Ha feez Ullah : Your Future Doctor

Ha feez Ullah : Your Future Doctor President of PDA NMC | Studying Medicine at Nowshera Medical College,Nowshera | No Compromise on White Coat Dignity | Final Year MBBS 👨‍⚕️🩺

09/03/2026

پی ڈی اے یوتھ فورم KPK نے تھرڈ ایئر سپلیمنٹری کے پیپر H کے حوالے سے KMU کے ساتھ تمام مسائل اٹھائے ہیں۔ KMU کی جانب سے پیپر ریویو کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، اور پیپر میں موجود کسی بھی غلطی کی صورت میں KMU اس کی نشاندہی کرے گی اور اس کے بدلے گریس مارکس دیے جائیں گے۔

پی ڈی اے ہمیشہ طلباء کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔

~پی ڈی اے یوتھ فورم کے پی کے

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ایمان والوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا ا...
01/03/2026

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان، نہایت رحم کرنے والا ہے۔

ایمان والوں میں کچھ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا تھا اسے سچ کر دکھایا۔ ان میں سے کچھ اپنا وعدہ پورا کر چکے ہیں اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں، اور انہوں نے اپنے عہد میں ذرا بھی تبدیلی نہیں کی۔ (قرآنِ کریم 33:23)

آیت اللہ خامنہ ای کی آخری پوسٹ

عطا تارڑ کی گود میں پلنے والی یہ "ممی ڈیڈی آنٹیاں" اپنے اس گھٹیا Cringe Content کے ذریعے محنتی افغانوں کی تذلیل کر رہی ہ...
28/02/2026

عطا تارڑ کی گود میں پلنے والی یہ "ممی ڈیڈی آنٹیاں" اپنے اس گھٹیا Cringe Content کے ذریعے محنتی افغانوں کی تذلیل کر رہی ہیں۔ یاد رکھو! تندور پر پسینہ بہا کر حلال کی روٹی کمانا، کسی کے تلوے چاٹنے اور دلالی کرنے سے ہزار درجے بہتر ہے۔
​سنا ہے یہ بی بی LUMS سے گریجویٹ ہے۔ ایسی تعلیم پر ہزار بار لعنت جو تمہیں انسان کی تذلیل سکھائے اور تم کسی کی محنت مزدوری کو "نیچ" نگاہ سے دیکھو۔ اگر ڈگری لے کر بھی تم میں اتنی عقل نہیں آئی کہ رزقِ حلال کمانے والا تم سے بہتر ہے، تو تمہاری ڈگری محض ایک ردی کا ٹکڑا ہے۔
​صرف ان کو نہیں، بلکہ ان کے بے غیرت پروڈیوسر کو بھی ڈوب مرنا چاہیے جسے ایسا Cringe Content بناتے ہوئے ذرا شرم نہ آئی۔ خیر، عوام نے سوشل میڈیا پر جو ان کا حال کیا ہے، کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی۔
​جو بھی محنت اور مزدوری کرتا ہے، وہ ہمارے لیے معزز ہے۔ ریاست کی جنگ اپنی جگہ، لیکن ان غریب مزدوروں کی پگڑیاں اچھالنا تمہیں زیب نہیں دیتا۔ اپنا یہ گھٹیا تماشہ بند کرو!

شہید ڈاکٹر مہوش حسنین کا پوسٹ مارٹم رپورٹ!!! کوہاٹ۔ ڈاکٹر مہوش کے جسم پر چھ گولیوں کے نشانات ..... جسم کے مختلف حصوں پر ...
26/02/2026

شہید ڈاکٹر مہوش حسنین کا پوسٹ مارٹم رپورٹ!!! کوہاٹ۔ ڈاکٹر مہوش کے جسم پر چھ گولیوں کے نشانات ..... جسم کے مختلف حصوں پر گولیاں لگیں۔۔۔ہاتھوں، سینے اور پیٹ میں گولیاں لگیں۔۔۔۔ گولیاں لگنے سے دل، پھیپڑے، جگر اور گردے سمیت کئی اعضاء زخمی ہوئۓ 🥹🥹🥹
ظلم کا حساب دو قتل کا جواب دو 🚩✊🚩

پی ڈی اے یوتھ فورم خیبر پختونخوا، ایوب میڈیکل کالج کے فورتھ ایئر MBBS کے طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان ...
26/02/2026

