Sobia Speech and Autism Clinic

Sobia Speech and Autism Clinic Speech therapy is the assessment and treatment of the communication problems and speech Disorder.

What are the Benefits of a Cochlear Implant?Many Adults with Cochlear Implants Report that They:BenefitsImproved Hearing...
22/10/2025

What are the Benefits of a Cochlear Implant?

Many Adults with Cochlear Implants Report that They:

Benefits

Improved Hearing Compared to Hearing Aids (80% vs 10% Sentence Understanding)

Better Focus in Noisy Environments (Restaurants, Meetings)

Reconnect with Missed Sounds

Increased Safety (Hear Alarms, Approaching Vehicles)

Talk and hear on the phone

Enjoy Music

*Sobia Hassan Magsi*
Consultant Speech and Language Pathologist Muzaffargarh





12/12/2024

بچےدیر سے بولنا شروع کرتے ہیں*
Part 1👉
وجوہات:
سماعت کا مسئلہ:
بچہ اگر ٹھیک سے سن نہ سکتا ہو
*دماغی نشوونما میں رکاوٹ*
=آٹزم Autism کا مسئلہ جس میں بچے مختلف انداز میں برتاو کرتے ہیں بات چیت میں مشکل چھوٹی چھوٹی چیزوں سے پریشان ہوجانا جیسا کہ روشنی، شور،الگ تھلگ رہنا..
*Screen Time*
فون/ٹی وی کا استعمال کرتے وقت کا لوگوں کے ساتھ بات کرنے کا دورانیہ کم ہو جاتا ہے بچہ اپنے اردگرد کے ماحول سے غافل ہو جاتا ہے..
گھر میں ایسے ماحول میں جہاں زیادہ لوگ نہ ہو اور واسط تعلق نہ ہونا ایسے ماحول میں بھی بچے لیٹ بولنا شروع کرتے ہیں..
*دماغ کی بیماری*
گردن توڑ بخار یا ایسی بیماری جس سے بولنے کی صلاحیت متاثر ہوجائے
اگر کوئی سوال ہے تو انباکس میں پوچھیں

*Sobia Hassan Magsi*
Consultant Speech and Language Pathologist Muzaffargarh
03338588613

15/10/2024



میاں بیوی میں تلخ کلامی بچوں کی نفسیات پر کتنا بُرا اثر ڈالتی ہے؟دنیا میں شاید ہی کوئی ایسے میاں بیوی ہوں جن کے درمیان ک...
03/07/2024

میاں بیوی میں تلخ کلامی بچوں کی نفسیات پر کتنا بُرا اثر ڈالتی ہے؟

دنیا میں شاید ہی کوئی ایسے میاں بیوی ہوں جن کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی یا ناراضی نہ ہوئی ہو، یہ کوئی ایسی اچھنبے کی بات بھی نہیں ایک عام معاشرتی مسئلہ ہے۔

دوسری جانب کچھ لوگ تو اس تکرار اور اختلاف رائے کو محبت کے بڑھنے سے بھی تشبیہ دیتے ہیں جو شاید کسی حد تک درست بھی ہو۔

تاہم ایک دوسرے سے لڑنے والے میاں بیوی کو اس بات کا لازمی خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی یہ تلخ کلامی ان کی اولاد میں نفسیاتی مسائل پیدا کرنے کا سبب نہ بنے۔

اس حوالے سے سیدتی میگزین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن والدین کے بچے حساس ہیں اور کسی بھی بات پر ناراض ہوجاتے ہیں تو ان پر بطور والدین یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کم از کم بچوں کے سامنے کسی قسم کے ردعمل کا اظہار نہ کریں چاہے ان کے آپسی اختلافات کتنے ہی شدید نوعیت کے کیوں نہ ہوں۔

اس سلسلے میں ماہرین نفسیات نے چند باتوں کا خصوصی طور پر تذکرہ کیا ہے جو مندرجہ ذیل ہیں۔

