Lateef dawakhana""Lateef dawakhana""

Lateef dawakhana""Lateef dawakhana"" lateef dawakhana is situted near lasani lasani Marble Buchairy road Nawashah

07/11/2024
07/11/2024

ملک بھر میں جرسی پہننے کی ابھی تک کوئ شہادت موصول نہیں ہوئ 😂😂

تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ(عربی سے ترجمہ شدہ)یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ھے- وہ اپنی زندگی سے...
02/11/2024

تنخواہ(پیسوں)کو مہینے کی آخری تاریخ تک بچانے کا نسخہ
(عربی سے ترجمہ شدہ)
یہ واقعہ ایک سعودی نوجوان کا ھے- وہ اپنی زندگی سے مطمئن نہیں تها- اس کی تنخواہ صرف چار ہزار ریال تهی- شادی شدہ ہونے کیوجہ سے اس کے اخراجات اس کی تنخواہ سے کہیں زیادہ تهے- مہینہ ختم ہونے سے پہلے ھی اس کی تنخواہ ختم ھو جاتی اور اسے قرض لینا پڑتا- یوں وہ آہستہ آہستہ قرضوں کی دلدل میں ڈوبتا جارھا تها اور اس کا یقین بنتا جا رھا تها کہ اب اس کی زندگی اسی حال میں ھی گزرے گی- باوجودیکہ اس کی بیوی اسکے مادی حالت کا خیال کرتی لیکن قرضوں کے بوجھ تلے تو سانس لینا بهی دشوار ہوتا ھے- وہ کہتا ھے،
"ایک دن میں اپنے دوستوں کی مجلس میں گیا جہاں اس دن ایک ایسا دوست بهی موجود تها جو صاحب رائے آدمی تها اور میں اپنے اس دوست کے مشوروں کو قدر کی نگاہ سے دیکهتا تها- کہنے لگا میں نے اسے باتوں باتوں میں اپنی کہانی کہہ سنائی اور اپنی مالی مشکلات اس کے سامنے رکهیں- اس نے میری بات سنی اور کہا کہ میری رائے یہ ھے کہ تم اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ صدقہ کے لیے مختص کرو- اس سعودی نوجوان نے حیرت سے کہا :
"جناب مجهے گهر کے خرچے پورے کرنے کے لیے قرضے لینے پڑتے ہیں اور آپ صدقہ نکالنے کا کہہ رھے ہیں؟"
خیر اس نے گهر آ کر اپنی بیوی کو ساری بات بتائی تو بیوی کہنے لگی :
"تجربہ کرنے میں کیا حرج ہے ؟ ھو سکتا ھے اللہ جل شانہ تم پر رزق کے دروازے کهول دے-
کہتا ھے میں نے ماہانہ 4 ہزار ریال میں سے 30 ریال صدقہ کے لیے مختص کرنے کا ارادہ کیا اور مہینے کے آخر میں اسے ادا کرنا شروع کردیا-
سبحان اللہ ! قسم کها کر کہتا ہوں میری تو حالت ھی بدل گئی، کہاں میں ہر وقت مالی ٹینشنوں میں اور سوچوں میں رہتا تها اور کہاں اب میری زندگی گویا پهول ھو گئی تهی ، ہلکی پهلکی آسان ،قرضوں کے باوجود میں خود کو آزاد محسوس کرتا تها ایک ایسا ذہنی سکون تها کہ کیا بتاوں.
پهر چند ماہ بعد میں نے اپنی زندگی کو سیٹ کرنا شروع کیا ، اپنی تنخواہ کو حصوں میں تقسیم کیا ، اور یوں ایسی برکت ہوئی جیسے پہلے کبهی نہی ہوئی تهی.میں نے حساب لگا لیا اور مجهے اندازہ ہو گیا کہ کتنی مدت میں اِنشاءاللہ قرضوں کے بوجه سے میری جان چهوٹ جائے گی.
پهر اللہ جل شانہ نے ایک اور راستہ کهولا اور میں نے اپنے ایک عزیز کے ساتھ اس کے پراپرٹی ڈیلنگ کے کام میں حصہ لینا شروع کیا ، میں اسے گاہک لا کر دیتا اور اس پر مجهے مناسب پرافٹ حاصل ہوتا.
الحمدللہ ! میں جب بهی کسی گاہک کے پاس جاتا وہ مجهے کسی دوسرے تک راہنمائی ضرور کرتا .
میں یہاں پر بهی وہی عمل دہراتا کہ مجهے جب بهی پرافٹ ملتا میں اس میں سے اللہ کے لیے صدقہ ضرور نکالتا.
