Hakeem Rai Khalid

Hakeem Rai Khalid اس پیج پر ہم صحت کے لیے قدرتی علاج ۔وڈیو
youtube.com/?si=FfMGExOOEupNn6Ka

🌿 شفاء درد باکمال زعفرانی کیپسول: جوڑوں اور پٹھوں کے درد کا مکمل حل 🌿"جس تن لاگے سو تن جانے"— درد کی شدت وہی سمجھتا ہے ج...
13/05/2026

🌿 شفاء درد باکمال زعفرانی کیپسول: جوڑوں اور پٹھوں کے درد کا مکمل حل 🌿

"جس تن لاگے سو تن جانے"— درد کی شدت وہی سمجھتا ہے جس کے دن کا چین اور رات کا سکون برباد ہو چکا ہو۔

حکمت کے انمول موتی ملاحظہ فرمائیں:

> تندرستی ہزار نعمت ہے، سنو اے دوستو!
> درد سے چھٹکارا ہو تو زندگی ہے اک بہار
> حکمتِ یونانی میں پوشیدہ ہے ہر دکھ کی دوا
> زعفرانی لمس سے پاؤ شفا، اب بار بار
>
📜 طبی پسِ منظر اور فلسفہِ علاج
ہمارے یہ کیپسول صرف وقتی آرام نہیں بلکہ نظریہ مفرد اعضاء، طبِ یونانی، اور آیورویدک (سنسکرت فلسفہ) کے قدیم و مستند اصولوں کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔
نظریہ مفرد اعضاء: ہم مرض کی جڑ (تحریک، تسکین، تحلیل) کو سمجھ کر عضلاتی اور اعصابی دردوں کا علاج کرتے ہیں۔

طبِ اسلامی و یونانی: اخلاط (خون، بلغم، صفراء، سوداء) کے توازن کو بحال کر کے مہروں اور جوڑوں کے امراض کا شافی علاج۔

آیو ویدک فلسفہ: بات، پت اور کف (Doshas) کے بگاڑ کو درست کرنے کے لیے قیمتی جڑی بوٹیوں اور خالص زعفران کا مرکب۔

🎯 فوائد جو پہلے ہی دن سے محسوس ہوں

✅ جوڑوں اور ہڈیوں کا پرانا درد

✅ کندھوں کا جام ہونا اور مہروں کی تکلیف

✅ کمر درد اور پٹھوں کا کھچاؤ

✅ یورک ایسڈ کی وجہ سے پیروں اور تلووں میں جلن و درد
✅ گھنٹیا (Rheumatoid Arthritis) کا خاتمہ

✅ اٹھنے بیٹھنے اور چلنے پھرنے میں دشواری کا حل

👴 زیرِ نگرانی: تجربہ کار ماہرینِ طب
یہ نسخہ پانچ دہائیوں کے طبی تجربے کا نچوڑ ہے:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد: (سابق پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج) جو گزشتہ 50 سالوں (پانچ عشروں) سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔
سکالر طبیبہ ام حبیبہ: (فائنبوس فزیشن) جدید و قدیم طب کا بہترین امتزاج۔
💰 قیمت اور آرڈر کی تفصیلات
پیکنگ: 30 کیپسول (پورے ایک ماہ کا کورس)
قیمت: صرف 1050 روپے (بمعہ ڈاک خرچہ)
ضمانت: الحمدللہ ہزاروں مریضوں پر آزمودہ۔ آرام نہ آنے کی صورت میں رقم واپس کی جائے گی!
طریقہ کار: جاز کیش (JazzCash) کے ذریعے ایڈوانس ادائیگی کے بعد پورے پاکستان میں گھر بیٹھے منگوائیں۔
📍 رابطہ اور پتہ
🏠 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ نمبر: 03127530789

پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ خیر کی یہ بات دوسروں تک پہنچ سکے!


اس میں طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء اور دیگر طبی فلسفوں کا امتزاج شامل کیا گیا ہے۔👂 سیلانِ گوش (کان کا بہنا): اسباب، علام...
13/05/2026

اس میں طب یونانی، نظریہ مفرد اعضاء اور دیگر طبی فلسفوں کا امتزاج شامل کیا گیا ہے۔

👂 سیلانِ گوش (کان کا بہنا): اسباب، علامات اور مجرب علاج

حکمت کے موتی:
> تندرستی ہزار نعمت ہے، جانیے قدر اس کی بیمار سے
> حکمت وہ علم ہے جو روح کو جلا اور جسم کو شفا دیتا ہے
>
📜 طبی تناظر اور فلسفہ (طبِ قدیم و جدید)
سیلانِ گوش محض ایک مقامی مرض نہیں بلکہ جسم کے اندرونی نظام کی خرابی کا عکاس ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء: اس مرض کا تعلق اکثر غدی عضلاتی (Warm & Dry) تحریک سے ہوتا ہے جہاں جسم میں حرارت اور رطوبت کے بگاڑ سے سوزش پیدا ہوتی ہے۔

طبِ یونانی و اسلامی: اسے "فسادِ خون" اور دماغی فضلات کا کان کی طرف میلان قرار دیا جاتا ہے۔

آیو ویدک (سنسکرت): اسے 'کرنا سراو' (Karna Srava) کہا جاتا ہے، جو 'پت' اور 'کف' دوش کے عدم توازن سے پیدا ہوتا ہے۔

