29/01/2026
*ہمیں بار بار craving ہوتی ہے۔*
جب آپ میٹھا کھاتے ہیں تو یہ صرف زبان کا ذائقہ نہیں ہوتا بلکہ دماغ کے کیمیکل فوراً ایکٹیو ہو جاتے ہیں۔ میٹھا کھاتے ہی دماغ ڈوپامین ریلیز کرتا ہے جو خوشی اور مزے کا احساس دیتا ہے، دماغ کو سگنل ملتا ہے کہ یہ چیز اچھی ہے اس لیے دوبارہ کھاؤ۔ اسی وجہ سے دل چاہتا ہے کہ میٹھا کھاتے ہی رہیں۔ اس کے ساتھ ہی شوگر تیزی سے بڑھتی ہے اور انسولین زیادہ ریلیز ہوتی ہے، تھوڑی دیر بعد شوگر اچانک نیچے گرتی ہے تو دماغ دوبارہ میٹھا مانگتا ہے، چاہے پیٹ بھرا ہی کیوں نہ ہو۔ زیادہ میٹھا کھانے سے لیپٹن ہارمون جو کہتا ہے “بس ہو گیا” دب جاتا ہے، اس لیے دماغ کو لگتا ہے ابھی بھوک باقی ہے۔ سائنسی طور پر شوگر دماغ میں نشے جیسے راستے ایکٹیو کرتی ہے، اسی لیے بار بار craving ہوتی ہے۔
یہ کوئی کمزوری نہیں بلکہ دماغ کا نیچرل ری ایکشن ہے۔
*_اس کا حل کیا ہے_*
خالی پیٹ میٹھا نہ کھائیں، میٹھے کے ساتھ یا بعد میں پروٹین یا فائبر ضرور لیں، روز کی پروٹین پوری کریں اور نیند مکمل کریں تاکہ شوگر کی طلب کم ہو۔ میٹھا چھوڑنا مقصد نہیں، میٹھے کو کنٹرول کرنا سیکھنا اصل کامیابی ہے۔
https://www.marham.pk/online-consultation/homeopath/okara/homeopathic-dr-ahmad-yar-qadri-33530