ایک دوسرے پر الزامات اور غیبت کرنا۔
میاں بیوی کے تعلقات خواہ طلاق کی نہج تک پہنچ گئے ہوں پھر بھی ان کو بچوں کے سامنے ایک دوسرے پر الزام تراشی قطعاً نہیں کرنی چاہیے جبکہ بچوں کی موجودگی کسی سے بھی ایک دوسرے کی غیبت تو اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے بچے ذہنی طور پر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور وہ غصے اور بدتمیزی کی طرف جاتے ہیں۔

اسی طرح اکثر میاں بیوی کی ناراضی کے دوران یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین بچوں کے ساتھ ہی ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتے ہیں جس سے بچوں کے ذہن میں ان کے خلاف غصہ جنم لیتا ہے۔ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے جھگڑالو نہ ہوں تو متذکرہ باتوں سے اجتناب برتیں۔

بچوں کو پیغام رسانی کے لیے ہرگز استعمال نہ کریں۔
ایسا عموماً ان جوڑوں میں دیکھا گیا ہے کہ جن کے درمیان سخت رنجش ہو یا پھر علیحدگی ہو چکی ہو۔ اگر آپ اپنے شوہر یا بیوی سے کچھ کہنا چاہتے ہیں تو خود کہیں۔ ایسا نہ ہو سکے تو فون پر یا تحریری پیغام کے ذریعے آگاہ کریں۔

تلخ کلامی سے حتی الامکان گریز کریں۔
لڑائی عموماً اس وقت ہوتی ہے جب دونوں جانب برہمی شدید ہو اس لیے اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ دونوں میں سے کوئی ایک پرسکون رہے اور بات کو نہ بڑھنے دے خصوصاً بچوں کی موجودگی میں۔ جب ایسا محسوس ہو کہ پارٹنر غصے میں ہے، پریشان ہے یا پھر کسی اور وجہ سے اس کا موڈ آف ہے تو نرمی کا مظاہرہ کریں اس کے جواب میں اگر دوسرا بھی وہی طرزعمل اختیار کرے گا تو لامحالہ لڑائی ہو گی جس کے نفسیاتی اثرات بچوں پر ہی پڑیں گے۔

بچوں کے ساتھ گھل مل کر رہیں اور ان کی بات کو غور سے سنیں۔
اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان لڑائی کے بعد بچوں کے ساتھ بات چیت میں کمی آ جاتی ہے جس کو بچے شدت کے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے جیون ساتھیوں کے درمیان تعلقات کتنے ہی خراب کیوں ہوں اس کے قصوروار بچے نہیں ہیں اس لیے ان پر غصہ مت نکالیں۔ ان کے ساتھ بات کرتے رہیں اور ان کی سنیں بھی۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ آپ کا ذہن بھی بٹ جائے گا اور برہمی میں کمی آئے گی۔

طلاق یا علیحدگی کی صورت میں کیا کیا جائے؟۔
اگر میاں بیوی میں علیحدگی ہوچکی ہے تو یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ اس کا اثر بچوں پر نہ پڑے اگر وہ اس پر بات کرنا چاہتے ہیں تو ان کے خیالات کو قبول کریں اگر وہ آپ کو بریک اپ کا ذمہ دار ٹھہراتا یا ٹھہراتی ہے تو اس کو نرمی سے سمجھائیں اور بتائیں کہ آپ اس کے جذبات کو سمجھتے ہیں اگر وہ جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ بھی کرے تو اس کے جواب میں صبر سے کام لیں۔

خطرے کی گھنٹی۔
اگر جوڑے میں طلاق ہو چکی ہے یا پھر وہ اکٹھا بھی رہ رہے ہیں تاہم دونوں کے تعلقات خوشگوار نہیں اور بچے کا رویہ شدید خراب ہو رہا ہے یا پھر وہ گم صم رہنے لگا ہے اور درست طور پر کھانا بھی نہیں کھا رہا تو یہ خطرے والی بات ہے یہی وہ وقت ہے کہ جب اس کو معالج کے پاس لے جانا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق اکثر اوقات بچوں کے لیے خاندان کے افراد ہٹ کر باہر کے کسی شخص سے اپنے جذبات اور دکھ کا اظہار کرنا آسان ہوتا ہے اور اس سے اسے پرسکون ہونے میں مدد ملتی ہے جو کہ اس بچے کیلئے کسی طور بھی درست نہیں۔