🚩 علامات (Symptoms)
کان میں شدید سوزش اور ٹیسیں مارنے والا درد۔
شدتِ درد کے باعث بے خوابی (نیند کا نہ آنا)۔
ابتداء میں زرد رطوبت اور بعد ازاں گاڑھی پیپ کا اخراج۔
مرض طول پکڑ جائے تو دماغی کمزوری اور سر چکرانے (Dizziness) کی شکایت۔

⚠️ وجوہات (Causes)
سردی کا لگنا یا نزلہ زکام کا بگڑنا۔
بدہضمی اور معدے کی تیزابیت۔
بچوں میں دانت نکلنے کا زمانہ۔
کان کی صفائی نہ رکھنا یا کسی بیرونی شے کا کان میں جانا۔

خون کی خرابی (فساد الدم) اور جلدی امراض۔
💊 مستند طریقہ علاج (Treatment)

1. مقامی صفائی و تدبیر:
سب سے پہلے کان کو ہائیڈروجن پر آکسائیڈ سے اچھی طرح صاف کریں۔ اس کے بعد سفید پھٹکڑی کا باریک سفوف (پاؤڈر) خالص شہد میں ملا کر فتیلہ (روئی کی بتی) تیار کریں اور دن میں دو بار کان میں رکھیں۔

2. اندرونی ادویات:
خون کی صفائی اور سوزش کے خاتمے کے لیے:
اطریفل شاہترہ یا عرق مصفیٰ خون ہمراہ شربتِ عناب استعمال کریں۔

🚫 اہم نوٹ:
اگر کان کے پردے میں سوراخ ہو تو پچکاری (Syringing) سے پرہیز کریں، کیونکہ پانی اندر جانے سے درد میں شدید اضافہ ہو سکتا ہے۔ پیپ چھوت دار ہو سکتی ہے، لہٰذا مریض کے استعمال شدہ کپڑے اور تولیہ الگ رکھیں۔

🍽️ غذا اور پرہیز

پرہیز: تلی ہوئی اشیاء، کھٹی چیزیں (ترشی)، اور تیز گرم مسالہ جات سے مکمل اجتناب کریں۔
مفید غذا: زود ہضم اور مقوی غذا (دلیہ، یخنی، مونگ کی دال) استعمال کریں۔

👨‍⚕️ زیرِ نگرانی و سرپرستی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف)
معاونت:
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔

📞 رابطہ: 03127530789

لائک کریں | شیئر کریں | فالو کریں

آپ کا ایک شیئر کسی کی زندگی میں شفا کا سبب بن سکتا ہے۔

#حکمت #اوکاڑہ #پاکستان #شفا

یہ ایک انتہائی گہرا اور فکری موضوع ہے۔ جب معاشرے میں سوال کی جگہ خوف لے لے، تو علم کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ حکیم ابنِ طب...
13/05/2026

یہ ایک انتہائی گہرا اور فکری موضوع ہے۔ جب معاشرے میں سوال کی جگہ خوف لے لے، تو علم کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ حکیم ابنِ طبیب رائے خالد صاحب کے پچاس سالہ تجربے اور طبیبہ ام حبیبہ صاحبہ کی علمی بصیرت کی روشنی میں، یہ تحریر نہ صرف ایک پیغام ہے بلکہ ایک دعوتِ فکر بھی ہے۔

جب سوال جرم بن جائے: فکری جمود اور معاشرتی زوال
عقیدہ جب دلیل سے کٹ جائے اور مذہب صرف شناخت کا لیبل بن جائے، تو سوچنے والے ذہنوں پر تالے لگ جاتے ہیں۔ جب ہم اختلافِ رائے کو اپنی ذات پر حملہ سمجھنے لگتے ہیں، تو مکالمے کی جگہ تشدد اور نفرت لے لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں تباہ ہوئیں جہاں انسان کی قیمت نظریے سے کم ہو گئی۔
حکمت اور شاعری کے آئینے میں
حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا:
> عصا نہ ہو تو کلیمِی ہے کارِ بے بُنیاد
> عصا ہے منطق و برہان و حجت و تمثیل
>
یعنی دلیل اور منطق کے بغیر بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے معجزے کے بغیر نبوت کا دعویٰ کرنا۔ ایک اور مقام پر فکری آزادی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا:
> آزادیِ افکار سے ہے ان کی تباہی
> رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ
>
طبی اور فلسفیانہ نکتہ نظر

1. نظریہ مفرد اعضاء اور طبِ یونانی:
جیسے انسانی جسم میں جب خلط (Humor) کا توازن بگڑ جائے اور کوئی ایک عضو غلبہ پا لے، تو مرض جنم لیتا ہے۔ بالکل اسی طرح معاشرے میں جب "اعصابی" (دماغی/فکری) تحریک سست پڑ جائے اور "عضلاتی" (شدت پسندی/جذباتی) تحریک حد سے بڑھ جائے، تو معاشرہ فکری قبض (Intellectual Constipation) کا شکار ہو جاتا ہے۔

2. طبِ اسلامی اور منطق:
اسلامی طب اور فلسفہ (جیسے ابنِ سینا اور امام غزالی کی تعلیمات) ہمیشہ "عقل و نقل" کے ملاپ پر زور دیتے ہیں۔ منطق سکھاتی ہے کہ "سچ" وہی ہے جو دلیل کی بھٹی سے گزر کر آئے۔ اگر ہم سوال کرنا چھوڑ دیں گے تو ہم طبِ اسلامی کے اس سنہری دور کو کبھی واپس نہیں لا سکیں گے جہاں تحقیق عبادت تھی۔

3. آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ:
آیو ویدک فلسفے کے مطابق کائنات "ستوا" (نور/علم)، "رجس" (حرکت/جذبات) اور "تمس" (تاریکی/جمود) کا مجموعہ ہے۔ جب معاشرے میں سوال دبایا جاتا ہے تو "تمس" یعنی ذہنی اندھیرا غالب آ جاتا ہے، جو اندرونی بے چینی اور سماجی امراض کی جڑ ہے۔

ہمارا پیغام
آئیں! سوال کو زندہ کریں، مکالمے کو رواج دیں اور اختلاف کو دشمنی کے بجائے "تنوع" سمجھیں۔ کیونکہ جہاں سوچ ختم ہوتی ہے، وہاں سے زوال شروع ہوتا ہے۔

زیرِ سرپرستی:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے پانچ عشروں سے بنی نوع انسان کی خدمت میں مصروف)

تحریر و پیشکش:

سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

📍 خالد دواخانہ:l چوک ہارنیاں والا، نزد غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔

📞 رابطہ: 03127530789

اس پیغام کو عام کرنے میں ہمارا ساتھ دیں: لائک | شیئر | فالو

عنوان: الفاظ کا جادو اور شخصیت کا اصل روپ"شکل و صورت انسان کا پہلا تعارف ہے، جبکہ انسان کا دوسرا اور اصل تعارف اس کے الف...
13/05/2026

عنوان: الفاظ کا جادو اور شخصیت کا اصل روپ

"شکل و صورت انسان کا پہلا تعارف ہے، جبکہ انسان کا دوسرا اور اصل تعارف اس کے الفاظ ہیں۔ اپنا دوسرا تعارف اتنا مکمل کر لو کہ لوگ تمہارا پہلا تعارف بھول جائیں۔"

بلاشبہ، ظاہری خوبصورتی صرف آنکھوں کو بھاتی ہے، لیکن دانائی اور شیریں کلامی روح میں اتر جاتی ہے۔ طب اور فلسفہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ جیسے جسم کی صحت اخلاط کے توازن میں ہے، ویسے ہی شخصیت کی خوبصورتی گفتگو کے توازن میں ہے۔

حکمت اور علم کے موتی
حکیم الامت اور دانائے راز کے اشعار اس حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں:

> الفاظ کے پیچ و خم میں الجھتے ہیں دانا
> کردار کی خوشبو سے مہکتے ہیں دانا
>
اور بقولِ شاعر:

> بات کرنے کا حسیں طور طریقہ سیکھو
> لفظ بھی جسم ہیں، ان میں بھی تو جاں ہوتی ہے
>
طبی و فلسفیانہ تناظر

علمِ طب محض علاج کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات اور انسانی فطرت کو سمجھنے کا فن ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء: حکیم صابر ملتانیؒ کے نظریے کے مطابق، انسان کی زبان اور اس کے الفاظ اس کے اعصابی، غدی یا عضلاتی مزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک متوازن مزاج ہی متوازن گفتگو کا ضامن ہے۔

طبِ یونانی و اسلامی: بقراط اور بوعلی سینا سے لے کر طبِ نبویﷺ تک، ہمیشہ "نفس" کی پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔ الفاظ نفس کا آئینہ ہوتے ہیں۔

آیورویدک و سنسکرت فلسفہ: قدیم ویدک فلسفہ "واک" (گفتگو) کو ایک مقدس توانائی قرار دیتا ہے۔ منطق (Logic) ہمیں سکھاتی ہے کہ دلیل میں وزن ہو تو ظاہری صورت کی اہمیت ثانوی رہ جاتی ہے۔

خدمتِ خلق کا سفر (پانچ عشروں کی مہارت)
اوکاڑہ کی سرزمین پر حکمت و تدبر کا وہ نام جس پر نسلوں نے اعتماد کیا۔ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد گزشتہ 50 سالوں (پانچ عشروں) سے اپنے مطب کے ذریعے دکھی انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کی علمی بصیرت اور تجربہ اب سکالر طبیبہ ام حبیبہ (Phynbos Physician)** کی جدید طبی مہارت کے ساتھ مل کر آپ کی صحت کی ضامن ہے۔

📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ برائے مشورہ و رہنمائی: 03127530789
پ کی رائے اہم ہے!

اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی تو اسے لائک کریں، اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت اور صحت کے یہ خزانے آپ تک پہنچتے رہیں۔

#حکمت #اوکاڑہ #آیورویدک #پاکستان

اس سنجیدہ سوال اور معاشرتی تضاد پر نظریہ مفرد اعضاء اور طب یونانی کے فلسفے کی روشنی میں ایک فکر انگیز  پوسٹ درج ذیل ہے:ا...
12/05/2026

اس سنجیدہ سوال اور معاشرتی تضاد پر نظریہ مفرد اعضاء اور طب یونانی کے فلسفے کی روشنی میں ایک فکر انگیز پوسٹ درج ذیل ہے:

ادارے بیمار اور افسران توانا: ایک فکری و طبی تجزیہ
عجیب اتفاق ہے!