اللہ کی قسم صدقہ کیا ھے؟ کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے جس نے اسے آزمایا ھو.
صدقہ کرو، اور صبر سے چلو ، اللہ کے فضل سے خیر و برکتیں اپنی آنکهوں سے برستے دیکهو گے.
نوٹ :
1. جب آپ کسی مسلمان کو تنخواہ میں سے صدقہ کے لیے رقم مختص کرنے کا کہیں گے اور وہ اس پر عمل کرےگا تو آپ کو بهی اتنا ہی اجر ملے گا جتنا صدقہ کرنے والے کو ملے گا اور صدقہ دینے والے کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی-
سوچیے !!!
آپ اس دنیا سے چلے جائیں گے اور آپکے سبب آپکے پیچهے کوئی صدقہ کر رھا ھوگا- ایسے ھی اگر آپ نے یہ میسج آگے دوسرے دوستوں تک پہنچایا اور کسی نے صدقہ دینے کا معمول بنا لیا تو آپ کے لیے بهی صدقہ دینے والے کے مثل اجر ھے.
میرے عزیز دوستو !!!
آپ تهوڑا بہت جتنا ھو سکے کچھ رقم صدقہ کے لیے ضرور مختص کریں. اگر صدقہ کرنے والا جان لے اور سمجھ لے کہ اس کا صدقہ فقیر کے ھاتھ میں جانے سے پہلے اللہ کے ھاتھ میں جاتا ھے تو یقینا دینے والے کو لذت لینے والے سے کہیں زیادہ ہو گی.
کیا آپکو صدقہ کے فوائد معلوم ہیں؟ خاص طور پر 17، 18، 19 کو توجہ سے پڑهیے گآ
سن لیں !
صدقہ دینے والے بهی اور جو اس کا سبب بنتے ہیں وہ بهی!!!
1. صدقہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ھے-
2. صدقہ اعمال صالحہ میں افضل عمل ھے ، اور سب سے افضل صدقہ کهانا کهلانا ھے.
3. صدقہ قیامت کے دن سایہ ھو گا، اور اپنے دینے والے کو آگ سے خلاصی دلائے گا-
4. صدقہ اللہ جل جلالہ کے غضب کو ٹهنڈا کرتا ھے اور قبر کی گرمی کی ٹهنڈک کا سامان ھے-
5. میت کے لیے بہترین ہدیہ اور سب سے زیادہ نفع بخش چیز صدقہ ھے اور صدقہ کے ثواب کو اللہ تعالی بڑهاتے رہتے ہیں-
6. صدقہ مصفی ھے، نفس کی پاکی کا ذریعہ اور نیکیوں کو بڑهاتا ھے-
7. صدقہ قیامت کے دن صدقہ کرنے والے کے چہرے کا سرور اور تازگی کا سبب ھے-
8. صدقہ قیامت کی ھولناکی کے خوف سے امان ھے اور گزرے ھوئے پر افسوس نہیں ہونے دیتا.
9. صدقہ گناہوں کی مغفرت کا سبب اور سئیات کا کفارہ ھے.
10. صدقہ خوشخبری ھے حسن خاتمہ کی ، اور فرشتوں کی دعا کا سبب ھے-
11. صدقہ دینے والا بہترین لوگوں میں سے ھے ، اور اس کا ثواب ہر اس شخص کو ملتا ہے جو اس میں کسی طور پر بهی شریک ہو.
12. صدقہ دینے والے سے خیر کثیر اور بڑے اجر کا وعدہ ھے.
13. خرچ کرنا آدمی کو متقین کی صف میں شامل کردیتا ہے، اور صدقہ کرنے والے سے اللہ کے مخلوق محبت کرتی ھے.
14. صدقہ کرنا جود و کرم اور سخاوت کی علامت ھے.
15. صدقہ دعاوں کے قبول ھونے اور مشکلوں سے نکالنے کا ذریعہ ھے.
16. صدقہ بلاء )مصیبت( کو دور کرتا ہے ، اور دنیا میں ستر دروازے برائی کے بند کرتا ھے.
17. صدقہ عمر میں اور مال میں اضافے کا سبب ھے اور کام یابی اور رزق کا سبب ھے.
18. صدقہ علاج بهی ھے دواء بهی اور شفاء بهی...
19. صدقہ آگ سے جلنے، غرق ہونے ، چوری اور بری موت کو روکتا ھے.
20. صدقہ کا اجر ملتا ہے ، چائے جانوروں اور پرندوں پر ھی کیوں نہ ھو..
آخری بات :
بہترین صدقہ اس وقت یہ ھے کہ آپ اس میسج کو صدقہ کی نیت سے آگے دوسروں تک پہنچا دیں.
طالب دُعا

