09/11/2025
افسوس کے ساتھ اپ کو اس خبر سے اگاہ کرنے لگا ہوں
میرے جاننے والے ریسکیو 1122 مظفرآباد میں کام کرتے ہیں۔ وہ مختلف واٹر ریسکیو آپریشنز میں اپنی جان خطرے میں ڈال کر لوگوں کی زندگیاں بچاتے ہیں۔
جب میرا مظفرآباد جانا ہوا تو دیکھا کہ وہ بائیک سروس چلا رہے ہیں۔
میں نے پوچھا:
"آپ بائیک سروس کیوں چلا رہے ہیں؟"
پہلے تو وہ بات ٹال گئے، لیکن بار بار پوچھنے پر انہوں نے افسوس کے ساتھ بتایا کہ:
> "چار ماہ سے ہماری تنخواہیں نہیں ہوئیں۔ ہم پروجیکٹ ملازمین ہیں، مستقل نہیں۔ میرے ساتھ پچاس سے زیادہ ساتھی ہیں، جن میں زیادہ تر شادی شدہ ہیں۔ گھر کے اخراجات، بچوں کی ضروریات اور روزمرہ خرچ پورا کرنا اب بہت مشکل ہو گیا ہے۔"
یہ سن کر دل افسردہ ہو گیا۔
وہ لوگ جو دوسروں کی زندگی بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالتے ہیں، آج خود اپنے گھر کے چولہے جلانے کے لیے مجبور ہیں۔
میں وزیرِاعظم آزاد کشمیر اور سیکرٹری 1122 آزاد کشمیر سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا نوٹس لیں —
تاکہ یہ محنتی اور فرض شناس اہلکار اپنی عزتِ نفس کے ساتھ زندگی گزار سکیں، نہ کہ بائیک چلا کر گزر بسر کرنے پر مجبور ہوں۔