پاکستان کے سارے ادارے خسارے میں ہیں، مگر اداروں کے اندر بیٹھے سارے افسران ارب پتی ہیں۔

طبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ صورتحال بالکل ایسی ہی ہے جیسے انسانی جسم کا کوئی عضو (Organ) تحلیل ہو رہا ہو، سکڑ رہا ہو یا کام چھوڑ رہا ہو، لیکن اس عضو کی طرف جانے والی رطوبتیں اور غذا صرف ایک جگہ جمع ہو کر "ورم" یا "رسولی" کی شکل اختیار کر لیں۔

طبی و فلسفیانہ تناظر

1. نظریہ مفرد اعضاء اور عدم توازن:
حکیم انقلاب دوست محمد صابر ملتانیؒ کے فلسفے کے مطابق، بیماری تب جنم لیتی ہے جب جسم کے کسی ایک نظام (اعصابی، غددی یا عضلاتی) میں تحریک حد سے بڑھ جائے اور باقی سست پڑ جائیں۔ ہمارے ملکی اداروں کی حالت "عضلاتی سکیڑ" جیسی ہے جہاں عوام اور ادارے پِیس رہے ہیں، جبکہ چند مخصوص افراد "غددی تسکین" (بے جا سکون و دولت) کا شکار ہیں۔ جب نظامِ دورانِ خون (معیشت) صرف ایک جگہ رک جائے تو باقی جسم (ادارے) مردہ ہونے لگتے ہیں۔

2. طب یونانی اور اخلاط کا بگاڑ:
بقراط اور بوعلی سینا کے مطابق صحت "اعتدال" کا نام ہے۔ جب معاشرے میں "خلطِ سودا" (حرص و ہوس) بڑھ جائے تو وہ پورے نظام کو خشک کر دیتی ہے۔ اداروں کا خسارہ دراصل اس "سوداوی کیفیت" کا نتیجہ ہے جہاں خود غرضی نے جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔

3. آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ:
قدیم ویدک دانش کہتی ہے کہ "دھرما" (فرض شناسی) کے بغیر حاصل کی گئی دولت "وشا" (زہر) کی مانند ہے جو پورے سماج کے "پرانا" (حیاتیاتی توانائی) کو ختم کر دیتی ہے۔

حکمت کے علمی خزانے
نصیبِ قوم کیا کہیے کہ ہے اب تک وہی گردش
وہی شورِ سلاسل ہے، وہی صیاد کی سازش
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن، اپنا تو بن

خالد دواخانہ: پانچ دہائیوں کا اعتماد

ادارے ہوں یا انسانی جسم، ان کی بقا صرف مخلصانہ علاج اور درست تشخیص میں ہے۔ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت اور درست طبی رہنمائی فرما رہے ہیں۔

معالجین:
پروفیسر حکیم رائے خالد (ماہرِ نبض و نظریہ مفرد اعضاء)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر
رابطہ: 📞 03127530789

فیس بک اپیل:
اگر آپ کو یہ فکری تحریر پسند آئی ہے تو اسے لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت اور شعور کا یہ سفر جاری رہے۔

یہ ایک بہت ہی گہرا اور جذباتی موضوع ہے۔ انسانی دکھ اور دل کی کیفیت کو جب طب اور فلسفے کے ترازو میں تولا جائے تو یہ محض ا...
12/05/2026

یہ ایک بہت ہی گہرا اور جذباتی موضوع ہے۔ انسانی دکھ اور دل کی کیفیت کو جب طب اور فلسفے کے ترازو میں تولا جائے تو یہ محض ایک احساس نہیں بلکہ ایک مکمل حیاتیاتی اور روحانی عمل بن جاتا ہے۔

عنوان: دل کا گداز اور طبی حقیقت: جب سسکیاں وجود کو پگھلا دیں

"میرا دل میرے سینے کے اندر رہتے ہوئے ہزاروں بار پھٹ چکا ہے، اور میں ان سسکیوں کی گنتی کرنے سے قاصر ہوں جو مجھ پر گزری ہیں، اور اس درد کو بیان کرنے سے قاصر ہوں جس کی شدت نے میرے دل کو پگھلا کر رکھ دیا ہے۔" 💔

حکمت کے موتی:
دلِ بیدار فاروقی، دلِ بیدار کراری
مسِ آدم کے حق میں کیمیا ہے دلِ بیدار
(علامہ اقبال)
دردِ دل کر بیاں تو ہم جانیں
*کچھ تو ہو درمیاں تو ہم جانیں
علمی و طبی تجزیہ:

1. نظریہ مفرد اعضاء (سوزشِ قلب):
جب انسان مسلسل غم اور ذہنی تناؤ (Stress) کی کیفیت سے گزرتا ہے، تو نظریہ مفرد اعضاء کی رو سے یہ عضلاتی غددی تحریک کی انتہا ہوتی ہے۔ دل کے عضلات میں خشکی اور تپش بڑھنے سے قلب میں ایک ایسی لہر پیدا ہوتی ہے جسے ہم "قلب کا پگھلنا" کہتے ہیں۔ یہ محض استعارہ نہیں بلکہ اعصابی تناؤ کے باعث حرارتِ غریزیہ کا غیر فطری اخراج ہے۔

2. طبِ یونانی و اسلامی:
یونانی طب میں دل کو "رئیسِ اعظم" کہا گیا ہے۔ اطباء کے نزدیک شدید رنج و ملال روحِ نفسانی کو کمزور کر دیتا ہے، جس سے قلب کی قوتِ مدافعت گر جاتی ہے۔ اسلامی طب ہمیں سکھاتی ہے کہ "الا بذکر اللہ تطمئن القلوب"— دلوں کا اطمینان ذکرِ الہیٰ میں ہے، مگر جب مادہ فاسدہ (سودا) بڑھ جائے تو وہ قلب کو ایک بوجھ تلے دبا دیتا ہے۔

