05/01/2026
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
ایک ماہ، چار جنازے اور علم و عرفان کے چار بڑے ستونوں کا گر جانا... یہ کوئی معمولی بات نہیں، یہ اس بات کی علامت ہے کہ آسمان ہم سے روٹھ رہا ہے اور زمین اپنے بہترین جوہروں کو سمیٹ رہی ہے۔
پیر ذوالفقار احمد نقشبندی (نور اللہ مرقدہ): جن کی صحبت میں دلوں کی بنجر زمینیں آباد ہوتی تھیں، جن کا ذکرِ الٰہی مردہ روحوں میں جان پھونک دیتا تھا۔
پیر عبد الرحیم نقشبندی (رحمتہ اللہ علیہ): تصوف و سلوک کا وہ پاسبان جو خاموشی سے دلوں کی اصلاح فرماتا رہا۔
پیر مختار الدین شاہ (رحمتہ اللہ علیہ): جن کی ہیبت اور تقویٰ سے باطل لرزتا تھا اور جن کی دعائیں امت کا سہارا تھیں۔
حضرت مولانا فضل الرحیم اشرفی (رحمتہ اللہ علیہ): جامعہ اشرفیہ کے وہ عظیم مہتمم جنہوں نے ہزاروں علماء پیدا کیے اور علم کی شمع کو فروزاں رکھا۔
یہ وقت رونے کا نہیں، ڈرنے کا ہے!
حدیثِ پاک کا مفہوم ہے کہ "اللہ تعالیٰ علم کو بندوں کے سینوں سے کھینچ کر نہیں اٹھائے گا، بلکہ علماء کو اٹھا کر علم کو اٹھا لے گا"۔
ایک ہی ماہ میں ان عظیم ہستیوں کا رخصت ہونا ایسا ہے جیسے کسی عمارت کے بنیادی ستون ایک ایک کر کے گر جائیں۔ جب بستیوں سے اللہ والے رخصت ہوتے ہیں، تو اپنے ساتھ وہ دعائیں اور برکتیں بھی لے جاتے ہیں جو عذابِ الٰہی کے سامنے ڈھال بنی ہوتی ہیں۔
اے اللہ! ہمیں اس یتیمی کے احساس سے بچا لے۔ ہم گناہگاروں پر رحم فرما۔ ان اکابرین کے سائے ہم سے چھن گئے، اب تو ہی ہمارا حامی و ناصر ہے۔ ان سب ہستیوں کو جنت الفردوس میں اپنے قربِ خاص میں جگہ عطا فرما اور
ہمیں ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما۔ 🌹💫🌸🎁👏💫⭐