In 2012, World Down Syndrome Day was officially announced by the United Nations to be celebrated on March 21 every year....
21/03/2024

In 2012, World Down Syndrome Day was officially announced by the United Nations to be celebrated on March 21 every year. The date was chosen keeping in mind the 21st chromosome that is responsible for causing Down Syndrome. Since then, the special day is observed every year on March 21.
March 21 is significant because people with Down syndrome have three copies of the 21st chromosome.
Happy world downsyndrome day 🩷

Autism spectrum disorder (ASD) is a developmental disability caused by differences in the brain. People with ASD often h...
12/12/2023

Autism spectrum disorder (ASD) is a developmental disability caused by differences in the brain. People with ASD often have problems with social communication and interaction, and restricted or repetitive behaviors or interests. People with ASD may also have different ways of learning, moving, or paying attention....

06/12/2023

‏ڈپریشن ایک کہانی ہے مسائل سے نبزد آزما شخص کی جس سے اگر آپ واقف نہیں ہیں تو فقط مذاق نا اڑا کر اور خاموش رہ کر بھی مدد کر سکتے...

زندگی کی تلخیاں کسی انسان کو کس کیفیت میں لا کھڑا کرتی ہیں دوسرا شخص اسکا اندازہ نہیں کر سکتا۔۔۔
ہماری لغت ، ہمارے الفاظ محدود جبکہ احساس اور اس سے جڑی کیفیات کی کائنات بیحد وسیع ہے ، سب کچھ بیان نہیں ہو سکتا اسے بس محسوس کیا جا سکتا ہے اور اسکے لئے دل والا ہونا ضروری ہے ....

‏‎حرف کا پیرھن ہے ناکافی
روح لفظوں میں ڈھل نہیں سکتی




Cognitive development - when your child plays individually and with others their cognitive skills, such as thinking, rem...
15/11/2023

Cognitive development - when your child plays individually and with others their cognitive skills, such as thinking, remembering, learning and paying attention are all being developed. Children develop the following cognitive skills through play: problem solving. the power of imagination and creativity....👇

08/11/2023

*دماغی صحت کی خرابی کی 6 عام اقسام*

تمام عمروں، جنسوں، نسلوں اور سماجی گروہوں کے لوگ ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہو سکتے ہیں۔ بہت سے عوامل بیماری کو متحرک کر سکتے ہیں، اور بیماریاں ہلکے سے شدید تک ہو سکتی ہیں۔ عام طور پر، ذہنی عارضے میں مبتلا افراد کو اپنی بدلی ہوئی سوچ، موڈ یا رویے کی وجہ سے روزمرہ کی زندگی گزانا مشکل محسوس ہوتا ہے۔

بیماریوں کے کنٹرول اور روک تھام کے لیے کی جانے والی تحقیقات بتاتی ہیں کہ بہت سارے لوگوں کو زندگی میں کبھی نہ کبھی ذہنی مسائل کا سامنا لازمی کرنا پڑتا ہے، اگرچہ بہت سے مختلف ذہنی مسائل ہیں، کچھ دوسروں کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ عام ذہنی بیماریوں میں سے 6 کو بیان کیا جا رہا ہے۔

1.انزائٹی (بے چینی)

انزائٹی (بے چینی) ایک ایسی چیز ہے جس کا ہم سب اپنی زندگی میں وقتاً فوقتاً تجربہ کرتے ہیں، لیکن جب یہ احساسات روزمرہ کی زندگی پر حاوی ہوتے ہیں، تو اس سے ذہنی صحت متاثر ہوتی ہے یہ دماغی صحت کی سب سے اہم خرابیوں کا سبب بنتی ہے، بشمول OCD، گھبراہٹ اور فوبیا وغیرہ۔