3. آیو ویدک اور سنسکرت فلسفہ:
آیو ویدک کے مطابق یہ "ہردیہ روگا" (Hridaya Roga) کی وہ حالت ہے جہاں واتا (Vata) یعنی ہوا کا عنصر جسم میں بے چینی پھیلاتا ہے اور پتا (Pitta) یعنی آگ، جذبات کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ سنسکرت کے قدیم فلسفے میں اسے "مانسیک دکھا" (Mansik Dukha) کہا گیا ہے، جو آتما (روح) اور شریر (جسم) کے توازن کو بگاڑ دیتا ہے۔

خالد دواخانہ: پانچ دہائیوں کا اعتماد
اگر آپ کا دل بھی کسی انجانے بوجھ، گھبراہٹ، سستی یا جذباتی شکست و ریخت کا شکار ہے، تو یاد رکھیں کہ ہر جسمانی مرض کی جڑ آپ کے اندرونی نظام کا بگاڑ ہے۔
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ان کا تجربہ اور علمِ طب کا نچوڑ آپ کی صحت کی ضمانت ہے۔

زیرِ نگرانی:
🎓 سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789

آئیں، اپنے وجود کو دوبارہ سے ترتیب دیں اور فطری علاج کی طرف لوٹیں۔



ایکشن لیں:
اس پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ آپ کو روزانہ طبی و علمی معلومات ملتی رہیں۔

یہ ایک انتہائی گہرا اور فلسفیانہ خیال ہے جو انسانی شخصیت کی گہرائی اور نفسیاتی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کی ہدایت کے مط...
12/05/2026

یہ ایک انتہائی گہرا اور فلسفیانہ خیال ہے جو انسانی شخصیت کی گہرائی اور نفسیاتی پختگی کی عکاسی کرتا ہے۔ آپ کی ہدایت کے مطابق، طبِ یونانی، نظریہ مفرد اعضاء اور قدیم فلسفے کے امتزاج کے ساتھ ایک جامع پوسٹ تیار ہے:

صدمہ، وقار اور انسانی فطرت: ایک طبی و فلسفیانہ تجزیہ
"زیادہ تر لوگ زندگی اس خوف میں گزارتے ہیں کہ کہیں انہیں کوئی شدید صدمہ نہ سہنا پڑے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو صدمے کے ساتھ ہی پیدا ہوتے ہیں۔ وہ گویا زندگی کا امتحان پہلے ہی دے چکے ہوتے ہیں۔ اسی لیے وہ ایک خاص وقار اور اندرونی برتری کے حامل ہوتے ہیں۔"

فلسفیانہ و طبی نکتہ نظر
منطق و سنسکرت فلسفہ:

قدیم سنسکرت دانش کے مطابق، روح کا سفر پچھلے تجربات کا نچوڑ ہوتا ہے۔ جسے ہم "پیدائشی صدمہ" یا سنجیدگی کہتے ہیں، وہ دراصل "آتما" کی وہ پختگی ہے جو اسے دنیاوی خوف سے آزاد کر دیتی ہے۔ منطق کی رو سے، جو شخص فنا سے واقف ہو جائے، وہ بقا کے گر سیکھ لیتا ہے۔

طبِ یونانی و اسلامی:
اطباء قدیم کے نزدیک انسانی مزاج (Temperament) میں سوداوی مائل افراد عموماً بچپن ہی سے ایک خاص وقار اور گہرائی کے حامل ہوتے ہیں۔ امام غزالیؒ اور بو علی سینا کے افکار کی روشنی میں، "صدمہ" انسان کے قلب کو صیقل کرتا ہے، جس سے اس کے اندرونی قویٰ بیدار ہوتے ہیں اور وہ عام انسانوں سے بلند ہو کر سوچنے لگتا ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء:
تحریک، تسکین اور تحلیل کے نظام میں، جب اعصاب اور قلب و عضلات ایک خاص ہم آہنگی اور آزمائش سے گزرتے ہیں، تو انسان کے اندر "قوتِ مدافعت" صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی طور پر بھی فولادی ہو جاتی ہے۔ صدمے سے گزرے ہوئے لوگ "مقامِ تسکین" سے نکل کر "مقامِ شعور" پر فائز ہوتے ہیں۔

حکمت کے علمی خزانے
> رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل
> جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے
> — (غالب)
>
> ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
> ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں
> اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا
> کہ تیرے زمان و مکان اور بھی ہیں
> — (اقبال)
>
خالد دواخانہ: پانچ دہائیوں کا اعتماد
جہاں فلسفہ اور طب مل کر انسانی صحت اور شعور کی آبیاری کرتے ہیں۔ پچھلے 50 سالوں (پانچ عشروں) سے انسانیت کی خدمت میں مصروف:
👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(ماہرِ نبض و معالجِ نظریہ مفرد اعضاء)
👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
(جدید و قدیم طب کا حسین امتزاج)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ برائے مشورہ و رہنمائی: 03127530789

📢 نوٹ: اگر آپ کو یہ تحریر پسند آئی ہے تو اسے لائک کریں، شیئر کریں اور ہمارے پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت اور صحت کے یہ موتی آپ تک پہنچتے رہیں۔

خالد دواخانہ (اوکاڑہ) کی خصوصی پیشکشادھار: وہ جرم جس کی سزا ہر حال میں ملتی ہے!انسانی زندگی میں جرائم کی کئی اقسام ہیں؛ ...
12/05/2026

خالد دواخانہ (اوکاڑہ) کی خصوصی پیشکش

ادھار: وہ جرم جس کی سزا ہر حال میں ملتی ہے!