02/11/2024

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :*
’’ تین دعائیں ایسی ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ، والد کی دعا ، مسافر کی دعا اور مظلوم کی دعا ۔‘‘

*رواہ الترمذی (۱۹۰۵) و ابوداؤ (۱۵۳۶) و ابن ماجہ (۳۸۶۲) و صحیحہ ابن حبان (۲۴۰۶)

ایک عورت کا نکاح ایک عالم دین اسماعیل سے ہوا، جو امام مالک کے شاگرد تھے۔ اس مبارک شادی کی خوشی میں انہیں ایک بیٹا عطا ہو...
26/10/2024

ایک عورت کا نکاح ایک عالم دین اسماعیل سے ہوا، جو امام مالک کے شاگرد تھے۔ اس مبارک شادی کی خوشی میں انہیں ایک بیٹا عطا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ کچھ عرصہ بعد اسماعیل کا انتقال ہو گیا، اور بیوی اور اس کا ننھا بیٹا کافی دولت کے ساتھ رہ گئے۔ ماں نے اپنے بیٹے کی اسلامی تربیت کا بیڑا اٹھایا اور شاید چاہتی تھی کہ وہ بھی مسلمانوں کا ایک عالم بنے۔ لیکن افسوس کہ ان کا بیٹا بچپن ہی سے نابینا تھا، اور جب کوئی نابینا ہو تو علم حاصل کرنے کے لیے ایک استاد سے دوسرے استاد تک جانا اور مختلف شہروں کا سفر کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

ماں نے دل سے دعا کا دروازہ کھٹکھٹایا اور مسلسل خالص نیت سے اللہ سے دعا کرتی رہی۔ ایک رات، جب وہ سوئی ہوئی تھی، اس نے خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دیکھا جو اسے کہہ رہے تھے: "اے عورت، تمہارے کثرت دعا کی وجہ سے اللہ نے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹا دی ہے"۔ جب وہ جاگی تو دیکھا کہ اس کا بیٹا واقعی دیکھ سکتا تھا۔ سبحان اللہ! جو مصیبت زدہ کی دعا سنتا ہے اور اس کی تکلیف دور کرتا ہے۔

جب اللہ نے اس کے بیٹے کو بینائی عطا کی تو ماں نے اسے علم حاصل کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ اللہ نے اس پر علم کا دروازہ کھولا اور وہ ایسا عظیم کتاب لکھنے والا بنا جو دنیا کی سب سے مستند کتابوں میں شامل ہے، یعنی صحیح البخاری۔ جی ہاں، وہ بچہ محمد بن اسماعیل البخاری تھا، جسے اللہ نے علم اور وسیع قلب عطا کیا۔

یہ داستان ان لوگوں کے لیے ہے جو حکیموں اور ڈاکٹروں کے دروازے کھٹکھٹا چکے ہیں اور انہیں شفا نہیں ملی۔ آسمان کے دروازے کھٹکھٹائیں، اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہوں، دعا سے مایوس نہ ہوں۔ اللہ اس وقت تک دعاؤں کو سنتا ہے جب تک آپ خود اس سے دعا مانگنے سے تھکتے نہیں۔

اللہ کا ذکر، تسبیح، تحمید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجنا کبھی نہ بھولیں۔“

*خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا،،،**مدارس اجاڑ ہونے لگے۔۔۔**خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا:***کیا سبب ہے کہ مدارس و معالم کی ط...
01/10/2024

*خلیفہ ھارون رشید کا دور تھا،،،*

*مدارس اجاڑ ہونے لگے۔۔۔*

*خلیفہ نے قاضی القضاۃ سے کہا:*
**کیا سبب ہے کہ مدارس و معالم کی طرف عوام کا رحجان کم سے کم تر ہوتا جا رہا ہے؟*