2. بائپولر ڈس آرڈر

بائی پولر ڈس آرڈر کا شکار شخص اپنے مزاج، توانائی اور واضح طور پر سوچنے کی صلاحیت میں ڈرامائی تبدیلیوں کا تجربہ کرتا ہے۔ یہ بیماری انتہائی اونچ نیچ کا سبب بنتی ہے، جسے مینیا اور ڈپریشن کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے، بائی پولر ڈس آرڈر کے بہت سے مریض مناسب علاج کے ساتھ صحت مند اور نارمل زندگی گزار سکتے ہیں جس میں سائیکو تھراپی، ادویات، صحت مند طرز زندگی اور علامات کی جلد شناخت شامل ہے۔

3. ڈپریشن

جب ہم ڈپریشن کی خرابی کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو یہ صرف اداس محسوس کرنے یا مشکل وقت گزارنے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ حالت فرد کے مزاج، سوچ اور رویے پر اثر انداز ہو سکتی ہے اور اسے علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ علاج نہ کیے جانے والے ڈپریشن کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں، نہ صرف ان لوگوں کے لیے جو اس میں مبتلا ہیں بلکہ ان کے پیاروں کے لیے بھی۔ اچھی خبر یہ ہے کہ بہت سے لوگ جلد تشخیص اور علاج کے ساتھ بہتر ہو سکتے ہیں۔

4. پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر

حادثات، حملوں، لڑائی، اور قدرتی آفات جیسے تکلیف دہ واقعات سے کسی شخص کی ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ جو کہ PTSD کا باعث بنتی ہے۔ یہ آپ کو لمبے عرصے تک گہرے صدمے کہ اثر سے باہر نہیں نکلنے دیتا اور آپ کے زخموں کو تازہ رکھتا ہے ۔ پی ٹی ایس ڈی کے علاج کے لیے سائیکو تھراپی بہترین طریقہ علاج ہے۔

5. او سی ڈی

اس (OCD) کی علامات میں دہرائے جانے والے، ناپسندیدہ خیالات اور ان کے نتیجے میں طرز عمل کو انجام دینے کے لیے غیر معقول اور ضرورت سے زیادہ ترغیبات شامل ہیں۔
بعض اوقات یہ جاننے کے باوجود کہ ان کے خیالات اور طرز عمل کوئی معنی نہیں رکھتے، OCD والے لوگ اکثر انہیں روکنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ایک شخص میں عام طور پر بچپن، جوانی، یا ابتدائی جوانی کے دوران یہ علامات پیدا ہو سکتی ہیں، خواتین میں یہ علامات مردوں سے ظاہر ہوتی ہیں۔

6. فوبیا

فوبیا کسی چیز، جگہ، صورت حال، احساس یا جانور کا ایک زبردست اور کمزور کرنے والا خوف ہے۔ فوبیا خوف سے زیادہ واضح ہوتا ہے۔ یہ اس وقت بڑھتا ہے جب کسی شخص کو کسی صورت حال یا چیز کے بارے میں خطرے کا غیر حقیقی احساس ہوتا ہے۔
اگر فوبیا بہت شدید ہو جاۓ تو ایک شخص اپنی زندگی کو اس چیز سے بچانے کے لیۓ کوشاں ہوتا ہے جو اس کی پریشانی کا باعث بن رہی ہے۔ فوبیا روزمرہ کی زندگی کو محدود کرنے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ تکلیف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ زیادہ تر فوبیا کا کامیابی سے علاج کیا جا سکتا ہے...

Address

Muzaffargarh

Opening Hours

Monday 10:00 - 18:00
Tuesday 10:00 - 18:00
Wednesday 10:00 - 18:00
Thursday 10:00 - 18:00
Saturday 10:00 - 18:00

Telephone

+923338588613

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sobia Speech and Autism Clinic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Sobia Speech and Autism Clinic:

Share

Share on Facebook Share on Twitter Share on LinkedIn
Share on Pinterest Share on Reddit Share via Email
Share on WhatsApp Share on Instagram Share on Telegram