پی ڈی اے یوتھ فورم خیبر پختونخوا، ایوب میڈیکل کالج کے فورتھ ایئر MBBS کے طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ان اساتذہ کے رویے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتی ہے جو اپنی ذاتی انا کی خاطر طلبہ کو فیل کر کے ان کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ ایوب میڈیکل کالج میں ENT اور Ophthalmology کے پریکٹیکل امتحانات میں 39 سپلیاں دینا ایک لمحہ فکریہ ہے، کیونکہ یہ بات عقل سے بالاتر ہے کہ ایک طالب علم KMU کا مشکل تھیوری امتحان تو پاس کر لے لیکن اسے OSPE (پریکٹیکل) میں فیل کر دیا جائے۔
اس سنگین ناانصافی اور طلبہ کو دی جانے والی ذہنی اذیت کے خلاف پی ڈی اے یوتھ فورم کے صدر ڈاکٹر حفیظ نے اس مسئلے کو KMU کی سطح پر اٹھا دیا ہے تاکہ ذمہ دار اساتذہ کے خلاف فوری تادیبی کارروائی کی جا سکے اور طلبہ کو مزید استحصال سے بچایا جا سکے۔ پی ڈی اے یوتھ فورم اپنے اس عزم کا اعادہ کرتی ہے کہ وہ ہمیشہ طلبہ کے حقوق کے لیے صفِ اول میں کھڑی رہے گی اور کسی بھی فورم پر ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر خاموش نہیں رہے گی۔

پی ڈی اے یوتھ فورم خیبر پختونخوا

With a heavy heart, we mourn the tragic death of innocent Dr. Mehwish in Kohat. This heartbreaking incident demands urge...
26/02/2026

With a heavy heart, we mourn the tragic death of innocent Dr. Mehwish in Kohat. This heartbreaking incident demands urgent action for the safety of our healthcare professionals.

We sincerely appreciate sb Director of Higher Education Commission Pakistan and Vice Chancellor of Khyber Medical University for clearly highlighting with evidence based arguments... the need to implement the Hospital Security Act 2020 in KPK.

Hospitals must be places of healing, not fear. Thank you to our senior doctors like Proff.Zia Ul Haq sb for raising their voices for justice and protection of their juniors.

May Allah grant Dr. Mehwish the highest place in Jannah. Ameen.

ڈاکٹر مہوش کی شہادت — ایک نظامی اور سماجی زوال کا آئینہ22 فروری 2026 کی شب کوہاٹ نے اپنی ایک مخلص اور فرض شناس بیٹی کو ک...
25/02/2026

ڈاکٹر مہوش کی شہادت — ایک نظامی اور سماجی زوال کا آئینہ

22 فروری 2026 کی شب کوہاٹ نے اپنی ایک مخلص اور فرض شناس بیٹی کو کھو دیا۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ کی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر مہوش کو کے ڈی اے ڈبل روڈ پر نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا۔ انہیں فوری طور پر اسی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ برسوں سے انسانیت کی خدمت کر رہی تھیں، مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔ ان کا قتل صرف ایک جرم نہیں، بلکہ پورے معاشرے کو جھنجھوڑ دینے والا سانحہ ہے۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں۔ یہ اُس بگڑتے ہوئے ہیلتھ سسٹم کا منطقی انجام ہے . ڈاکٹر مہوش کی شہادت ایک ایسے نظام کا نتیجہ ہے جو انتظامی نااہلی، بدعنوانی، غفلت اور فرنٹ لائن ڈاکٹروں کے خلاف بڑھتی ہوئی دشمنی سے کمزور ہو چکا ہے۔

سوشل میڈیا نے اس ماحول کو مزید خراب کیا ہے۔ پیچیدہ طبی حقائق کو جذباتی ویڈیوز اور تقاریر میں بدل دیا جاتا ہے۔ چند لوگ مائیک اٹھا کر بغیر سمجھے بھاشن دیتے ہیں اور ایک ایسا ماحول بنا دیتے ہیں جس میں ڈاکٹر، خاص طور پر نوجوان اور خواتین ڈاکٹرز، ولن بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں دیکھتا کہ مشینری خراب ہے، عملہ ناکافی ہے، انتظامیہ غائب ہے اور نظام بوسیدہ ہے۔ عوام کے سامنے صرف ڈاکٹر نظر آتا ہے، اور سارا غصہ اسی پر نکالا جاتا ہے۔

برسوں سے ہیلتھ بیوروکریسی نے اداروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ احتساب کمزور ہے، مفادات مضبوط ہیں، اور حقیقی اصلاحات کبھی نافذ نہیں ہو سکیں۔ وسائل کا غلط استعمال ہوتا ہے، فرنٹ لائن اسٹاف کو تحفظ حاصل نہیں، اور جو لوگ حقیقت میں مریضوں کی خدمت کر رہے ہیں وہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