*قاضی صاحب نے جواب دیا،*
*اگلے سال جواب دوں گا…*

*خلیفہ تڑپ کر بولے:* *سوال ابھی اور جواب سال بعد؟*
*سمجھ نہیں آئی بات!*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*
*ہر سوال کی نوعیت مختلف ہوتی ہے یہ ایسا سوال ئے جس کے جواب میں سال لگ جائے گا۔۔۔*

*وقت گزرنے لگا اگلی عید آ گئی،*
*عید کی امامت کے فرائض قاضی صاحب ادا کیا کرتے تھے۔۔۔*
*عوام و خواص سبھی عید کے دن عید گاہ پہنچ گئے، مگر قاضی صاحب تشریف نہیں لائے۔۔۔*

*قاضی صاحب کو لینے کے لئے سرکاری نمائندے پہنچے، مگر قاضی صاحب نے انکار کر دیا کہ وہ عید کی نماز نہیں پڑھائیں گے۔۔۔*

*نمائندگان و کار پردازگان کے اصرار و منت سماجت پر قاضی صاحب نے فرمایا کہ:*
*میں پالکی میں جاؤں گا، مزید یہ کہ پالکی بھی خلیفہ وقت اٹھانے کے لئے آئے۔۔۔*
*وزراء و نمائندگان ششدر و انگشت بدنداں رہ گئے کہ یہ کیسا غیر معقول مطالبہ ہے،*
*مگر قاضی صاحب ڈٹے رہے۔۔۔*

*مجبوراََ خلیفہ کو اطلاع دی گئی۔۔۔*
*خلیفہ علم و علماء دوست انسان تھے۔۔۔*

*خود چل کر آ گئے قاضی صاحب تشریف لائے عید کی نماز ہو گئی۔۔۔*

*وقت گزر گیا، لیکن عید کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ خلیفہ پھر حاضر ہوئے اور کہا:*

*قاضی صاحب مدارس میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی ہے، بٹھانے کے لئے چٹائیاں بھی کم پڑ گئی ہیں، اور وزراء اور ارکان سلطنت کے بچے بھی چٹائیوں پر بیٹھے علم حاصل کر رہے ہیں۔۔۔*

*قاضی صاحب نے فرمایا:*

*آپ کے سوال کا جواب مل گیا؟*
*خلیفہ بولے:*
*کون سا سوال اور کون سا جواب؟*
*قاضی صاحب بولے:*
*آپ نے کہا تھا، کہ مدارس میں طلبہ کیوں نہیں آتے؟*

*خلیفہ بولے:*
*جواب کیا ہے؟*

*قاضی صاحب نے کہا:*
*آپ حاکم وقت ہیں، آپ نے ایک بار صاحب علم امام کو عزت دی ہے، تو مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے اتنے آ گئے، کہ بیٹھنے کی جگہ نہیں مل رہی، اگر اسی طرح ارباب علم و فضل کی توقیر کرو گے، تو تبھی لوگ علم کی طرف آئیں گے۔۔۔*

*اس واقعہ کے بر عکس میرے ملک خداداد پاکستان میں ہیرو یا تو کھلنڈرے ہیں یا فلمیاداکار (جنھیں اچھے وقتوں میں کنجر کہا جاتا تھا) یہاں ڈاکٹر قدیر خان جیسے اصلی ہیرو کو جب عزت دینے کا وقت آیا تو پسِ زنداں ڈال دیا گیا اور ان کی آخری زندگی فُٹ پاتھوں کی نظر ہو گئی۔۔۔*

*یہاں مدارس کے علماء و آئمہ اور وارثانِ علمِ نبوت کو سپیکروں کے جھوٹے مقدمات میں چوروں کے ساتھ ھتھکڑیاں لگائی جاتی ہیں،،،*
*حق مانگنے پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، اوباشوں اور بدمعاشوں سے ان پر بدترین سلوک کروایا جاتا ہے۔۔۔*

*آج تک کسی طالب علم کو انٹر نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے پر کوئی شاھی پروٹوکول نہیں دیا گیا،*
*کروڑوں روپے کی برسات فقط ایک نیزہ پھینکنے والے پر کر دی جاتی ہے اور فل شاھی پروٹوکول دیا جاتا ہے۔۔۔*