انسانی زندگی میں جرائم کی کئی اقسام ہیں؛ کچھ قانونی ہیں، کچھ سماجی، کچھ معاشرتی تو کچھ اخلاقی۔ مگر ایک جرم ایسا ہے جو بظاہر کسی مروجہ قانونی کتاب میں درج نہیں، لیکن اس کی سزا انسان کو جیتے جی کاٹنی پڑتی ہے... اور وہ ہے "ادھار"۔

حکمت کی نظر میں یہ ایک ایسا دو دھاری خنجر ہے کہ:
اگر کسی کو ادھار دے دیں، تو اکثر اپنا مال بھی گنواتے ہیں اور وہ تعلق بھی۔ سزا یہ ملتی ہے کہ مانگنے پر آپ ہی "برے" بن جاتے ہیں۔

اور اگر مجبوری میں انکار کر دیں، تو سامنے والا اسے انا کا مسئلہ بنا لیتا ہے اور آپ کی مروت کو سنگدلی سمجھ کر قطع تعلق کر لیتا ہے۔

حکمت اور فلسفہ کی روشنی میں ادھار کا نفسیاتی اثر

1. طبِ یونانی و اسلامی نقطہ نظر:
طبِ یونانی میں ذہنی سکون کو صحتِ جسمانی کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ اکثر دعا فرمایا کرتے تھے: *"اے اللہ! میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔" (بخاری)۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ: *"قرض سے بچو! کیونکہ اس کا آغاز پریشانی (غم) ہے اور انجام دشمنی (جنگ) ہے۔"

2. نظریہ مفرد اعضاء (صابر ملتانیؒ کا فلسفہ):
جب انسان قرض کے بوجھ تلے دبتا ہے یا ادھار کے لین دین میں الجھتا ہے، تو اس کے اعصاب (Brain) پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ یہ ذہنی تناؤ جسم میں خشکی و تیزابیت (عضلاتی تحریک) کو بڑھا دیتا ہے، جس سے نیند کی کمی، ہائی بلڈ پریشر اور چڑچڑاپن پیدا ہوتا ہے۔ گویا ادھار صرف جیب پر نہیں، آپ کے جگر اور دل پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

3. آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ:
سنسکرت کے قدیم دانشور کہتے ہیں کہ "قرض دار شخص مردے کے برابر ہے"۔ وہ شخص جو اپنی چادر سے باہر پیر پھیلاتا ہے، وہ اپنی "پران شکتی" (Life Force) کو خود ہی ضائع کرتا ہے۔

حکمت کے علمی خزانوں سے منتخب
> قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
> رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
> (مرزا غالب)
>
> محسنؔ برے دنوں میں نیا دوست کون ہو
> ہے جس کا پہلا قرض اسی سے سوال کر
> (محسن اسرار)
>
> رہتا نہیں ہوں بوجھ کسی پر زیادہ دیر
> کچھ قرض تھا اگر تو ادا بھی ہوا ہوں میں
> (ظفر اقبال)
>
مشورہِ خاص از طبیبِ حاذق

پچھلے پانچ عشروں سے انسانیت کی خدمت میں مصروف، پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد (اوکاڑہ) کا نچوڑ یہ ہے کہ: "جسمانی بیماریوں کا بڑا سبب وہ ذہنی بوجھ ہے جو ہم غیر ضروری مالی الجھنوں کی صورت میں پال لیتے ہیں۔ صحت مند رہنا ہے تو مروت میں آکر اپنی صحت اور مال داؤ پر نہ لگائیں۔"

منجانب:
پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج، حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پچھلے 50 سال سے مطب کی خدمت - ضلع اوکاڑہ)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)

📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789

اس پوسٹ کو لائک کریں، شیئر کریں اور پیج کو فالو کریں تاکہ حکمت کی باتیں دوسروں تک پہنچ سکیں۔

یہ ایک بہت ہی گہرا اور نفسیاتی موضوع ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے بوجھ کو بانٹنا چاہتا ہے، اور طب و فلسفہ کی رو سے یہ "...
12/05/2026

یہ ایک بہت ہی گہرا اور نفسیاتی موضوع ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے بوجھ کو بانٹنا چاہتا ہے، اور طب و فلسفہ کی رو سے یہ "نفساتی کتھارسس" (Psychological Catharsis) انسانی صحت کے لیے اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ جسمانی صفائی۔

کائنات کا خوبصورت ترین احساس: ایک ہمراز کا میسر ہونا
دنیا کے خوبصورت ترین احساسات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو اس کائنات میں کوئی ایک ایسا انسان مل جائے جس سے آپ کسی بھی موضوع پر گفتگو کر سکیں۔ اسے سب کچھ بتا سکیں، بغیر خود کو سنوارے، بغیر سوچے سمجھے، اسے اپنے تمام خیالات سنا سکیں، چاہے وہ کتنے ہی لغو، شرمناک یا تکلیف دہ کیوں نہ ہوں۔

فلسفہ و طب کی روشنی میں
منطق و فلسفہ: ارسطو اور سقراط کے نزدیک انسان "حیوانِ ناطق" ہے۔ بولنا اور اظہار کرنا اس کی فطرت ہے۔ جب انسان کے اندر کے خیالات زبان تک نہیں آتے، تو وہ روح پر بوجھ بن جاتے ہیں۔

طبِ یونانی و اسلامی: طبِ یونانی میں "ارواح و قویٰ" کا تصور ملتا ہے۔ جب دل کے خیالات اور دکھ کسی دوسرے تک منتقل ہوتے ہیں، تو "روحِ نفسانی" کو تسکین ملتی ہے، جس سے قلب کی حرارتِ غریزی متوازن رہتی ہے۔