دوسری طرف بیوروکریٹس، جرنیل اور اعلیٰ افسران مکمل پروٹوکول، سیکیورٹی اور ڈبل کیبن گاڑیوں میں شہزادوں کی طرح گھومتے ہیں۔ انہیں ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہے۔ جبکہ ڈاکٹر، جو روزانہ زندگی اور موت کے فیصلوں کا سامنا کرتے ہیں، بغیر سیکیورٹی اور بغیر پشت پناہی کے کام کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں ڈاکٹر ہر سال ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں — حب الوطنی کی کمی نہیں، بلکہ تحفظ اور عزت کی کمی ہے۔

یہ ایک سماجی المیہ بھی ہے۔ پشتون معاشرے میں کمزور پر ہاتھ نہیں اٹھایا جاتا، خصوصاً خواتین کو عزت اور تحفظ دیا جاتا ہے۔ ایک خاتون ڈاکٹر، جو انسانیت کی خدمت کر رہی ہو، اس کا قتل ہمارے اخلاقی اور ثقافتی زوال کی علامت ہے۔

اگر اسی طرح ڈاکٹروں، خاص طور پر خواتین ڈاکٹروں، کو نشانہ بنایا جاتا رہا تو سوال یہ ہے کہ کوہاٹ میں علاج کون کرے گا؟ آدھی رات کو ایمرجنسی میں کون کھڑا ہوگا؟ مشکل کیسز کی ذمہ داری کون لے گا؟

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ جب کسی مرد سرجن کے کیس میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو انداز نسبتاً نرم ہوتا ہے، مگر جب معاملہ خاتون ڈاکٹر کا ہو تو شور زیادہ، الزام تراشی تیز اور کردار کشی شدید ہوتی ہے۔ یہ رویہ مزید خواتین کو میدان چھوڑنے پر مجبور کرے گا۔

ڈاکٹر مہوش کی شہادت کو محض ایک خبر نہ بننے دیں۔ اگر ہم نے نظامی خرابیوں، سوشل میڈیا کے زہریلے ماحول، بیوروکریسی کی گرفت اور اپنے معاشرتی اقدار کے زوال کو نہ روکا تو ہم صرف ڈاکٹر نہیں کھوئیں گے — ہم اپنے علاقے کے ہیلتھ سسٹم کی بنیاد ہی کھو بیٹھیں گے۔

23/02/2026



جب میں پشاور میں کام کرتی تھی، اگر میں صرف دو منٹ بھی گھر دیر سے پہنچتی تو فوراً گھر سے کال آتی آپ کہاں ہے؟ وہ کال محض پوچھنے کے لیے نہیں ہوتی تھی، بلکہ اس خوف سے ہوتی تھی کہ ہم نے اپنی بیٹی کو درندوں کے درمیان چھوڑ رکھا ہے۔ آج مجھے لندن آئے دو سال سے زیادہ ہوچکے، لیکن آج تک گھر سے یہ فکر بھری کال نہیں آئی کہ دو منٹ دیر کیوں ہوگئی؟ یا ایک گھنٹہ کیوں لگ گیا؟

مسئلہ یہ نہیں کہ پختون درندے ہے، مسئلہ یہ ہے کہ ہماری پختون قوم کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک ایسا ماحول بنا دیا گیا ہے جہاں درندے آزاد گھوم رہے، اور اسی ماحول میں ہمارے بچے بھی خوف، عدم تحفظ اور ظلم کے سائے میں پل رہے ہیں۔

پہلے ڈاکٹر وردہ… اب ڈاکٹر مہاویش… کتنی بیٹیاں اور قربان ہوگی؟ کتنی ماؤں کی گودیں اجڑیں گی؟
اور کب تک ہم اپنے ہی معاشرے میں عدم تحفظ کے اس عذاب کو جھیلتے رہےگے؟ پختون قوم کے اندر رہ کر انسانیت کی خدمت کرنا انتہائی مشکل ہوتا جارہی ہے۔ یہاں خواتین ڈاکٹر ہوں یا مرد، دونوں کو ہر وقت دھمکیوں، خوف اور عدم تحفظ کے سائے میں کام کرنا پڑتی ہے۔