*جبکہ اس کے مقابلے میں کتنے طلبہ نے بین الاقوامی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں، مگر کسی حاکم وقت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔۔۔*

*جب ملک وملت کی خدمت پر رسوائی ملے،*

*علم کے وارثوں کی بے توقیری ہو گی،*

*جب اچھا ناچنے والوں کو ہیرو اور ہیروئن قرار دے کر قومی سطح کے اعزازات و ایوارڈز سے نوازا جائے گا،*
*جب ملک کو ایٹمی پاور بنانے والے بےنام کر دیئے جائیں گے، تو میرے ملک میں گویے (مراثی، بھانڈ کنجر) اور کھلنڈرے تو پیدا ہو سکتے ھیں، مگر کوئی غزالی، کوئی رازی، کوئی بوعلی سینا، کوئی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، کوئی طارق بن زید، کوئی خالد بن ولید، کوئی ٹیپو سلطان، کوئی میجر عزیز بھٹی، کوئی امام بخاری، امام مسلم، ابن تیمیہ پیدا نہیں ہو گا۔۔۔*

*اگر کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو پلٹ آئیں اپنے ماضی کی طرف، اپنے روشن مستقبل کی طرف۔۔۔*
*ہمارا مستقبل تعلیم میں ہے، تقدس میں ہے، حیا اور عفت و پاکدامنی اور غیرت و حمیت میں ہے، اپنے اصلی ہیروز کو پہچانیں، ان کی قدر کر لیں ورنہ۔۔۔*
*تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں،،،

27/09/2024

طلاق مانگتی عورت کے نامرد شوہر کا کیا علاج تین مہینے پھر بنا وہ مرد اور بچے کا باپ
الحَمْدُ ِلله

05/09/2024

✅ کیا ﺁﭖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﮐﺎ ﭘﺲ ﻣﻨﻈﺮ ﺟﺎﻧﺘـے ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﮨﻢ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘـے ﮨﯿﮟ؟ -
'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﺍﮨﻢ ﺩﻋﺎ ھــے ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺯ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺩہرﺍﺗـے ﮨﯿﮟ ﺟﺐ ﻣﺠﮭـے ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺩﻝ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﯿﺎ-
ﺩﺭﺣﻘﯿﺖ '' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕُ '' ﺍﺱ ﻣﮑﺎﻟﻤﮯ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮧ ھــے ﺟﻮ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﮨﻮﺍ -.
ﺟﺐ حضرت محمد ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺳﮯ ﻣﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ' ﺍَﺳَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﯿﮑُﻢ ' ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮩﺎ - ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﺫﺍﺕ ﮐﻮ ﮐﯿﺴـے ﺳﻼﻡ ﮐﮩﮯ ﺟﻮ ﺑﺬﺍﺕ ﺧﻮﺩ ﭘﯿﮑﺮ ﺳﻼﻡ ھــے ؟
ﮨﻢ ﺍﺳﮯ ﺳﻼﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺳﻼﻣﺘﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺧﺎﻟﻖ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ھــے
ﻟﮩﺬﺍ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ :-
'' ﺍَﻟﺘَﺤِﻴَّﺎﺕ ُﻟِﻠَّﻪِ ﻭَﺍﻟﺼَّﻠَﻮَﺍﺕُ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒَﺎﺕُ "
ﺗﻤﺎﻡ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﺪﻧﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﻟﯽ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﺍﻟﻠﮧ کیلئـے ﮨﯿﮟ
ﺍﻟﻠﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧـے ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮐﯿﺎ :-
ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻚَ ﺃَﻳُّﻬَﺎ ﺍﻟﻨَّﺒِﻲُّ ﻭَﺭَﺣْﻤَﺔُ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑَﺮَﻛَﺎﺗُﻪُ
ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻧﺒﯽ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺎ ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﮐﺘﯿﮟ ﮨﻮﮞ
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﻧـے ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :-
ﺍﻟﺴَّﻠَﺎﻡُ ﻋَﻠَﻴْﻨَﺎ ﻭَﻋَﻠَﻰ ﻋِﺒَﺎﺩِ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﻴﻦَ
ﺳﻼﻡ ﮨﻮ ﮨﻢ ﭘﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ
ﻧﻮﭦ:- آپ ﷺ ﻧـے " ﮨﻤﯿﮟ " ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﯿﺎ , (ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺻﺎﻟﺢ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﭘﺮ)
ﺍﻟﻠﮧ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺣﺒﯿﺐ ﷺ ﮐﮯ ﻣﺎﺑﯿﻦ ﯾﮧ ﻣﮑﺎﻟﻤﮧ ﺳﻦ ﮐﺮﻓﺮﺷﺘﻮﮞ ﻧـے ﮐﮩﺎ
ﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥْ ﻟَﺎ ﺇِﻟَﻪَ ﺇِﻟَّﺎ ﺍﻟﻠَّﻪُ ﻭَﺣْﺪَﻩُ ﻟَﺎ ﺷَﺮِﻳﻚَ ﻟَﻪُ ﻭَﺃَﺷْﻬَﺪُ ﺃَﻥَّ ﻣُﺤَﻤَّﺪًﺍ ﻋَﺒْﺪُﻩُ ﻭَﺭَﺳُﻮﻟُﻪ
ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻌﺒﻮﺩ ﻧﮩﯿﮟ, ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﷺ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮑﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮨﯿﮟ۔
ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ !!
ﺍﺱ ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺗﯽ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﮐﻮ ﺷﯿﺌﺮ ﮐﯿﺠﺌـے ۔۔۔۔۔ ﺗﺨﯿﻞ ﮐﯿﺠﺌـے ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮒ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺟﺮ ﭘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ۔ ﺟﺰﺍﮐﻢ ﺍﻟﻠﮧ خیراً و کثیراً
بحوالہ (بخاری ومسلم) مظاہر حق جدید, شرح مشکوۃ شریف, باب: تشہد کا بیان، صفحہ 588 تا 593اسلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