نظریہ مفرد اعضاء: اس نظریے کے تحت، مسلسل ذہنی دباؤ اور باتوں کو اندر روکنا اعصاب پر تحریک (Irritation) پیدا کرتا ہے، جو بعد ازاں جسمانی امراض کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ ایک اچھا ہمراز درحقیقت آپ کے اعصابی نظام کا معالج ہوتا ہے۔

آیو ویدک و سنسکرت: قدیم فلسفے میں اسے "آتما کا ملاپ" کہا گیا ہے۔ جب دو دل ایک دوسرے کے لیے مکمل طور پر وا ہو جاتے ہیں، تو انسانی جسم میں موجود مثبت توانائی (Ojas) میں اضافہ ہوتا ہے۔

حکمت کے علمی خزانوں سے انتخاب
> کون ہوتا ہے حریفِ مےِ مرد افگنِ عشق
> مکرر لبِ ساقی پہ صلا ہے کہ نہیں
> (مرزا غالب)
>
> محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
> اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے
>
معالجین کی رائے
پچھلے پانچ عشروں (50 سال) سے مطب کی مسند پر بیٹھ کر ہم نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ بہت سی جسمانی بیماریوں کی جڑ وہ "ان کہی باتیں" ہوتی ہیں جو مریض کسی سے کہہ نہیں پاتا۔ ایک سچا دوست یا ایک ہمدرد معالج وہی ہے جو آپ کی خاموشی کو پڑھے اور آپ کو وہ ماحول دے جہاں آپ "بغیر کسی ڈر" کے بول سکیں۔

پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(50 سالہ تجربہ کار معالج)
سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
رابطہ و پتہ:
🏥 خالد دواخانہ
📍 چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑا شہر۔
📞 فون: 03127530789

نوٹ: اگر آپ ذہنی تناؤ یا کسی بھی طبی الجھن کا شکار ہیں، تو بلا جھجھک تشریف لائیں یا فون پر مشورہ کریں۔

👍 لائک کریں | 🔄 شیئر کریں | ✅ پیج فالو کریں

College

🌊 بہتا دریا بنئے، سوکھا کنواں نہیں!"جس کنویں سے لوگ پانی پیتے ہیں وہ کبھی نہیں سوکھتا، اور جس سے پانی لینا چھوڑ دیا جائے...
11/05/2026

🌊 بہتا دریا بنئے، سوکھا کنواں نہیں!
"جس کنویں سے لوگ پانی پیتے ہیں وہ کبھی نہیں سوکھتا، اور جس سے پانی لینا چھوڑ دیا جائے وہ رفتہ رفتہ خشک ہو جاتا ہے۔"

یہ صرف ایک مشاہدہ نہیں بلکہ قدرت کا وہ عالمگیر قانون ہے جو انسانی زندگی، صحت اور وجود پر بھی صادق آتا ہے۔ قدرت کا اصول ہے کہ جو تقسیم کرتا ہے، اسے مزید عطاء کیا جاتا ہے۔

📜 حکمت و دانائی کے موتی
حکیم الامت علامہ اقبال نے کیا خوب فرمایا تھا:
> فرد قائم ربطِ ملت سے ہے، تنہا کچھ نہیں
> موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں
>
ایک اور جگہ خدمتِ خلق کی اہمیت یوں واضح کی گئی:
> خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں بنوں میں پھرتے
> مگر میں اس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا
>
🩺 طب، فلسفہ اور منطق کی روشنی میں بقا کا راز
مختلف طبی نظاموں اور فلسفہِ منطق نے بھی اس بات کو ثابت کیا ہے کہ حرکت اور نفع رسانی ہی زندگی کی علامت ہے:

نظریہ مفرد اعضاء: اس نظریے کے مطابق بدنِ انسانی کے اعضاء میں تحریک، تسکین اور تحلیل کا توازن ہی صحت ہے۔ جب تک انسان متحرک رہ کر دوسروں کے کام آتا ہے، اس کے اعضاء میں کیمیائی اور مشینی توازن برقرار رہتا ہے۔ جمود موت ہے اور حرکت زندگی۔

طبِ یونانی و اسلامی: اطباء کا ماننا ہے کہ "روحِ نفسانی" اور "حرارتِ غریزی" اس وقت تک توانا رہتی ہے جب تک انسان کا مقصدِ حیات بلند ہو۔ دوسروں کی خدمت سے ملنے والا قلبی سکون (Psychosomatic Health) مدافعت (Immunity) کو وہ طاقت دیتا ہے جو مہنگی ادویات نہیں دے سکتیں۔

آیو ویدک و سنسکرت فلسفہ: ویدک حکمت میں اسے "کرم یوگا" کہا گیا ہے۔ سنسکرت کا مقولہ ہے: "پروپکارائے پھلنتی ورکشا" (درخت دوسروں کے فائدے کے لیے پھل دیتے ہیں)۔ یعنی کائنات کا ہر جزو دوسروں کو نفع پہنچا کر ہی اپنی ہستی برقرار رکھتا ہے۔

منطقِ بقا: منطقی اعتبار سے جو چیز "کثیر الاستعمال" اور "کثیر الفائدہ" ہو، معاشرہ اور قدرت اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