جو لوگ دن رات انسانوں کی جان بچانے کی قسم کھاتے ہے ، وہ خود اپنی جان کے خوف میں جیتے ہے۔ ہسپتال کی راہداریوں میں خدمت کا جذبہ تو ہوتا ہے، مگر دل کے کسی کونے میں ایک مسلسل ڈر بھی سانس لیتا ہے کہ نہ جانے کب کوئی خبر، کوئی دھمکی یا کوئی سانحہ زندگی کو بدل دے۔

یہ کیسا المیہ ہے کہ جو ہاتھ زخموں پر مرہم رکھتے ہے، انہی ہاتھوں کو خوف میں جینا پڑے؟ جو ڈاکٹر زندگی بچانے نکلتے ہے، وہی اپنی زندگی کی حفاظت کے لیے پریشان ہے؟

دل دکھتا ہے، روح کانپ اٹھتی ہے، جب ایک کے بعد ایک ایسے واقعات سننے کو ملتے۔ انسانیت کی خدمت عبادت ہے، مگر جب عبادت ہی خوف کے سائے میں ہونے لگے تو معاشرے کی بے حسی اور ناانصافی کا درد اور بھی گہرا ہو جاتی ہے۔

کاش ایسا معاشرہ ہو جہاں ڈاکٹر، خاص طور پر خواتین ڈاکٹر، سکون سے اپنے فرائض انجام دےسکے، بغیر دھمکیوں، بغیر خوف، اور بغیر اس ڈر کے کہ خدمتِ انسانیت کی قیمت اپنی جان سے چکانی پڑے گی۔
ڈاکٹر الفت عثمان

انتہائی رنج و غم اور گہرے کرب کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت پر مامور، ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ کی سی ایم...
22/02/2026

انتہائی رنج و غم اور گہرے کرب کے ساتھ یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت پر مامور، ڈی ایچ کیو ہسپتال کوہاٹ کی سی ایم او ڈاکٹر مہوش کو شام کی ڈیوٹی سرانجام دے کر گھر واپسی پر، ہسپتال سے محض 200 میٹر کے فاصلے پر بزدلانہ فائرنگ کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا گیا۔
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نوشہرہ میڈیکل کالج اس وحشیانہ اور سفاکانہ فعل کی پرزور مذمت کرتی ہے۔ یہ حملہ صرف ایک فرد پر نہیں بلکہ پورے طبی شعبے اور ریاست کے امن و امان کے کھوکھلے دعوؤں پر ایک کاری ضرب ہے۔ جب ہسپتالوں کی دہلیز پر مسیحا ہی محفوظ نہیں ہوں گے، تو صحت کا یہ بوسیدہ نظام کیسے چلے گا؟ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ یہاں جان بچانے والوں کی اپنی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
ہم حکومتِ خیبر پختونخوا اور متعلقہ سیکیورٹی اداروں سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ:
* ڈاکٹر مہوش کے قاتلوں کو 24 گھنٹوں کے اندر بے نقاب کر کے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔
* اس گھناؤنے جرم میں ملوث درندوں کو ایسی عبرتناک سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی بھی کسی ہیلتھ پروفیشنل کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ کر سکے۔
* 'ہیلتھ کیئر سروسز پروٹیکشن ایکٹ' کو محض فائلوں کی زینت بنانے کے بجائے اسے فی الفور زمین پر نافذ کیا جائے اور تمام طبی مراکز و معالجین کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے۔
ہم دکھ اور سوگ کی اس گھڑی میں ڈاکٹر مہوش کے لواحقین اور کوہاٹ کی میڈیکل کمیونٹی کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شہید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کا حوصلہ دے۔
پراونشل ڈاکٹرز ایسوسی ایشن واضح کرتی ہے کہ اگر قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی میں ذرا بھی لیت و لعل سے کام لیا گیا، تو ہم پورے صوبے میں احتجاج کی کال دینے اور سخت ترین لائحہ عمل اختیار کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اب صرف الفاظ کی مذمت کافی نہیں، ہمیں انصاف اور تحفظ چاہیے۔

پی ڈی اے این یم سی

Parents send their children to colleges and universities to study not to die. The attitude of university and college sta...
19/02/2026

Parents send their children to colleges and universities to study not to die. The attitude of university and college staff toward students is highly unprofessional. They are not even trained in how to deal with students or how to treat them appropriately. On top of that, the academic burden and stress are excessive, and there is no proper counseling support available for students.

Now the time has come for everyone to review their attitudes and behaviors, and to prevent students lives from being destroyed.

Address

Nowshehra Medical College
Nowshera

Telephone

+923247982597

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ha feez Ullah : Your Future Doctor posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Ha feez Ullah : Your Future Doctor:

Share