03/09/2024

گاؤں میں چوری کی واردات کا ایک طریقہ چور اپناتے ہیں۔ وہ جس گھر کو ٹارگٹ بناتے ہیں اس گھر میں دو تین پتھر پھینکتے ہیں۔ ایسا وہ چوری کرنے سے پہلے دو تین راتیں کرتے ہیں۔ اگر گھر والوں کی طرف سے کوئی ری ایکشن ہو۔ مثلاً گھر والوں میں سے کوئی کہے کہ "باہر کون ہے؟" یا لائٹ آن ہو جائے یا کوئی چلتا پھرتا محسوس ہو تو چور اس گھر میں چوری کا ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس ان کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے جواب میں کوئی رد عمل نہ ہو تو چور پوری تیاری کے ساتھ آتے ہیں اور گھر کا صفایا کر کے چلے جاتے ہیں۔
بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ختم نبوت کی شق ہٹانے نہ ہٹانے یا پھر معمولی الفاظ کی رد و بدل کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ وہ پتھر ہیں جس سے چور آپ کی بیداری کا اندازہ لگا رہا ہے۔ اور ایسا وہ ہر دو تین ماہ بعد کرتا ہے۔ اگر آپ جاگتے رہیں گے تو چور چوری نہیں کر پائے گا۔ بس پہرہ دینا ہے۔ اس لئے ختم نبوت پر کوئی مصلحت برداشت نہ کی جائے۔
قادیانی اور اس کے ساتھی کل بھی کافر تھے آج بھی کافر ہیں۔
صرف آپ ہی پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیں بلکہ یہ تحریر صدقہ جاریہ ہے ، شیئر کرکے باقی احباب تک پہنچائیے ، شکریہ, اس میں آپ کا بمشکل ایک لمحہ صرف ہو گا لیکن ہو سکتا ہے اس ایک لمحہ کی اٹھائی ہوئی تکلیف سے آپ کی شیئر کردہ تحریر ہزاروں لوگوں کے لیے سبق آموز ثابت ہو..
جزاک اللہ خیرا کثیرا.....

03/09/2024

طاقت کا خزانہ
تیار ہے۔جس جس کو چاہیٸے رابطہ کرلے۔بغیر ساٸیڈ ایفیکٹ
طاقت و امساک ساتھ ساتھ
حکیم مسعود 03337006070

Address

Near Naseer Bakery Golimar
Nawabshah
67450

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Lateef dawakhana""Lateef dawakhana"" posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category