🤝 آپ دوسروں کے کام کیسے آسکتے ہیں؟
سوکھنے سے بچنا ہے تو لوگوں کے لیے فائدہ مند بنئے:
کسی کی ڈھارس بندھائیں، مایوسی میں حوصلہ دیں۔
خفیہ امداد کے ذریعے کسی کی سفید پوشی کا بھرم رکھیں۔
کسی نادار کا چولہا جلانے میں معاون بنیں۔

کسی الجھے ہوئے مسافر کو اچھا مشورہ اور راستہ دکھا دیں۔
یاد رکھئے! ہر دم لوگوں کو پانی مہیا کرنے والا کنواں بنئے، اسی میں آپ کی بقا ہے!
🏥 آپ کی صحت، ہمارا مشن
پچھلے پنج عشروں (50 سال) سے انسانیت کی خدمت اور مستند علاج میں مصروف:
👨‍⚕️ پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(ماہرِ نبض و معالجِ اعضا)
👩‍⚕️ سکالر طبیبہ ام حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 خالد دواخانہ
چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ: 03127530789

✅ ہماری پوسٹ اچھی لگے تو اسے لائک، شیئر اور پیج کو فالو ضرور کریں تاکہ خیر کا یہ سلسلہ جاری رہے۔

دردِ گردہ و شکم کا فوری اور شافی علاج: حکمت کا نایاب تحفہ"علم بدن پہلے ہے اور علم دین بعد میں" (حدیثِ نبوی ﷺ)حکمت کی دنی...
10/05/2026

دردِ گردہ و شکم کا فوری اور شافی علاج: حکمت کا نایاب تحفہ

"علم بدن پہلے ہے اور علم دین بعد میں" (حدیثِ نبوی ﷺ)
حکمت کی دنیا میں طبِ یونانی ہو یا نظریہ مفرد اعضا، آیورویدک ہو یا سنسکرت کا قدیم فلسفہ منطق— تمام علوم اس بات پر متفق ہیں کہ انسانی جسم میں درد دراصل نظامِ فطرت میں پیدا ہونے والے کسی بگاڑ کا الارم ہے۔

حکیمِ مشرق کا قول ہے:
> تندرستی ہے تو دنیا میں ہے سب کچھ اے عزیز
> ورنہ اس جینے سے مر جانا ہی بہتر ہے میاں
>
اور ایک اور مقام پر طبیبِ حاذق فرماتے ہیں:
> شفاء قدرت کے قبضے میں ہے لیکن یاد رکھ اے دل
> وسیلا بن کے آتا ہے کوئی نسخہ، کوئی کامل
>
طبی و فلسفیانہ تناظر:
نظریہ مفرد اعضا کی روشنی میں دردِ گردہ اکثر عضلاتی غدی تحریک یا شدید قبض و گیس کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ طبِ یونانی اسے "قولنج" کی اقسام میں شمار کرتی ہے، جبکہ آیورویدک فلسفے میں اسے "وات" (Vata) کے بگاڑ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہ نسخہ ان تمام فلسفوں کے نچوڑ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے جو نہ صرف تسکین دیتا ہے بلکہ اخراجِ ریح اور تحلیلِ ورم میں بھی معاون ہے۔

مجرب نسخہ (ھُوَ الشافی)
اجوائن دیسی (نیم بریاں): 100 گرام (دافع تشنج اور ریح کو ختم کرنے والی)
سہاگہ (بریاں): 50 گرام (محللِ ورم اور گردے کی نالیوں کی صفائی کے لیے)
میٹھا سوڈا: 50 گرام (تیزابیت کا خاتمہ اور ہاضمہ کی اصلاح)
مرچ سیاہ: 25 گرام
(محرکِ معدہ اور دیگر ادویات کے اثر کو تیز کرنے والی)

تیاری و استعمال:
تمام اشیاء کو اس قدر باریک پیسیں کہ وہ "غبار" کی مانند ہو جائیں۔
مقدار خوراک: 1 گرام سے 3 گرام (عمر اور مزاج کے مطابق)۔
طریقہ: نیم گرم پانی کے ساتھ استعمال کریں۔

فوائد:
گردہ، پتا، اپینڈکس، معدہ اور آنتوں کے شدید درد کے لیے اکسیر۔ ان شاء اللہ، تڑپتا ہوا مریض 5 منٹ کے اندر سکون محسوس کرے گا۔

زیرِ نگرانی و سرپرستی:
پروفیسر حکیم ابنِ طبیب رائے خالد
(پروفیسر ساہیوال طبیہ کالج)
پانچ عشروں (50 سال) پر محیط طبی تجربہ اور لاکھوں مریضوں کی شفاء کا وسیلہ۔
سکالر طبیبہ امِ حبیبہ (فائنبوس فزیشن)
📍 پتہ: خالد دواخانہ، چوک ہارنیاں والا، غلہ گودام، ضلع اوکاڑہ شہر۔
📞 رابطہ نمبر:03127530789

(نوٹ: آپ کی سابقہ ہدایت کے مطابق فون نمبر کا نیٹ ورک کوڈ درست کر دیا گیا ہے)

تعاون کی درخواست:

صدقہ جاریہ کی نیت سے اس پوسٹ کو لائک، شیئر اور پیج کو فالو کریں تاکہ انسانیت کا بھلا ہو سکے۔

Address

Chownk Harniya Wala Ghala Godam
Okara
56300

Opening Hours

Monday 09:00 - 19:00
Tuesday 09:00 - 19:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 11:00
Saturday 09:00 - 19:00
Sunday 09:00 - 19:00

Telephone

+923007530789

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Hakeem Rai Khalid posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Practice

Send a message to Hakeem Rai Khalid:

Share