم الحمام کے شر سے محفوظ رہیں
1. داخلے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا
(ابو داود)
2. قبلہ رخ نہ ہونا
(صحیح مسلم)
3. استنجاء کا اہتمام کرنا
(صحیح مسلم)
4. بیت الخلاء میں بات نہ کرنا
(صحیح مسلم)
5. راستے میں یا سایہ دار جگہوں پر فضلہ نہ کرنا (صحیح مسلم)
6. ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرنا (صحیح مسلم)
خادم الحمام ایک خطرناک جن ہے جو موقع ملتے ہی انسان پر مسلط ہو جاتا ہے۔ جس کے جسم میں یہ داخل ہو جائے تو 34قسم کی جسمانی بیماریاں ایسے شخص پر ظاہر ہوتی ہیں۔
اس لیے ضروری ہے کہ ہم بیت الخلاء کے آداب کا اہتمام کریں اور وہاں جانے سے پہلے اور باہر نکلتے وقت دعائیں پڑھیں تاکہ اس کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔
الرقیة الشرعیة النبویة